مسجد قبلتین: جہاں نماز کے دوران قبلہ بدل گیا

تمہید

دنیا میں شاید ہی کوئی اور مسجد ہو جس کا نام ہی ایک انقلابی لمحے کی گواہی دیتا ہو۔ قبلتین یعنی "دو قبلوں والی”۔ یہ وہ مسجد ہے جہاں مسلمانوں نے ایک ہی نماز کا آدھا حصہ بیت المقدس کی طرف اور باقی کعبہ کی طرف رخ کر کے ادا کیا۔ اطاعت کی ایسی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔

محلِ وقوع

مسجد قبلتین مدینہ منورہ کے شمال مغرب میں، وادیٔ عقیق کے قریب، مسجد نبوی ﷺ سے تقریباً چار سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بلند مقام پر واقع ہے۔ قدیم زمانے میں یہ علاقہ بنو سلمہ کی آبادی تھا، اس لیے اسے "مسجد بنی سلمہ” بھی کہا جاتا ہے۔

ہجرت کے بعد کے ابتدائی دن

مدینہ ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ اور مسلمان تقریباً سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ مؤرخین کے ہاں مدت کے بارے میں سولہ سے سترہ ماہ کے اقوال ملتے ہیں۔ مگر نبی کریم ﷺ کے دل میں خواہش تھی کہ قبلہ ابراہیمی، یعنی کعبہ، کی طرف رخ ہو۔ آپ ﷺ بار بار آسمان کی طرف نظر اٹھاتے، گویا وحی کے منتظر ہوں۔

قرآن کا فیصلہ

اللہ تعالیٰ نے اس دلی خواہش کو قبول فرمایا:

"قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ”
"ہم آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف پھرنا دیکھ رہے ہیں، پس ہم آپ کو اسی قبلے کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں۔ پس اپنا رخ مسجدِ حرام کی طرف کر لیجیے۔” (سورۃ البقرہ: 144)

محبوب کی خواہش اور رب کی عنایت کا یہ منظر کتنا لطیف ہے! بندہ خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھتا ہے اور مالک اس نگاہ کو بھی سن لیتا ہے۔

وہ لمحہ جو تاریخ بن گیا

روایات کے مطابق یہ حکم نماز کے دوران نازل ہوا۔ مشہور قول کے مطابق نبی کریم ﷺ مسجد بنی سلمہ میں ظہر یا عصر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ دو رکعتیں بیت المقدس کی طرف پڑھی جا چکی تھیں کہ حکم آیا۔ آپ ﷺ نے نماز ہی میں رخ بدل لیا اور صحابہ کرامؓ نے بھی۔ صفیں پلٹ گئیں، مرد اور عورتوں کی جگہیں بدل گئیں، اور نماز بغیر کسی تردد کے مکمل ہوئی۔

اس واقعے کی بنیاد صحیح بخاری کی حدیث ہے جس میں براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی، پھر کعبہ کی طرف رخ کیا۔ اس مسجد کی خاص نسبت سے متعلق یہ روایت تاریخی ماخذ میں آئی ہے۔ مسجد قباء میں فجر کے وقت خبر پہنچنے اور نمازیوں کے رخ بدلنے کا واقعہ بھی صحیح بخاری میں ہے، اور یوں دونوں مقامات اس عظیم تبدیلی کے گواہ ہیں۔

اطاعت کا حسن

ذرا اس منظر کو دل کی آنکھ سے دیکھیے۔ ایک ایسی نماز جس کی نصف رکعتیں ایک سمت میں ہوئیں اور باقی دوسری سمت میں۔ نہ کسی نے پوچھا کہ پہلی رکعتوں کا کیا ہوگا، نہ کسی نے دلیل مانگی۔ حکم آیا اور رخ بدل گیا۔

یہی اسلام کی روح ہے: سمعنا و اطعنا، ہم نے سنا اور مان لیا۔ جب بندے کا دل مالک کی رضا میں ڈھل جائے تو سمتیں بدلنا بوجھ نہیں، اعزاز بن جاتا ہے۔

تحویلِ قبلہ کی حکمتیں

اس تبدیلی میں گہری حکمتیں پوشیدہ تھیں:

  • امتحانِ ایمان: قرآن نے فرمایا کہ ہم نے وہ قبلہ اس لیے مقرر کیا تھا تاکہ جان لیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ (البقرہ: 143)
  • امت کی شناخت: اس امت کو اپنا الگ قبلہ ملا، جو ابراہیمؑ و اسماعیلؑ کی یادگار ہے۔
  • وحدت کا مرکز: دنیا بھر کے مسلمان ایک مرکز کی طرف رخ کرتے ہیں، چاہے زبانیں اور رنگ مختلف ہوں۔
  • اعتماد کی آزمائش: منافقین اور یہود نے اعتراضات اٹھائے، مگر اہلِ ایمان ثابت قدم رہے۔

مسجد کی تعمیر و تجدید

ابتدا میں یہ ایک سادہ مسجد تھی۔ صدیوں میں اس کی مرمت اور تجدید ہوتی رہی۔ مؤرخین کے مطابق اسے مختلف ادوار میں سنوارا گیا، اور حالیہ دور میں سعودی حکومت نے اس کی جدید طرز پر تعمیرِ نو کی۔ نئی عمارت میں وسیع ہال، دو مینار اور دو گنبد ہیں، جو اس کی دو قبلوں والی نسبت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پرانی عمارت میں دو محرابیں تھیں، ایک بیت المقدس کی طرف اور ایک کعبہ کی طرف، جبکہ موجودہ تعمیر میں اصل محراب کعبہ کی سمت ہی ہے۔

روحانی کیفیت

مسجد میں داخل ہوں تو ایک عجب سا ٹھہراؤ طاری ہو جاتا ہے۔ یہاں کھڑے ہو کر انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہماری زندگی بھی ایک نماز ہے جس میں کبھی کبھی رخ بدلنا پڑتا ہے۔ کبھی خواہشات کا رخ، کبھی عادتوں کا، کبھی سوچ کا۔ اور کامیاب وہ ہے جو حکم آنے پر بلا تاخیر پلٹ جائے۔

یہاں دو رکعت پڑھتے ہوئے چند سوال دل میں اترتے ہیں:

  • کیا میں اپنی پسندیدہ سمت چھوڑ کر اللہ کی بتائی سمت کی طرف مڑنے کو تیار ہوں؟
  • کیا میری عبادت میں وہ آمادگی ہے جو صحابہؓ کی صفوں میں تھی؟
  • کیا میں اپنی روایتوں سے زیادہ وحی کو مقدم رکھتا ہوں؟
  • کیا میرے دل کا قبلہ ایک ہے، یا دنیا کی کئی سمتوں میں بٹا ہوا ہے؟

ایک ضروری وضاحت

مسجد قباء کی فضیلت کے بارے میں صحیح احادیث موجود ہیں، لیکن مسجد قبلتین میں نماز کی کسی خاص فضیلت کی کوئی مستند روایت معروف نہیں۔ اس لیے اسے ایک عظیم تاریخی مقام سمجھ کر یہاں نماز اور دعا کی جائے اور کوئی من گھڑت ثواب یا رسم اس کے ساتھ نہ جوڑی جائے۔ زیارت کا اصل مقصد اس واقعے سے اطاعت کا سبق لینا ہے۔

زائرین کے لیے آداب

  1. نیت کی درستی: مقصد سبق اور عبرت ہو، محض سیر نہ ہو۔
  2. نماز کا اہتمام: دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کریں اور دعا کریں۔
  3. نظم و ضبط: ہجوم میں دھکم پیل سے بچیں۔
  4. ادب: مسجد میں اونچی آواز اور غیر ضروری گفتگو سے پرہیز کریں۔
  5. غلو سے احتیاط: ستونوں یا دیواروں سے تبرک لینا درست نہیں۔

سبق جو ساتھ لے جانا ہے

  1. اطاعت: حکم آنے پر بلاتردد لبیک۔
  2. صبر: سولہ سترہ ماہ کا انتظار بھی عبادت کا حصہ تھا۔
  3. دعا کی قبولیت: نبی ﷺ کی خاموش نگاہوں کو بھی رب نے سنا۔
  4. وحدت: ایک قبلہ، ایک امت۔
  5. استقامت: اعتراضات کے شور میں بھی ایمان پر قائم رہنا۔

اختتامیہ

جب زائر مسجد سے نکلتا ہے تو غروب کی سنہری روشنی مدینہ کے افق کو بھر دیتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ چودہ صدیاں پہلے یہاں ایک جماعت نے نماز کے بیچ رخ بدلا تھا، اور آج دنیا کا ہر مسلمان اسی رخ کی طرف جھکتا ہے۔ اس ایک لمحے کی گونج آج بھی ہر سجدے میں سنائی دیتی ہے۔

اے اللہ! ہمارے دلوں کا قبلہ ایک کر دے، ہمیں اطاعتِ رسول ﷺ کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں اس امت میں شامل رکھ جو تیری رضا کی طرف رخ کیے رہتی ہے۔ آمین

#مسجد_قبلتین #مدینہ_منورہ #تحویل_قبلہ #سیرت_النبی #روحانیت

متعلقہ فتاویٰ