مسجد علی بن ابی طالبؓ: علم، شجاعت اور فقر کا امتزاج
تمہید
کچھ شخصیات ایسی ہیں جن کے نام کے ساتھ ایک پورا جہان کھلتا ہے۔ علی بن ابی طالبؓ ان میں سے ہیں۔ ایک ہی وجود میں تلوار کی دھار بھی تھی، قلم کی روشنی بھی، اور درویش کی نرمی بھی۔ وہ نوجوان جو بچپن میں رسول اللہ ﷺ کے سائے میں پلا، جو جوانی میں ہجرت کی رات آپ ﷺ کے بستر پر سویا، اور جو آخری دم تک سچائی کا علم اٹھائے رہا۔
مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کے مغرب کی جانب، مسجد الغمامہ، مسجد ابوبکرؓ اور مسجد عمرؓ کے قریب، انہی کے نام سے منسوب مسجد علیؓ ہے۔ عمارت چھوٹی ہے، مگر جس ہستی کی یاد اس سے وابستہ ہے وہ بہت بڑی ہے۔
محلِ وقوع اور نسبت
یہ مسجد اس قدیم عیدگاہ کے علاقے میں واقع ہے جہاں عیدین کی نمازیں ادا ہوتی رہیں۔ تاریخی روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ حضرت علیؓ نے اپنے عہد میں یہاں نماز پڑھائی، اور اسی نسبت سے یہ مسجد آپؓ کے نام سے معروف ہوئی۔ مؤرخین کے ہاں اس کی تفصیلات میں اختلاف ہے، اس لیے اسے ایک تاریخی نسبت کے طور پر ہی بیان کرنا درست ہے۔
نبوت کے سائے میں پرورش
علیؓ نے آنکھ کھولی تو گھر میں نبوت کی روشنی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی کفالت میں لیا اور اپنے ہاتھوں سے ان کی تربیت کی۔ بچوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے علیؓ ہی تھے۔ جس دل نے شعور کی پہلی سانس ہی توحید کی فضا میں لی ہو، اس میں شرک کی گنجائش کہاں؟ ان کی زندگی اس بات کی دلیل ہے کہ تربیت اگر نبوی ہو تو بچپن بھی ولایت کا آغاز بن جاتا ہے۔
ہجرت کی رات
مکہ کی وہ رات تاریخ کی سب سے سنسنی خیز راتوں میں سے ہے۔ قریش کے نوجوان تلواریں سونتے رسول اللہ ﷺ کے گھر کو گھیرے کھڑے تھے۔ ارادہ یہ تھا کہ صبح ہوتے ہی آپ ﷺ کا کام تمام کر دیں۔ ایسے میں علیؓ آپ ﷺ کے بستر پر چادر اوڑھ کر لیٹ گئے۔

سوچیے، جان جانے کا خطرہ ہر لمحہ سر پر ہو اور آدمی بے خوف سو جائے۔ یہ بہادری نہیں، یقین کی وہ منزل ہے جہاں بندہ جان کو اللہ کی امانت سمجھ کر ہتھیلی پر رکھ دیتا ہے۔ صبح دشمن اندر آئے تو بستر پر علیؓ کو پایا اور ناکام لوٹ گئے۔ اگلے دن علیؓ نے رسول اللہ ﷺ کی امانتیں لوگوں کو لوٹائیں اور پھر مدینہ ہجرت کی۔
خیبر کا علم
خیبر کے محاذ پر جب قلعے کی فتح میں دیر ہو رہی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کل میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح دے گا، جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ رات بھر صحابہ کرامؓ سوچتے رہے کہ یہ سعادت کسے ملے گی۔
صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے علیؓ کو بلایا۔ ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے لعابِ دہن لگایا تو وہ یوں ٹھیک ہو گئے جیسے کبھی تکلیف ہی نہ تھی۔ پھر جھنڈا ان کے ہاتھ میں آیا۔ اس واقعے میں شجاعت کو محبتِ الٰہی اور محبتِ رسول ﷺ کا ثمر بتایا گیا ہے، یعنی اصل بہادری وہ ہے جو عشق سے جنم لے۔
مواخات اور مقام
نبی کریم ﷺ نے جب مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا تو علیؓ کو اپنا بھائی قرار دیا۔ غزوۂ تبوک میں جب آپ ﷺ نے انہیں مدینہ میں اپنا نائب بنایا تو فرمایا کہ کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰؑ کے لیے ہارونؑ تھے، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ قرب اور اعتماد کی وہ سند ہے جو کم لوگوں کے حصے آئی۔
علم کا دروازہ
علیؓ علم و حکمت کا ایک روشن چراغ تھے۔ قضا، فقہ، خطابت اور فہمِ قرآن میں انہیں خاص مقام حاصل تھا۔ حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر خلیفہ بھی مشکل مسائل میں ان سے رجوع کرتے۔ ان سے منسوب اقوال میں حکمت کے موتی ملتے ہیں، جیسے یہ کہ علم مال سے بہتر ہے، علم تیری حفاظت کرتا ہے اور مال کی تو حفاظت کرتا ہے۔
علم کی اصل خوبی یہ ہے کہ وہ انسان کو جھکاتا ہے۔ علیؓ کے ہاں علم کے ساتھ تواضع بھی تھی اور عمل بھی۔
(یاد رہے کہ ان کے نام سے منسوب بہت سے اقوال کی سند کے بارے میں اہلِ علم کے ہاں فرق ہے، اس لیے ان کے نقل میں احتیاط ضروری ہے۔)
فقر میں غنا
وہ شخص جس کے ہاتھ میں خلافت کی باگ آئی، اس کا دسترخوان مختصر اور لباس سادہ رہا۔ دنیا ان کے قدموں میں آ سکتی تھی، مگر انہوں نے اسے دل میں جگہ نہ دی۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل دولت دل کا سکون ہے۔ جس نے دنیا کو دل میں بٹھایا، وہ کبھی سیر نہ ہوا، اور جس نے اسے ہاتھ تک محدود رکھا، وہ آزاد رہا۔
نبی ﷺ کی لختِ جگر کے ساتھی
علیؓ کا نکاح سیدہ فاطمہ زہراءؓ سے ہوا، جو رسول اللہ ﷺ کی لاڈلی بیٹی تھیں۔ دونوں کا گھر سادگی کا نمونہ تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ چکی پیستے پیستے سیدہ فاطمہؓ کے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے اور علیؓ پانی بھرتے بھرتے تھک جاتے، مگر شکایت نہ ہوتی۔ جب انہوں نے خادم مانگنا چاہا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں تسبیحِ فاطمہ کی تعلیم دی۔ اس گھر نے امت کو حسنؓ و حسینؓ جیسے پھول دیے جو جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔
مسجد کی خاموشی میں
اس مسجد میں داخل ہوں تو دل ایک نرم سی خاموشی میں اتر جاتا ہے۔ یہاں دو رکعت پڑھتے ہوئے انسان کے اندر چند سوال خود بخود جاگ اٹھتے ہیں:
- کیا میرے علم نے مجھے جھکایا یا اکڑایا؟
- کیا میں حق کے لیے بہادر اور اپنی ذات کے لیے نرم ہوں؟
- کیا میں اپنے رب پر اتنا بھروسا رکھتا ہوں کہ خطرے میں بھی سکون سے سو سکوں؟
- کیا میں دنیا میں رہ کر بھی دنیا کا قیدی نہیں بنا؟
محراب کا آخری سجدہ
علیؓ کی زندگی کا اختتام بھی عبادت کے لمحے میں ہوا۔ رمضان کی ایک فجر میں، کوفہ کی مسجد میں، جب آپؓ سجدے میں تھے، ایک بدبخت نے زہر میں بجھی تلوار سے حملہ کیا۔ شدید زخمی حالت میں بھی آپؓ نے اپنے قاتل کے ساتھ انصاف کی وصیت فرمائی اور بچوں کو تقویٰ، صبر اور نماز کی نصیحت کی۔ جس کی زندگی سجدوں میں گزری، اس کا آخری وقت بھی سجدے کی گواہی بنا۔
ایک ضروری وضاحت
مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ اور مسجد قبا کی فضیلت میں صحیح احادیث وارد ہیں، جبکہ اس مسجد کی کسی خاص فضیلت کی مستند روایت معروف نہیں۔ لہٰذا اسے ایک تاریخی نسبت والا مقام سمجھ کر یہاں نماز اور دعا کی جائے اور کوئی ایسی رسم یا عقیدہ نہ جوڑا جائے جس کی شریعت میں اصل نہ ہو۔ حضرت علیؓ سے سچی محبت ان کی سیرت پر عمل میں ہے: علم کے ساتھ عاجزی، شجاعت کے ساتھ رحم، اور فقر کے ساتھ شکر۔
سبق جو ساتھ لے جانا ہے
- یقین: جان خطرے میں ہو تب بھی اللہ پر بھروسا سکون دیتا ہے۔
- محبت سے جنم لینے والی بہادری: حق کے لیے ڈٹ جانا، مگر غرور کے بغیر۔
- علم کے ساتھ عمل: علم وہی نافع ہے جو کردار میں اترے۔
- سادگی: سادہ زندگی میں بھی عظمت ہے۔
- گھر کی سادگی: محبت اور صبر سے بنا گھر ہی امت کو روشن نسلیں دیتا ہے۔
اختتامیہ
جب زائر مسجد سے رخصت ہوتا ہے تو شام کی سنہری روشنی مدینہ کے گنبدوں پر اتر رہی ہوتی ہے۔ دل میں ایک نرم سی روشنی ہے اور آنکھ میں ہلکی سی نمی۔ وہ سوچتا ہے کہ تاریخ کے ان عظیم کرداروں کے سامنے ہم کتنے چھوٹے ہیں، مگر ان کا راستہ آج بھی ہمارے لیے کھلا ہے۔
اے اللہ! ہمیں علیؓ جیسا علم کے ساتھ عجز، شجاعت کے ساتھ شفقت اور فقر کے ساتھ شکر عطا فرما۔ ہمیں اہلِ بیتِ اطہار اور تمام صحابہ کرامؓ کی سچی محبت نصیب فرما، اور قیامت کے دن ہمیں انہی کے ساتھ اٹھانا۔ آمین
#مسجد_علی #مدینہ_منورہ #علی_المرتضیٰ #سیرت_النبی #روحانیت
