خطائے اجتہادی سے آگے ایک لفظ نہیں!
خطائے اجتہادی سے آگے ایک لفظ نہیں!منہجِ اہلِ سنت سامنے بڑے ناموں کی لغزش بھی قبول نہیں،افضلیتِ شیخینؓ، محبتِ اہلِ بیتؓ اور حضرت امیر معاویہؓ، رافضیت و ناصبیت سے پاک، مکتوباتِ امام ربانیؒ کی روشنی میںجمع و تدوین: عبدالودودحضرت مولانا عبدالرحمن جامیؒ کوئی عام شخصیت نہیں تھے۔ وہ اپنے زمانے کے عظیم عارف، بلند پایہ عالم اور سچے عاشقِ رسول ﷺ تھے۔ امام ربانی حضرت مجدد الف ثانیؒ خود ان کا ذکر ان ادب بھرے الفاظ میں کرتے ہیں: "مخدومی حضرت مولوی عبدالرحمن جامی قدس اللہ سرہ السامی” (دفتر اوّل، مکتوب ۲۷۷)۔ مولانا جامیؒ نے اپنی ایک تصنیف میں حضرت امیر معاویہؓ کی اجتہادی خطا کے لیے "خطائے منکر” کا لفظ لکھ دیا، یعنی "خطا” کے ساتھ صرف ایک لفظ کا اضافہ کیا۔ اتنے ادب اور عقیدت کے باوجود امام ربانیؒ نے ان کی یہ بات قبول نہیں کی اور صاف لکھا:”حضرت مولانا عبدالرحمن جامیؒ نے جو ‘خطائے منکر’ کہا ہے، انہوں نے بھی زیادتی کی ہے، (کیونکہ لفظ) ‘خطا’ پر جس چیز کا اضافہ کریں، وہ (بھی) خطا ہے۔” (دفتر اوّل، مکتوب ۲۵۱)اب خود اندازہ لگائیے: جب مولانا جامیؒ جیسے بزرگ کی طرف سے بھی خطائے اجتہادی سے آگے ایک لفظ قبول نہیں کیا گیا، تو آج کے کسی خطیب، مقرر، سوشل میڈیا کے دانشور یا کسی بھی شخص کی ایسی بات کیسے قبول کی جا سکتی ہے؟یہی اہلِ سنت و جماعت کا منہج ہے کہ حضرت علیؓ حق پر تھے، حضرت امیر معاویہؓ کی خطا اجتہادی تھی، اور اس سے آگے ایک لفظ بھی نہیں۔ یہ حد اتنی نازک ہے کہ اہلِ سنت کے اندر سے بھی جس بڑے عالم، فقیہ یا صوفی کا قلم اس سے ذرا سا ہٹا، امام ربانیؒ نے اس کی بات قبول نہیں کی۔ مولانا جامیؒ کی مثال کوئی تنہا واقعہ نہیں، بلکہ اس طرح کی کئی اور مثالیں بھی آگے آ رہی ہیں۔آج سوشل میڈیا پر اس موضوع کی بحثوں میں عموماً تین رویے نظر آتے ہیں۔ کوئی رافضیت کے زیرِ اثر صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرتا ہے۔ کوئی حضرت امیر معاویہؓ کے نام کی آڑ لے کر ناصبیت اور یزیدیت پھیلاتا ہے۔ اور کوئی نہ رافضی ہے نہ ناصبی، مگر "خطا” کے ساتھ ایسے الفاظ جوڑ دیتا ہے جو ایک صحابیِ رسول ﷺ کے شایانِ شان نہیں۔ امام ربانیؒ کی تعلیمات میں ان تینوں کا جواب موجود ہے۔مولانا جامیؒ کے بارے میں امام ربانیؒ کے مزید الفاظ:اسی مکتوب میں امام ربانیؒ آگے فرماتے ہیں:”اور جو کچھ اس کے بعد کہا ہے کہ ’’اگر وہ لعنت کے مستحق ہیں، الخ۔‘‘ یہ بھی نامناسب کہا ہے۔ اس کی تردید کی کیا ضرورت ہے اور اس میں شبہ کا کیا موقع ہے؟ اگر وہ یہ بات یزید کے بارے میں کہتے تو گنجائش رکھتی تھی، لیکن (حضرت) معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں (یوں) کہنا بری بات ہے۔” (دفتر اوّل، مکتوب ۲۵۱)پھر امام ربانیؒ حضرت معاویہؓ کے حق میں نبی کریم ﷺ کی یہ دعائیں نقل کرتے ہیں:اَللّٰہُمَّ عَلِّمْہُ الْکِتَابَ وَالْحِسَابَ وَقِہِ الْعَذَابَ(اے اللہ! انہیں کتاب اور حساب کا علم سکھا اور انہیں عذاب سے بچا)اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ ہَادِیًا مَّہْدِیًّا(اے اللہ! انہیں ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا)اور فرماتے ہیں: "آنحضرت (صلّی اللہ علیہ وسلّم) کی دعا مقبول ہے۔”ادب کا کمال دیکھیے۔ بات ردّ کر دی، مگر مولانا جامیؒ کی ذات پر کوئی طعن نہیں کیا۔ حسنِ ظن کے ساتھ فرمایا کہ ظاہری طور پر یہ بات ان سے "سہو و نسیان کے طریقہ سے سرزد ہوئی ہو گی”۔بڑے ناموں کی لغزش بھی قبول نہیں: مکتوب ۲۶۶ کا محاکمہدفتر اوّل کے مکتوب ۲۶۶ میں امام ربانیؒ نے اہلِ سنت کے عقائد بیان کیے ہیں۔ ترتیبِ افضلیت کی بحث میں آپؒ نے دو ایسی شخصیات کی بات کا ردّ کیا جن کا علمی و روحانی مقام مسلّم ہے: شرح عقائد نسفی کے شارح علامہ سعد الدین تفتازانیؒ، اور فتوحاتِ مکیہ کے مصنف شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ۔علامہ تفتازانیؒ: افضلیت کا مدار فضائل کی گنتی نہیںعلامہ تفتازانیؒ نے شیخینؓ کی افضلیت کی بحث میں توقف کے پہلو کو "انصاف” سمجھا۔ امام ربانیؒ نے صاف فرمایا:”اور جو کچھ مولانا سعد الدین نے شرح عقائد نسفی میں اس افضلیت کے بارے میں انصاف سمجھا ہے، وہ انصاف سے دور ہے اور جو تردید انہوں نے کی ہے وہ بے فائدہ ہے۔” (دفتر اوّل، مکتوب ۲۶۶)اس شبہ کی بنیاد یہ ہے کہ حضرت علیؓ کے فضائل کی روایات سب سے زیادہ ہیں۔ امام ربانیؒ نے جواب دیا کہ امام احمد بن حنبلؒ خود فرماتے ہیں:”جو فضائل (حضرت) علی رضی اللہ عنہ کے منقول ہوئے ہیں، وہ کسی اور صحابیؓ کے بارے میں نہیں آئے ہیں۔”اور پھر فرمایا:”اس کے باوجود انہوں نے خلفائے ثلاثہؓ کی افضلیت کا حکم کیا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ افضلیت کی وجہ ان فضائل و مناقب کے علاوہ کچھ اور ہے۔” (دفتر اوّل، مکتوب ۲۶۶)جزئی فضیلت اور کلی فضیلتکسی خاص خوبی میں آگے ہونا "جزئی فضیلت” ہے، اور مجموعی طور پر اللہ کے ہاں بلند مرتبہ ہونا "کلی فضیلت” ہے۔ امام ربانیؒ اس کی مثال یوں دیتے ہیں:”نیز حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کے راستے میں شہید ہونے والے چند چیزوں میں انبیاء (علیہم الصلوٰۃ والسّلام) پر فضیلت رکھتے ہیں۔ مثلاً شہداء کو غسل کی ضرورت نہیں اور انبیاء (علیہم الصلوٰۃ والسّلام) کو غسل دینا چاہیے۔ … یہ سب جزئی فضائل ہیں جو انبیاء (علیہم الصلوٰۃ والسّلام) کی کلی فضیلت میں کوئی کمی پیدا نہیں کرتے۔” (دفتر سوّم، مکتوب ۱۲۲)یعنی شہید کو بعض خاص باتوں میں امتیاز حاصل ہے، مگر اس سے کوئی شہید کسی نبی سے افضل نہیں ہو جاتا۔ اسی طرح حضرت علیؓ کے فضائل کی کثرت سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مجموعی مرتبے میں حضرت ابوبکرؓ سے آگے ہوں۔کلی فضیلت کا مدار کیا ہے؟”افضلیت کی جو وجہ اس فقیر نے سمجھی ہے وہ فضائل و مناقب کی کثرت نہیں ہے، بلکہ ایمان میں سب سے سابق ہونا اور مالوں کے خرچ کرنے میں سب سے آگے ہونا اور دین کی تائید اور ملت متین کی ترویج کے لیے اپنے نفس (جسم وجان) کو لگائے رکھنے میں سب سے پہلے ہونا ہے، کیونکہ سابق گویا دین کے معاملے میں لاحق کا استاد ہے اور لاحق جو کچھ پاتا ہے وہ سابق کے خوانِ دولت سے پاتا ہے اور یہ تینوں صفات کاملہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں موجود ہیں۔” (دفتر سوّم، مکتوب ۱۷)یعنی کلی فضیلت کے تین معیار ہیں: ایمان لانے میں سب سے پہلے ہونا، دین کے لیے مال خرچ کرنے میں سب سے آگے ہونا، اور دین کی نصرت کے لیے اپنی جان کو وقف رکھنے میں سب سے پہلے ہونا۔ اور یہ تینوں حضرت ابوبکر صدیقؓ میں سب سے بڑھ کر جمع تھے۔اور دل کا معاملہحضرت صدیقؓ کی فضیلت صرف ظاہری اعمال کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس خزانے کی وجہ سے بھی ہے جو ان کے سینے میں رکھا گیا:”آنحضرت علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسّلام نے فرمایا ہے کہ: مَا صَبَّ اللّٰہُ شَیْئًا فِیْ صَدْرِیْ اِلَّا وَقَدْ صَبَبْتُہٗ فِیْ صَدْرِ اَبِیْ بَکْرٍ۔ یعنی: جو کچھ اللہ تعالیٰ نے میرے سینے میں ڈالا ہے، وہ میں نے ابوبکر کے سینے میں ڈال دیا ہے۔” (دفتر سوّم، مکتوب ۱۲۲)اسی مفہوم میں جلیل القدر تابعی حضرت بکر بن عبداللہ مزنیؒ کا مشہور قول ہے، جسے امام غزالیؒ نے احیاء العلوم میں نقل کیا ہے: "ابوبکرؓ تم پر کثرتِ صوم و صلاۃ کی وجہ سے فضیلت نہیں لے گئے، بلکہ اس چیز کی وجہ سے جو ان کے دل میں جم گئی تھی۔”اسی لیے امام ربانیؒ فرماتے ہیں:”حضرت (ابوبکر) صدیق (رضی اللہ عنہ) حضرت نبی (کریم) علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات کے ساتھ گویا ہم خانہ ہیں، اگر فرق ہے تو (صرف) بلندی اور پستی کا ہے۔” (دفتر اوّل، مکتوب ۲۵۱)اور سب سے بڑی گواہی خود حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کی ہے:”ابوبکرؓ اور عمرؓ دونوں اس امت میں سب سے افضل ہیں۔ جو شخص مجھے ان پر افضلیت دے وہ مفتری (تہمت لگانے والا) ہے، میں اس کو کوڑے لگاؤں گا، جس طرح کہ مفتری کو کوڑے لگاتے ہیں۔” (دفتر سوّم، مکتوب ۱۷)شیخ اکبر ابن عربیؒ: وہ کشف جو اہلِ سنت کے علوم سے جدا ہو”اور جو بات صاحبِ فتوحات مکیہ نے کہی ہے کہ ان (خلفائے راشدینؓ) کی خلافت کی ترتیب کا سبب ان کی عمروں کی مدت ہے اور (یہ) فضیلت میں برابری پر دلالت نہیں کرتا، کیونکہ خلافت دوسرا معاملہ ہے اور افضلیت کی بحث اور چیز ہے۔ اگر یہ بات مان بھی لی جائے تو یہ اور اس طرح کی دوسری باتیں ان (صاحبِ فتوحات مکیہ) کی شطحیات میں سے ہیں جو قابلِ سند نہیں ہے۔ ان کے اکثر کشفی معارف جو اہلِ سنت کے علوم سے الگ ہو گئے ہیں، وہ سچائی سے دور ہیں۔ پس ان (باتوں) کی پیروی نہیں کرتا، مگر ایسا شخص جس کا دل بیمار ہے یا وہ مقلدِ محض ہے۔” (دفتر اوّل، مکتوب ۲۶۶)شیخ اکبرؒ جیسے صاحبِ کشف کا کشف بھی، جب اہلِ سنت کے اجماع سے ٹکرایا، تو امام ربانیؒ نے اسے "قابلِ سند نہیں” قرار دیا۔انصاف کا ترازو: غلط بات ردّ، درست بات قبولامام ربانیؒ کا کمال یہ ہے کہ علامہ تفتازانیؒ کی افضلیت والی بات ردّ کی، مگر اسی مکتوب میں مشاجرات کے بارے میں انہی کی درست بات بطور دلیل پیش کی:”تفتازانیؒ نے (حضرت) علی کرم اللہ وجہہٗ کی محبت میں افراط کرنے کے باوجود فرمایا ہے: وَمَا وَقَعَ مِنَ الْمُخَالَفَاتِ وَالْمُحَارَبَاتِ لَمْ یَکُنْ عَنْ نِزَاعٍ فِیْ خِلَافَۃٍ بَلْ عَنْ خَطَآئٍ فِی الْاِجْتِہَادِ۔ یعنی: جو جنگ و جدال ان (صحابہ کرامؓ) کے درمیان ہوئے ہیں، وہ خلافت کے تنازع کی وجہ سے نہیں ہوئے، بلکہ اجتہادی خطا کی بدولت ہوئے ہیں۔”پھر حاشیہ خیالی کی عبارت نقل کی:”(حضرت) معاویہ (رضی اللہ عنہ) اور ان کے لشکر نے ان (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کی اطاعت سے سرکشی کی، اس اعتراف کے ساتھ کہ بیشک وہ (حضرت علی رضی اللہ عنہ) اہلِ زمانہ سے افضل ہیں اور وہ (حضرت علی رضی اللہ عنہ) امامت کے ان (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ) سے زیادہ حقدار ہیں۔ ایک شبہ کی وجہ سے اور وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص نہ لینا تھا۔”پھر امام ربانیؒ نے فیصلہ کن بات فرمائی:”اور شک نہیں ہے کہ اجتہادی خطا ملامت سے دور ہے اور اس سے طعن و تشنیع برخاست ہے۔ خیر البشر (حضرت محمد مصطفی) علیہ وعلیٰ آلہ الصلوات والتسلیمات کی صحبت کے حقوق کا لحاظ رکھتے ہوئے تمام صحابہ کرامؓ کو نیکی کے ساتھ یاد کرنا چاہیے … ہمیں حضرت امیر (علی رضی اللہ عنہ) کے ساتھ جنگ کرنے والوں سے کوئی دوستی نہیں ہے، بلکہ درست یہ ہے کہ ہم ان سے اذیت میں ہیں، لیکن چونکہ وہ نبی (کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم) کے صحابہ کرامؓ ہیں، جن سے محبت کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اور ان کے بغض اور اذیت سے ہمیں منع کیا گیا ہے، لہٰذا ہم نبی (کریم) علیہ وعلیٰ آلہ الصلوات والتسلیمات کی دوستی کی وجہ سے ان سب کو دوست رکھتے ہیں اور ان کے بغض و اذیت سے دور بھاگتے ہیں، کیونکہ یہ بغض و اذیت آنسرور (علیہ الصلوات والتسلیمات) کے بغض و اذیت تک پہنچا دیتا ہے، لیکن ہم حقدار کو حقدار اور خطاکار کو خطاکار کہتے ہیں۔ حضرت امیر (علی رضی اللہ عنہ) حق پر تھے اور ان کے مخالفین خطا پر، اس سے زیادہ کہنا فضول ہے۔” (دفتر اوّل، مکتوب ۲۶۶)یہ عبارت پورے منہج کا خلاصہ ہے۔ اس میں حضرت علیؓ کی حقانیت کا صاف اعلان ہے، ان کے مخالفین کے عمل پر رنج کا اظہار بھی ہے، مگر صحابیت کی وجہ سے سب سے محبت ہے، اور "اس سے زیادہ کہنا فضول ہے”۔دوسرے اہلِ علم کی بات پر بھی گرفتشارحِ مواقف: انہوں نے لکھا کہ ہمارے بہت سے اصحاب کے نزدیک یہ جنگ اجتہاد کی رُو سے نہ تھی۔ امام ربانیؒ نے فرمایا: "معلوم نہیں کہ اصحاب سے مراد کونسا گروہ ہے؟ جبکہ اہلِ سنت اس کے خلاف حکم دیتے ہیں”۔ (دفتر اوّل، مکتوب ۲۵۱)بعض فقہاء: ان کی تحریروں میں حضرت معاویہؓ کے لیے لفظ "جور” آیا۔ امام ربانیؒ نے اس کی توجیہ کی اور فرمایا کہ وہ اللہ کے حقوق اور مسلمانوں کے حقوق میں "امامِ عادل” تھے۔ (دفتر اوّل، مکتوب ۲۵۱)امام شعبیؒ: ان سے حضرت معاویہؓ کی مذمت میں جو قول منسوب کیا گیا، اس کے بارے میں فرمایا: "پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچی”۔ (دفتر اوّل، مکتوب ۲۵۱)اصول ایک ہے، شخصیت کوئی بھی ہوعلامہ تفتازانیؒ ہوں، شیخ اکبرؒ ہوں، شارحِ مواقف ہوں، بعض فقہاء ہوں یا مولانا جامیؒ، امام ربانیؒ کا ترازو سب کے لیے ایک ہے:”اہلِ استقامت … خطا سے زیادہ کہنا جائز نہیں سمجھتے۔” (دفتر اوّل، مکتوب ۲۵۱)یہ جنگ حق و باطل کی نہیں، دو اجتہادوں کی تھیامام ربانیؒ حق کو حضرت علیؓ کے ساتھ مانتے ہیں، مگر دوسری جانب کو "باطل” نہیں، "خطائے اجتہادی” کہتے ہیں۔ عام جھگڑوں میں ایک فریق حق پر اور دوسرا باطل پر ہوتا ہے، لیکن اجتہاد میں ایک کا اجتہاد درست ہوتا ہے اور دوسرے کا خطا، اور دونوں اجر پاتے ہیں:”ان کی مخالفت بھی موافقت کی صورت میں حق کے لیے تھی، نہ کہ نفسِ امّارہ کی ہوا اور خواہش کے لیے۔” (دفتر دوّم، مکتوب ۳۶)”اگر وہ صلح کرتے ہیں تو حق کے لیے کرتے ہیں اور جھگڑا اور اختلاف ہے تو حق کے لیے ہے۔ … سو خطا پر ہونے والا راستی پر ہونے والے کی طرح ملامت سے دور ہے، بلکہ وہ ثواب کے درجات میں سے ایک درجہ (ثواب) کی امید رکھتا ہے۔” (دفتر دوّم، مکتوب ۶۷)اور خود حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کا فیصلہ امام ربانیؒ نے یوں نقل فرمایا:”حضرت امیر (علی) کرم اللہ تعالیٰ وجہہٗ نے فرمایا ہے: ’’ہمارے بھائیوں نے ہم سے بغاوت کی، وہ نہ کافر ہیں، نہ فاسق۔ کیونکہ ان کے پاس تاویل ہے جو کفر اور فسق سے منع کرتی ہے۔‘‘” (دفتر دوّم، مکتوب ۶۷)حضرت علیؓ کے اس فرمان میں دو باتیں غور طلب ہیں۔پہلی بات: آپؓ نے انہیں "ہمارے بھائی” کہا۔ جنہیں امیر المومنین خود بھائی کہیں، انہیں بعد والا کوئی شخص دشمنِ اہلِ بیت کیسے کہہ سکتا ہے؟دوسری بات: آپؓ نے فرمایا کہ "ان کے پاس تاویل ہے”۔ تاویل کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو کچھ کر رہے تھے، ضد، سرکشی یا دنیا طلبی سے نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے قرآن و سنت اور نبی کریم ﷺ کے مزاج کے بارے میں اپنی فہم کی روشنی میں ایک نتیجہ نکالا تھا۔ ان کے ذہن میں یہ شبہ تھا کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے قصاص میں تاخیر ہو رہی ہے، اور اسی اجتہاد کی بنا پر انہوں نے اپنا موقف اختیار کیا۔ حضرت علیؓ نے ان کے اس اجتہاد کو پہچانا اور اسی لیے انہیں کفر اور فسق دونوں سے بری قرار دیا۔اب سوال یہ ہے: جب خود حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ اپنے مخالفین کے لیے تاویل تسلیم فرما رہے ہیں، تو حضرت علیؓ کا نام لینے والے اس معاملے میں حضرت علیؓ کی پیروی کیوں نہیں کرتے؟ جو تاویل حضرت علیؓ نے مانی، وہ ان کے نام لیوا کیوں نہیں مانتے؟ حضرت علیؓ کی سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے اس فیصلے کو بھی قبول کیا جائے۔حضرت معاویہؓ اکیلے نہیں تھےاس معاملے میں کم و بیش آدھے صحابہ کرامؓ ان کے ساتھ تھے۔ حضرت علیؓ کے مقابل حضرت عائشہ صدیقہؓ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ بھی تھے، جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں:”پس حضرت امیر (علی رضی اللہ عنہ) سے لڑنے والے اگر کافر یا فاسق ہوں تو اس دین کے نصف (حصے) سے اعتماد اُٹھ جاتا ہے جو ان کی تبلیغ کی بدولت ہم تک پہنچا ہے۔” (دفتر اوّل، مکتوب ۲۵۱)امام مالکؒ نے حضرت معاویہؓ اور حضرت عمرو بن عاصؓ کو گالی دینے کو حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کو گالی دینے کی مانند قرار دیا۔ (دفتر اوّل، مکتوب ۲۵۱)صحابی کی خطا بھی غیر صحابی کے صواب سے بہترحضرت عبداللہ بن مبارکؒ سے پوچھا گیا کہ حضرت معاویہؓ افضل ہیں یا حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ؟ فرمایا:”وہ خاک جو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کے ہمراہ (حضرت) معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے گھوڑے کی ناک میں پڑی ہے، وہ (حضرت) عمر بن عبدالعزیز (رحمۃ اللہ علیہ) سے کئی گنا بہتر ہے۔” (دفتر اوّل، مکتوب ۵۸)امام ربانیؒ اس سے بھی آگے فرماتے ہیں:”بیشک (حضرت) معاویہ (رضی اللہ عنہ) کی خطاء صحبتِ (رسول کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی برکت) سے ان دونوں (حضرات) کے صواب سے بہتر ہے۔” (دفتر اوّل، مکتوب ۱۲۰)یہاں "ان دونوں” سے مراد حضرت اویس قرنیؒ اور حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ ہیں۔یزید کا معاملہ بالکل الگ ہےحضرت معاویہؓ کے دفاع کی آڑ میں یزید کا دفاع کرنا بھی منہجِ اہلِ سنت سے انحراف ہے:”بدنصیب یزید صحابہ (کرامؓ) میں سے نہیں ہے۔ اس کی بدقسمتی میں کس کو کلام ہے؟ جو کام اس بدقسمت نے کیا ہے کوئی فرنگی کافر بھی نہیں کرتا۔” (دفتر اوّل، مکتوب ۵۴)بعض لوگ کہتے ہیں کہ اہلِ سنت کے علماء نے یزید پر لعنت نہیں کی، اس لیے وہ اس سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ امام ربانیؒ نے اس توقف کی اصل وجہ خود بیان فرمائی:”یزید بدنصیب فاسقوں کے زمرہ میں سے ہے۔ اس کی لعنت میں توقف کرنا اہلِ سنت کے مقرر کردہ اصول کی بنا پر ہے، کیونکہ انہوں نے معین شخص کے لیے خواہ وہ کافر ہو لعنت تجویز نہیں کی ہے، مگر یہ کہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اس کا خاتمہ کفر پر ہوا ہے، جس طرح کہ ابولہب جہنمی اور اس کی بیوی۔ یہ نہیں ہے کہ وہ لعنت کے سزاوار نہیں۔” (دفتر اوّل، مکتوب ۲۵۱)یعنی یہ توقف ایک اصول کی پابندی ہے، یزید کے ظلم سے ذرہ برابر ہمدردی نہیں۔امام ربانیؒ اور محبتِ اہلِ بیتِ اطہارؓآج کل اگر کوئی حضرت امیر معاویہؓ کا دفاع کرے تو فوراً سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ ناصبیت کی طرف چلا گیا۔ امام ربانیؒ نے یہی شکایت اپنے زمانے میں کی تھی کہ کچھ لوگ اہلِ سنت کے ان اولیاء کو، جو اہلِ بیتؓ کی محبت کا دم بھرتے ہیں، رافضی سمجھتے ہیں، اور ان علماء کو، جو خلفائے ثلاثہؓ کی تعظیم کرتے ہیں، خارجی سمجھتے ہیں۔ (دفتر دوّم، مکتوب ۳۶)حقیقت یہ ہے کہ صحابہؓ کا سب سے بڑا مدافع، یعنی امام ربانیؒ، اہلِ بیتِ اطہارؓ کا سب سے بڑا عاشق بھی تھا۔ایمان کا جزو: "یہ محبت ان بزرگواروں کے نزدیک ایمان کا جزو ہے اور انہوں نے خاتمہ بالخیر کو اس محبت کی پختگی سے وابستہ کیا ہے۔” (دفتر دوّم، مکتوب ۳۶)والد گرامی کی آخری گھڑی: امام ربانیؒ کے والد گرامی نے مرضِ وفات میں بیخودی کی حالت میں فرمایا: "میں اہلِ بیتؓ کی محبت میں غرق ہوں۔” (دفتر دوّم، مکتوب ۳۶)ایصالِ ثواب کا معمول اور ایک مبارک خواب: امام ربانیؒ خود بیان فرماتے ہیں:”اس سے چند سال پہلے فقیر کی عادت یہ تھی کہ اگر کھانا پکاتا تھا تو اس (کے ثواب) کو اہلِ عباء (اہل بیتؓ) کی پاکیزہ ارواح (کے ایصال) کے لیے مخصوص کرتا تھا اور آنسرور علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات، حضرت امیر (علی رضی اللہ عنہ)، حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) اور حضرات امامین (حسن و حسین رضی اللہ عنہما) کو اس کے ساتھ شامل کر لیتا تھا۔ ایک رات (فقیر) دیکھتا ہے کہ آنسرور علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسّلام تشریف فرما ہیں۔ فقیر آپ (صلّی اللہ علیہ وسلّم) کی خدمت میں سلام عرض کرتا ہے۔ آپ (صلّی اللہ علیہ وسلّم) فقیر کی جانب متوجہ نہیں ہوتے اور چہرۂ انور دوسری جانب فرما لیتے ہیں۔ اسی اثناء میں آپ (صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم) نے فقیر سے فرمایا کہ میں کھانا عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے گھر میں کھاتا ہوں جو کوئی میرے لیے کھانا بھیجے وہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے گھر بھیجے۔ اس وقت فقیر کو معلوم ہوا کہ آپ (صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم) کے توجہ شریف نہ فرمانے کا سبب یہ تھا کہ فقیر حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) کو اس کھانے میں شریک نہیں کرتا تھا۔ اس کے بعد حضرت صدیقہ (رضی اللہ عنہا)، بلکہ باقی ازواج مطہراتؓ، جو سب اہلِ بیتؓ ہیں، کو شریک کر لیا کرتا تھا اور اُن سب اہلِ بیتؓ کو وسیلہ بناتا تھا۔” (دفتر دوّم، مکتوب ۳۶)اس خواب سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہلِ بیتؓ میں ازواجِ مطہراتؓ بھی شامل ہیں، اور سچی محبت وہ ہے جو پورے اہلِ بیتؓ کو اپنے دامن میں لے۔حضرت علیؓ کا روحانی مقام: "قطب الاقطاب جو قطب مدار ہے، کا سر ان (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کے قدم کے نیچے ہے … حضرت (سیّدہ) فاطمہ (رضی اللہ عنہا) اور امامینؓ بھی اس مقام میں حضرت امیر (علی) رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہیں۔” (دفتر اوّل، مکتوب ۲۵۱)سنی کی تعریف: "اہلِ بیتؓ کی محبت نہ ہونا خروج ہے اور صحابہ (کرامؓ) پر تبری بازی کرنا رفض ہے اور اہلِ بیتؓ کی محبت تمام صحابہ کرامؓ کی تعظیم و توقیر کے ساتھ رکھنا ہی تَسنّن (سُنّی ہونا) ہے۔” (دفتر دوّم، مکتوب ۳۶)امام ربانیؒ کی دعا: امامت کی بحث پر اپنا طویل مکتوب امام ربانیؒ نے ان اشعار پر ختم کیا:الٰہی بحق بنی فاطمہکہ بر قول ایمان کنی خاتمہاگر دعوتم ردّ کنی ور قبولمن و دست و دامان آلِ رسول”یا اللہ! حضرت فاطمۃ (الزہرا رضی اللہ عنہا) کی اولاد کے صدقے ایمان کے قول پر میرا خاتمہ فرمانا۔ خواہ تو میری دعا ردّ فرمائے یا قبول کرے! میں ہوں اور میرا ہاتھ ہے اور آلِ رسول (صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم) کا دامن ہے۔” (دفتر دوّم، مکتوب ۳۶)یہ اس شخصیت کے الفاظ ہیں جس نے حضرت معاویہؓ کے بارے میں خطائے اجتہادی سے آگے ایک لفظ بھی برداشت نہیں کیا۔خلاصہجب علامہ تفتازانیؒ، شیخ اکبرؒ اور مولانا جامیؒ جیسی شخصیات کی بات بھی منہجِ اہلِ سنت سے ہٹنے پر قبول نہیں کی گئی، تو بات واضح ہے: صحابہ کرامؓ کے بعد آنے والا کوئی بھی شخص، کسی بھی علمی مقام کا ہو، اگر حضرت امیر معاویہؓ کی طرف خطائے اجتہادی سے ذرہ برابر زیادہ کوئی چیز منسوب کرے، تو یہ مقامِ صحابیت سے ناواقفیت ہے۔ یہ بات غلط ہے اور قطعاً قابلِ قبول نہیں۔منہجِ اہلِ سنت یہ ہے:۱۔ خلفائے راشدینؓ کی افضلیت ان کی خلافت کی ترتیب کے مطابق ہے۔ بعض خاص فضائل میں کسی کا آگے ہونا جزئی فضیلت ہے، اور کلی فضیلت کا مدار ایمان میں سبقت، دین کے لیے مال و جان کی قربانی اور قربِ نبوی ﷺ ہے۔۲۔ حضرت علیؓ حق پر تھے۔۳۔ حضرت امیر معاویہؓ کی خطا اجتہادی تھی، اور اس پر بھی ایک اجر ہے۔۴۔ خطائے اجتہادی سے آگے ایک لفظ نہیں۔۵۔ یزید فاسق اور بدبخت ہے۔ اس پر لعنت میں توقف صرف ایک اصولی احتیاط ہے، ہمدردی نہیں۔۶۔ اہلِ بیتِ اطہارؓ کی محبت ایمان کا جزو ہے، اور تمام صحابہ کرامؓ کی تعظیم بھی ایمان کا تقاضا ہے۔امام شافعیؒ اور حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا قول امام ربانیؒ نے نقل فرمایا:”یہ وہ خون ہیں جن سے ہمارے ہاتھوں کو اللہ تعالیٰ نے پاک رکھا ہے، پس ہم اپنی زبانوں کو بھی ان سے پاک رکھیں۔”اللہ تعالیٰ ہمیں تمام صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ کی سچی محبت اور ادب نصیب فرمائے اور منہجِ اہلِ سنت پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔ماخذ: مکتوباتِ امام ربانیؒ، اردو ترجمہ ڈاکٹر محمد نذیر رانجھا، خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ، کندیاں
