ماہ صفر کی ایک بدعت کا بیان

          عرض یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں ماہ صفر کی آخری بدھ کو "سروری چہار شنبہ” کے عنوان سے بعض علماء کرام قرآن پاک کی چھ آیات (جن میں لفظ سلام آتا ہے) لکھ کر چھوٹی بالٹی یا جگ میں ڈال دیتے ہیں- پھر چھوٹے چھوٹے بچوں کے ذریعے محلے کے لوگوں کو پلاتے ہیں ،اور محلے والے شکرانے کے طور پر کچھ رقم بھی دیتے ہیں-اور کہتے ہیں کہ اس دن آپ علیہ الصلوۃوالسلام بیماری سے صحتیاب ہوئے تھے

            براہ کرم اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں

الجواب

ماہ صفر کی ایک بدعت کا بیان

ماہ صفر کے آخری بدھ کے بارے میں لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ اس دن آپ علیہ الصلوۃوالسلام مرض سے صحتیاب ہو گئے تھے اس وجہ سے لوگ مختلف انداز سے اس دن خوشیاں مناتے ہیں- ان میں سے ایک انداز وہ ہے جو سوال میں مذکور ہے

چونکہ یہ فعل صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین،تابعین اور اسلاف میں سے کسی سے ثابت نہیں اس وجہ سے یہ بے اصل اور بدعت ہے- نیز یہ خلاف حقیقت بھی ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اس دن آپ علیہ السلام کے مرض وفات کی ابتداء ہوئی تھی

وقال محمد بن إسحاق: رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم من حجة الوداع في ذي الحجة فأقام بالمدينة بقيته والمحرم وصفرا ،وبعث أسامة بن زيد، فبينا الناس على ذلك ،ابتدئ رسول الله صلى الله عليه وسلم بشكواه الذي قبضه الله فيه إلى ما أراده الله من رحمته وكرامته في ليال بقين من صفر أو في أول شهر ربيع الأول، فكان أول ما ابتدئ به رسول الله من ذلك فيما ذكر لي أنه خرج إلى بقيع الغرقد من جوف الليل فاستغفر لهم ثم رجع إلى أهله فلما أصبح ابتدئ بوجعه من يومه ذلك.

(البداية والنهاية ط الفكر: 5/ 223)

ابتدئ برسول الله – صلى الله عليه وسلم – مرضه أواخر صفر، في بيت زينب بنت جحش، وكان يدور على نسائه حتى اشتد مرضه في بيت ميمونة، فجمع نساءه، فاستأذنهن أن يتمرض في بيت عائشة. (الكامل في التاريخ :2/ 180)

البدعة: هي الأمر المحدث الذي لم يكن عليه الصحابة والتابعون، ولم يكن مما اقتضاه الدليل الشرعي.( التعريفات : 43)

متعلقہ فتاویٰ