شوقِ علم کی ایک عظیم داستان
دکتور عبد العاطی الشرقاوی حفظه الله _
کتابوں کی محبت سے مخطوطات کی دنیا تک
قسط 01
پیشکش: محمد ثاقب
میزبان محمد الشثری:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ خوش آمدید دوستو، میں ہوں محمد الشثری۔
کتابوں کی محبت سے مخطوطات کی دنیا تک
عرب اور اسلامی دنیا میں جن ناموں کا ہم سب سے زیادہ تذکرہ سنتے ہیں، ان میں امام بخاری، امام مسلم اور امام ابو داود نمایاں ہیں۔ عموماً جب ہمارے سامنے کوئی حدیث آتی ہے تو اس کی روایت یا تخریج کے ضمن میں ہمیں یہ نام سننے کو ملتے ہیں، لیکن بہت کم لوگ امام ابو داود کو جانتے ہیں۔ اسی لیے آج کی یہ نشست امام ابو داود رحمہ اللہ کے بارے میں ہے۔
ہمارے مہمان ڈاکٹر عبد العاطی الشرقاوی ہیں۔ وہ عرب اور اسلامی دنیا کے مخطوطات کے ماہر ہیں۔ ہم نے انہیں آج امام ابو داود رحمہ اللہ کے بارے میں گفتگو کے لیے مدعو کیا ہے، اور ساتھ ہی وہ ہمیں مخطوطات سے اپنی غیر معمولی دلچسپی کی کہانی بھی سنائیں گے: یہ شوق کب شروع ہوا، بالخصوص 2000ء کے آغاز میں اس کی ابتدا کیسے ہوئی، اور اس دلچسپی کے پیچھے کیا سبب تھا۔
ڈاکٹر صاحب کی یہ دلچسپی ایک ذاتی فکر سے شروع ہوئی لیکن پھر یہ احساس ایک بہت بڑی ذمہ داری میں بدل گیا کہ شاید ہمارا عربی اور اسلامی علمی ورثہ آج ہمارے ہاتھوں میں موجود نہ رہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے حقیقتاً پوری دنیا کا سفر کیا۔ ترکی گئے، ایران گئے، مغربِ عربی گئے، ہندوستان گئے، برطانیہ گئے، امریکہ گئے، جرمنی گئے۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں جا کر انہوں نے ہمارے تراث میں موجود ان خزانوں کو تلاش کیا، اکٹھا کیا اور ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی۔
آج یہ فہرست دنیا کے بڑے مخطوطاتی فہارس میں شمار ہوتی ہے۔ اگر آپ اس میں داخل ہوں تو تقریباً بیس لاکھ مخطوطات کا ریکارڈ آپ کو مل سکتا ہے۔ یہ فہرست محض کتابوں کے نام اور تعداد کا مجموعہ نہیں، بلکہ اس میں ایسی معلومات بھی موجود ہیں جن کے ذریعے ہم ماضی کے مختلف ادوار اور واقعات کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں۔
ہم نے پہلے گھنٹے میں ان کے ذاتی سفر، مخطوطات سے ان کی دلچسپی اور اس پورے منصوبے کے بارے میں گفتگو کی۔ پھر دوسرے گھنٹے میں ہم امام ابو داود تک پہنچے، ان کے بارے میں ان کا ماسٹرز کا تحقیقی کام، سنن ابو داود کے مخطوطہ نسخوں کے مشاہدے کے لیے ان کے سفر، اس سنن ہی کو انہوں نے کیوں منتخب کیا، یہ کام کیسے شروع ہوا اور سنن ابو داود کے نسخوں کی یہ داستان کہاں تک پہنچی۔
یہ ایک خوب صورت اور دلچسپ سفر ہے، مخطوطات کی اس دنیا کا ایک طویل سفر، جس کے بارے میں مجھے خود بھی تقریباً کچھ معلوم نہیں تھا۔
تو آئیے، گفتگو شروع کرتے ہیں۔
محمد الشثری:
آج ہم سعودی مخطوطات کی نمائش کے موقع پر ریکارڈنگ کر رہے ہیں۔
د. عبد العاطی الشرقاوی:
جی۔
محمد الشثری:
اور اس میدان میں آپ کی بڑی خدمات ہیں۔
د. عبد العاطی الشرقاوی:
جی۔
محمد الشثری:
پہلی دفعہ جب میں اپ سے ملا تھا تو مجھے حقیقتاً بہت حیرت ہوئی تھی۔ آپ کے اندر جو یہ فکر ہے کہ آپ نے بیس لاکھ سے زیادہ مخطوطات یا ان کی تصاویر جمع کر دی ہیں، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اس شوق کی پہلی چنگاری کب بھڑکی؟ آپ کو کب محسوس ہوا کہ امت کے یہ مخطوطات ضائع ہو سکتے ہیں؟
د. عبد العاطی الشرقاوی:
یہ دلچسپی بہت پہلے شروع ہوگئی تھی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ابتدا ہی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص عنایت تھی۔ بچپن ہی میں، جب میں چوتھی جماعت میں تھا، میں نے ایک استاد، شیخ عبد الوہاب محمد رحمہ اللہ، کے پاس مکتب میں قرآن ختم کیا۔ وہ ہمارے پڑوسی بھی تھے۔
اس کے بعد کتابوں سے محبت پیدا ہوئی۔ مجھے کتابیں پسند آنے لگیں۔ میرے والد ’’الشعب‘‘ کی طرف سے چھپنے والی تفسیر قرطبی کے چھوٹے چھوٹے حصے جمع کیا کرتے تھے۔
محمد الشثری:
وہ چھوٹی سی؟
د. عبد العاطی الشرقاوی:
جی، وہی۔ اور گھر میں ان کی جلد بنواتے تھے۔ جب میں نے تفسیر قرطبی دیکھی، اس کی ترتیب دیکھی، اس کے مصنف کی علمی سوچ دیکھی اور اس کی تفسیر دیکھی آج تک اسکا اثر ہے کہ میرے نزدیک احکام کے باب میں قرطبی کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔
میں نے اسے پانچویں یا چھٹی جماعت میں دیکھا تھا اور اس میں جھانکتا رہتا تھا۔ میرے دل میں سوال پیدا ہوا کہ یہ لوگ اس مقام تک کیسے پہنچے؟ یہ لوگ ایسے کیسے بن گئے کہ انہوں نے اس طرح کی چیزیں لکھ دیں؟ انہوں نے کیا کیا تھا؟ کیا کیا پڑھا تھا؟پھر مجھے اندازہ ہوا کہ معاملہ بہت بڑا ہے۔ چنانچہ میں نے متقدمین کے طریقے پر علومِ آلیہ کی تعلیم شروع کی۔ منطق پڑھی، زبان پڑھی، حدیث پڑھی، تفسیر پڑھی۔ ہم نے، الحمدللہ، اربعین، ریاض اور جامع صغیر بھی پڑھی۔دبئی میں شیخ محمد مطیع الحافظ کے پاس ہم نے جامع صغیر مکمل پڑھی اور پورا سماع کیا۔ پوری کتاب پڑھی اور سنا، اور مجلس میں بعض اہلِ فضل بھی موجود تھے۔
محمد الشثری:
ما شاء اللہ!
د. عبد العاطی الشرقاوی:
کیونکہ دنیا میں وہ شاید واحد شیخ ہیں جن کے پاس اس کتاب کا سماع موجود ہے۔ سماع، صرف اجازت نہیں، بلکہ سماع۔
محمد الشثری:
سماع اور اجازت میں فرق کیا ہے؟
د. عبد العاطی الشرقاوی:
اجازت یہ ہے کہ آدمی کتاب کا کچھ حصہ پڑھ لے، یا اپنی علمی حیثیت اور مقام کی وجہ سے بغیر پڑھے بھی اسے اجازت دے دی جائے۔ لیکن سماع یہ ہے کہ اس نے کتاب اپنے شیوخ سے سن کر حاصل کی ہو، اور اس کے شیخ نے اپنے شیوخ سے سن کر حاصل کی ہو، اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا جائے۔ یعنی پوری کتاب کا سماع۔اور جامع صغیر میں چودہ ہزار احادیث ہیں۔
محمد الشثری:
ما شاء اللہ!
د. عبد العاطی الشرقاوی:
ابتدا ہی سے اس فکر اور اس عنایت کا تعلق اللہ تعالیٰ سے تھا۔ انسان جب کبھی اپنے ساتھ بیٹھ کر اپنی زندگی کی یادوں کو پیچھے سے دیکھتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ پوری کائنات ایک نظم کے ساتھ چل رہی ہے۔ آپ جو ہر سانس لیتے ہیں، اس میں بھی ایک تدبیر اور حکمت ہے۔
مثلاً بہت کم عمری سے تجارت میں لگ جانا۔ میرے ساتھی کھیلتے تھے اور مجھے اپنی زندگی میں یاد نہیں کہ میں نے کبھی کھیل کھیلا ہو۔ شاید ایک دو مرتبہ فٹ بال کھیلی ہو، لیکن میری زندگی میں کھیل نہیں تھا۔ میں کبھی ان تفریحی مقامات پر نہیں گیا، کہیں گھومنے نہیں گیا۔ میری زندگی طلبِ علم اور تجارت کے درمیان تھی۔
پھر کالج سے فارغ ہوتے ہی ایک مرحلہ آیا۔ جس سال میں فارغ ہوا، میں نے تجارت چھوڑ دی تجارت دوسرے لوگوں کے سپرد کر دی اور خود کو پوری طرح فارغ کر لیا۔ یہ تقریباً 2004ء یا 2005ء کی بات ہے۔
کتابوں کی محبت سے مخطوطات کی دنیا تک
لیکن اس سے بہت پہلے کتابوں سے محبت پیدا ہو چکی تھی۔ طنطا میں ہماری ایک کتابوں کی دکان تھی۔ مسجد القاصد کے قریب سیڑھیوں پر ایک آدمی تھے، عم محمد۔ میں ان کے تمام گوداموں کو جانتا تھا۔ میرے پاس ایک چھوٹی سی نوٹ بک ہوتی تھی اور میں ان کے پاس جا کر وہاں موجود نایاب اور قیمتی کتابوں کے نام لکھتا رہتا تھا۔
حتیٰ کہ اگر ان کی کوئی کتاب گم ہوجاتی تو وہ مجھ سے پوچھتے: ’’یہ کتاب کہاں ہے؟‘‘ تو میں بتا دیتا کہ فلاں گودام میں ہے، فلاں جگہ میں ہے۔
یوں کتابوں سے محبت بڑھی۔ چھپی ہوئی کتابوں سے محبت بڑھی، مطبوعات سے شغف پیدا ہوا، نایاب کتابوں سے دلچسپی ہوئی اور قدیم ایڈیشنوں سے محبت پیدا ہوئی۔
پھر میں نے زِرکلی کی ’’الاعلام‘‘ دیکھی۔ مجھے لگا کہ میں ایک ایسے منصوبے کے سامنے کھڑا ہوں جسے اس کے مصنف نے چالیس برس بیٹھ کر لکھا ہے۔ وہ مملکت کے مراکش میں سفیر بھی رہے تھے اور شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ کی سرپرستی بھی انہیں حاصل تھی۔
اس کتاب کے آخر میں ایک ہزار مراجع تھے۔ ایسے کتابوں کے نام جن کے بارے میں اس وقت ہم نے سنا تک نہیں تھا۔ میں کتابیں پڑھنے سے زیادہ کبھی کبھی اس کے مراجع کے نام پڑھتا رہتا تھا۔ اگر مبالغہ نہ کروں تو شاید میں نے ان ناموں کو پندرہ مرتبہ پڑھا ہو۔ یہ کتاب میرے بستر کے پاس ہوتی تھی۔ جب بھی طبیعت ہلکی کرنا چاہتا، زِرکلی کی ’’الاعلام‘‘ میں درج ان کتابوں کے عنوانات پڑھنے لگتا۔
پھر، اللہ جانے کیسے، مخطوطات سے محبت پیدا ہوگئی۔زِرکلی کسی کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں: میرے پاس اس کی ایک نسخة ہے، یہ غیر مطبوع ہے، یہ میری تصانیف میں ہے۔ اور وہ مخطوط اور مطبوع کے لیے مخصوص علامتیں استعمال کرتے ہیں۔
ایک مرتبہ ہم بعض مشائخ سے ایک کتاب پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا: ’’یہ نسخہ مخطوط ہے۔‘‘میں نے فوراً پوچھا: مخطوط کہاں ہے؟اس وقت میں تجارت کرتا تھا، میرے پاس کچھ پیسہ بھی تھا، تو میں نے کہا: ’’یہ مخطوط کہاں ہے؟‘‘انہوں نے کہا: ’’یہ مخطوط ہے، اسے کوئی لا نہیں سکتا۔ شاید دنیا میں کہیں محفوظ ہے۔‘‘
میں نے پوچھا: کہاں؟
انہوں نے کہا: دارالکتب میں۔
میں نے کہا: مصر میں مخطوطات کہاں ہیں؟ میں لے آؤں گا۔
انہوں نے کہا: دارالکتب المصریہ میں۔یہ بہت ابتدائی زمانے کی بات ہے۔ میں ابھی کم عمر تھا۔ میں دارالکتب المصریہ چلا گیا۔ اس میں بھی ایک جرأت تھی، لیکن اس جرأت سے پہلے ایک اور مرحلہ آچکا تھا: میں تجارت میں اپنے والد سے الگ ہو چکا تھا، کیونکہ میری اپنی مالی حیثیت تھی۔
محمد الشثری:
یعنی آپ خود مختار ہو گئے تھے؟
د. عبد العاطی الشرقاوی:
جی۔ میرے پاس اپنی تجارت تھی۔ میں اپنے کندھے پر سامان اٹھاتا اور مصر کے مختلف علاقوں میں چلتا پھرتا تھا۔ الحمدللہ۔یہ سب میں کیسے کرتا تھا، آج خود مجھے معلوم نہیں! یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق تھی۔یہاں تک کہ ان سفروں میں بھی میرے ساتھ ایک کتاب ضرور ہوتی تھی۔ اس زمانے میں میں کتاب کے بغیر چل ہی نہیں سکتا تھا۔ جیسے آدمی کے ہاتھ میں گھڑی ہو، اسی طرح میرے ہاتھ میں، یا بیگ میں، کوئی نہ کوئی کتاب ضرور ہوتی تھی۔مڈل اور ہائی اسکول کے زمانے میں میرا روزانہ مطالعہ تین سو صفحات تک پہنچ گیا تھا۔پھر جب میں دارالکتب المصریہ گیا اور میں نے مخطوطہ طلب کیا تو وہ مجھے مائیکرو فلم پر دکھایا گیا۔ میں نے اسے دیکھا۔ اس کے بعد وہاں کی ایک ملازمہ نے کہا:’’کل آکر لے جائیے۔‘‘
محمد الشثری:
انہیں آپ کی عمر دیکھ کر تعجب نہیں ہوا؟
د. عبد العاطی الشرقاوی:
ہوا تھا، یقیناً ہوا تھا۔ لیکن اس موقع پر جو چیزیں مجھے ناگوار گزریں، میں ان میں نہیں پڑوں گا۔میں نے کہا: ’’کل کیسے؟ میں طنطا سے آیا ہوں، راستہ بھی ہے، مجھے واپس بھی جانا ہے، خدا کے لیے…‘‘انہوں نے کہا: ’’نہیں بیٹا، کل آنا۔‘‘یہ بات مجھے بہت گہری لگی۔میں ایک طالبِ علم تھا، جیسے ہم طلبِ علم کے قصے پڑھتے تھے، مشائخ کا تذکرہ پڑھتے تھے۔ اس سب نے شاید ہمیں حقیقت سے کچھ دور بھی رکھا تھا اور ہمیں ایک قدرے مثالی دنیا میں رکھا تھا، لیکن جب ہم حقیقت کی زمین پر اترے تو معلوم ہوا کہ صورتِ حال مختلف بھی ہو سکتی ہے۔چنانچہ میں اگلے دن واپس آیا۔ اس رات میں سڑک پر سویا۔
میں نے اہرام میں اپنے ماموں کو فون کیا تھا، لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔ اس زمانے میں موبائل فون نہیں تھے، لینڈ لائن فون ہوا کرتے تھے۔میں الازہر گیا، وہاں کی کتابوں کی دکانوں میں گھوما۔ پھر دارالکتب کے قریب ایک باغ میں ایک بڑی کرسی تھی۔ میں نے اپنا بیگ سر کے نیچے رکھا اور وہیں سو گیا۔پھر پانی نے مجھے فجر سے پہلے جگا دیا۔میں ایک مسجد میں گیا، فجر پڑھی، پھر کچھ دیر وہیں سو گیا۔ صبح ہوئی تو دارالکتب گیا، مخطوطہ لیا اور واپس آگیا۔
مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں کوئی بہت بڑی چیز حاصل کرکے جا رہا ہوں۔ یوں لگ رہا تھا کہ میں اس شیخ کے سامنے سرخرو ہو کر واپس جا رہا ہوں کہ دیکھیں، میں کتاب لے آیا۔شیخ بھی حیران تھے کہ تم نے یہ کیسے حاصل کر لیا؟ شرحِ اربعین کہاں سے لے آئے؟ کیسے لے آئے؟یہ پہلی مرتبہ تھا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے کوئی مخطوطہ دیکھا۔پھر میں دارالکتب باقاعدگی سے جانے لگا۔ مجھے وہ جگہ پسند آگئی۔وہاں جو کارڈز کے دراز ہوتے تھے، میں ان کے سامنے کھڑا ہو جاتا اور عنوانات دیکھتا رہتا۔ سوچتا کہ یہ کتابیں کیا ہیں؟ ان کے اندر کیا ہوگا؟
کتابوں کے عنوان بھی کبھی کتنے دلکش ہوتے ہیں۔ مثلاً ’’الاجوبة الفاخرة في الرد على كذا‘‘، ’’عون المعبود شرح سنن…‘‘ اور ’’نهاية الإرب في علوم الأدب‘‘، عرب کے انساب وغیرہ۔چنانچہ علوم کی مختلف شاخوں میں پڑھنا شروع کیا، اور ساتھ ہی مشائخ کے پاس علومِ آلہ بھی پڑھتا رہا۔
الحمدللہ، کالج میں داخل ہونے سے پہلے میں نے حدیث کی متعدد کتابیں مشائخ سے پڑھ لی تھیں۔ تقریباً کتبِ ستہ ختم کر لی تھیں، بلکہ مسند کا بھی ایک بڑا حصہ یونیورسٹی جانے سے پہلے پڑھ چکا تھا۔پھر جب میں یونیورسٹی میں داخل ہوا تو میرے ذہن میں یہ بات آنے لگی کہ ہمیں اس تراث کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔اس زمانے میں کچھ پروگرام فروخت ہونے لگے تھے، مثلاً ’’الفیۃ الحدیث‘‘، ’’العریس‘‘، کتبِ ستہ وغیرہ۔ ہم ان میں تحقیق وغیرہ دیکھتے تھے۔تو میرے ذہن میں آیا: ہم تراث کے لیے ایسا کچھ کیوں نہ کریں جو سب کو جمع کر دے؟ہمیں خود کچھ معلوم نہیں۔ ہم بھٹکے ہوئے ہیں۔
جب میں فہارس کی دنیا میں داخل ہوا تو دیکھا کہ کہیں انگریزی زبان میں فہارس ہیں، کہیں روسی میں، کہیں جرمن میں، کہیں اطالوی میں، ترکی میں بہت زیادہ، قدیم عثمانی اور جدید ترکی میں، فارسی میں بھی، اور بہت بڑی تعداد میں۔تو سوال پیدا ہوا کہ محقق ان سب کے پاس کیسے جائے گا؟میں نے دیکھا کہ اردن میں مؤسسۃ آل البیت نے ایک بہت بڑا منصوبہ کیا تھا۔ بہت عمدہ منصوبہ تھا۔ لوگوں نے ایک عرصے تک اس سے فائدہ اٹھایا، لیکن وہ مکمل نہ ہوسکا، اور کچھ پہلوؤں میں کمیاں بھی تھیں۔تب میں نے سوچا کہ دنیا بھر کے مخطوطات کی ایک مشترکہ فہرست ہونی چاہیے۔
محمد الشثری:
یہ خیال کس سال آیا؟
د. عبد العاطی الشرقاوی:
2001ء۔
محمد الشثری:
2001ء؟
د. عبد العاطی الشرقاوی:
جی، 2001ء۔
تب تک میں مصر کے اندر بہت گھوم چکا تھا۔ المنصوره گیا، اسکندریہ گیا، مصر کی بہت سی لائبریریاں دیکھیں۔مجھے اسکندریہ کے ایک دینی ادارے کی لائبریری کا ایک واقعہ آج تک یاد ہے۔ وہاں کچھ مخطوطات باقی تھے۔ میرے ساتھ ایک دوست عبدالرحمن تھا۔ ہم نے کچھ مخطوطات دیکھے تو وہاں کی ایک خاتون نے مجھ سے کہا:
’تم اتنی مشقت کیوں کرتے ہو؟ بار بار آتے ہو…‘‘میں نے کہا: ’’میں طنطا سے آتا ہوں۔‘‘انہوں نے کہا: ’’طنطا سے؟ اچھا، یہ کتابیں تو ہمارے پاس بہت ہیں۔ اگر لے جانا چاہتے ہو تو لے جاؤ!‘‘اصل مخطوطات تھے، اصل نسخے!لیکن میں نے سوچا کہ یہ تو ایک جرم ہوگا۔ ممکن ہے یہ کتاب کسی مسلمان کے لیے وقف ہو، اس لیے میں نے اسے لینے کو پسند نہیں کیا۔
ہم نے کہا کہ نہیں، ہم بار بار آتے رہیں گے۔اور اس زمانے میں تصویر کشی کی سہولت بھی ایسی نہیں تھی۔ تصویری کام کاغذ پر ہوتا تھا، اور موبائل فون بھی نہیں تھے۔ زیادہ سے زیادہ پرانے نوکیا کے فون تھے۔تو میں نے فیصلہ کیا کہ آغاز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کریں گے۔ یعنی ابتدا بھی انہی سے ہو اور انتہا بھی انہی پر۔چنانچہ میں مدینہ منورہ پہنچا اور مدینہ کی کتب خانہ ملک عبدالعزیز کا دورہ کیا۔یہ وہی کتب خانہ تھا جو حرم کی دیوار سے نکلتے ہی سامنے مل جاتا تھا۔ اب وہ وہاں نہیں ہے۔ اب وقف لائبریریوں کا ایک بڑا مرکز موجود ہے، بہت شاندار جگہ ہے۔میں اس سفر کے بعض ایسے واقعات نہیں سناؤں گا جنہوں نے مجھے وہاں مخطوطات کے ساتھ بعض لوگوں کے رویے سے پریشان کیا۔
محمد الشثری:
آپ کا مطلب ہے کہ وہ ان کی قدر نہیں کرتے تھے؟
د. عبد العاطی الشرقاوی:
وہ اس بات کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے کہ یہ ایک امانت ہے اور انسان اس امانت کا نگہبان ہے۔آپ کو کسی شخص کو منع کرنے کا حق ہی نہیں ہونا چاہیے۔ کتاب کے مالک نے اسے وقف کیا اور واقف نے کہا کہ جو اسے لے جائے یا وقف کرنے والے کی شرط بدل دے اس پر لعنت ہے، وغیرہ۔
اس لیے وقف کے کردار کو زندہ کرنے کا مطلب یہی ہے کہ اس کتاب کو لوگوں کے لیے پیش کیا جائے، لوگوں کو اسے دیکھنے دیا جائے۔مجھے اچھے لوگوں کے چہرے بھی ملے۔ کہتے تھے: تصویر لے لو، کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے برعکس، تصویر بنانا اور اسے پھیلانا ہی وقف کے کردار کو زندہ کرنا ہے۔اس سب سے میری حیرت بھی بڑھتی گئی اور حیرانی و پریشانی بھی کہ تم دنیا بھر کے مخطوطات کا فہرست بنانا چاہتے ہو، یہ تو بہت بڑا کام ہے۔پھر میں مکہ مکرمہ گیا، مکتبہ حرم مکی دیکھا۔ وہاں ایک نہایت اچھے آدمی تھے۔ انہوں نے مجھے مختصر فہرست کی چار جلدیں تحفے میں دیں۔مکتبہ مولد دیکھا، ام القریٰ دیکھا۔اور یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا تھا جب میں ابھی چوتھی ثانوی سے نکلا تھا اور کالج جانے والا تھا۔
محمد الشثری:
ابھی ابھی فارغ ہوئے تھے، ما شاء اللہ!
د. عبد العاطی الشرقاوی:
جی، کالج جا رہا تھا۔
میں عمرے کے سفر میں کچھ عرصہ وہاں رہا۔ میں بحری جہاز کے ذریعے گیا تھا۔میں نے سلف کے حالات پڑھتے ہوئے سفر کے بارے میں کچھ چیزیں پڑھی تھیں اور میرے دل میں یہ خواہش ہوئی کہ خود سمندر کا راستہ دیکھوں، بحری جہاز پر سفر کروں۔پھر دوبارہ کبھی بحری جہاز پر نہیں گیا، وہی ایک مرتبہ تھا!ہم اردن اترے، پھر تبوک سے ہوتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے۔یہ میری مصری سرزمین سے باہر پہلی بڑی علمی سفر کی ابتدا تھی، اور اس کی افتتاحی منزل مدینہ منورہ تھی۔
محمد الشثری:
کیا ہی خوب آغاز تھا!
د. عبد العاطی الشرقاوی:
الحمدللہ۔
یہ بھی بہت ابتدائی زمانے کی بات ہے۔ میں مدینہ میں داخل ہوا تو رو رہا تھا، شوق کی وجہ سے رو رہا تھا۔ اور جب وہاں سے نکلا تو بھی رو رہا تھا، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی تھی۔میں نے وداع کی زیارت کے وقت بھی رویا اور مدینہ کی حدود سے باہر نکلنے تک روتا رہا۔مجھے حقیقتاً یہ بات یاد تھی کہ یہ تراث، یہ علم، یہ سب کچھ ’’اقرأ‘‘ سے نکلا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ ان تمام علوم کا سرچشمہ وہی ہیں۔ سب انہی کے ذریعے فیض یاب ہوئے ہیں اور سب انہی سے علم حاصل کرتے ہیں۔میں نے وہاں بہت اچھا وقت گزارا، بہت لطف آیا، یہاں تک کہ کچھ عرصے کے لیے مجھے یہ بھی بھول گیا کہ میں اصل میں آیا کہاں سے ہوں۔بعد میں میرے سفر بہت بڑھ گئے تو یہ کیفیت بار بار پیش آئی۔ کبھی صبح اٹھتا تو دو منٹ یہ سوچنے میں لگتے کہ میں اس وقت کہاں ہوں!
محمد الشثری:
کہاں پہنچے تھے؟
د. عبد العاطی الشرقاوی:
جی۔
بہرحال، اس سفر سے واپس آیا تو مجھے اس منصوبے کی اہمیت پر پورا یقین ہو چکا تھا۔اس وقت میری تجارت بھی تھی، لیکن الحمدللہ اللہ تعالیٰ نے اس میں وسعت دی۔ہم کچھ ایسے احباب کے ساتھ بیٹھتے تھے جو مطالعے اور علم سے محبت رکھتے تھے۔ ہم شاید ’’سیر أعلام النبلاء‘‘ وغیرہ سیر اور تراجم کی کتابوں سے مذاکرہ کرتے تھے۔
مجھے تراجم کی کتابیں بہت پسند تھیں۔ میں انہیں اپنا زادِ راہ سمجھتا تھا، کیونکہ یہی لوگ ہمارے لیے نمونہ اور ہمارے مقتدا تھے۔میں نے ایک واقعہ پڑھا تھا جو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت کیا جاتا ہے۔ وہ اپنی جوانی میں بعض صحابہ، تقریباً عروہ بن زبیر اور دوسرے لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہر شخص ایک دعا کرے اور باقی لوگ اس دعا پر آمین کہیں۔چار آدمیوں میں سے ہر ایک نے دعا کی۔پھر بتایا جاتا ہے کہ کسی نے عراق کی ولایت کی خواہش کی اور اسے وہ مل گئی۔ کسی نے سیدہ سکینہ بنت امام حسین سے نکاح کی خواہش کی اور وہ بھی پوری ہوگئی۔ کسی نے کچھ اور مانگا۔اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے جنت کی خواہش کی ہے اور امید کرتا ہوں کہ وہ مجھے ملے گی۔
محمد الشثری:
عبداللہ بن عمر؟
د. عبد العاطی الشرقاوی:
جی۔
میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ عقل مند آدمی یہ سمجھتا ہے کہ کوئی بات محض بے مقصد اس کے کان تک نہیں پہنچتی۔مثلاً اگر میں سڑک پر چل رہا ہوں اور کوئی بات میرے کان تک واضح طور پر پہنچی اور اس نے میرے دل میں جگہ بنا لی تو میں اسے ایک پیغام سمجھوں گا۔ مجھے اس پر سوچنا ہوگا۔میں نے اپنے دوستوں سے کہا: لگتا ہے یہ بھی ایک طرح کا پیغام ہے۔ آؤ، ہر شخص اپنی خواہش کے مطابق دعا کرے۔ایک دوست نے دعا کی کہ وہ ہمیشہ سعودی عرب میں رہے، مکہ و مدینہ میں قیام کرے۔ آج وہ شخص، جب میں تم سے بات کر رہا ہوں، پچیس سال سے سعودی عرب میں ہے۔
محمد الشثری:
ما شاء اللہ تبارک اللہ! مکہ و مدینہ میں؟
د. عبد العاطی الشرقاوی:
جی، مکہ اور مدینہ کے درمیان۔ایک دوسرے دوست نے دعا کی کہ وہ کالج میں معید بن جائے تاکہ اس کے والدین اس پر خوش ہوں۔ اللہ نے اس کی یہ خواہش پوری کردی۔
تیسرے نے کچھ مانگا، چوتھے نے کچھ اور۔میں انہیں سب کو یاد کرتا ہوں۔اور اس فقیر نے ہاتھ اٹھایا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے بہت زیادہ مال عطا فرمائے۔ میرے ذہن میں ایک مقصد تھا، ایک فکر تھی: اس مال کو میں طلبِ علم پر بھی خرچ کروں اور دنیا بھر میں تراث کی حفاظت پر بھی۔اس وقت تک ڈیٹابیس کی کوئی واضح شکل نہیں بنی تھی۔ ہم ابھی معلومات جمع کر رہے تھے، فہارس جمع کر رہے تھے اور سوچ رہے تھے۔ یہ 2001ء اور 2002ء کی بات ہے۔
پھر 2004ء اور 2005ء میں ہم نے اپنے پاس موجود بعض فہارس کو جمع کرنا شروع کیا۔ہم نے کہا کہ انہیں ڈیجیٹل شکل میں منتقل کرنا چاہیے تاکہ ان میں تلاش کی جاسکے۔ہم نے ایکسل شیٹ سے کام شروع کیا۔ بہت معمولی سی چیزیں تھیں۔اس کے بعد ہم نے مؤسسۃ الفرقان کے اس جامع سروے کو لیا جو انہوں نے دنیا بھر کی لائبریریوں کے بارے میں کیا تھا اور اسے مزید بڑھایا۔انہوں نے تقریباً 2600 لائبریریوں تک کام کیا تھا، ہم نے اسے بڑھا کر پانچ ہزار سے زیادہ لائبریریوں تک پہنچایا۔پھر ان اعداد و شمار کی روشنی میں ہمارا عملی سفر شروع ہوا۔ہمیں معلوم ہوا کہ دنیا میں مخطوطات کا سب سے بڑا ذخیرہ ترکی میں ہے۔
محمد الشثری:
لائبریریوں کے اعتبار سے یا مخطوطات کے اعتبار سے؟
د. عبد العاطی الشرقاوی:
مخطوطات کے اعتبار سے۔ دنیا میں مخطوطات کا سب سے بڑا ذخیرہ ترکی کے پاس ہے، پانچ لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ۔اس کے بعد ایران ہے، تقریباً ساڑھے چار لاکھ، یا چار لاکھ ستر ہزار، بعض نجی کتب خانوں کو شمار کرنے یا نہ کرنے کے لحاظ سے تعداد میں فرق پڑتا ہے۔
پھر ہندوستان، پھر مصر اور عراق ایک دوسرے کے قریب ہیں، پھر مملکتِ سعودی عرب۔سعودی عرب میں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار مخطوطات ہیں۔ دنیا کے تمام ممالک کو ملا کر دیکھیں تو سعودی عرب کا درجہ نسبتاً بعد میں آتا ہے، لیکن صرف عرب ممالک کا موازنہ کریں تو مصر اور عراق کے بعد سعودی عرب تیسرے نمبر پر ہے۔بہرحال یہاں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار مخطوطات ہیں، اور ان میں بہت سی نادر چیزیں موجود ہیں۔
اس لیے کہ ان لوگوں نے بڑے بڑے علماء کے ذاتی کتب خانے خرید کر محفوظ کیے۔ بعض علماء نے پچیس پچیس سال، پچاس پچاس سال بلکہ پوری زندگی کتابیں جمع کیں۔مثلاً احمد خیری۔یہ بہت بڑے باشا تھے، احمد خیری بک۔ وہ شیخ غماری سے کتابیں خریدتے تھے، کتب فروشوں سے خریدتے تھے، الخانجی سے خریدتے تھے، ادھر سے لیتے، ادھر سے لیتے۔اس طرح ان کے پاس ایک ہزار سے زیادہ، تقریباً ڈیڑھ ہزار مخطوطات جمع ہوگئے۔
محمد الشثری:
ما شاء اللہ!
د. عبد العاطی الشرقاوی:
یہ سب جامعہ امام محمد بن سعود میں موجود ہیں۔
اور علامہ زِرکلی کی لائبریری، جس کا ہم نے ابھی ذکر کیا، وہ فروخت کردی گئی۔ اس کے مخطوطات کا حصہ یہاں فروخت ہوا اور مطبوعات کا حصہ بعض احباب نے سعودی عرب سے باہر خرید لیا۔ہمارا منصوبہ یہ تھا کہ دنیا بھر کے ان مقامات تک پہنچا جائے جہاں مخطوطات موجود ہیں؛ جہاں ممکن ہو وہاں ان کی تصویریں حاصل کی جائیں اور جہاں یہ ممکن نہ ہو وہاں ان کی فہرستیں جمع کی جائیں۔
دنیا بھر میں تقریباً 5600 مقامات یا مجموعے ہماری فہرست میں آگئے۔لیکن اگر ہم کسی سے کہتے کہ ہم مصر کا ڈیٹابیس بنائیں گے تو لوگ اسے سمجھ لیتے تھے۔بعد میں جب ہم کہتے کہ ہم دنیا بھر کے تراث کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا چاہتے ہیں تو لوگ اسے اپنی سمجھ سے بہت دور پاتے تھے۔جیسے کہا جاتا ہے: اگر چاہتے ہو کہ تمہاری بات مانی جائے تو ایسی بات کرو جس پر عمل کیا جا سکے۔یہ کام لوگوں کی سمجھ سے بہت دور تھا۔
میں آپ سے سچ کہوں، بعض اوقات میں خود یہ بات لوگوں کو بتاتا اور جب ان کے چہروں پر حیرت دیکھتا تو مجھے جھجھک ہونے لگتی۔ پھر میں خاموش ہوجاتا۔پھر اگر کوئی پوچھتا کہ آپ کیا کر رہے ہیں تو میں بس یوں ہی ٹالتے ہوئے کہتا: ہاں، مخطوطات اور نادر کتابوں پر کام کر رہے ہیں، سفر کرتے ہیں، یہ دیکھتے ہیں، وہ دیکھتے ہیں۔اس منصوبے کے لیے ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے سفر کے راستے آسان کیے۔
میں بعض ممالک میں کچھ اہلِ فضل کا مشیر بھی رہا تھا۔میں جہاں جانا چاہتا، اس ملک کا ویزا کسی نہ کسی طرح آجاتا۔لیکن اس شخص نے مجھے مالی مدد نہیں دی تھی، نہ مجھے کسی اور نے مالی طور پر سپانسر کیا تھا۔ہاں، مختلف انداز میں سہولت ضرور پیدا ہوتی رہی۔ سفر کے راستے کھلتے گئے۔
اللہ تعالیٰ نے میرا سفر مصر سے شروع کرایا، پھر کویت، سعودی عرب اور عرب دنیا کے دوسرے ممالک آئے۔پھر میں دبئی گیا، اور دبئی سے یورپ کا سفر شروع ہوا۔2007ء سے 2014ء تک میں تقریباً ہر سال دو ماہ یورپ میں گزارنے لگا، اور ایک مہینہ یا اس سے کچھ زیادہ انگلینڈ میں رہتا۔
بار بار جاتا اور واپس آتا رہا۔
ہم نے دنیا بھر کے ان 5600 مقامات کی بنیاد پر لائبریریوں تک پہنچنا شروع کیا۔یہ 5600 مقامات ابتدا میں نہیں تھے، وقت کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد بڑھتی گئی۔ہم کسی لائبریری میں جاتے تو پوچھتے: آپ کے پاس کتنے مخطوطات ہیں؟ ان مخطوطات پر کتنی فہرستیں بنی ہوئی ہیں؟ ہمیں وہ فہرستیں دیکھنی ہیں، ان کی تصاویر لینی ہیں۔
ہم براہِ راست پوری لائبریری کی تصویر کشی سے شروع نہیں کرسکتے تھے۔ پہلے ایک پل بنانا ضروری تھا۔میں اس کام کو ایک مشن اور ایک امانت کی روح کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔آپ ذرا تصور کریں کہ جب یہ ڈیٹابیس مکمل ہوگا تو اس میں تقریباً دو ملین مخطوطات کا ریکارڈ ہوگا۔اگر اللہ تعالیٰ نے اسے جلد مکمل کر دیا تو یہ عالمی سطح پر ایک بہت بڑی علمی پیش رفت ہوگی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس دنیا کے علمی مواد کا ایک بڑا حصہ موجود ہوگا۔یہ ایسی چیز ہے جس کی اہمیت کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو اس معاملے کی حقیقت کو سمجھتا ہو۔ایک شخص کسی اور معاملے میں بہت ذہین ہوسکتا ہے، لیکن اس منصوبے کی قوت الگ نوعیت کی ہے۔اس میں سرمایہ کاری کی طاقت بھی ہے، مقامی قوت بھی، عالمی قوت بھی، معاشی قوت بھی، تاریخی قوت بھی۔
یہاں تک معاملہ پہنچ سکتا ہے کہ دنیا کا کوئی محقق اس ڈیٹابیس کو دیکھے بغیر اپنا کام مکمل معتبر نہ سمجھ سکے۔ یعنی اس کا تحقیقی کام اس وقت تک قابلِ اعتماد نہ سمجھا جائے جب تک وہ اس ڈیٹابیس کی طرف رجوع نہ کرے۔
محمد الشثری:
سبحان اللہ! گویا آپ نے تاریخ کو پکڑ لیا، تاریخ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
د. عبد العاطی الشرقاوی:
میں نے اسے ایک آئینے کے ذریعے پکڑا ہے، ایسا آئینہ جو سچا ہو اور جو سب کے ساتھ ایک ہی فاصلے پر کھڑا ہو۔میں یہ کام اپنی دلچسپی کے کسی خاص فن کے لیے نہیں کر رہا، نہ اپنے پسندیدہ موضوع کے لیے، نہ اپنے مسلک کے لیے۔سب کے لیے۔مقصد یہ ہے کہ علمی نقشہ سچائی کے ساتھ سامنے آئے۔
محمد الشثری:
یعنی ہر وہ چیز جو عربی میں لکھی گئی؟
د. عبد العاطی الشرقاوی:
عربی میں لکھی گئی، فارسی میں، عثمانی میں، اور ان زبانوں میں بھی جن کے لیے عربی رسم الخط استعمال ہوا۔
محمد الشثری:
ما شاء اللہ، عربی رسم الخط!
د. عبد العاطی الشرقاوی:
تاکہ آپ اسلامی تہذیب اور اس کی علمی خدمات کو جان سکیں۔آپ فلسفہ چاہتے ہیں؟ موجود ہے۔حدیث چاہتے ہیں؟ موجود ہے۔طب؟ قرآن؟ سنت؟ جو چاہیں، موجود ہے، محفوظ ہے۔پھر ہماری مختلف جگہوں پر مختلف ٹیمیں بننے لگیں۔ٹیموں کی تعداد بڑھتی گئی۔ہم نے سترہ لوگوں سے آغاز کیا تھا۔ اس زمانے میں کسی کی تنخواہ پندرہ سو تھی، کسی کی دو ہزار۔پھر تقریباً چودہ پندرہ سال کے عرصے میں دنیا بھر میں ہماری ٹیم چار سو افراد تک پہنچ گئی۔
محمد الشثری:
ما شاء اللہ، ما شاء اللہ!
د. عبد العاطی الشرقاوی:
یہ سب خاموشی سے ہوا، تقریباً رازداری کے ساتھ۔یہ شخص اپنا کام کرتا، دوسرا اپنا کام کرتا۔اگر کسی مقام پر براہِ راست کام مشکل ہوتا تو وہاں کے کسی شخص سے تعاون لیا جاتا، وہ ہمارے لیے یہ کام کر دیتا۔یہ سب دراصل امانت کی روح تھی۔یہ وہ علماء تھے جنہوں نے اپنے مختلف حالات، مختلف مزاجوں اور مختلف مذاہب کے باوجود اپنے ذہن اور علم کی بہترین صلاحیتیں کتابوں میں منتقل کیں۔ ایک عالم پہلے اپنا مسودہ لکھتا، پھر اسے سنوارتا، دوبارہ لکھتا اور اس طرح محنت کرتا کہ آخرکار وہ تحریر سامنے آئے جو اس کے علم اور فکر کی صحیح ترجمانی کر سکے۔اس لیے جب ہم ان مخطوطات کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم انسانی عقل کی بہترین پیداوار کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ پہلی بات ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ ہمارے اسلاف کی طرف سے ان کی اولاد کے لیے امانت ہے۔اسلاف نے یہ چیزیں آپ کے حوالے کی ہیں تاکہ آپ انہیں محفوظ رکھیں، نہ یہ کہ انہیں صندوقوں میں بند کر کے چھوڑ دیں، نہ فہرست بنائیں، نہ ڈیجیٹل کریں، نہ ان کا مطالعہ کریں، نہ انہیں فعال کریں، نہ ان کے اندر چھپی ہوئی ان روشنیوں کو نکالیں جنہوں نے صدیوں تک دنیا کو روشن کیا۔واقعی صدیوں تک روشن کیا۔
مشرق اور مغرب، سب یہ جانتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ ایک زمانے میں یہی علمی سرمایہ دنیا کی قیادت کا سبب بنا تھا، جب علم کی زبان عربی تھی اور تہذیب اور قوت اسلامی تہذیب کے پاس تھی۔ہم نے یہ کام جاری رکھا۔اور جب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ڈیٹابیس میں ایک ملین مخطوطات کا ریکارڈ پہنچ گیا تو میں نے اس کے بارے میں کھل کر بات کرنا شروع کی۔
محمد الشثری:
اب آپ کو بولنے کا حق مل گیا تھا، اب تو آپ کے پاس بہت کچھ تھا!
د. عبد العاطی الشرقاوی:
جی۔
اب میں کسی لائبریری میں داخل ہوتا تو کہتا:آپ کے پاس کتنے ہیں؟ پانچ ہزار؟ ایک ہزار؟ دو ہزار؟اگر شامل ہونا چاہتے ہیں تو خوش آمدید، آپ اس نقشے کا حصہ بنیں گے۔اگر نہیں چاہتے تو اللہ حافظ۔اس دوران بہت سے واقعات، بہت سا دباؤ، ملازمین کا دباؤ، ساتھیوں کا دباؤ، کام کی کثرت—ان سب کا میرے جسم پر بھی اثر پڑا۔اس کام کی وجہ سے مجھے کچھ بیماریاں بھی لاحق ہوئیں، میں بچوں اور گھر والوں سے دور رہا۔بعض سفر تین تین، چار چار ماہ کے ہوتے تھے۔مجھے یاد بھی نہیں کہ میں نے اپنے بچوں کو کتنی بار یاد کیا، اپنے گھر والوں کو کتنا یاد کیا۔خاص طور پر اپنی والدہ رحمہا اللہ کو۔وہ بہت زاہد، عبادت گزار اور صالح خاتون تھیں، اللہ والوں میں سے تھیں۔میں انہیں بہت یاد کرتا تھا۔میں کبھی ہوائی جہاز پر سوار نہیں ہوا مگر ان کی دعا لے کر: ’’میں فلاں جگہ جا رہا ہوں، میرے لیے دعا کریں۔‘‘اور میں وہاں فتح محسوس کرتا تھا، آسانی محسوس کرتا تھا۔
کسی جگہ جانے سے پہلے استخارہ کرتا تھا۔کسی اجلاس میں گفتگو کرنے سے پہلے بھی استخارہ کرتا اور دعا کرتا:’’اے اللہ! مجھے وہی بات کہلوانا جو تجھے پسند ہے، اور وہ بات نہ کہلو جسے تو پسند نہیں کرتا۔‘‘پھر ہم چلتے رہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے دل کو سہارا دیتا رہا، ہمارے ساتھ لطف فرماتا رہا اور راستے کھولتا رہا۔پھر ایک مرحلے پر مجھے یہ یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے جو مقدر کیا ہے، وہ مجھے ضرور ملے گا۔
میں نے اس پر راضی ہونا سیکھا جو اللہ نے اپنی مخلوق کے لیے پسند کیا اور جو میرے لیے پسند کیا۔پھر میں اس کیفیت تک پہنچ گیا کہ میں یہ ضروری نہیں سمجھتا تھا کہ ہر حال میں فلاں لائبریری کی تصویر ضرور بن جائے یا فلاں مجموعہ بھی لازماً ہمارے پاس آجائے۔ میں سوچتا اگر اللہ نے اس کا آنا مقدر کیا ہے تو وہ ضرور آئے گا۔ اس لیے میں نے یہ فکر چھوڑ دی کہ ہر چیز کو کسی نہ کسی طرح حاصل ہی کرنا ہے۔میں اپنے سامنے موجود اس کام میں مشغول ہوگیا جو ابھی خود مکمل نہیں ہوا تھا۔
الحمدللہ۔مجھے بڑی بڑی ناکامیاں بھی دیکھنی پڑیں اور بڑے بڑے چیلنجز بھی آئے۔ایسے حالات آئے کہ اگر کوئی سمجھ دار آدمی انہیں دیکھے تو کہے:یہ کام چھوڑ دو۔ اب بس کر دو۔ اپنی جان کے ساتھ ایسا سلوک نہ کرو۔ اپنے گھر، اپنے بچوں اور اپنی دوسری ذمہ داریوں کا بھی خیال رکھو۔لیکن میرے لیے یہ کام میری اپنی ذات سے بھی مقدم ہوچکا تھا۔اور جب انسان کے ذمے اپنے اہل و عیال بھی ہوں تو پھر وہ ذمہ داری اور بھی بڑی ہوجاتی ہے۔
میزبان محمد الشثری:
جب آپ اتنی مایوسیوں تک پہنچ گئے تھے تو پھر وہ اندر کی آواز کیا تھی جو آپ کو آگے بڑھاتی رہی؟
دکتور عبد العاطی الشرقاوی:
اللہ تعالیٰ۔
میں دور ایک روشنی دیکھ رہا تھا۔
میں 2000ء ہی میں ایک ایسے ڈیٹابیس کے بارے میں سوچ رہا تھا جس میں مصنفین کے بارے میں مختلف معلومات ایک جگہ جمع ہوں۔ہم نے مؤلفین کے لیے بھی ایک ڈیٹابیس بنایا۔ جس شخص نے کوئی کتاب لکھی ہے، وہ مکی ہے یا بصری؟ مدنی ہے یا نجدی؟ عراقی ہے یا ما وراء النہر کا مروزی؟ خراسانی ہے؟اس کا مذہب کیا ہے؟ اس کا علمی مشرب کیا ہے؟ وہ کس زمانے میں رہا؟ اس کا پیشہ کیا تھا؟یہ طبیب ہے، یہ فلکیات کا ماہر ہے، یہ ادب کا ماہر ہے، یہ محدث ہے، یہ مفسر ہے۔میں نے یہ تصور بہت ابتدائی زمانے ہی میں کر لیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک بہت دور کی چیز دکھا دی تھی، ایسی چیز جو میں نے کسی مستشرق کی آنکھ میں بھی نہیں دیکھی تھی۔میں کیمبرج اور دوسری جگہوں پر ان انجمنوں اور علمی اجتماعات میں بھی جاتا تھا جہاں دنیا بھر سے تراث سے دلچسپی رکھنے والے لوگ جمع ہوتے تھے۔ مختلف کتب خانوں کے مدیر وہاں موجود ہوتے تھے۔
کبھی ایک مجلس میں چالیس قومی یا بڑے کتب خانوں کے مدیر بیٹھے ہوتے تھے۔میں انہیں دیکھتا تھا اور، جیسا کہ ہم مصری لوگ کہتے ہیں، ان کی سوچ کو پلٹ پلٹ کر دیکھتا تھا کہ ان کی نظر کیا ہے؟ ان کی فکر کیا ہے؟تب میں اللہ کا شکر ادا کرتا تھا۔مجھے معلوم تھا کہ یہ میری ذہانت یا میری غیر معمولی بصیرت کا نتیجہ نہیں۔بندہ حقیقت میں عاجز ہے۔اگر اللہ نہ چاہتا تو میں ایک قدم بھی نہ اٹھا پاتا۔کبھی انسان کسی چیز کی خواہش کرتا ہے، اسے چاہتا ہے، لیکن وہ چیز اس سے ہٹا دی جاتی ہے۔میں سمجھ گیا کہ یہ ارادہ اللہ کی طرف سے ہے۔اور یہ جو راستہ کھلا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں اسے اٹھا کر، اس کی خدمت کر کے اس عزت کو قبول نہ کروں تو یہ مجھ سے لے لیا جائے گا اور کسی دوسرے کے پاس چلا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ کی مخلوق بہت ہے، اس کے لشکر بہت ہیں اور اس کے اولیاء بھی بہت ہیں۔یہ خدمت کسی اور کے پاس منتقل ہوسکتی ہے۔میں نے چاہا کہ مجھے اس کام کی خدمت کا شرف حاصل ہو۔یہی وہ اندر کی آواز تھی۔اس آواز کا ایک بڑا سبب علماء کے تراجم کا مطالعہ بھی تھا۔میں تقریباً پچیس برس سے ان کے حالات پڑھ رہا تھا۔میں ان سے محبت کرنے لگا تھا۔میں ان کے ساتھ جینے لگا تھا۔میں نے ان کی سانسوں کے ساتھ زندگی گزاری تھی۔مثلاً میں نے حافظ ابن حجر کی عمر پندرہ سولہ سال سے لے کر ان کی وفات سے چند دن پہلے تک کی تحریر جمع کی ہے۔جب ان کی بیٹیاں فوت ہوئیں تو میں نے دیکھا کہ ان کی تحریر کس طرح غمگین ہوگئی۔
میں نے ان کی زندگیوں کے ساتھ رہ کر دیکھا کہ ان میں یتیمی نے کیا اثر پیدا کیا، ان کے دل میں نرمی کیسے آئی، ان کے اندر اپنے ساتھیوں کے لیے محبت کیسے پیدا ہوئی۔یہاں تک کہ وہ اپنے ساتھیوں کو گویا اپنی اولاد سمجھتے تھے۔انہوں نے انہیں اپنی اولاد میں شمار کیا اور انہیں اپنے ترکے میں سے حصہ دیا۔فتح الباری کی تکمیل کی مجلس میں کتاب کو اس کے وزن کے برابر سونے سے انعام دیا گیا۔کتاب لکھنے والوں کو تھیلیاں دی گئیں۔صرف قاہرہ میں حافظ ابن حجر کے زمانے میں فتح الباری کی تیس سے زیادہ مکمل یا جزوی نقول لکھی گئیں۔ذرا تصور کریں! صرف قاہرہ میں، اور وہ بھی حافظ ابن حجر کے زمانے میں، تکمیل کی مجلس میں۔میں نے دیکھا کہ جب ان کے بچے طاعون میں فوت ہوئے تو ان کی تحریر کا انداز کیا تھا۔میں نے کوشش کی کہ حلب میں لکھی ہوئی ان کی کوئی چیز دیکھوں، جب انہیں حلب کی ایک عورت سے محبت ہوئی اور اس سے جدائی پر وہ غمگین ہوئے۔
میں ان کے اس زمانے کی تحریر دیکھنا چاہتا تھا۔پھر میں نے ان کا خط سنن ابو داود کے ایک نسخے میں دیکھا، جو انہوں نے عدن، یمن میں ستائیس سال کی عمر میں لکھا تھا۔اس وقت تک ان پر قضا کی ذمہ داری بھی نہیں آئی تھی۔تو یہ لوگ میرے ساتھی بن گئے۔میں ان کے ساتھ جینے لگا۔میں نے ان سے سچی محبت کی۔میں نے جان لیا کہ یہ لوگ خصوصی عنایت کے حامل تھے، اللہ نے انہیں چنا تھا، اللہ نے ان پر یہ فتح فرمائی تھی۔یہ فتح بھی اللہ ہی کی طرف سے تھی۔انسان قلم پکڑتا ہے، لیکن قلم پکڑنا بھی اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے۔
کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے قلم پکڑا لیکن کچھ لکھ نہ سکے۔اور کتنے ہیں جنہوں نے لکھا، پھر ان کی تحریریں ضائع ہوگئیں، پانی میں ڈوب گئیں، جلا دی گئیں، تلف ہوگئیں یا غائب ہوگئیں۔
یہ ایک بہت بڑی دنیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بعض کتابوں کے لیے لکھا کہ وہ لکھی جائیں، ان کے لیے یہ چاہا کہ وہ محفوظ رہیں اور چاہا کہ وہ باقی رہیں۔کتنے مخطوطات ایسے ہیں جو برسوں محفوظ رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے کسی کو ان کا سراغ دے دیا، کسی محقق، کسی فاضل یا کسی عالم کے ذریعے انہیں دوبارہ لوگوں کے سامنے لے آیا۔تو میرے اندر یہ کئی چیزیں بیک وقت موجود تھیں۔ایک احساس تھا کہ یہ ایک علمی مشن ہے۔
ایک احساس تھا کہ یہ امانت ہے۔اور یہ کوئی تجارتی منصوبہ نہیں۔تجارتی منصوبے میں تو آپ ہر ڈالر کے نکلنے سے پہلے پوچھتے ہیں: کہاں جا رہا ہے؟ کب واپس آئے گا؟ کتنے میں واپس آئے گا؟لیکن یہ معاملہ ایسا تھا کہ اس میں خرچ کرنا ہی مقصود تھا۔اور اگر اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کو اس کام کے لیے چنا ہو تو پھر اس کے دل کو مال سے وابستہ نہیں رہنے دیتا۔اگر میں مال کے ساتھ وابستہ ہوتا تو میں ہر خرچ گنتا۔
لیکن مجھے خرچ کرکے خوشی ہوتی تھی۔جب محققین اپنی تنخواہوں سے خوش ہوتے تھے تو مجھے خوشی ہوتی تھی۔جب کوئی کام مکمل ہوجاتا تو مجھے خوشی ہوتی تھی۔مجھے ایک واقعہ آج تک یاد ہے۔قاہرہ کے ایک حصے میں ہم نے شہید علی پاشا کی لائبریری پر کام کیا تھا۔
ذرا تصور کریں: ایک لائبریری، جس کے تقریباً دس لاکھ صفحات مکمل دیکھے گئے، فہرست بنائی گئی، عنوان لکھا گیا، مصنف لکھا گیا، عنوان کی توثیق کی گئی، مصنف کی توثیق کی گئی، محفوظ رکھنے کا نمبر لکھا گیا، اصل لائبریری اور ذیلی لائبریری کا اندراج کیا گیا، کتاب کی ابتدا اور انتہا درج کی گئی، کاتب کا نام، مقامِ کتابت، تاریخِ کتابت، ملکِ کتابت، سالِ تصنیف، مخطوطے کی مادی حالت، اوراق کی تعداد، سطور کی تعداد، ملازموں یا اجزاء کی تعداد، سماعات، تملکات، اجازات—سب کچھ درج کیا گیا۔
یہ ایسی چیزیں ہیں جو صرف کتاب کے متن سے معلوم نہیں ہوتیں۔یہ دراصل ایک نئی تاریخ تخلیق کرنا ہے۔جب کسی لائبریری کا یہ کام مکمل ہوجاتا تو میں کہتا کہ بھائیوں کے لیے ایک بڑی دعوت کرتے ہیں، ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس لائبریری پر کام کیا۔
یہ پورا سفر کچھ اس طرح آگے بڑھا۔اللہ تعالیٰ نے سہولت دی۔ترکی میں بڑی تعداد میں لوگ کام کرنے لگے۔وہ لائبریریوں میں جاتے، فہرستیں بناتے۔اگر مخطوطات کی تصاویر مل جاتیں تو ان سے فہرست تیار کرتے۔اگر لائبریری بھی نہ ملتی، تصویر بھی نہ ملتی، تو ہم فہرست حاصل کرتے اور اسے اپنے بنائے ہوئے پروگرامنگ کے سانچے میں داخل کرتے۔ہم نے ایک ایسا قالب تیار کیا تھا جس میں بیس برس سے سرمایہ کاری کر رہے تھے۔وہ مسلسل تیار بھی ہوتا رہا، اس میں ترقی بھی ہوتی رہی، اور وہ ایک معیاری نظام کی صورت اختیار کرتا گیا۔اور پھر اس میں وہ فِلٹرز بھی موجود تھے جن کا آپ نے ذکر کیا۔مثلاً میں چاہوں کہ پوری دنیا میں ریاضی کے مخطوطات دیکھوں، لیکن برطانیہ کو نکال دوں، فرانس کو نکال دوں، مصر کو نکال دوں۔
یا میں صرف کسی خاص سال یا کسی خاص صدی کے مخطوطات دیکھنا چاہوں۔یہ سب ممکن ہے۔اور یہی کام ہم نے ایران میں بھی کیا۔وہاں ہم نے متعدد ٹیمیں بنائیں تاکہ ایران میں موجود تراث کی فہرست سازی کی جاسکے۔اس لیے کہ ایران میں بہت بڑا اور اہم علمی ذخیرہ ہے۔چار لاکھ، ساڑھے چار لاکھ، تقریباً نصف ملین مخطوطات ہیں۔تو یہ ایک پوری علمی دنیا ہے۔اور پھر ہندوستان ہے۔پھر ہندوستان ہے۔ ہندوستان تو ایک پورا جہان ہے۔میں نے چند دن پہلے معہد المخطوطات کے ساتھ ایک پروگرام کیا تھا جس میں امام ابن جماعہ کے بارے میں گفتگو کی تھی۔ یہ بڑے عالم اور اللہ والے تھے۔
ان کی کتاب ’’ہدایۃ الناسک‘‘ کا ایک نسخہ موجود ہے جسے انہوں نے مدینہ منورہ میں اپنے ہاتھ سے مکمل لکھا تھا، اور مدینہ منورہ ہی میں ان کے سامنے یہ کتاب پڑھی بھی گئی تھی۔ آج اس نسخے کے مختلف حصے ہندوستان میں الگ الگ جگہوں پر موجود ہیں؛ کچھ حصے یہاں ہیں اور کچھ وہاں۔یہ بہت نادر چیز ہے، کیونکہ یہ ایسی تاریخ محفوظ کیے ہوئے ہے جو کہیں اور موجود نہیں۔
یہاں تک کہ حافظ سخاوی نے اپنی کتاب ’’التحفۃ اللطیفۃ فی تاریخ المدینۃ الشریفۃ‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ 750 ہجری ایک خاص، عجیب اور بابرکت سال تھا۔ اس سال فلاں شخص آیا، فلاں آیا، فلاں آیا۔اب جب میں نے اس نسخے پر موجود سماع کو دیکھا تو ان میں سے وہ تمام لوگ مجھے اسی سماع میں مل گئے۔ یعنی جن لوگوں کا حافظ سخاوی نے ذکر کیا تھا، ان کے نام اس نسخے پر موجود سماع میں بھی محفوظ تھے۔وہ لوگ وہاں موجود تھے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں، روضۂ شریفہ میں اس کتاب کو پڑھا تھا۔پھر یہی کتاب مکہ مکرمہ میں پڑھی گئی، پھر ازہر میں، پھر صالحیہ میں، پھر کاملیہ میں۔
پھر مصنف کی موجودگی میں بھی پڑھی گئی اور مصنف کے بعد بھی پڑھی گئی۔اور ان مجالس میں کون کون لوگ موجود تھے؟ قاضی القضاۃ جلال الدین قزوینی، برہان الدین الشافعی الابناسی، اور اس طرح کے کتنے ہی بڑے نام!
بڑے بڑے نام!
اب اسی طرح جب ہم امام ابو داود کے بارے میں گفتگو کریں گے تو اگر ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ یہ لوگ علم، پختگی، نسک یعنی عبادت و ریاضت، اور ولایت کے اس عجیب مقام تک کیسے پہنچے، تو ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ انہوں نے ابتدا کیسے کی اور یہاں تک کیسے پہنچے۔یہ ساری تفصیل صرف کتابوں کے اندر نہیں ملتی، بلکہ مخطوطات کے اوراق اور ان پر موجود سماعات و حواشی میں محفوظ ہوتی ہے۔
