علامہ اقبال کی سیاسی جدوجہد، فکرِ پاکستان اور علمائے کرام سے تعلق
تحریکِ پاکستان کے عظیم مفکر علامہ محمد اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کو بیدار کرنے اور ان کے لیے ایک آزاد وطن کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ انہوں نے اسلام کی تشکیل نو اور مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے مدراس، میسور، بنگلور اور حیدر آباد دکن جیسے بڑے مراکز میں گراں قدر علمی و فکری خطبات دیے۔ ان علمی اسفار کی تکمیل کے بعد جنوری کے اواخر میں آپ واپس لاہور تشریف لائے۔
علامہ اقبال کی سیاسی جدوجہد، فکرِ پاکستان اور علمائے کرام سے تعلق
قبلہ اول اور اقبال
فلسطین کی سرزمین پر مسلمانوں کے خلاف یہودیوں کے بڑھتے ہوئے پُر تشدد غلبے اور مسجد اقصیٰ پر ان کے ناپاک قبضے نے علامہ اقبال کو سخت بے چین کر دیا تھا۔ اس سنگین صورتحال کے خلاف جب مسلمانوں نے احتجاجی جلسوں کا انعقاد کیا تو علامہ اقبال ان میں پیش پیش رہے۔ 7 ستمبر 1929ء کو علامہ اقبال کی صدارت میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس میں انہوں نے مسلمانوں کے جذبہ حب الوطنی اور دینی حمیت پر بصیرت افروز خطاب فرمایا۔ آپ نے واضح کیا کہ مسلمانوں کا ضمیر حب وطن سے خالی نہیں، لیکن ان کے دلوں میں دینیت اور اسلام کی محبت کا جذبہ سب سے بلند ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو منتشر ملت کو یکجا کرتا ہے۔ انہوں نے برطانوی استعمار کی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ 1914ء میں انگریزوں نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے صہیونیوں کو آلہ کار بنایا، جس کا نتیجہ آج مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کے غاصبانہ دعوے کی صورت میں سامنے ہے۔ انہوں نے برطانوی تحقیقاتی کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں کے قتل عام پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
تاریخ ساز خطبہ الہ آباد
29 دسمبر 1930ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ الہ آباد میں علامہ اقبال نے وہ تاریخی صدارتی خطبہ دیا جو تحریکِ پاکستان کا سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس وقت قائد اعظم پہلی گول میز کانفرنس کے سلسلے میں لندن میں تھے اور ان کی خواہش پر ہی علامہ نے اس اجلاس کی صدارت کی۔ اس خطبے میں پہلی مرتبہ ہندوستان کے اندر ایک آزاد مسلم ریاست کا ٹھوس، واضح اور غیر مبہم خاکہ پیش کیا گیا۔ علامہ اقبال نے بعد ازاں گول میز کانفرنسوں میں بھی شرکت کی، لیکن وہ انگریزوں کے ایجنڈے سے کبھی مطمئن نہیں ہوئے۔
جذبہ آزادی کا درس
علامہ اقبال نے اپنی شاعری کو برصغیر کے مسلمانوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا۔ ان کے کلام میں معنویت، تاریخ، اسلامیت اور انسانیت کے ساتھ ساتھ غلامی سے نجات پانے کے اصول اور خودی کا عظیم درس ملتا ہے۔ انہوں نے اہل اسلام کو ان کے عروج کے اسباب یاد دلائے اور انہیں اپنی پہچان برقرار رکھنے کی تلقین کی۔
قائد اعظم سے خط و کتابت
جب برصغیر میں مسلم سیاسی جماعتیں انتشار کا شکار تھیں اور قائد اعظم مایوس ہو کر لندن جا چکے تھے، تو علامہ اقبال ہی وہ دور اندیش رہنما تھے جنہوں نے پاکستان کے خواب کی تعبیر کے لیے قائد اعظم کو واپسی کے متعدد خطوط لکھے۔ آپ کے اصرار اور مسلسل خط و کتابت کے نتیجے میں قائد اعظم ہندوستان واپس آئے اور 4 مارچ 1934ء کو مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی۔
علامہ اقبال کے افکار
قائد اعظم اور علامہ اقبال دونوں کے ذہن میں پاکستان کا جو نقشہ تھا، اس کی بنیاد اسلام پر تھی۔ 29 دسمبر 1930ء کو اپنے صدارتی خطبے میں علامہ نے فرمایا کہ مسلمان اپنے لیے مسلم انڈیا کے قیام کے مطالبے میں ہر طرح سے حق بجانب ہیں۔ 28 مئی 1937ء کو قائد اعظم کے نام ایک تفصیلی خط میں انہوں نے مزید واضح کیا کہ اسلامی شریعت کے نفاذ اور مسلمانوں کی ترقی کے لیے ہندوستان میں ایک آزاد مسلم ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔ علامہ کا یہ ایقان تھا کہ سیاسی اور مذہبی قیادتوں کو ہمیشہ ایک دوسرے کا دست و بازو بن کر کام کرنا چاہیے۔
یک جان دو قالب
تاریخی حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ علامہ اقبال اور علمائے کرام، بالخصوص علمائے دیوبند، ایک دوسرے کے لیے یک جان دو قالب کی حیثیت رکھتے تھے۔ علامہ اقبال علمائے دیوبند کی دینی و تعلیمی خدمات کے معترف تھے کیونکہ اس مکتبہ فکر کے علماء ہمیشہ بانیانِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔
علمائے دیوبند سے دلی عقیدت
علامہ اقبال کے نزدیک دیوبند محض ایک مدرسہ نہیں بلکہ ایک عظیم روایت کا تسلسل تھا جس نے مسلمانوں کا رشتہ ان کے ماضی سے قائم رکھا۔ انہوں نے ایک بار واضح کیا کہ دیوبندی کوئی الگ فرقہ نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو معقولیت پسند اور دیندار ہے، وہ اس زمرے میں آتا ہے۔ علامہ اقبال، مولانا اشرف علی تھانویؒ کے علمی مقام کے اس قدر مداح تھے کہ مثنوی رومی کی تفسیر کے معاملے میں خود کو ان کا مقلد قرار دیتے تھے۔ اسی طرح وہ مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور دنیائے اسلام کے عظیم محدث مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ کے علمی و روحانی مرتبے کا بھی بے حد احترام کرتے تھے۔
