احتسابِ ناصبیت نامی کتاب
جو عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے تحت شاہینِ ختمِ نبوت حضرت اقدس مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی تالیف ہے جودرحقیقت جمہور اہلِ علم اکابرین و اسلاف کی کتب کا محض ایک مجموعہ ہے اس کتاب میں شامل تمام کتب نہ صرف یہ کہ پہلے سے موجود تھیں بلکہ شائع شدہ بھی تھیں ان پہلے سے موجود اور شائع شدہ کتب کو صرف یکجا کرکے شائع کیا گیا ہے اور اس میں ایک حرف کا بھی اضافہ نہیں کیا گیایہ مجموعہ کیوں شائع کیا گیا اور کیا اسے شائع کرنا چاہیے تھا یا نہیں اس کا فیصلہ مشائخ و اکابر ہی فرمائیں گے ہمیں اس بارے میں اپنی طرف سے کوئی حتمی فیصلہ صادر کرنے کے بجائے اہلِ علم کی طرف رجوع کرنا چاہیےباعثِ تعجب و حیرت امر یہ ہے کہ یہ کتاب چند ماہ پہلے شائع ہوچکی ہے لیکن اس وقت سے اب تک کسی قسم کا شور و غوغا نہیں ہوا اچانک بعض ایسے طبقات جنہیں اپنے بھی بیگانہ کہتے آئے ہیں کے فتنے میں مبتلا ہوکر ہمارے اپنے قریبی لوگ بھی تلوار سے تیز زبان و قلم لے کر مقدس شخصیات کا سہارا لیتے ہوئے ان اکابرین و اسلاف کی دستاروں کو قدموں تلے روند رہے ہیں جنہوں نے ہمارے سروں پر دستاریں باندھی تھیں اور ہمیں دین کا راستہ دکھایا تھا ہائے افسوس کتاب شائع کرتے وقت کہاں کہاں اضافہ جات کی ضرورت تھی یا نہیں یہ فیصلہ بھی اکابرین و مشائخ ہی فرمائیں گےہمارے لیے باعثِ حیرت بات ہے کہ کتاب میں موجود ان کتب پر جو قدیم و جدید اکابرین کی تصانیف ہیں اور وہ اس کتاب کے شائع ہونے سے پہلے موجود تھیں اس کتاب کے مجموعہ بننے سے پہلے ان پر تبصرے تجزیے اور ان میں موجود بعض عبارات پر اعتراضات کیوں نہیں کیے گئے؟ اگر ان میں واقعی قابلِ اعتراض عبارات موجود تھیں تو اب تک اس بارے میں خاموشی کیوں رہی؟ آخر امت کو اتنے عرصے تک ان اکابرین و اسلاف کے بارے میں یہ باتیں نہ بتانے کا قصوروار کون ہے کہ فلاں فلاں کتاب کے مصنف مقدس شخصیات کے گستاخ اور صراطِ مستقیم سے ہٹے ہوئے ہیں اور ایک بات یہ کہ تقریباً ہر کتاب کے شروع میں یہ لکھا پڑھا جاتا ہے کہ اگر کتاب میں کوئی غلطی نظر آئے تو مصنف یا ناشر کو مطلع فرماکر ممنون و مشکور فرمائیں تاکہ آئندہ اصلاح کی جاسکےتو پھر سوال یہ ہے کہ اس کتاب کی اشاعت کے بعد اور اس پر ہونے والے اعتراضات سامنے آنے کے بعد عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے ذمہ داران سے براہِ راست رجوع کیوں نہیں کیا گیا؟ارے بھائیو! غیروں کے بہکاوے میں آکر یہ روش کیسی؟ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ نہ یہ دیکھا گیا کہ کتاب میں موجود کتب کن اکابرین کی ہیں؟ نہ یہ دیکھا گیا کہ قابلِ اشکال عبارات اور جملوں کا سیاق و سباق کیا ہے؟ اور نہ یہ دیکھا گیا کہ ان عبارات کا مخاطب کون ہے؟اور ان کی تعبیر و تاویل کیا ہے؟کیا ہمارے درمیان اہلِ حق اکابرین و اسلاف اور ہمارے معتدل اور غیر جانب ہمارے حضرات اساتذہ کرام زیدشرفھم اور حضرات علماء کرام موجود نہیں رہے کہ جن کے پاس یہ قضیہ لے جایا جاتا؟ کیا یہ عمل زیادہ درست نہیں تھا کہ ختمِ نبوت کی عالمی تحریک کے اکابرین و مشائخ کی خدمت میں یہ معاملہ پیش کیا جاتا اور ان سے رہنمائی لی جاتی؟سوشل میڈیا پر اکابرین و اسلاف کو مقدس شخصیات کے حوالے سے بغض و عداوت رکھنے والا ثابت کرنے کی مہم سے مسلکِ حقہ کی بدنامی کا ذمہ دار آخر کون ہے؟عام آدمی نہ خارجیت کو سمجھتا ہے اور نہ ناصبیت کو لیکن حالیہ مہمات سے عام آدمی کے ذہن میں جو تاثر بہت گہرا ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ ختمِ نبوت کا کام کرنے والے حضرات نعوذ باللہ مقدس شخصیات کے گستاخ ہیںاس تناظر میں ختمِ نبوت کا کام کرنے والوں اور دینی طبقہ سے عام آدمی کا اعتماد اٹھ جانے کا ذمہ دار آخر کون ہے؟اور اگلی بات یہ ہے کہ ختمِ نبوت کا کام ایسا عظیم کام ہے کہ اس میں تھوڑی سی خدمت بھی انسان کے لیے آخرت میں نجات اور اجر کی امید کا ذریعہ بن سکتی ہے یہاں صورتِ حال یہ بنادی گئی ہے کہ ختمِ نبوت پر پہرہ دینے والوں اور زندگیاں نچھاور کرنے والوں کو ہی جہنمی اور گستاخ ثابت کیا جارہا ہےختمِ نبوت کا کام کرنے والوں کو ختمِ نبوت کے نام پر چندہ خور ثابت کرنا اور یہ باور کرانا کہ ختمِ نبوت کے چندے سے مقدس شخصیات کے ساتھ دشمنی اور عداوت پھیلائی جارہی ہے کیا عام آدمی کے دل میں حضراتِ علماء کرام کے لیے محبت و اعتماد پیدا کرے گا یا بغض؟درسگاہوں اور دارالافتاء کی علمی و داخلی گفتگو کو چوکوں چوراہوں اور سوشل میڈیا پر لاکر اپنی اور اپنے علماء کرام کی رسوائی کا سبب بننا کسی بھی طرح ایک ذمہ دار شخص کا فعل نہیں ہونا چاہیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایسے حالات پیدا ہوجانے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مدارس کے طلبہ اور فضلا کا علمی معیار بہت سطحی سا رہ گیا ہے بنیادی اور موٹی موٹی علمی اصطلاحات سے ناواقفیت ہے علم میں رسوخ تو بہت دور کی بات ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ تعلیم تو بہت دی جارہی ہے اگرچہ تعلیم کے نظام میں بھی بہت سی کمزوریاں نظر آتی ہیںپھر بھی کمال یہ ہے کہ اساتذہ کرام کے ہوتے ہوئے اور صحیح کتب کے ہوتے ہوئے بھی میڈیا سے علم حاصل کرنے پر اکتفا کیا جارہا ہے اور تربیت اور اصلاحِ باطن کا تو نہایت شدید فقدان ہے اس طرف تو توجہ بھی غیر ضروری سمجھی جاتی ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ فضلاء کرام مادرِ علمی اور اساتذہ کرام زیدشرفھم کے درمیان رابطہ میں نہایت ہی کمی آتی جارہی ہےاور سب سے افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارے مدارس میں اکابرین کا نہ تعارف ہے نہ ان کا ذوق و مزاج بتایا جاتا ہے اور نہ علماءِ دیوبند کا مسلک و مشرب اس انداز سے پڑھایا جاتا ہے جس سے نئی نسل اپنے اکابرین کی علمی و روحانی میراث کو سمجھ سکے اور صحیح فکر و نظر کی حامل ہوکر درست منہج پر دینی خدمات سر انجام دے یہ وہ اسباب ہیں جن تنزلی کی وجہ ہیںخدا کرے میری یہ بات غلط ہو لیکن مجھے شدید ڈر ہے کہ کہیں ہمارا مستقبل ایسا تو نہیں ہونے جارہا کہ ہم کسی کو اپنا رہبر و رہنما ماننے کے لیے تیار ہی نہ ہوں گے اور ہر شخص اپنی اپنی بولی اور اپنی اپنی راہ لیے ہوئے ہوگاخدا کے لیے! ہمیں اپنے شیرازے کو منتشر ہونے سے بچانا ہے اپنے ہی گلدستے کے پھولوں ان کی پتیوں کو اپنے ہی ہاتھوں سے مسل مسل کر پامال نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کی حفاظت و سلامتی کے ساتھ ان کی مختلف خوشبوؤں سے مستفید ہوتے رہنا ہے جس طرح ہمارے بڑوں نے ہمارے لیے علم و تقویٰ دیانت و امانت اور عشق و محبتِ رسول و آلِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث چھوڑی ہے ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی عظمت و حرمت کے ساتھ ان کی وسعتِ نظر علمی دیانت اور اخلاص اور سادگی اور طرزِ قدیم کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اختلافِ رائے اگر ہو تو اسے اہلِ علم کے سامنے پیش کیا جائے تحقیق اور گفتگو کے دروازے کھلے رکھے جائیں لیکن تحقیق کے نام پر بےراہ روی اور جہل کو اختیار نہ کیا جائے اور کسی بھی معاملے کو سوشل میڈیا کی مہم بنا کر اپنے ہی اکابر اپنے ہی مدارس اور اپنے ہی دینی کام کو نقصان نہ پہنچایا جائےاللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق اور باطل کو سمجھنے اور اپنے اکابر و اسلاف کی قدر کرنے اور دین کے کام کو باہمی انتشار سے محفوظ رکھتے ہوئے قبولیتوں والی توفیقات کے ساتھ جاری و ساری رکھنا نصیب فرمائیں آمین یارب العالمین اپنے اکابر پر اعتماد رکھیے ان سے وابستہ اور نتھی رہیےمدارس اور خانقاہوں میں موجود ان اہلِ علم سے مضبوط تعلق رکھیے جو علومِ ظاہری و اخلاقِ باطنی سے مزین و آراستہ ہیں انتشار و افتراق اور جذباتی و ہیجانی نعروں اور تحریکات سے دور رہیے ہر ایک کو اور ہر ایک کی سننے کے بجائے معتدل اور صاحبِ بصیرت اہلِ علم کی صحبت و مجالست کے پابند رہیے یہی صراطِ مستقیم اور اور دینی دنیوی کامیابیوں اور اخروی فوز و فلاح کا یقینی راستہ ہے بندہ نے محض اپنا دردِ دل بیان کیا ہے ہرگز کسی کی مخالفت مقصود نہیں ہے صرف اتحاد و اتفاق اور تعمیری رویوں پر قائم رہنے اور اس کی طرف لوٹ آنے کی ایک درد بھری دعوت ہے بس وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔
