یہ حبِ صحابہ نہیں، جہالت ہے
مکتوب الیہ: کارکن، انجمنِ سپاہِ صحابہ
مکتوب نگار: مفکرِ اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ
ماخذ: آپ کے مسائل اور ان کا حل، جلد 10، صفحات 29-32 (مضمون: یہ حبِ صحابہ نہیں، جہالت ہے)

## واقعہ کا پس منظرایک مرتبہ عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے ترجمان ہفت روزہ ”ختمِ نبوت“ میں دارالعلوم دیوبند کے نامور فاضل اور جمعیۃ علماء ہند کے سابق صدر مولانا سعید احمد دہلویؒ کی تصنیف "معجزاتِ رسول ﷺ” قسط وار شائع ہو رہی تھی۔ اس کتاب میں مولانا نے امام بیہقیؒ کی ایک مشہور روایت نقل کی، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا: ”اے زبیر! تم علی (رضی اللہ عنہ) سے جنگ کرو گے اور تم اس وقت حد سے بڑھنے والے (ظالم) ہو گے۔“جب یہ قسط شائع ہوئی، تو جوشِ جذبات میں ڈوبے ہوئے ایک مذہبی تنظیم(سپاہ صحابہ) کے کارکن نے رسالے کے سرکردہ علماء کو ایک تند و تیز خط لکھا۔ اس خط میں اعتراض کیا گیا کہ:”مولانا سعید احمد صاحب کی تحریر میں ایک جلیل القدر صحابیِ رسول، حواریِ رسول حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو نعوذ باللہ ظالم لکھا گیا ہے۔ کیا یہ سہواً ہوا ہے یا عمداً؟ آپ کو یہ زحمت اس لیے دی گئی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ ختمِ نبوت کی جماعت میں وہ کون سے لوگ گھس آئے ہیں جو صحابہ کرام کے دشمن ہیں؟ تاکہ وقت پر ان کا بندوبست کیا جا سکے۔“## حکیم الامت حضرت مولانا یوسف لدھیانویؒ کا حکیمانہ جواب:یہ خط جب حضرت مولانا مفتی محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کے پاس پہنچا، تو انہوں نے اس سطحی اور جذباتی سوچ کی اصلاح کے لیے ایک مفصل مکتوب تحریر فرمایا، جس کا عنوان تھا: ”یہ حبِ صحابہ نہیں، جہالت ہے!“ مولانا نے جواب کا آغاز کرتے ہوئے پہلے تو معترض کو یہ باور کرایا کہ مولانا سعید احمد دہلویؒ کوئی "غیر” یا مشکوک شخصیت نہیں، بلکہ ملتِ اسلامیہ کے اکابر، ثقہ اور مقتدر علماء میں سے تھے۔ اس کے بعد مولانا نے اصل علمی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے لکھا:”محترم! جن الفاظ پر آپ نے گرفت کی ہے اور جنہیں ‘گستاخی’ پر محمول کیا ہے، وہ کسی امتی کے نہیں، بلکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیشین گوئی پر مبنی مبارک الفاظ ہیں۔ یہ ناکارہ (یوسف لدھیانوی) آپ کے جذبات اور احساسات کی قدر کرتا ہے، لیکن مندرجہ بالا پس منظر کی روشنی میں جناب سے بھیک مانگتے ہوئے التجا کرتا ہے کہ آپ کے خط کا یہ فقرہ ہم خدامِ ختمِ نبوت کے لیے نہایت تکلیف دہ ہے کہ: ‘ختمِ نبوت میں وہ کون سے لوگ ہیں جو صحابہ کرام کے دشمن ہیں، تاکہ ان کا بندوبست کیا جائے۔’انصاف کیجیے! اگر خدامِ ختمِ نبوت صرف ایک مستند تاریخی و حدیثی روایت کو نقل کر دینے کی وجہ سے ”دشمنِ صحابہ“ کے خطاب کے مستحق ٹھہرتے ہیں، تو مولانا احمد سعید دہلویؒ اور ان سے پہلے امام بیہقیؒ، امام حاکمؒ اور وہ تمام اکابر محدثین جنہوں نے اپنی کتب میں اس حدیث کو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے، وہ آپ کے نزدیک کس خطاب کے مستحق ہوں گے؟“مولانا یوسف لدھیانویؒ نے اپنے مکتوب میں اس خام اور جذباتی سوچ کے خطرناک انجام سے ڈراتے ہوئے لکھا:”مجھے اندیشہ ہے کہ اس خط میں جس سطحی اور شدید جذباتیت کا مظاہرہ کیا گیا ہے، خدانخواستہ یہ آگے نہ بڑھ جائے۔ اگر آج حدیث کے الفاظ پر جاہلانہ گرفت کی اجازت دی گئی، تو کل کوئی جذباتی شخص کھڑا ہو کر یہ کہنے لگے گا کہ قرآنِ کریم میں جلیل القدر انبیائے کرام علیہم السلام کو –نعوذ باللہ- ظالم کہا گیا ہے۔ مثلاً قرآن میں ہے:* حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں (دو مقامات پر):وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ (سورۃ البقرۃ: 35، سورۃ الاعراف: 19)ترجمہ: "اور تم دونوں اس درخت کے قریب نہ جانا، ورنہ تم ظالموں (حد سے بڑھنے والوں) میں سے ہو جاؤ گے۔”* حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اعترافِ تقصیر کے بارے میں:رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي (سورۃ القصص: 16)ترجمہ: "اے میرے رب! بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، پس مجھے معاف فرما دے۔”* حضرت یونس علیہ السلام کی تسبیحِ الٰہی کے بارے میں:لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ (سورۃ الانبیاء: 87)ترجمہ: "تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں (قصور واروں) میں سے تھا۔”مولانا نے آخر میں سخت مگر مصلحانہ چوٹ کرتے ہوئے لکھا:”تو کیا اب دنیا میں ایک ‘سپاہِ انبیاء’ تشکیل دی جائے گی؟ اور وہ چیدہ چیدہ بزرگوں اور مفسرین کے نام اس مضمون کے دھمکی آمیز خطوط جاری کرے گی کہ: ‘ترتیبِ قرآن اور تفاسیر میں وہ کون سے لوگ گھس آئے تھے جو انبیائے کرام کے دشمن تھے؟ تاکہ ان کا بندوبست کیا جائے!’ظاہر ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کا مرتبہ حضرت زبیرؓ سے کہیں برتر اور اعلیٰ ہے، اور ہمارے ہفت روزہ [ختمِ نبوت] کو قرآنِ کریم سے کیا نسبت؟ لیکن بات صرف علم کی کمی اور بلا سوچے سمجھے تکفیر و تفسیق کی تلوار اٹھانے کی ہے، جو حبِ صحابہ نہیں بلکہ صریح جہالت ہے!“ ## علمی حاصلِ کلام (درسِ عبرت)جمہور اہل السنۃ والجماعت کا یہ متفقہ اصول ہے کہ صحابہ کرام کے مابین ہونے والے مشاجرات (اختلافات اور جنگوں) میں کسی ایک صحابی کی بھی تنقیص یا گستاخی جائز نہیں۔ اس حدیث میں "ظلم” یا "حد سے بڑھنے” سے مراد شرعی یا اخلاقی جرم نہیں، بلکہ خطائے اجتہادی تھی۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا موقف اخلاص پر مبنی تھا، مگر جب انہیں رسول اللہ ﷺ کا فرمان یاد آیا، تو انہوں نے فوراً اطاعت گزاری کا ثبوت دیتے ہوئے قتال کا ارادہ ترک کر دیا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دین کو جذبات کے بجائے ہمیشہ علم، فہم اور اکابرین کے توسط سے سمجھنا چاہیے۔ وماعلینا الا البلاغ ❣️
