"ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لیے اعزاز "

ایک روایت کے دھارے سے الگ ہونے کی کوشش کرنا ،کچھ مختلف کرنے کا سوچنا ،عمومی رجحان سے ہٹ کر کام کرنا شاید کارگاہِ حیات کا سب سے مشکل ترین کام ہے ۔اِدھر آپ نے اقدام کیا ،اُدھر طنز کے نشتر چلے، یہاں آپ نے کوشش شروع کی، وہیں لفظی سنگ باری کا بھی آغاز ہوگیا لیکن اس شخصیت نے کبھی ان چیزوں کی پرواہ ہی نہیں کی ۔ایک قدم اٹھانا مشکل ہوتا ہے، دوسری بار سوچنا ہی کارِ دشوار لگتا ہے، دو دفعہ کی مخالفتوں کے طوفان سہہ کر تیسری بار تو ایسا کوئی خیال بھی لرزا کر رکھ دے لیکن اس نے عصری تعلیم، کلیۃ الشریعہ ،میڈیا ہاؤس ،بورڈ، یونیورسٹی، مختلف تفریقات کا خاتمہ اور نجانے کتنے ہی ایسے اقدام کیے اور بنا رکے، بنا مڑ کر دیکھے، بنا الجھے کرتا ہی چلا گیا ۔برا بھلا کہنا تو کچھ تھا ہی نہیں، ایسے ایسے رکیک الزامات ،طعن و تشنیع ،گالم گلوچ، تمسخر اور الزامات یعنی سطحیت کی ہر آخری حد کو عبور یوں کیا گیا کہ وہ حد بھی آخری نہ رہے ،لیکن وہ مسکرا کہ کہتا کہ میں سب کو اللہ کے لیےمعاف کرتا ہوں …… اور ہم اس کمالِ ضبط پر ششدر رہ جاتے۔اپنوں کی بیگانگی، جس عصری دنیا کو بھی اپنا کرنے کی فکر تھی، ان کا کسی حد تک گریز… نا مساعد حالات ،کتنے ہی مسائل لیکن وہ مسکرائے چلا جائے ،بڑھتا چلا جائے اور آج وہ عالم اسلام کو اپنے ہاں یکجا کرکے ایک بار پھر، ایک بار کچھ مختلف مسکرا رہاہے،اس مسکراہٹ میں طمانیت ہے، سکون ہے کسی سنگ میل کو عبور کرلینے کا احساسِ مسرت ہے ۔اور وہ مسکرا ہی نہیں رہا یہاں بھی بڑے، بلکہ بہت بڑے، انتہائی عظیم ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اسے بس اپنی نہیں "ہماری”…. "سب کی ،ہم سب کی” کامیابی کہتا ہے۔ سو پھر دنیا اس کا اعتراف کرتی ہے، وہ ایک دن کہتا ہے کہ میں ڈاکٹر نہیں ہوں تو ہزار سالہ علمی روایت رکھنے والی جامعہ کا رئیس سرعام کہتا ہے کہ : آپ ڈاکٹروں کے باپ ہیں، یعنی آپ کنگ میکر ہیں اور دوسرے روز اس براعظم کی یونیورسٹی جہاں اس کا جانا بھی کارِ دشوار ہے، وہاں کی Passion International University-USA-PIUSAD اسے ڈاکٹریت کی اعزازی سند عطاکر دیتی ہے، اس نوعیت کی سند جس کو بھی ملی، یہی دیکھا گیا کہ وہ سفر کرکے اس ادارے میں گیا، یہاں سند سفر کرکے شخصیت کے پاس چلی آئی کہ گویا سند کے لیے اعزاز ہے کہ وہ ہمارے مربی ،مرشد ،مشفق ،حضرت مفتی عبد الرحیم صاحب کو عطا ہورہی ہے۔یا شیخ! اللہ آپ کو، آپ کے مشن، ویژن، مقصد اور نیک نیت کو کامیاب رکھے ❤️🌸

متعلقہ فتاویٰ