# مسجد جمعہ: جہاں اسلام کا پہلا جمعہ ادا ہوا
## تمہید
مسجد جمعہ: جہاں اسلام کا پہلا جمعہ ادا ہوا
کچھ لمحات تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو جاتے ہیں۔ ہجرت کے سفر میں، قباء سے مدینہ کی طرف روانگی کے دوران، ایک ایسا ہی لمحہ آیا جب رسول اللہ ﷺ نے وادیٔ رانوناء میں پہلا جمعہ ادا فرمایا۔ وہ مقام آج **مسجد جمعہ** کے نام سے معروف ہے۔
## محلِ وقوع مسجد جمعہ
مسجد قباء اور مسجد نبوی ﷺ کے درمیان، وادیٔ رانوناء میں واقع ہے۔ یہ مسجد قباء سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اسی نسبت سے اسے "مسجد الجمعہ” اور "مسجد الوادی” بھی کہا جاتا ہے، اور بعض کتب میں "مسجد بنی سالم” کا نام بھی ملتا ہے، کیونکہ یہاں بنی سالم بن عوف کی آبادی تھی۔
## پہلا جمعہ
سیرت کی کتب کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے قباء میں چند دن قیام کے بعد جمعہ کے دن مدینہ کی طرف سفر شروع کیا۔ بنی سالم کے محلے میں پہنچے تو جمعہ کا وقت ہو گیا۔ آپ ﷺ نے وادی کے بیچ نماز ادا فرمائی اور خطبہ ارشاد فرمایا۔ یہ مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد پہلا جمعہ تھا، اور مؤرخین اسے اسلام میں پہلا باقاعدہ جمعہ بتاتے ہیں۔ تفصیلات میں کتبِ سیرت کے مابین کچھ اختلاف بھی ملتا ہے، اس لیے اسے روایتِ سیرت کے طور پر بیان کرنا مناسب ہے۔ذرا سوچیے: ہجرت کی تھکن، دشمنوں کا خوف پیچھے رہ گیا ہے، آگے ایک نیا شہر منتظر ہے، اور رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اللہ کے حضور صف بستہ ہیں۔ عبادت میں وقت کی پابندی کا اس سے بہتر سبق کیا ہو سکتا ہے؟
## جمعہ کی عظمت
قرآن مجید میں ارشاد ہے:**”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ”***”اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔”* (سورۃ الجمعہ: 9)نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے، جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن آدمؑ پیدا کیے گئے، اسی دن جنت میں داخل ہوئے اور اسی دن وہاں سے نکالے گئے۔ (صحیح مسلم)جمعہ ہفتے کی عید ہے، جو مسلمانوں کو ایک صف میں جمع کرتی ہے، امیر و غریب کو ایک ساتھ کھڑا کرتی ہے اور دلوں کو اللہ کی یاد سے جوڑتی ہے۔
## مسجد کی روحانی فضا
اس مسجد میں داخل ہوں تو ایک عجیب سی اپنائیت محسوس ہوتی ہے۔ یہ نہ بہت بڑی ہے نہ پرشکوہ، مگر اس کے در و دیوار میں ایک ہجرت کرتے قافلے کی یاد بسی ہے۔ یہاں کھڑے ہو کر دل میں سوال اٹھتے ہیں:- کیا میں جمعہ کو محض ایک رسم سمجھتا ہوں یا واقعی اللہ کی طرف دوڑتا ہوں؟- کیا میں خطبہ دل لگا کر سنتا ہوں؟- کیا میں ہفتے بھر کی مصروفیات میں اللہ کے لیے ایک دن کا سکون نکالتا ہوں؟
## تعمیر
وقت کے ساتھ اس مقام پر مسجد تعمیر ہوئی اور مختلف ادوار میں اس کی تجدید ہوتی رہی۔ سعودی دور میں اس کی ازسرِنو تعمیر اور توسیع کی گئی۔ آج یہ ایک سادہ مگر خوبصورت مسجد ہے جو زائرین کے لیے کھلی رہتی ہے۔
## ایک ضروری وضاحت
مسجد قباء کی فضیلت میں صحیح احادیث موجود ہیں، لیکن مسجد جمعہ کی کسی خاص فضیلت کے بارے میں ایسی مستند روایت معروف نہیں۔ اسے ایک تاریخی نسبت والا مقام سمجھ کر یہاں نماز اور دعا کی جائے اور کوئی ایسی رسم یا عقیدہ نہ جوڑا جائے جس کی شریعت میں بنیاد نہ ہو۔ زیارت کا مقصد سیرتِ نبوی ﷺ سے سبق لینا ہے۔
## زائرین کے لیے آداب1
. **نیت درست رکھیں:** مقصد تاریخ سے سبق اور سنت کی یاد ہو۔2. **جمعہ کے آداب اپنائیں:** غسل، صاف لباس، خوشبو اور جلدی مسجد پہنچنا۔3. **سورۃ الکہف:** جمعہ کے دن اس کی تلاوت مستحب ہے۔4. **درود کی کثرت:** جمعہ کے دن نبی ﷺ پر درود بھیجنے کی خاص تاکید آئی ہے۔5. **غلو سے بچیں:** تبرک کے نام پر من گھڑت رسموں سے پرہیز کریں۔
## سبق جو ساتھ لے جانا ہے1. **وقت کی پابندی:** سفر کی مشقت میں
بھی نماز کو مقدم رکھا گیا۔2. **اجتماعیت:** جمعہ امت کو ایک لڑی میں پروتا ہے۔3. **ذکر کی طرف دوڑ:** دنیا کے کاروبار اللہ کی پکار پر رک جانے چاہئیں۔4. **نئی شروعات:** ہجرت کا ہر قدم نئی امید کی علامت ہے۔
## اختتامیہ
جب زائر مسجد سے نکلتا ہے تو وادی کی ہوا میں ایک ہلکی سی ٹھنڈک ہوتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ چودہ صدیاں پہلے اسی زمین پر اللہ کے رسول ﷺ نے پہلا جمعہ پڑھایا تھا، اور آج وہی نماز دنیا کے کروڑوں دلوں کو ہر ہفتے جوڑتی ہے۔اے اللہ! ہمیں جمعہ کی قدر کرنے والا بنا، ہمیں اپنی یاد میں دوڑنے کی توفیق دے، اور ہمارے دلوں کو اپنے حبیب ﷺ کی محبت سے منور فرما۔ آمین**#مسجد_جمعہ #مدینہ_منورہ #پہلا_جمعہ #سیرت_النبی #روحانیت***

