* *خیر الاصول فی حدیث الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یاد گار مذاکرہ:
خیر الاصول ہمارے ہاں عموماً فنِ حدیث سے ابتدائی مناسبت پیدا کرنے اور بنیادی اصطلاحات سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے حضرت مولانا خیر محمد جالندھری صاحب رحمہ اللہ کی معروف تصنیف «خیر الاصول فی حدیث الرسول ﷺ» پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ طالبِ علم کو فنِ حدیث کی ابتدائی واقفیت حاصل ہو اور وہ اس فن کی اصطلاحات اور مباحث سے مانوس ہوسکے۔عام طور پر اس کے زیادہ تر مباحث ابتدائی درجے میں اختصار کے ساتھ پڑھائے جاتے ہیں، الا ما شاء اللہ۔ ہمارے معاشرے میں فنِ حدیث سے جو عمومی بے اعتنائی پائی جاتی ہے، وہ اس صورتِ حال کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔کچھ عرصہ قبل ایک علمی گروپ میں «تیسیر مصطلح الحدیث» پر حضرت شیخ محمد صدیق ابو الحاج المظفری مدظلہ—استاذِ حدیث و نگرانِ تخصص فی الافتاء و علوم الحدیث، جامعہ فاروقیہ شجاع آباد ملتان—کی علمی کاوش کے بارے میں پڑھنے کا موقع ملا۔ کسی مجبوری کی وجہ سے اس وقت کتاب حاصل نہ کرسکا۔ تقریباً دو ماہ قبل دوبارہ اس کا تذکرہ نظر سے گزرا، اسی دوران «خیر الاصول» پر بھی حضرت کی علمی محنت کا علم ہوا۔ چنانچہ حضرت سے ذاتی رابطہ کرکے دونوں کتابیں منگوائیں۔الحمدللہ! دونوں کتابوں کو دیکھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ ان پر واقعی نہایت شاندار اور جاندار علمی کام کیا گیا ہے۔دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ ان کتابوں کو خود حضرت ہی سے پڑھنے کا موقع ملے۔ الحمدللہ یہ خواہش پوری ہوئی اور «خیر الاصول» کا مذاکرہ حضرت استاذِ محترم کے ساتھ شروع ہوا، جو دو روز قبل مکمل ہوا۔لیکن اس مذاکرے کے دوران حضرت استاذِ محترم نے جس انداز، شفقت، محنت اور علمی بصیرت کے ساتھ یہ مختصر سا رسالہ پڑھایا، وہ میرے لیے توقع سے کہیں بڑھ کر تجربہ تھا۔ بسا اوقات ایک مختصر کتاب کے بارے میں یہ گمان ہوتا ہے کہ اس کے مباحث بھی مختصر اور محدود ہوں گے، لیکن اس مذاکرے نے یہ احساس دلایا کہ کتاب کا حجم چھوٹا ہو تو ضروری نہیں کہ اس کا علمی دائرہ بھی چھوٹا ہو۔اس مذاکرے میں بالخصوص چند چیزیں بہت نمایاں رہیں:1
۔ *حدیث کو محض اصطلاح نہیں، ایک فن کی حیثیت سے سمجھانا*مذاکرے میں جس بات پر سب سے زیادہ محنت کی گئی، وہ یہ تھی کہ صرف رٹی رٹائی اصطلاحات یاد کرانے کے بجائے فنِ حدیث کی حقیقت اور اس کے باہمی ربط کو سمجھانے کی کوشش کی گئی۔صرف یہ جان لینا کافی نہیں کہ صحیح، حسن، ضعیف، مرفوع، موقوف اور مرسل کی تعریف کیا ہے؛ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ طالبِ علم یہ سمجھ سکے کہ محدثین کسی روایت کے بارے میں حکم لگاتے ہوئے کن اصولوں اور قرائن کو سامنے رکھتے ہیں۔یہ اندازِ تدریس فن کو یاد کرنے کے بجائے فن کو سمجھنے کی طرف لے جاتا ہے۔2
۔ *سوال و جواب کی علمی نشست*مذاکرے کی ایک خوب صورت خصوصیت یہ تھی کہ دورانِ مذاکرہ سوالات کی پوری گنجائش ہوتی۔ شریکِ مذاکرہ اپنی اشکالات اور سوالات پیش کرتا اور حضرت نہایت اطمینان اور شفقت کے ساتھ جواب دیتے۔اس طرح مذاکرہ محض یک طرفہ درس نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ علمی نشست کی صورت اختیار کرلیتا۔3
۔ *مشکل اور پیچیدہ مباحث کو حل کرنے کا انداز*میرے نزدیک اس مذاکرے کا سب سے اہم پہلو یہی تھا۔کسی صاحبِ علم کے لیے اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ آسان مباحث بیان کرسکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کتبِ فن میں موجود مشکل اور پیچیدہ مباحث کو کس طرح کھولتا اور سمجھاتا ہے۔حضرت استاذِ محترم مشکل مباحث کو پہلے عام فہم انداز میں واضح فرماتے۔ اگر کسی مقام پر پھر بھی اشکال باقی رہتا تو نقشہ جات اور خاکوں کے ذریعے مسئلے کو اس طرح سامنے رکھتے کہ پیچیدہ بات بھی آسان محسوس ہونے لگتی۔یہ انداز خاص طور پر علومِ حدیث جیسے فن میں بہت مفید ہے، جہاں بعض مباحث صرف عبارت پڑھ لینے سے سمجھ میں نہیں آتے بلکہ ان کے لیے تصور، ترتیب اور باہمی تعلق واضح کرنا ضروری ہوتا ہے۔4
۔ *کم وقت میں زیادہ علمی کام*مذاکرے کا عمومی دورانیہ تقریباً تیس سے پینتیس منٹ ہوتا، لیکن اس مختصر وقت میں جس قدر علمی گفتگو، توضیح، سوال و جواب اور اشکالات کا ازالہ ہوتا، وہ حیران کن تھا۔ایسا محسوس ہوتا کہ مختصر وقت میں کئی گھنٹوں کا علمی کام سمیٹ لیا گیا ہو۔5
۔ *شرکاءِ مذاکرہ کے ساتھ شفقت*علم کے ساتھ شفقت کا امتزاج استاد کی شخصیت کو مزید مؤثر بناتا ہے۔حضرت استاذِ محترم ہر شریکِ مذاکرہ کے ساتھ نہایت شفقت، محبت اور خندہ پیشانی سے پیش آتے۔ سوال کرنے والے کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس نے کوئی معمولی یا غیر ضروری سوال کردیا ہے، بلکہ سوال کو اہمیت دے کر اس کی وضاحت فرمائی جاتی۔یہی وہ ماحول ہے جس میں طالبِ علم بے تکلفی سے سوال کرتا اور اپنے علمی اشکالات بیان کرسکتا ہے۔6
۔ سطحی علم سے احتیاطمذاکرے میں ایک نہایت اہم نکتہ جس پر خصوصی توجہ دی گئی، وہ علم کی سطحیت سے بچنا ہے۔محض چند کتابیں پڑھ لینے، چند اصطلاحات یاد کرلینے یا کسی عبارت کو سرسری طور پر دیکھ لینے کے بعد کسی مسئلے پر حکم لگانا بعض اوقات بڑے علمی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔فنِ حدیث میں خصوصاً ضرورت ہے کہ عبارت کے ساتھ اس کا سیاق، اصطلاحی مفہوم، محدثین کا منہج، مختلف اقوال اور متعلقہ قرائن بھی سامنے رکھے جائیں۔یہی وہ چیز ہے جو محض مطالعہ اور پختہ علمی بصیرت کے درمیان فرق پیدا کرتی ہے۔دو روز قبل جب «خیر الاصول فی حدیث الرسول ﷺ» مکمل ہوئی تو حضرت استاذِ محترم نے اس کا ایک منفرد انداز میں جائزہ لیا۔ یہ انداز بھی اپنی نوعیت میں یادگار تھا اور مذاکرے کے پورے سفر کا ایک خوب صورت اختتام ثابت ہوا۔ *ہم "خیر الاصول” کے مذاکرہ اور اس کے امتحان سے فارغ ہو چکے، اب ہم "توضیح علم مصطلح الحدیث” للشیخ محی الدین محمد عوامہ حفظہ اللہ کا درس شروع کر رہے ہیں، جس کے بعد ہم ان شاءاللہ العزیز "تیسیر مصطلح الحدیث” کا مذاکرہ کریں گے*یہ سب سن کر اندازہ ہوا کہ یہ مذاکرہ محض ایک کتاب مکمل کرنے کا نام نہیں، بلکہ فنِ حدیث کو سمجھنے اور اس کے مزاج سے واقف ہونے کے ایک مسلسل علمی سفر کا آغاز ہے۔یقیناً وہ حضرات خوش نصیب ہیں جو جامعہ فاروقیہ شجاع آباد ملتان میں حضرت کی زیرِ نگرانی دو سالہ تخصص فی الافتاء و علوم الحدیث میں علمی استفادہ کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ حضرت استاذِ محترم شیخ محمد صدیق المظفری مدظلہ کو اپنی جناب سے بہترین بدلہ عطا فرمائے، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، ان کی علمی و تدریسی خدمات کو قبول فرمائے، اور علومِ حدیث کے میدان میں ان کے فیض کو دیر تک جاری رکھے۔آمین یا رب العالمین۔محمد سفیان فاروقشریکِ مذاکرہ: خیر الاصول فی حدیث الرسول ﷺفاضل جامعہ نصرۃ العلومو خادم شعبۂ افتاء و تخریج الحدیثجامعہ صدیقیہ قادریہ، ڈومیلی، جہلم
