مشترکہ جائیداد کی تقسیم کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں اس مسئلے کے بارے میں کہ والد صاحب نے اپنے بیٹے کی رقم بکر  کو دی جس کی مالیت ڈیڑھ لاکھ رپےتھی، جو جائیداد کی تقسیم میں زید کے حصے میں آئی ۔جبکہ ڈیڑھ لاکھ کی رقم زید کے بھائی بکر کے پاس اپنی بھی موجود تھی اور بکت نے اپنا  ایک پلاٹ بیچا جو بکر اور بکر کی بیوی کے درمیان مشترک تھا ۔اس بیچے گئے پلاٹ کی رقم دو لاکھ پچیس ہزار روپے بھی بکر کے پاس آگئے ،اس ساری رقم یعنی پانچ لاکھ پچسیس ہزار روپے میں سے ڈھائی   لاکھ روپے کا بکر نے دس مرلہ پلاٹ خریدا اور اس کو دو حصون میں تقسیم کیا ۔ کانر پلاٹ کا پانچ مرلہ پلاٹ بکر نے  اپنے اور اپنی بیوی  کے نام رجسٹری وانتقال مشترکہ کرایا ۔ جبکہ دوسرے پانچ مرلہ پلاٹ بکر نے اپنے اور اپنے بھائی زید کے نام رجسٹری وانتقال مشترکہ کروایا ، جبکہ یہ پانچ مرلہ کارنر نہیں ہے جبکہ بکر اور اسکی بیوی والہ پانچ مرلہ مکان کی ویلیو زیادہ ہے ،  جبکہ بقیہ رقم دو لاکھ پچتر ہزار رپے مشترکہ طور پر بکر نے اپنی فیملی اور زید کی فیملی پر اور دونوں خرید ے پلاٹوں کی تعمیر پر مشترکہ طور خرچ کر دیے ۔

پر بکر نے بعد میں کارنر پانچ مرلہ پلاٹ میں  سے کارنر سے ہٹ کر پچلی سائیڈ سے ڈھائی مرلہ اپنے حصہ کے بیچ دیے جبکہ کارنر کے ڈائی مرلہ بیوی کے حصہ  چھور دیے ۔کچھ دنوں کے بعد بکر کی والدہ نے اس کو کہا کہ اپنی بیوی کے حصہ واکےڈھائی مرلہ میں اپنے بھائی زید اور اس کی فیملی کو رہائش دے دو تو بکر نے ہی ایسے ہی کیا ۔اس کے بعد بکر کی بیوی نے اعتراض 3کیا میں آپکے بھائی زید اور اسکی فیملی کو اپنے کارنر کے ڈھائی مرلہ میں بیچنے کی اجازت نہیں  دیتی ،تو بکر نے والدہ کی بات ماننے اور اپنے حق کی قربانی دینے کے فضائل سناکر اپنی بیوی کو خاموش کر دیا ۔ کچھ دنوں بعد کےخاندان  کے کچھ لوگوں نے بکر کے ساتھ مسجد میں پنجائیت لگائی ،جس میں طے پایا کے بکر اپنی بیوی کے حصہ کارنر کے ڈھائی مرلہ پلاٹ اپنے بھائی زید کو دے دیا تو بکر نے ایسے ہی کیا اور بکر نے پنچائیت کا فیصلہ خود تو تسلیم کرلیا ،جبکہ بیوی نے اعتراض کیا کہ میرا ذمہ اپنے بھائی زید کو نہ دے ایک بار پھر بکر نے فضائل سنا کر اپنی بیوی کو خاموش کرادیا ۔پھر کچھ دنوں کے بعد بکر اور زید کے درمیان طے پایا کہ زید بکر کی بیوی کے حصہ والے کارنر کے ڈھائی مرلہ پلاٹ اپنے نام رجسٹری وانتقال تبادلہ کرالے اور اپناڈھائی  مرلہ  بکر کی بیوی کے نام کرالے ، کیونکہ کارنر کے ڈھائی مرلہ کا قبضہ زید کے پاس اور زید کے ڈھائی مرلہ کا قبضہ بکر کے پاس ہے اور بکر نے تبادلہ والی بات اپنی بیوی کو بتائی ۔ اس بار پھر بیوی نے اعتراض کیا کہ میں اپنا ڈھائی مرلہ کارنر کا پلاٹ زید کو نہیں  دیتی تو بکر نے  فضائی سنا کر خاموش کرادیا ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ بکر کی بیوی اور بھائی فوت ہو چکے ہیں اور کسی وجہ سے تبادلہ رجسٹری وانتقال نہ ہو سکا ۔  

اب مسئلہ یہ پوچھنا یکہ زیدکا حق کارنر ڈھائی مرلہ پلاٹ ہے جس پر زید                       کے وارثان کا قبضہ 10 سال سے ہے یا زید کا حق وہ پلاٹ ہے جو زید کے نام رجسٹری وانتقال ہے ۔

الجواب

                صورت مسئولہ میں جو مشترکہ پلاٹ تھا بکر نے اپنی مرضی سے اس کو بیوی کے نام کروادیا،لہذا  جس اڈھائی مرلے کے پلاٹ کو بکر نے اپنی بیوی کے نام کروالیا اور اپنے بھائی زید کو محروم کیا ۔یہ خیانت ہے صرف نام کروانے سے  وہ اس پلاٹ کی مالہ نہیں بنی  ۔ بکر کا اپنی مرضی کی بات ماننا اور پلاٹ زید کو دینا باہمی رضا مندی سے ہوا ہے ۔لہذا کارنر والے ڈھائی مرلہ پلاٹ کا زید ہی حقدار ہے   لہزا بکر کے بیٹوں کا دعوا صحیح نہیں

وفی ردالمختار   ج: 5  ،ص: 628 ،ط: ایچ ایم سعید

ھو( عقد یرفع النزاع ) ویوطع الخصومۃ ( حکمہ وقوع البراء عن الدعوی ووقوع الملک فی مصالح  علیہ ) وعنہا
لو مقراء وھوسکوت او انکار 

ایضا فی ردالمختار    ج:5،ص: 428 ، ط : ایچ ایم سعید

                                                                ھو تولیۃ الخصمین حاکما یحکم بینھا ( فان حکم لزمھما) لا یتعدی حکمہ الی غیرھما الا فی مسئالۃ ما لو حکم احد الشریکینوغربمالہ رجلا فحکم بینھما والزام الشریکین تعدی للشریک الغائب لان حکمہ کالصح

متعلقہ فتاویٰ