علامہ اقبال کے مکاتیب سے لے کر قیامِ پاکستان کے مطالبے اور بھارتی آبی جارحیت تک کا تاریخی جائزہ
علامہ اقبال اور علمائے دین کے مابین قلبی تعلق
حکیم الامت علامہ اقبال مرحوم کی شخصیت نہ صرف علمی و فلسفیانہ بلندیوں کی حامل تھی بلکہ وہ علمائے دین اور اکابرینِ ملت کے لیے اپنے دل میں بے پناہ محبت اور احترام رکھتے تھے۔ ان کی اس باہمی عقیدت کا ایک روشن ثبوت وہ خط ہے جو انہوں نے حضرت علامہ انور شاہ کشمیری دیوبندی کے نام لکھا تھا۔ اس خط کے مندرجات علامہ اقبال کی عاجزی اور علماء سے ان کی وابستگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ آپ نے تحریر فرمایا ”مخدوم و مکرم حضرت قبلہ مولانا السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ مجھے ماسٹر عبد اللہ صاحب سے ابھی معلوم ہوا کہ آپ انجمن خدام الدین کے جلسے میں تشریف لائے ہیں اور ایک دو روز قیام فرمائیں گے۔ میں اسے اپنی بڑی سعادت تصور کروں گا اگر آپ کل شام اپنے دیرینہ مخلص کے ہاں کھانا کھائیں۔“ اس دعوت نامے میں انہوں نے حضرت مولوی حبیب الرحمن صاحب عثمانی، مولوی بشیر احمد صاحب اور جناب مفتی عزیز الرحمن صاحب کو بھی مدعو کیا اور کمالِ محبت سے سواری بھیجنے کی پیشکش بھی کی۔ یہ خط اقبال نامہ حصہ دوم میں محفوظ ہے جو اس دور کے اکابرین کے مابین مثالی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
علامہ اقبال کے مکاتیب سے لے کر قیامِ پاکستان کے مطالبے اور بھارتی آبی جارحیت تک کا تاریخی جائزہ
فکرِ اقبال کو عام کرنے کی ناگزیر ضرورت
موجودہ عہد میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ علامہ اقبال کی فکر، ان کی بصیرت، مذہبی حمیت اور فلسفہ آزادی کو نئی نسل میں منتقل کیا جائے۔ وطن عزیز پاکستان کو صحیح معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے افکارِ اقبال کی روشنی میں پالیسیاں بنانا وقت کا تقاضا ہے۔ اقبال اپنی نوجوان نسل کو جن اوصاف، خودی اور شاہینی صفات کا حامل دیکھنا چاہتے تھے، آج ہر فرد کو وہی اوصاف اپنے اندر پیدا کرنے کی جدوجہد کرنی چاہیے تاکہ پاکستان کا مستقبل محفوظ اور روشن ہو سکے۔
قراردادِ پاکستان 23 مارچ 1940ء کا تاریخی سنگِ میل
برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ میں 23 مارچ 1940ء کا دن ایک نئی صبح کا پیغام لے کر آیا۔ لاہور کے اقبال پارک میں منعقدہ اس عظیم الشان اجتماع میں مسلمانانِ برصغیر نے ایک الگ آزاد اسلامی ریاست کے حصول کے لیے قرارداد پیش کی، جو تاریخ کے صفحات پر قراردادِ لاہور یا قراردادِ پاکستان کے نام سے منور ہے۔ اس قرارداد کو اگلے ہی دن 24 مارچ کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اس کا اولین اور بنیادی مقصد مسلمانوں کی اسلامی تہذیب، تمدن اور ان کی نظریاتی اقدار کا تحفظ کرنا تھا۔ اس موقع پر پہلی مرتبہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر واضح اعلان کیا گیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں جن کا مذہب، عقیدہ، رسم و رواج اور طرزِ زندگی ایک دوسرے سے مکمل طور پر جدا ہے۔ وہ ایک ایسا خطہ چاہتے تھے جہاں وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے روشن اصولوں کے مطابق آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح کا تاریخ ساز صدارتی خطاب
قراردادِ پاکستان کے اس تاریخی اجلاس کے اختتام پر قائدِ اعظم محمد علی جناح نے اپنے صدارتی خطاب میں دو قومی نظریے کی ایسی وضاحت کی جس نے دشمنوں کے تمام عزائم خاک میں ملا دیے۔ آپ نے فرمایا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا تعلق دو مختلف فلسفوں، سماجی رسوم اور ادبی روایات سے ہے۔ یہ نہ تو آپس میں شادیاں کرتے ہیں اور نہ ہی اکٹھے کھانا کھاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دو مختلف تہذیبیں ہیں جو متصادم نظریات پر مبنی ہیں۔ ان کا تصورِ حیات، ان کی تاریخ اور ان کے ہیرو الگ الگ ہیں۔ ایک قوم کے ہیرو دوسری قوم کے لیے ناپسندیدہ شخصیتیں ہیں، اور ایک کی شکست دوسرے کی فتح قرار پاتی ہے۔ قائدِ اعظم نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ایسی دو مختلف قوموں کو اکثریت اور اقلیت کی بنیاد پر ایک ہی ریاست میں اکٹھا رکھنا ملک میں بے اطمینانی اور فساد کا باعث بنے گا، لہذا مسلمان ہر اعتبار سے ایک علیحدہ قوم ہیں اور انہیں اپنا الگ وطن ملنا چاہیے۔
دہلی کنونشن 1946ء اور قیامِ پاکستان کی حتمی جدوجہد
آزادی کی تڑپ نے مسلمانوں کی جدوجہد کو جلا بخشی اور 7 اپریل 1946ء کو دہلی میں مسلم لیگ کے اراکینِ لیجسلیٹو اسمبلی کا ایک تاریخی کنونشن منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے قائدِ اعظم نے واضح کیا کہ مسلمانوں کا ایمان ایک ایسے عقیدے پر ہے جو زندگی کے تمام شعبوں بشمول تعلیمی، سماجی، معاشی اور سیاسی نظام کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ محض رسومات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہندو دھرم کے ذات پات والے نظام کے بالکل برعکس ہے۔ ہندو سماج میں موجود تفاوت نے کروڑوں انسانوں کو اچھوت بنا دیا ہے، جو اسلام کے مساوات اور جمہوریت کے اصولوں کے سراسر منافی ہے۔ اس کنونشن میں مطالبہ دہرایا گیا کہ شمال مشرق بنگال، آسام اور شمال مغرب پنجاب، سرحد، سندھ، بلوچستان کے علاقوں پر مشتمل پاکستان کی آزاد ریاست قائم کی جائے جہاں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ 1940ء کی قرارداد کی روشنی میں کیا جائے۔
بھارت کی آبی و معاشی جارحیت اور سندھ طاس معاہدہ
پاکستان بننے کے بعد بھارت نے کبھی بھی دل سے اسے تسلیم نہیں کیا اور اسے نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ 19 ستمبر 1960ء کو دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کے حوالے سے سندھ طاس معاہدہ ہوا جس پر صدر ایوب خان اور پنڈت جواہر لال نہرو نے دستخط کیے۔ 11 دفعات پر مشتمل اس معاہدے کے تحت دریائے جہلم، چناب اور سندھ پر پاکستان کا کنٹرول تسلیم کیا گیا، جبکہ راوی، ستلج اور بیاس بھارت کو دیے گئے۔ معاہدے کے مطابق بھارت ان دریاؤں کا قدرتی بہاؤ تبدیل کرنے یا ان پر ایسے آبی ذخائر بنانے کا مجاز نہیں تھا جو پاکستان کے مفادات کے خلاف ہوں، لیکن بھارت مسلسل اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور پاکستان کے حصے کا پانی روک کر آبی و معاشی جارحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
