غصہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق کا حکم

:            بندہ عاجز سے ایک غلطی ہوئی ہے جس کی تفصیل یوں ہے

            بندہ اپنی اہلیہ سے فون بات کر رہا تھا اس دوران اہلیہ سے کوئی ایسی بات ہوئی جس کی وجہ سے بندہ شدید غصہ میں مبتلا ہوا اور اہلیہ کو ایک طلاق دے دی- اور پھر بندہ بے ہوش ہو گیا پھر کچھ دیر بعد افاقہ ہوا اور دوسری طلاق بھی دے دی- پھر چوبیس گھنٹے تک بندہ کی حالت شدید خراب تھی جس کی وجہ سے کچھ احساس نہیں ہو رہا تھا-پھر جب حالت درست ہوئی تو بندہ کو بہت ندامت ہوئی- لہذا اب آپ سے اس مسئلے کا حل مطلوب ہے

الجواب

غصہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع ہو جاتی  ہے،البتہ اگر غصہ اس قدر غالب ہوگیا کہ دماغ ماؤف ہو جائے اورطلاق دینے والے کو اپنے کہے ہوئے الفاظ کی بھی خبر نہ رہے تو اس حالت میں اس کی طلاق کا اعتبار نہیں-

آپ کو چونکہ اپنا طلاق دینا یاد ہے اس وجہ سے آپ کا غصہ اس درجے کا نہیں- سوال میں مذکور تفصیل کے مظابق آپ کی اہلیہ پر دو طلاق واقع ہو گئی ہیں،عدت کے اندر آپ اپنی اہلیہ سے رجوع کر سکتے ہیں،اس کابہتر طریقہ یہ ہے کہ آپ دو گواہوں کے سامنے  یہ کہیں کہ میں اپنی اہلیہ سے رجوع کر رہا ہوں- لیکن اس کے بعد آپ کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار ہو گا- لہذا نہایت احتیاط کریں اور ایسا ناپسندیدہ لفظ زبان پر لانے سے گریز کریں-

حدثنا قتيبة، قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن عبد الرحمن بن أردك، عن عطاء، عن ابن ماهك، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة. ( سنن الترمذي  :2/ 481)

والغضب لا أثر له في صحة تصرفات الإنسان القولية، ومنها الطلاق، إلا أن يصل الغضب إلى درجة الدهش، فإن وصل إليها لم يقع طلاقه، لأنه يصبح كالمغمى عليه. والمدهوش هو: من غلب الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته بسبب غضب اعتراه. (الموسوعة الفقهية الكويتية :29/ 18)

 (قوله) (والإشهاد مندوب عليها) أي على الرجعة وفاقا لمالك والشافعي على الأظهر خروجا من خلاف عند الشافعي ومالك، وإن كان ضعيفا، وعملا بقوله تعالى {وأشهدوا ذوي عدل منكم} [الطلاق: 2] بناء على أنه للندب، بدليل أنه أمر بالإشهاد بعد الأمر بشيئين الإمساك والمفارقة، فلو كان الإشهاد واجبا في الرجعة مندوبا في المفارقة للزم استعمال اللفظ الواحد في حقيقته ومجازه، وهو ممنوع عندنا، واحترازا عن التجاحد، وعن الوقوف في مواضع التهم. (البحر الرائق :4/ 55)

متعلقہ فتاویٰ