دکتور عبد العاطی الشرقاوی حفظه الله _شوقِ علم کی ایک عظیم داستان

دنیا بھر میں بکھرا ہوا علمی ورثہ — سفر، تلاش اور نادر واقعات

قسط 02

پیشکش: محمد ثاقب

میزبان محمد الشثری:

ڈاکٹر صاحب! آپ کو اس سفر کے دوران جو عجیب و غریب واقعات پیش آئے، ان میں سے کچھ ہمیں بتائیے۔ یوں کیجئے کہ ہر ملک سے ایک واقعہ بتا دیں، مثلاً ترکی، ایران، مغرب وغیرہ کا ایک ایک واقعہ۔ ایسی چیزیں جو آپ کو آج تک یاد ہوں؟

دکتور عبد العاطی الشرقاوی:

ترکی میں تو بہت سے واقعات پیش آئے۔ یہ عجیب ملک ہے۔ لیکن میں ہر کام میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتا تھا، جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ استعانت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ اور یہ واقعات بھی اسی استعانت کے اثرات میں سے تھے۔میں ہر ملک کی تاریخ، اس کے مزاج اور اس کی فطرت کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس سلسلے میں قدیم کتابوں میں لوگوں اور مختلف قوموں کی طبیعتوں اور خصوصیات کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے، اسے بھی دیکھتا تھا۔ مثلاً امام امشاطی کی کتاب «القول السديد في اختيار الإماء والعبيد» میں بھی ایسے بعض مباحث ملتے ہیں۔ میں ان چیزوں سے یہ سمجھنے کی کوشش کرتا تھا کہ لوگوں اور مختلف قوموں کی طبیعتیں کیا ہیں اور ان کے ساتھ کس طرح معاملہ کیا جائے۔حتیٰ کہ اپنی فاؤنڈیشن میں بھی میں کسی آدمی کو اس کی طبیعت اور صلاحیت کو دیکھے بغیر کسی کام پر نہیں لگاتا تھا۔ ہر شخص کے بارے میں باقاعدہ غور کرتا تھا، اس کی حالت و کیفیت کو سمجھتا، پھر اس کی مہارت کو سامنے رکھ کر اسے اس کے لیے مناسب جگہ پر رکھتا تھا۔

اسی طرح مختلف ممالک کے لوگوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے بھی میں ان کے مزاج کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ البتہ ایک عمومی اصول ہمیشہ سامنے رہتا تھا:«ما كان الرفق في شيء إلا زانه»جس چیز میں نرمی ہوتی ہے، وہ اسے خوب صورت بنا دیتی ہے۔اور ان سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا، جیسا کہ میں نے عرض کیا۔

ترکی سے متعلق ایک واقعہ میں آپ کو سناتا ہوں۔ مولانا ڈاکٹر عبدالرحمن العثیمین رحمہ اللہ سے بعض اہلِ فضل نے میرا تعارف کرایا تھا۔ وہ عجیب آدمی تھے۔ میں نے سعودی عرب میں مخطوطات کے علم میں ان جیسا گہرا آدمی نہیں دیکھا۔ بالخصوص اس لیے بھی کہ جامعہ ام القریٰ نے انہیں دنیا بھر میں سفر کر کے نادر مخطوطات کی تصویریں لینے کی مکمل اجازت دے رکھی تھی۔ اس طرح انہوں نے جامعہ ام القریٰ کے تحقیقی مرکز کو بہت مالا مال کیا۔ وہاں مرکز إحياء التراث قائم ہوا اور ان کے پاس موجود مصورات کی کچھ فہرستیں بھی شائع ہوئیں۔

جب شیخ عمر رسیدہ ہوگئے تو وہ مجھے فون کرتے تھے۔ وفات سے پہلے انہیں کچھ علالت بھی لاحق ہوگئی تھی، اللہ تعالیٰ انہیں اس کا اجر عطا فرمائے۔ وہ مجھے روزانہ فون کرتے۔ کبھی آدھا گھنٹہ، کبھی ایک گھنٹہ۔

میں خود اپنے کام میں مصروف ہوتا، لیکن مجھے ان کا یہ شوق، یہ ایمان اور اس عمر میں یہ ہمت بہت اچھی لگتی تھی۔ وہ مجھ سے پوچھتے:“فلاں جگہ کی لائبریری دیکھ آئے ہو؟”“فلاں زاویے میں گئے ہو؟”“وہاں زبان کے نادر مخطوطات کون سے ہیں؟”میں کہتا: “آپ تو الٹا مجھ ہی سے  پوچھ رہے ہیں!”

ایک مرتبہ شیخ نے مجھ سے کہا:“واللہ! اگر میری صحت ٹھیک ہوتی اور میرے پاؤں سلامت ہوتے تو میں خود دبئی آ کر تم سے ملتا۔”میں نے کہا:“بس، اب تو آپ کی زیارت مجھ پر لازم ہوگئی!”یعنی اس طرح کی بات کہہ دی جائے تو اب میں اسے اپنے ذمے سمجھتا ہوں۔ میں نے کہا:حضرت! اب یہ ذمہ داری مجھ پر ہے، آپ پر نہیں۔ آج میرے اور آپ کی ملاقات کے درمیان صرف ویزا نکلنے کا فاصلہ ہے۔”

میرا ویزا 24 سے 48 گھنٹے میں نکل آیا۔ میں حسبِ معمول سعودی عرب میں داخل ہوتے ہی مدینہ منورہ گیا اور روضہ رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی، پھر مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ کیا۔ اس کے بعد مکہ سے عنیزہ جانے کے لیے میں نے سڑک کے راستے سفر کیا۔

دنیا بھر میں بکھرا ہوا علمی ورثہ — سفر، تلاش اور نادر واقعات

میزبان محمد الشثری:

ان کدّادوں کے ساتھ؟یعنی جو نجی گاڑیوں میں مسافروں کو ایک شہر سے دوسرے شہر لے جاتے ہیں؟

دکتور عبد العاطی الشرقاوی:

ہاں، گاڑی سے گیا۔ سفر کافی لمبا تھا۔ میرا لیپ ٹاپ بھی ساتھ تھا، لیکن اس کی بیٹری زیادہ دیر چلنے والی نہیں تھی، تقریباً ایک گھنٹے بعد ختم ہوجانے والی تھی۔ چنانچہ بیٹری ختم ہونے سے پہلے میں راستے میں بھی اپنے کام میں لگا رہا، کچھ فہرستیں دیکھتا اور ان کا مطالعہ کرتا رہا۔شیخ شہر سے باہر نکل کر خود میرا استقبال کرنے آئے۔ وہ استقبال اور میزبانی کے آداب اور طور طریقوں کا خاص خیال رکھتے تھے میں نے کہا:“آپ نے زحمت کیوں کی؟”پھر وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر شہر کی طرف روانہ ہوئے۔پھر جب ہم پہنچے تو مجھے ہوٹل لے گئے اور کہا:“میں نیچے انتظار کر رہا ہوں۔”یعنی مراد یہ تھی کہ سامان رکھو اور نیچے آ جاؤ۔

میں ظاہر ہے شیخ کا لحاظ کرتے ہوئے فوراً نیچے آگیا، آرام بھی نہیں کیا۔ محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہ خود مجھ سے ملنے کے لیے بے تاب تھے۔یہ شوق تھا، یہ جذبہ تھا، یہ ایک طرح کا جنون تھا۔

رات کو جب ہم بیٹھے تو انہوں نے کہا:“تم اب نہیں جاؤ گے، ہم یہیں سوئیں گے۔”میں نے کہا:“آپ نے پھر میرے لیے ہوٹل کیوں لیا؟”کہنے لگے:“تاکہ تم مجھے بخیل نہ سمجھو!”میں نے کہا:“حضرت! آپ تو صاحبِ فضل ہیں، آپ کی میزبانی اور آپ کی شفقت اپنی جگہ!”(میں آپ کو بخیل کیسے سمجھ سکتا ہوں؟ آپ تو خود اتنی محبت اور مہمان نوازی کر رہے ہیں۔) اس کے بعد ہماری بڑی پُررونق مجلس ہوئی۔ یہ انتظام بس چند دن کے لیے تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ساتھ بیٹھیں، گفتگو کریں۔ ان کی ہمت واقعی غیر معمولی تھی۔جو شخص ان کی ذيل طبقات الحنابلة کی تحقیق اور اس کی مکمل ترتیب و خدمت دیکھے، وہ سمجھ سکتا ہے کہ وہ کتنے ہمہ جہت علمی آدمی تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔

باتوں ہی باتوں میں ہم مختلف کتابوں اور مخطوطات کا ذکر کرنے لگے:“فلاں لائبریری گئے؟”“وہ مخطوطہ دیکھا؟“وہاں کیا ملا؟”میں نے ان سے کہا:“آپ نے مجھ سے اتنا پوچھ لیا ہے، اب آپ خود بھی کوئی ایسا واقعہ سنائیے جس نے آپ کو بہت متاثر کیا ہو، میں وہی آپ سے پوچھتا ہوں۔”کہنے لگے:“نہیں، وہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جب تمہارے والد نے تمہاری والدہ سے شادی بھی نہیں کی تھی!”

میزبان محمد الشثری:

ہاہاہا!

دکتور عبد العاطی الشرقاوي:

یعنی تم ابھی دنیا میں آئے ہی نہیں تھے!

میں نے کہا:

“آپ نے مجھے ایک چوٹ ماری ہے، اب میں بھی آپ کو ایک چوٹ ماروں گا۔ آپ نے خود یہ بات کہی ہے، اب قصہ سنانا پڑے گا۔”وہ بہت مزاحیہ طبیعت کے آدمی تھے اور ان کی روح بہت خوش مزاج تھی۔میں نے کہا:“اب واقعہ سنائیے۔”انہوں نے کہا:“میں سلیمانیہ کتب خانہ ترکی میں جایا کرتا تھا۔”

سلیمانیہ دنیا کی بہت بڑی مخطوطاتی لائبریریوں میں سے ہے۔ وہاں تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار مخطوطات کا ذکر کیا جاتا ہے، جبکہ اگر انہیں مجلدات کے حساب سے شمار کیا جائے تو تعداد ستر یا اسی ہزار کے قریب بنتی ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ ایک ہی مجلد میں کئی الگ رسائل اور کتابیں شامل ہوسکتی ہیں، اور بعض لوگ ہر رسالے کو الگ مخطوطہ شمار کرتے ہیں، جبکہ بعض پورے مجلد کو ایک ہی شمار کرتے ہیں۔

وہ کہتے تھے کہ لائبریری کا ڈائریکٹر ان کا دوست تھا۔ ترک عام طور پر اہلِ حجاز سے محبت رکھتے ہیں، مکہ اور مدینہ اور سعودی عرب والوں کو دیکھ کر انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ کی سرزمین کی طرف سے آنے والا شخص ہے، یعنی ایک طرح سے رسول اللہ ﷺ کے قریب سے آنے والا آدمی ہے۔

شیخ کہتے تھے کہ وہ ان کے لیے تحفے لے جاتے، گھر پر جاتے، خاندانی تعلقات بھی تھے۔ لیکن جب لائبریری میں جاتے اور کسی مخطوطے کا مطالبہ کرتے تو ڈائریکٹر کچھ جھجک محسوس کرتا۔ایک مرتبہ انہوں نے لائبریری میں ایک خاص مخطوطہ مانگا۔ ملازم نے اس کا نمبر لیا اور اندر سے مخطوطہ نکالنے گیا۔لیکن وہ جو مخطوطہ لے کر آیا، وہ مطلوبہ مخطوطہ تھا ہی نہیں۔

میزبان محمد الشثری:

یعنی دوسرا مخطوطہ لے آیا؟

دکتور عبد العاطی الشرقاوي:

ہاں، دوسرا مخطوطہ۔

اور وہ وہ ابو حیان الاندلسی کی مشیخہ کا ان کے اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا نسخہ تھا۔شیخ کہتے تھے کہ یہ شاید 80ء کی دہائی کا واقعہ تھا یا اس کے آس پاس کا زمانہ۔میں نے ان سے کہا:“پھر؟”میں نے اس وقت بھورا جبہ پہن رکھا تھا، آپ کے اس جیکٹ جیسے رنگ کا۔انہوں نے کہا:مجھے آج بھی وہ مخطوطہ یاد ہے۔ تیس سال پہلے دیکھا تھا، اس کے اوراق بالکل تمہارے کپڑے جیسے بھورے تھے!”انہوں نے یہ بات پانچ چھ مرتبہ دہرائی۔

پھر میں نے کہا:“اچھا، پھر کیا ہوا؟”میں شروع ہی سے سمجھ گیا تھا کہ وہ کون سا نسخہ تھا۔کہنے لگے:“پھر بجلی چلی گئی!”لائبریری میں کچھ غیر ملکی اور مستشرق بھی موجود تھے۔ بجلی جانے کے بعد وہ باہر نکل گئے اور سگریٹ پینے لگے۔شیخ نے سوچا:“میں مخطوطہ لے جاتا ہوں، خاموشی سے اس کی تصویر بنا لوں گا، پھر واپس کر دوں گا۔”

انہوں نے مخطوطہ اٹھا لیا۔لیکن کہتے ہیں:“چند قدم ہی چلا تھا کہ میرا دل دکھنے لگا۔”وہ امانت دار آدمی تھے۔ ان کے دل میں خیال آیا کہ میں اللہ کے حرمین کی سرزمین سے آیا ہوا آدمی ہوں، اگر خدا نخواستہ مجھے کچھ ہوگیا اور یہ مخطوطہ میرے بیگ میں پڑا رہا تو میرے بارے میں کیا سوچا جائے گا؟چنانچہ وہ واپس گئے، مخطوطہ اپنی جگہ رکھ دیا اور دوبارہ وہیں آ کر لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔پھر لائبریرین آیا، اس نے وہ مخطوطہ اٹھایا اور کہیں رکھ دیا۔شیخ دوبارہ اندر گئے تو مخطوطہ وہاں موجود نہیں تھا۔

انہوں نے پوچھا:“مخطوطہ کہاں گیا؟”اس نے کہا:“میں نے اندر رکھ دیا تھا۔”لیکن اسے خود بھی یاد نہیں تھا کہ وہ مخطوطہ کس نمبر کا تھا؛ کیونکہ اصل میں وہ مطلوبہ مخطوطہ تھا ہی نہیں، غلطی سے نکالا گیا تھا۔شیخ کہتے تھے:“اس کے بعد میں تیس سال تک سلیمانیہ میں اس مخطوطے کو تلاش کرتا رہا، لیکن اسے نہیں پا سکا۔”

اور بار بار یہی کہتے:“مجھے یاد ہے، اس کے اوراق تمہارے اس کپڑے جیسے بھورے تھے!”

میں نے کہا:

“اچھا، اگر کوئی شخص آج آپ کو یہ مخطوطہ لا دے تو؟”کہنے لگے:“مذاق نہ کرو، خدا کے لیے! تم نے کوئی جن تو نہیں پال رکھا؟ آج یہ مخطوطہ کہاں سے لاؤ گے؟ تمہیں کیسے معلوم کہ وہ کون سا تھا؟”میں نے کہا:“آئیے، ڈیٹابیس میں تلاش کرتے ہیں۔ ہم لکھتے ہیں: ابو حیان ناسخ، اور عنوان میں مشیخہ، دیکھتے ہیں کیا نکلتا ہے۔”ہم نے تلاش کیا۔اور مخطوطہ ہمارے سامنے آ گیا!

میزبان محمد الشثری:

یعنی وہی مخطوطہ آپ لوگوں نے تصویر بنا کر محفوظ کر لیا تھا؟

دکتور عبد العاطی الشرقاوي:

ہاں، اس کی فہرست بھی بن چکی تھی اور تصویر بھی محفوظ تھی۔

یہ واقعہ 2014ء کا ہے، نہیں، معاف کیجیے، 2013ء بھی نہیں بلکہ 2012ء کا ہے۔ کیونکہ میں 2009ء سے سنن ابی داود کی روایات پر اپنے ماسٹرز کے تحقیقی کام میں لگا ہوا تھا۔ اسی دوران شیخ نے مجھے ثبت الزبیدی تحفے میں بھیجا تھا، جو انہوں نے مرکز المفیصم سے خریدا تھا اور  DHL Express کے ذریعے دبئی مجھے بھیج دیا تھا۔ میں اسے اپنے کام میں استعمال کرتا تھا، اس لیے میں اسے کبھی نہیں بھول سکتا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے اور ان پر رحم فرمائے۔

میں نے شیخ سے کہا:“اچھا، اگر اب میں آپ کو وہ مخطوطہ دکھا دوں تو؟”انہوں نے کہا:“ڈیٹا تو آگیا، مگر تصویر کہاں ہے؟”میں نے کہا:“یہ رہی تصویر!”شیخ نے جب تصویر دیکھی تو فوراً بول اٹھے:“یہی ہے! یہی ہے! ما شاء اللہ! اللہ تمہیں جزائے خیر دے! دیکھو، دیکھو، یہی تو ہے، بالکل تمہارے کپڑے کے رنگ جیسا!”میں نے ہنس کر کہا:“حضرت! بس بھی کیجیے، سمجھ گئے ہم کہ اس کے اوراق میرے کپڑے کے رنگ جیسے تھے!”اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔وہ بہت خوش ہوئے۔ وہ تیس سال سے جس مخطوطے کو تلاش کر رہے تھے، ڈیٹابیس کی وجہ سے چند لمحوں میں ان کے سامنے آ گیا۔

میزبان محمد الشثری:

یا اللہ! کیا خوب!

دکتور عبد العاطی الشرقاوي:

کیونکہ وہ خود نہیں جانتے تھے کہ وہ مخطوطہ کہاں ہے۔ اسے غلط نمبر سے نکالا گیا تھا، اس لیے اس کے بعد کسی کو معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ اصل میں کہاں رکھا گیا۔

یہ ترکی کی ایک مثال ہے۔ترکی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ وہاں تقریباً پانچ لاکھ سے زیادہ مخطوطات ہیں۔ ان میں سے ایک لاکھ سے کچھ زیادہ مخطوطات کی معلومات عربی زبان میں فہرست بند کی گئی ہیں۔ باقی زیادہ تر مخطوطات کی معلومات بھی دستیاب ہیں، لیکن وہ ترکی کے لاطینی رسم الخط میں درج ہیں، اور ہر عربی داں محقق ترکی کو اس رسم الخط میں نہیں پڑھ سکتا۔اور اسی طرح وہاں عجیب انکشافات سامنے آتے ہیں۔مثلاً مناقب الإمام الشافعي لابن أبي حاتم کا ایک ہی معروف نسخہ شام کے شہر حلب میں تھا۔ پچاس سال تک لوگ اسی ایک نسخے کو جانتے رہے۔ لیکن اناطولیہ ترکی کی بعض لائبریریوں کی فہرستیں سامنے آئیں تو معلوم ہوا کہ وہاں ایک اور نسخہ بھی موجود ہے۔یہی چیزیں انسان کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ جب آدمی تھکنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ کسی نئی چیز کے ذریعے اسے سہارا دیتا ہے، گویا فرماتا ہے:“صبر کرو، ابھی آگے بڑھو۔”

میزبان محمد الشثری:

اور بلادِ فارس کے بارے میں؟ وہاں تو چار لاکھ کے قریب مخطوطات بتائے جاتے ہیں۔ وہاں کا بھی کوئی واقعہ یاد ہے؟

دکتور عبد العاطی الشرقاوي:

وہاں تو بہت لمبی داستانیں ہیں، لیکن ان میں سے بہت سی بیان نہیں کی جا سکتیں۔البتہ جو عجیب چیزیں میں نے دیکھی ہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ میں بعض اہلِ فضل کے ساتھ بہت سی لائبریریوں میں گیا۔ ہمارا سوال ہمیشہ ایک ہی ہوتا:“مخطوطات کا شعبہ کہاں ہے؟”پھر ہم اس شعبے کے ذمہ دار افسر کے پاس جاتے، جو کئی سال سے یہ شعبہ سنبھال رہا ہوتا۔ میں اس سے معلومات لیتا اور اس کی باتیں ریکارڈ کر لیتا، مثلاً پوچھتا: آپ کے پاس کتنے مخطوطات ہیں؟ ان میں سے کتنے کی فہرست تیار ہوچکی ہے؟ کیا کچھ حصے ابھی غیر مفہرَس بھی ہیں؟میں ہر لائبریری کے بارے میں یہ معلومات الگ الگ جمع کرتا اور محفوظ کرتا تھا۔لوگ مجھے دیکھ کر حیران ہوتے تھے۔پھر جب وہاں میری اپنی ٹیم بن گئی اور مجھے وہاں کی لائبریریاں تقریباً زبانی یاد ہوگئیں تو لوگوں نے سوچنا شروع کیا:“یہ آدمی کچھ اور کر رہا ہے۔ آخر یہ کون ہے؟”کچھ لوگوں کو تو یہ بھی گمان ہوا کہ شاید میں جاسوس ہوں!وہ پوچھتے:“یہ آدمی کون ہے؟ کیا کر رہا ہے؟”پھر مجھے انہیں سمجھانا پڑتا:“میں دنیا کے علمی تراث کی فہرست بنا رہا ہوں۔ آپ کا تراث بھی اس میں شامل ہوگا!”

وہاں ایک شخصیت ڈاکٹر رسول جعفریان بھی ہیں، وہ بھی ڈاکٹر عبدالرحمن العثیمین کی طرح اہلِ فضل میں سے ہیں۔ میں ان کا خاص طور پر شکر گزار ہوں، کیونکہ وہ علمی مواد کو عام کرنے اور لوگوں کے لیے دستیاب رکھنے کے قائل ہیں۔جب انہوں نے کتب خانۂ مجلسِ شورائے ایران (Majlis Library) کی ذمہ داری سنبھالی تو وہاں تقریباً 27 ہزار مجلدات میں 51 ہزار مخطوطات موجود تھے۔ یہ پورا ذخیرہ ہمارے نظام میں شامل کیا گیا اور مکمل طور پر فہرست بند کیا گیا۔

آپ اندازہ کریں، ایک ہی لائبریری میں دسیوں ہزار مخطوطات ہیں۔ ظاہر ہے ان میں فارسی کتابیں بھی ہوں گی، بعض متاخر کتابیں ہوں گی، کچھ ایسی بھی ہوں گی جن میں زیادہ اہمیت نہ ہو، لیکن ان ہی میں نادر کتابیں بھی موجود ہوتی ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ تین ہزار نادر کتابیں ایک ساتھ نکل آئیں، لیکن جب آپ پورا ذخیرہ دیکھیں گے تو یقیناً ایسی چیزیں ملیں گی۔

جب میں نے ڈاکٹر رسول جعفریان کو اپنا کام دکھایا تو انہوں نے فارسی میں ایک تحریر لکھی، جو میرے ٹیلیگرام چینل پر بھی موجود ہے۔ انہوں نے لکھا کہ یہ شخص مشرق سے آیا ہے اور اس نے جیسے کوئی جادو کر دیا ہے، کوئی عجیب چیز کر دی ہے۔

انہوں نے مجھ سے ایک اور چیز کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مخطوطات کے علاوہ ایک نایاب قدیم مطبوعہ کتاب بھی ہے جسے وہ تقریباً تیس سال سے تلاش کر رہے ہیں۔ وہ سنگی طباعت سے چھپی ہوئی کتاب تھی، یعنی اس زمانے میں پتھر کے ذریعے چھاپی جانے والی کتاب۔ اس کا نام شاید “غدیر الاندلس” یا کچھ ایسا تھا، اب مجھے صحیح نام یاد نہیں۔اس کتاب کے حوالے سے ایک روایت مشہور تھی جسے بعض اہلِ علم ایک حقیقی واقعہ سمجھتے تھے، لیکن ان کے خیال میں وہ دراصل ایک ادبی روایت تھی۔ وہ اصل کتاب تلاش کرنا چاہتے تھے تاکہ اس کی حقیقت واضح ہوسکے۔وہ کہنے لگے کہ میں نے اس کتاب کو تلاش کرنے کے لیے اپنے بیٹے کو نیویارک کی کسی یونیورسٹی یا کانگریس لائبریری بھیجا تھا۔ وہاں اس کتاب کا سراغ تو مل گیا، لیکن انہوں نے اس کی تصویر بنانے کی اجازت نہیں دی؛ شاید کتاب کی حالت اچھی نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں کے بعض اہلِ علم اس واقعے کو ایک حقیقی واقعہ سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک بڑے اہلِ علم نے بھی اسے اسی طرح نقل کیا ہے۔ لیکن میرے خیال میں یہ کوئی حقیقی واقعہ نہیں بلکہ ایک ادبی روایت ہے۔ میں لوگوں کے سامنے یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں، مگر اصل کتاب میرے پاس نہیں۔ البتہ شیخ علی طنطاوی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے، اس لیے میں اصل کتاب تک پہنچنا چاہتا ہوں۔

میں نے ان سے کہا:“میرے پاس سنگی مطبوعات کا ایک ڈیٹابیس ہے، جس میں ابتدائی دورِ طباعت سے لے کر 1950ء تک کی ایک لاکھ سے زیادہ کتابیں شامل ہیں۔”

انہوں نے کہا:“اچھا، تو تلاش کریں!”میں نے تلاش کی۔وہ تیس سال سے جس کتاب کو تلاش کر رہے تھے، اس کے بارے میں ان کے درمیان گفتگو، ان کی پریشانی اور ان کی جستجو کے بعد اسے ہمارے سامنے آنے میں پانچ منٹ بھی نہیں لگے۔

میں نے ہنستے ہوئے کہا: “یہ لیجیے، آپ کی خدمت ہوگئی! یہ تو وی آئی پی سروس ہے، مجلسِ شوریٰ کے لیے خاص خدمت!”اور ہم نے وہ کتاب نکال کر انہیں دے دی۔

سچ یہ ہے کہ مجھے خود بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کتاب ہمارے پاس موجود ہے، کیونکہ کبھی کبھی انسان کے پاس ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن کا اسے خود اندازہ نہیں ہوتا۔میں حقیقتاً ان چیزوں کے درمیان اپنے بچوں سے زیادہ وقت گزارتا ہوں، اپنے بھائیوں سے زیادہ وقت گزارتا ہوں۔ میرے بہت زیادہ دوست بھی نہیں ہیں۔ میرے اصل ساتھی یہی مخطوطات، یہی کتابیں اور یہی اہلِ علم ہیں۔

لیکن اس کے باوجود یہ نہ سمجھیں کہ میں نے دو ملین مخطوطات ایک ایک کرکے خود دیکھ لیے ہیں۔ ممکن ہے میں نے تقریباً دس لاکھ کے قریب مخطوطات دیکھے ہوں۔ کیونکہ میں ایک طویل عرصے تک روزانہ دسیوں اور سیکڑوں مخطوطات دیکھتا رہا، اصل بھی اور مصورات بھی۔

اسی طرح کے کئی عجیب واقعات پیش آئے۔مثلاً آستان قدس رضوی ایران م کی لائبریری میں مجھے بہت حیرت ہوئی۔ وہاں بتایا گیا کہ 69 ہزار مخطوطات ہیں۔میں نے کہا:“یہ سب کب فہرست ہوں گے؟ یہ ہمارے نظام میں کب آئیں گے؟”لوگ کسی چیز کی خوب صورتی دیکھتے ہیں، اس کا ظاہری پہلو دیکھتے ہیں، عمارت کو باہر سے دیکھتے ہیں، لیکن اس کی تیاری اور اسے قائم کرنے کے پیچھے جو زبردست محنت ہوتی ہے، وہ نظر نہیں آتی۔ پھر بعد میں کوئی آ کر کہتا ہے:

“یہاں املا کی ایک غلطی ہے، یہاں یہ مسئلہ ہے!”میں کہتا ہوں:“ٹھیک ہے، ہم نے تو ابتدا ہی سے یہ سب اللہ کے سپرد کر دیا تھا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کرنے کی نیت سے یہ کام کیا تھا، اس لیے اب ایسی باتیں ہمیں نقصان نہیں پہنچاتیں۔”

بہرحال، ہم نے وہاں کی فہرستیں جمع کرنا شروع کیں۔ وہاں صرف فہرست ہی 60 جلدوں میں تھی، اور اس کے علاوہ ان کی ایک پرانی فہرست بھی تھی جو 27 جلدوں پر مشتمل تھی۔ مختلف فہرستیں موجود تھیں اور کچھ چیزیں ابھی فہرست بند نہیں ہوئی تھیں، مثلاً مصاحف۔ وہاں مصاحف کا بہت بڑا ذخیرہ ہے، بلکہ یہ دنیا کی سب سے بڑی مصاحف کی لائبریری ہے، جہاں 16 ہزار سے زیادہ مصاحف موجود ہیں۔

میزبان محمد الشثری:

ما شاء اللہ!

دکتور عبد العاطی الشرقاوی:

بہرحال، جب ہم نے ان فہرستوں کو جمع کیا تو معلوم ہوا کہ ان میں 53 ہزار مخطوطات ہی درج ہیں، جبکہ پہلے تعداد 69 ہزار بتائی گئی تھی۔ میں نے پوچھا:“باقی کہاں ہیں؟”انہوں نے کہا:“ان کی فہرستیں ابھی شائع نہیں ہوئی ہیں۔”تو مجھے یہ بھی اللہ تعالیٰ کا لطف محسوس ہوا کہ باقی ذخیرہ ضائع نہیں ہوا، بلکہ اس کی فہرستیں ابھی سامنے آنا باقی تھیں۔ میں یہی کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا لطف ہمارے شاملِ حال رہا۔اسی موقع پر مجھے ایک مصری مبتهل نصر الدین طوبار رحمہ اللہ کا ایک شعر یاد آیا۔ وہ ایک قصیدے میں کہتے تھے:

يا من رضيت لنا دين الهدى ديناأوليتنا نعمًا فاقت أمانينا“اے وہ ذات جس نے ہمارے لیے دینِ ہدایت کو پسند فرمایا،تو نے ہمیں ایسی نعمتیں عطا کیں جو ہماری امیدوں سے بھی بڑھ کر ہیں۔”

یہ بھی عجیب بات ہے کہ میں خود ان علاقوں میں گھومتا رہا ہوں۔ جس طرح میں ابھی امام ابو داود کے سفر کے بارے میں بتانے والا ہوں، اسی طرح ان علاقوں میں بھی میرا سفر رہا ہے۔ ہرات سے خاف، پھر خراسان اور نیشاپور تک، ان علاقوں سے میں اچھی طرح واقف ہوں اور برسوں ان میں گاڑی چلا کر گھومتا رہا ہوں۔ اب تقریباً 14 سال سے میں ان علاقوں میں شہر بہ شہر، بلکہ کبھی کبھی گاؤں بہ گاؤں گھوم رہا ہوں۔

میں سجستان گیا، خاف گیا، ہرات گیا، پورے خراسان میں گھوما، نیشاپور گیا اور وہاں کی لائبریریاں دیکھیں، مرو گیا، تہران، قم، کاشان، اصفہان اور یزد گیا۔ ان میں سے بہت سے شہروں میں جانے کا مقصد یہ تھا کہ وہاں موجود ذخیرے کا شمار کیا جائے، تحقیق کی جائے اور تعداد معلوم کی جائے۔ کبھی ایک جگہ کا دوبارہ بھی سفر کرنا پڑا۔ تین ماہ کا ویزا ہوتا تھا اور اسی میں کام کرتے تھے۔اسی طرح یورپ، برطانیہ اور ترکی کا معاملہ تھا۔ ترکی میں اسپرطہ، اَفیون، مغنیسیا، کوتاهیہ، انقرہ، ارضِ روم، استنبول اور قونیہ تک گیا۔

آپ کو کیا بتاؤں! وہاں لاکھوں کتابیں دیکھ کر، پھر کسی لائبریری میں داخل ہو کر آدمی واقعی حیرت سے بے خود ہوجاتا ہے۔ وہاں مصاحف ہیں، نادر کتابیں ہیں، طب کی کتابیں ہیں، حساب اور ہندسہ کی کتابیں ہیں، علماء کے ہاتھوں کی تحریریں ہیں۔اور اس وقت دل میں یہی خواہش ہوتی ہے:“یا رب! ہمیں توفیق دے کہ ہم ان تمام علوم کو ایک ہی پلیٹ فارم پر محفوظ کر سکیں، ایک متحد ڈیٹابیس میں جمع کر سکیں۔”آپ کے سامنے جب لاکھوں کتابیں ایک ساتھ ہوں اور آپ کسی لائبریری میں داخل ہوں تو بعض اوقات واقعی آدمی ایک طرح سے ہوش کھو بیٹھتا ہے۔

اتنی عظمت، اتنا حسن!مصاحف، نادر کتابیں، طب کی کتابیں، حساب، ہندسہ، علماء کے خطوط اور ان کے ہاتھوں کی تحریریں۔اور دل میں صرف یہی خواہش ہوتی:“یا اللہ! ہمیں توفیق دے کہ ان تمام علوم کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کر سکیں، ایک متحد ڈیٹابیس میں محفوظ کر سکیں!”

موریتانیہ کے بارے میں بھی ایک واقعہ ہے۔

مجھے موریتانیہ سے خاص محبت ہے۔ یہ ایسی سرزمین ہے جس میں بہت سے اولیاء اور صالحین گزرے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ہر علاقے کو اپنی اپنی نعمتوں سے نوازا ہے۔جب میں موریتانیہ گیا تو وہاں ہارون ولد الشیخ سیدیّا کی لائبریری دیکھی۔ میں نے وہاں کے صاحب، استاد بَبّ ولد سیدی ہارون سے ملاقات کی۔ وہ ان کے خاندان ہی سے تعلق رکھتے تھے۔ اصل میں یہ ایک خاندانی اور ذاتی لائبریری تھی۔وہ پوری لائبریری کی تصویریں نہیں بنوانا چاہتے تھے۔اس لیے ہم کیا کرتے تھے؟ہم مخطوطے کا آغاز اور آخر تصویر میں لیتے، پھر اس کی معلومات ڈیٹابیس میں درج کر دیتے، تاکہ کل کوئی محقق آئے تو کم از کم اسے معلوم ہو کہ یہ کتاب یہاں موجود ہے، اس کا یہ عنوان ہے، یہ اس کی تاریخ ہے، اور وہ اس تک پہنچ سکے۔میں بارہا عرض کر چکا ہوں کہ اس لائبریری میں کئی نایاب چیزیں موجود تھیں۔مثلاً ابن رشد کی الضروري في الطب کی شرح کی ایک نادر نسخہ وہاں موجود تھی، اور وہ دنیا میں واحد معلوم نسخہ تھا۔

میزبان محمد الشثری:

اسی شخص کے پاس؟

دکتور عبد العاطی الشرقاوي:

ہاں، اسی شخص کے پاس، صحرا کے اس علاقے میں موجود اس لائبریری میں۔اگر آپ اس لائبریری کی تصویر دیکھیں تو وہاں 1500 سے زیادہ مخطوطات ہیں۔ان کے والد نے موریتانیہ کی تاریخ بھی سات جلدوں میں لکھی تھی اور میں نے وہ کتاب ان کے اپنے ہاتھ کی تحریر میں دیکھی۔

میزبان محمد الشثری:

پھر انہوں نے مکمل تصویریں بنوانے سے انکار کیوں کیا؟

دکتور عبد العاطی الشرقاوي:

اگر اللہ چاہتا تو اجازت مل جاتی۔ میری نظر اب یہ بن گئی ہے کہ سب کچھ اسی کی طرف سے ہے اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔لیکن مجھے بعد میں یہ معلوم ہوا تو بہت افسوس ہوا کہ ایک امریکی یونیورسٹی نے بیس سال پہلے ہی اس لائبریری کی مائیکروفلم بنا لی تھی!یہ بات میری اس ملاقات سے پہلے کی تھی۔لیکن انہوں نے اس کی فہرست نہیں بنائی، اس سے کوئی کام نہیں لیا، کسی کو اس کی خبر نہیں ہوئی۔ہماری نظر میں اصل مقصد صرف مخطوطے کی تصویر حاصل کرنا نہیں ہے۔ہم اصل میں ان علمی خزانوں کی معلومات جمع کرنا چاہتے ہیں تاکہ دنیا کے مخطوطات کا ایک نقشہ بن جائے۔

یہ معلوم ہو:

اس کتاب کی بہترین نسخہ کون سی ہے؟اس عالم کی اپنی تحریر کہاں موجود ہے؟اس موضوع پر کیا کیا لکھا گیا؟کس لائبریری میں کیا موجود ہے؟اور پھر دنیا کے کسی بھی مقام پر بیٹھا ہوا محقق اس تک رسائی حاصل کر سکے۔حتیٰ کہ بعض جگہ میں نے کہا:“آپ مخطوطات کی تصویر نہیں بنوانا چاہتے تو نہ بنوائیں۔ ہم لیپ ٹاپ لے کر محققین کو بھیج دیتے ہیں، ان کے فون باہر رکھوا دیں، بس ہمیں معلومات دے دیں۔”مجھے تصویر سے زیادہ ڈیٹا درکار ہے۔جب ہمارا مجموعہ دس لاکھ مخطوطات تک پہنچ گیا تو میں نے بہت سے لوگوں سے اسی انداز میں بات کرنا شروع کی۔

میں کہتا:“ہم نے بیس سال لگا دیے ہیں۔ پچیس سال ہونے والے ہیں۔ اگر آپ ہمارے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو خوش آمدید، نہیں چلنا چاہتے تو السلام علیکم!”میں کوشش کرتا کہ اپنی اس ناراضی کو قابو میں رکھوں، کیونکہ حقیقت میں میں ناراض ہوتا تھا۔بعض لائبریریاں ایسی تھیں جہاں میں نے کچھ مخطوطات دیکھے، تصاویر لیں، پھر کچھ عرصے بعد دوبارہ گیا تو معلوم ہوا کہ وہ مخطوطات ضائع ہو چکے ہیں۔

مراکش کی بعض لائبریریوں میں ایسا ہوا۔ مثلاً آسفی وغیرہ میں۔ میں گیا، کچھ مخطوطات کی تصویریں لیں، پھر دوسری مرتبہ گیا تو معلوم ہوا کہ وہ موجود ہی نہیں۔

پوچھا:“کہاں گئے؟”جواب ملا:“ہم نے انہیں دفن کر دیا!”میں نے ایک مرتبہ یہاں ایک لیکچر میں بھی کہا تھا:“یہ میرے دوست ہیں۔ جب میں دوبارہ اس طرف آؤں گا تو اپنے دوستوں کو دیکھنے ضرور جاؤں گا۔”پھر میں وہاں پہنچا اور پوچھا:“میرے دوست کہاں ہیں؟”انہوں نے کہا:“ہم نے انہیں دفن کر دیا!”وہ جا چکے تھے۔اسی طرح کی چیزیں انسان کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ یہ کام کتنا ضروری ہے۔

مراکش میں ایک مرتبہ میں نے ایک پوری گفتگو میں مخطوطات کی مادی حالت کے بارے میں مختلف باتیں کیں۔ ایک شخص نے پوری گفتگو میں سے صرف ایک جملہ کاٹ کر الگ نکالا اور نشر کر دیا۔مجھے یہ طریقہ پسند نہیں کہ آدمی کسی پوری بات میں سے ایک جملہ پکڑ لے اور اسے الگ انداز میں پیش کرے۔دنیا میں حسد کرنے والے اور مخالفت کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے شر سے محفوظ رکھے۔اصل اصول یہ ہے کہ اگر انسان خوش رہنا چاہتا ہے تو اسے اس بات پر راضی ہونا چاہیے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے پسند فرمایا ہے۔آدمی کو ہر چیز سے ٹکرانا نہیں چاہیے۔

اللہ تعالیٰ نے ہر بندے کو کسی نہ کسی کام کے لیے کھڑا کیا ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو کسی ایسے کام پر لگا دیا ہو جس کے بارے میں ہمیں معلوم ہی نہ ہو۔یہ سب ہمتیں اور یہ سب مقدرات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔

مراکش میں بھی بہت سے واقعات ہیں۔ میں نے بعض گھروں میں موجود ذاتی لائبریریاں دیکھیں۔ فاس میں جامع القرویین کو دیکھا، رباط کی کتب خانوں کو دیکھا، فاس، آسفی، طنجة اور تطوان وغیرہ میں گھوما۔ان میں سے جو لائبریریاں میں نے ذکر کیں، ان میں سے تقریباً زیادہ تر، بلکہ بہت سی یا قریب قریب سب، ہماری ڈیٹابیس میں داخل ہوئیں اور فہرست بند ہوئیں۔عراق میں بھی بہت سی الم ناک چیزیں پیش آئیں، بہت سی۔

میزبان محمد الشثری:

آپ نے جو کچھ خود دیکھا، اس کی تو واقعی ایک دنیا ہے۔

دکتور عبد العاطی الشرقاوي:

اصل مسئلہ ڈیٹا ہی کا ہے۔

میں ان لوگوں میں سے ہوں جو کسی بات کو اس وقت تک بیان نہیں کرتے جب تک مجھے اس کا بہت زیادہ یقین نہ ہو۔ میں ایسی باتوں سے بچتا ہوں جن میں حقیقت واضح نہ ہو۔کبھی آدمی کوئی بات سنتا ہے، بیان بھی ہو رہی ہوتی ہے، لیکن جب اصل صورتِ حال تک پہنچتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت کچھ اور ہے۔اس لیے بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو میں مجمع عام میں بیان نہیں کرتا۔برطانیہ، یورپ، جرمنی، فرانس اور اٹلی وغیرہ کے ساتھ بھی میرا یہی معاملہ رہا۔ تقریباً پندرہ سال سے میں ہر سال ان علاقوں میں سفر کرتا رہا ہوں، ان کی لائبریریاں دیکھتا رہا ہوں اور ان کے ذخیرے کو جاننے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔

ایک مرتبہ میں میلان سے گاڑی لے کر میونخ گیا۔ تقریباً پانچ گھنٹے نصف یا چھ گھنٹے کا سفر تھا۔جب میں میونخ کی پبلک لائبریری پہنچا تو میں نے دل میں سوچا کہ مجھے پہلے ایک ایسا تعلق پیدا کرنا چاہیے جو آگے کے کام کا سبب بنے۔میں نے ان سے کہا:“میں آپ کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں کہ آپ نے جو مخطوطات ڈیجیٹل صورت میں انٹرنیٹ پر مہیا کیے ہیں، انہیں لوگوں تک پہنچایا ہے۔”

وہاں شاید سو کے قریب یا اس سے کم مخطوطات آن لائن تھے، لیکن میرے لیے اصل اہمیت اس بات کی تھی کہ وہاں سنن ابی داود کا ایک ایسا نسخہ ملا جس کی تاریخ چھ سو ہجری کے آس پاس یا اس سے کچھ آگے کی تھی۔ اس پر الفراء کی تحریر یا سماع کا تعلق تھا، اور میں نے اپنی تحقیق میں اس کی وضاحت کی ہے۔ یہ ایک اہم اور منفرد نسخہ تھا۔

میں نے اس لائبریری کے عملے سے کہا:“مجھے آپ کے یہاں سے یہ فائدہ ملا ہے، اس لیے میں آپ کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔”وہاں موجود خاتون نے شاید مزاح سے کہا:“ارے، آؤ! ایک عرب آیا ہے جو ہمیں ‘تھینک یو’ کہہ رہا ہے!”کیونکہ لوگ عام طور پر وہاں سے کتابیں ڈاؤن لوڈ کرکے چلے جاتے تھے، کسی نے یہ نہیں کہا کہ آپ نے یہ کام ہمارے لیے مہیا کیا ہے، جزاکم اللہ خیراً۔یہ چھوٹی سی بات تھی، لیکن اسی سے ہمارے درمیان تعلق پیدا ہوگیا، پھر میں نے ان کے بہت سے نادر مخطوطات بھی دیکھے۔ایک مرتبہ کیمبرج میں مجھے شربینی کی شرحِ تنبیہ کا ایک نسخہ ملا۔میں نے غلطی سے پہلے اس کے بارے میں شرحِ منہاج کی بات کہی تھی؛ لیکن اصل میں یہ شرحِ تنبیہ ہے، جس کا مطبوعہ نسخہ بعد میں دار الضیاء اور دار المنہاج سے بھی سامنے آیا۔جب بھی میں لائبریری جاتا، میں اس مخطوطے کو دوبارہ منگوا کر دیکھتا۔

میزبان محمد الشثری:

یعنی ہر بار اس بات کی تصدیق کے لیے؟

دکتور عبد العاطی الشرقاوي:

نہیں، بس ہر سفر میں میں اسے دوبارہ دیکھنا چاہتا تھا۔بعض لائبریریوں میں تو میں نے سو ڈالر تک دیے، پھر دوبارہ سو ڈالر، پھر دوبارہ سو ڈالر، صرف اس لیے کہ اندر جاؤں، اس عالم کی تحریر کو دیکھوں یا کسی خاص مخطوطے کو دیکھ سکوں۔وہ لوگ شاید سوچتے ہوں گے:یہ آدمی پاگل ہے کیا؟ اتنی رقم صرف اندر جا کر مخطوطہ دیکھنے کے لیے دے رہا ہے!”آکسفورڈ میں بھی میں نے ایک لمبا وقت گزارا۔یہ بہت قیمتی لائبریری ہے۔ وہاں ایک پادری تھا جس کا نام مارش تھا، اس کے پاس ایک بہت اہم مجموعہ تھا۔

یہ جو یورپ کی بعض لائبریریاں ہیں، ان میں مستشرقین کے وہ مجموعے بھی ہیں جو عرب اور اسلامی دنیا میں گھوم پھر کر جو کچھ لے گئے، اسے جمع کرتے رہے۔وہاں مجھے کئی ایسے مخطوطات ملے جنہیں خود لائبریری کے ریکارڈ میں بھی واضح طور پر شناخت نہیں کیا گیا تھا۔ وہ unknown کے عنوان سے تھے، یعنی نامعلوم۔الحمدللہ، میں نے ان میں سے بعض کی شناخت کی۔وہ لوگ اس دریافت سے بہت خوش ہوئے، مجھے اس پر انعام بھی دیا، تصاویر وغیرہ کا انتظام بھی کیا۔اس واقعے کی ایک طویل داستان ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اسے بیان نہ کرنا بہتر ہے۔میلان میں ایک پادری سے بھی ملاقات ہوئی۔وہ خود بہت خوش اخلاق تھا، لیکن دوسرا شخص میرے ساتھ تعاون نہیں کرنا چاہتا تھا۔حتیٰ کہ میں نے اس سے کہا:“آپ مجھ سے بات تو کریں!”اس کے ساتھی نے بتایا:“یہ عربی سمجھتا ہے۔”

میں نے اس سے کہا:“آپ کے ساتھی نے بتایا ہے کہ آپ عربی سمجھتے ہیں۔”اس نے کہا:“ہاں، لیکن میں بول نہیں سکتا۔”میں نے کہا:“کوئی مسئلہ نہیں۔ آپ انگریزی میں مجھ سے بات کریں، میں آپ کی بات سمجھ کر عربی میں جواب دے دوں گا۔ اتنا بھی مشکل کیا ہے!”میں وہاں بعض چیزوں کو دیکھنے اور ان کی تحقیق کرنے گیا تھا۔ ہم نے وہاں ان کی چار جلدوں پر مشتمل فہرست بھی خریدی۔ایسے ہی مختلف جگہوں پر بہت سی خبریں اور واقعات ملتے رہے۔

مثلاً میں نے آپ کو «تغذية مغذي العين» کے بارے میں بتایا تھا، ابو موسیٰ الاصفہانی کی کتاب، جو آکسفورڈ میں موجود ہے اور دنیا میں اس کا ایک ہی معلوم نسخہ ہے۔اسی طرح «تغذية مغذي»، جو ماردینی کی منهاج پر شرح ہے، اس کے دو ہی نسخے معلوم ہیں، ایک عراق میں اور ایک ان کے پاس۔یعنی صرف دو نسخے۔اس طرح کے بہت سے نوادرات ہیں۔

ان میں سے بعض چیزیں مستشرقین نے ایک زمانے میں غفلت کے ماحول میں اپنے پاس منتقل کرلیں۔ بعض کتابیں تو ایسی ہیں کہ ان کے ایک حصے یہاں ہیں اور دوسرے حصے کسی اور ملک میں چلے گئے۔مثلاً چھ جلدوں کی کتاب میں سے کچھ جلدیں ایک ملک میں رہ گئیں اور باقی کہیں اور چلی گئیں۔لائیڈن میں بھی ایسی چیزیں ہیں۔میں نے یورپ کی اکثر بڑی لائبریریاں دیکھیں، ان کے بارے میں رپورٹس لکھیں، ان کے ذخیرے کو جانا اور یہ معلوم کیا کہ ان کے پاس کیا کچھ ہے۔

اور ان میں سے بڑی تعداد ہماری ڈیٹابیس میں شامل ہوئی۔برمنگھم کی لائبریری کا تقریباً پورا ذخیرہ فہرست بند ہو چکا ہے۔آکسفورڈ بھی شامل ہے۔کیمبرج بھی۔مانچسٹر میں شاید تھوڑا سا کام باقی تھا۔جہاں تک برٹش میوزیم کا تعلق ہے، اس کا ذخیرہ بھی ہماری ڈیٹابیس میں مکمل طور پر فہرست بند ہو چکا ہے۔اور برطانیہ کی اسٹیٹ لائبریری کے معاملے میں ایڈورڈ کی فہرست کا مکمل ترجمہ کیا گیا اور پھر مصورات کی مدد سے اس میں مزید اضافہ کیا گیا۔ اس طرح تقریباً 16 ہزار مخطوطات وہاں سے ڈیٹابیس میں شامل ہوئے۔یہ ایک پورا جہان ہے۔

میزبان محمد الشثری:

ڈاکٹر صاحب! آپ نے صلاح الدین المنجد محقق رحمہ اللہ کا ذکر یاد دلا دیا۔ میں نے ان کی ایک چھوٹی سی کتاب پڑھی تھی جو دراصل ان کی ایک تقریر تھی۔ مجھے آج تک یاد ہے کہ انہوں نے استعمار کے زمانے اور مستشرقین کی طرف سے بعض مخطوطات لے جائے جانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس زمانے میں دنیا میں تقریباً تین ملین ایسے مخطوطات تھے جو عربی رسم الخط میں لکھے گئے تھے۔

انہوں نے بطورِ فرض کہا تھا:ایک ملین مخطوطات کی تحقیق ہو گئی ہوگی۔ایک ملین شاید ایک دوسرے کی نقل یا تکرار ہوں گے۔لیکن باقی ایک ملین کا کیا ہوا؟یہ تو چودہ سو سالہ علمی میراث ہے۔اور آپ نے جو اپنے منصوبے کے بارے میں بتایا، اس کی اہمیت واقعی بہت بڑی ہے۔آج کے زمانے میں ڈیٹا ہی اصل طاقت ہے۔ اور آپ نے ببلیوگرافی کی جو مثال دی، کہ کتاب کہاں لکھی گئی، مصنف کہاں پیدا ہوا، کس شہر میں رہی، کس دور کی ہے، یہ سب چیزیں جب ہمارے سامنے آتی ہیں تو کسی خاص سال، خاص شہر اور خاص موضوع کے حوالے سے ہماری تاریخی قراءت کا پورا سیاق بدل سکتا ہے۔

دکتور عبد العاطی الشرقاوي:

حتیٰ کہ اگر نتائج کم بھی ہوں، تب بھی ان کی اپنی دلالت ہوتی ہے۔

میزبان محمد الشثری:

بالکل! ان کی اپنی دلالت ہوتی ہے۔یہی اس پورے منصوبے کی عظمت ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو قوت دے اور ہمیں امید ہے کہ یہ ڈیٹابیس دو ملین سے بھی آگے جائے۔

دکتور عبد العاطی الشرقاوي:

ان شاء اللہ، میرے عزیز۔

متعلقہ فتاویٰ