
شرعی پردہ رکاوٹ؟شاید آپ نے سمجھا ہو کہ سر تا پا مکمل نقاب اور شرعی حجاب میں ملبوس یہ خاتون کسی دینی مدرسے کی معلمہ، طالبہ یا کسی "تنگ نظر” مولوی کی اہلیہ ہیں۔ نہیں جی! یہ دنیا کی نامور ترین سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر نجلاء بنت سعد الردادی (Prof. Dr. Najlaa Al-Radadi) ہیں۔ جنہیں گزشتہ روز مسلسل پانچویں بار دنیا کے 2 فیصد ذہین اور اثر انگیز ترین سائنسدانوں کی عالمی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ڈاکٹر نجلاء سعودی عرب کی نامور یونیورسٹی جامعہ طیبہ (Taibah University) مدینہ منورہ میں انارگینک اور نینو کیمسٹری (Inorganic & Nanochemistry) کی پروفیسر ہیں۔ انہوں نے کیمسٹری کے شعبے میں اعلیٰ ترین ڈگریاں (Ph.D) حاصل کیں اور اپنی علمی قابلیت کی بنا پر نہ صرف تدریسی میدان میں ہزاروں طالبات کی تربیت کی بلکہ بائیو میڈیکل سائنسز میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔سائنسی کارنامے اور اختراعات (Patents)ان کی تحقیق کا بنیادی محور نینو ٹیکنالوجی اور کینسر ریسرچ ہے۔ انہوں نے عجوہ کھجور اور قدرتی نباتاتی اجزاء سے پلاٹینم، گولڈ اور سلور کے نینو پارٹیکلز (Nanoparticles) کی ماحولیاتی دوست (Green Synthesis) تیاری کے سائنسی طریقے ایجاد کیے۔ کینسر کے ٹیومر اور خطرناک بیکٹیریا کے خلاف ان کی تیار کردہ دوا ساز تکنیکوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا اور ان کے نام پر کئی عالمی پیٹنٹس (Patents) درج ہیں۔امریکہ کی دنیا سے تسلیم شدہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی (Stanford University) ہر سال عالمی سطح پر شائع ہونے والے تحقیقی مقالوں، سائٹیشنز (Citations) اور علم کے میدان میں حقیقی اثر (h-index) کو پرکھ کر سائنسدانوں کا انتخاب کرتی ہے۔ ڈاکٹر نجلاء الردادی کو 2022ء سے لے کر 2026ء تک مسلسل پانچویں سال اس فہرست کا حصہ بنایا گیا، جو ان کی بلاشرکتِ غیرے سائنسی برتری کا ثبوت ہے۔کیا سمجھے؟ کیا پیغام ہے اس میں؟ کیا دینی وابستگی، نقاب اور پردہ خاتون کے راستے کی رکاوٹ ہے؟ پاوں کی بیڑی ہے؟ ترقی میں حائل ہے؟ مغرب اور مغرب زدہ ذہن اکثر یہ پروپیگنڈا کرتے نظر آتے ہیں کہ اسلام، بالخصوص عورت کا نقاب اور شرعی پردہ، اس کی ترقی، عقل اور سائنسی پیشرفت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ڈاکٹر نجلاء الردادی کا مبارک سراپا اس باطل و فرسودہ نظریئے کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔وہ نہ صرف مدینہ منورہ کی فضاؤں میں اسلامی احکامات کی پابندی کرتے ہوئے کامل شرعی پردہ کرتی ہیں، بلکہ ان کا حجاب ان کی سائنسی لیبارٹری، بین الاقوامی کانفرنسوں اور تحقیقی صلاحیتوں میں کبھی حائل نہیں ہوا۔ ان کا یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ پردہ ذہن کا قید خانہ نہیں، بلکہ عورت کے وقار کا محافظ ہے اور سائنس کا تعلق انسان کی صلاحیت سے ہے، اس کے لباس کی اختصار پسندی سے نہیں۔یہ صرف ڈاکٹر نجلاء نہیں، بلکہ مکمل شرعی حجاب کے ساتھ کئی دیگر ہماری بہنیں بھی عالمی سطح پر سائنسی میدان میں اپنا لوہا منوا چکی ہیں۔ جیسے کہ مصر کی پروفیسر سمیرا موسیٰ۔ پہلی عرب ایٹمی سائنسدان جنہوں نے طبی مقاصد کے لیے ایٹمی انرجی کی سستی دستیابی پر کام کیا۔ ان کے علاوہ مصر ہی کی ڈاکٹر یاسمین مصطفیٰ۔ نینو ٹیکنالوجی اور اینوائرنمنٹل سائنس کی عالمی ماہر، جن کے نام پر NASA نے ایک سیارچے (Asteroid) کا نام رکھا ہے۔ سعودیہ کی ڈاکٹر ریم الترکی بھی اس کی بہترین مثال ہیں۔ جینیٹکس اور کینسر ریسرچ کی ممتاز ترین سائنسدان ہیں۔کھوپڑی میں گوبر بھرا ہو تو برہنگی کو ترقی اور پردے کو پسماندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ حجاب عورت کو پسماندہ نہیں بناتا، بلکہ بے حیائی کو روشن خیالی سمجھنا ہی ذہنی پسماندگی ہے۔ جب نیت سچی اور عزم پختہ ہو تو ایک باحجاب خاتون لیبارٹری کی مائیکروسکوپ سے لے کر کائنات کی وسعتوں تک، ہر میدان فتح کر سکتی ہے۔(ضیاء چترالی)
