استاذ جی حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالحلیم نعمانی رحمہ اللہ

نمونہ اسلاف ایک مردم ساز ہستی ————————————————————– رب العالمین نے رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو دنیا اور آخرت کی نعمتوں سے نوازنے کیلئے جو دین رحمت نازل فرمایا، اسکی حفاظت اور تبلیغ کیلئے اس امت میں سے ہر دور میں ایسی پاکیزہ ہستیوں کا انتخاب فرمایا جنہوں نے أسوہ ابراہیمی پر چلتے ہوئے اپنی عمریں اس دین الہی کی خدمت کیلئے فنا کردیں، جو شمع فروزاں کی طرح اپنی زندگی کو گھلا کر عالم بھر کیلئے روشنی کا سامان کرگئے. استاذ جی حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالحلیم نعمانی رحمہ اللہ کی ذات بھی ایسی ہی یگانہ روزگار ہستی تھی جو تشنگان علوم نبوت کیلئے صرف ساقی نہ تھی بلکہ آپ کا مطلوب مےخواران علم الہی کو ساقی بنا دینا تھا آپ صرف شمع محفل بن کر رہنے پر راضی نہ تھے بلکہ ہر راہ طلب کو راہنما بنا دینا چاہتے تھے. بلا شبہہ ایسی ہستیاں امت کا عظیم سرمایہ ہوتی ہیں انکا وجود پوری انسانیت کیلئے رحمت کا ذریعہ ہوتا ہے اور انکا جانا پوری امت کا اجتماعی نقصان ہوتا ہے. وما كان قيس هلكه هلك واحد ولكنه بنيان قوم تهدما. آپ کی زندگی کا ہر گوشہ ہی فیض رساں اور بصیرت افروز ہے تاہم اس مضمون میں حضرت الاستاذ کی زندگی کے صرف وہ مشاہدات بیان کرنا مقصود ہیں جن سے مجھے براہ راست استفادے کا موقع ملا ہے استاذ جی حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالحلیم نعمانی رحمہ اللہ کی زیارت سب سے پہلے سن ١٤١٤ ه میں مادر علمی جامعة العلوم الإسلامية علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی میں دوران امتحانات مسجد کے ہال میں ہوئی، میں اس وقت اعدادیہ دوم کا طالبعلم تھا اور حضرت کو اس سے پہلے مدرسہ میں نہیں دیکھا تھا چنانچہ حیران تھا کہ یہ کون بزرگ ہیں جو استاذ تو نہیں ہیں لیکن امتحان کے دوران روز آتے ہیں، ان کو استاذ نہ سمجھنے کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کے اسباق مجلس دعوت و تحقیق اسلامی کی عمارت میں واقع تخصص فی الحدیث کی درسگاہ میں ہوتے تھے بعد میں پتہ چلا کہ یہ بزرگ جامعہ کے سب سے بڑے درجے کے استاذ ہیں تو انکی عظمت کی دھاک دل میں بیٹھ گئی اور پھر جب بھی زیارت ہوتی دوڑ کر سلام کرتا اس طرح درجہ سادسہ تک وقت گذرا اور درجہ سادسہ کے سال تک استاذ جی سے اتنا تعلق قائم ہوگیا کہ وہ دن بھی آیا جب ہم چند طلبہ حضرت کے ساتھ گارڈن مکی مسجد کے باہر سے رات تقریبا 9 بجے ایک پرانی بس میں حیدرآباد کیلئے نکلے دوران سفر میں نے ہندوستان میں علم حدیث کی ابتداء کے بارے میں پوچھا تو حضرت نے تفصیل سے تقریبا پون گھنٹہ گفتگو فرمائی اور شیخ عبدالحق محدث دھلوی رحمہ اللہ کا درس مشارق الانوار (١) اور درس مشکات اور شاہ صاحب سے صحاح کا درس شروع ہونا بہت ہی پیار سے اور تفصیل سے بتایا رات آرام کے بعد حیدرآباد کے مضافات میں واقع پیر جھنڈو کے مقام پر پیر وھب اللہ راشدی (٢) صاحب کے کتب خانے میں گئے جہاں حضرت نے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا دس کتابوں کے اطراف کا نسخہ ” إتحاف المهرة بأطراف العشرة” (٣) دکھایا اور بتایا کہ دیکھو جو حافظ کے متعلق مشہور ہے کہ- وہ سیئ الخط تھے – ایسا ہی ہے. ( سرعت تحریر میں ایسا ہونا مستبعد نہیں مسودات میں نفس مضمون کی تقیید ملحوظ ہوتی ہے اور تبییض کے وقت تحریر واضح کرلی جاتی ہے) صرف بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا جا رہا تھا، اس وقت تک وہ نہیں چھپا تھا اب چھپ چکا ہے. حیدرآباد میں ہی شاہ ولی اللہ اکیڈمی جاکر علامہ غلام مصطفی قاسمی سندھی صاحب مرحوم متوفی سن ( ٤)شاگرد مولانا عبیداللہ سندھی صاحب مرحوم سے ملاقات اور اجازت حدیث بھی لی علامہ کی شائع کردہ اصول حدیث کی کتاب "إمعان النظر” گیارہویں صدی ہجری کے نامور سندھی عالم ” علامہ قاضی محمد اکرم نصرپوری متوفی…. کی تصنیف ہے جو حافظ ابن حجر عسقلاني رحمه الله کی مایہ ناز تصنیف "شرح نخبة الفكر” کی شرح ہے اور نہایت وقیع فوائد پر مشتمل ہے اور دوسری شائع کردہ کتاب "بھجة النظر” بھی مشہور سندھی عالم ابو الحسن السندی الصغیر متوفی….. کی تصنیف عمدہ فوائد پر مشتمل "شرح نخبة الفكر” کی ہی شرح ہے ہر دو کتابوں کا نسخہ ہم نے حاصل کیا مولانا قاسمی صاحب نے وہاں علامہ کشمیری رحمہ اللہ کا واقعہ بھی سنایا جب ایک طالبعلم نے اپنے کمرے میں اساتذہ کی دعوت کی تو آخر میں علامہ رحمہ اللہ نے مذاقا فرمایا جسکا مفہوم تقریبا یہ تھا کہ "وہ دعوت کیسی دعوت ہے جس میں چائے نہ ہو” ! حضرت سے باقاعدہ پڑھنے کی نسبت مجھے نہیں ملی” نخبة الفكر” کے چند دروس میں شرکت کا موقع البتہ ملا، آپ کا انداز دوران درس سوال جواب کے ذریعے ذہن کے دریچے کھولنے کا تھا "نخبہ” ہی کے درس میں جب یہ مقام آیا کہ – أصح الکتب بعد کتاب اللہ بخاری اور مسلم ہیں- تو اس پر بحث ہوئی آپ نے بتایا کہ یہ بات سب سے پہلے ابن الصلاح نے کہی ہے اور پھر یہ پوچھا کہ أصح ہونے کا معیار مصنف ہونا چاھئے یا روات؟ مزید فرمایا کہ! "اگر بخاری اور مسلم کے علاوہ کی کسی روایت کی سند میں ثقہ راوی ہوں تو وہ روایت ذیادہ قوی بھی ہو سکتی ہے”. یہ ایک مثال ہے حضرت کے انداز تربیت کی – آپ بتاتے تھے کہ ہر کتاب خریدنے کے قابل نہیں ہوتی بلکہ جن کتب کا حوالہ دیا جاسکے انہیں محفوظ رکھنا چاھئے – آپ کا یہ عجیب بصیرت افروز جملہ جو تحقیق کے طلبہ کیلئے مشعل راہ ہے ” حقیقت عقیدت سے بالا تر ہے” آپ کے تعصب سے پاک، عادلانہ مزاج اور آپکی حق پرستی و راست گوئی کا ایک پورا باب ہے. مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ مفتی اعظم ہند کی فتوی نویسی میں مہارت کے بہت معترف تھے چنانچہ انکے فتوی کو ” سہل ممتنع” فرماتے تھے اور انکا انداز اپنانے کی تلقین فرماتے تھے تاکہ فتوی عام فہم بھی ہو اور ہر اعتبار سے جامع مانع بھی ہو. آپ نے بتایا کہ فقیہ النفس متقدمین میں سے دو گذرے ہیں ایک ابن الہمام حنفی رحمہ اللہ ہیں ( دوسرا نام مجھے بھول گیا ہے راقم ) اور تیسرے حضرت گنگوہی رحمہ اللہ ہیں. سن….. میں جامعہ میں درس نظامی کی کتب کی تدریس سے متعلق ایک تربیتی اجلاس منعقد ہوا جس میں ایک صاحب نے تجویز پیش کی کہ امام محمد رحمہ اللہ کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت کردہ کتاب الآثار کی بجائے علامہ شوق نیموی رحمہ اللہ کی کتاب آثار السنن پڑھائی جائے! تو آپ نے نہایت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ : ” کہاں امام اعظم اور کہاں نیموی؟ آدمی کو سوچنا چاھئے کہ میں کیا بات کر رہا ہوں "!ایک مجلس میں آپ نے بتایا کہ ابن عیینہ عظیم محدث کا تعارف اور کوفہ میں درس بھی امام صاحب نے ہی شروع کروایا تھا جب انکو یہ کہا کہ” یا ابا محمد اجلس فحدث” تو لوگوں کو پتہ چلا کہ انکی کنیت ابو محمد بھی ہے. مسند امام اعظم کی تدریس ایک مدرسہ میں مجھ سے متعلق ہوئی تو بہت خوش ہوئے اور حسن سنبھلی رحمہ اللہ کے حاشیے کی بہت تعریف فرمائی اصول فقہ کی کتاب "نورالانوار” اور "حسامی” پڑھانے کا بتایا تو بہت خوش ہوئے اور پوچھا کہ کیسے پڑھاتے ہو؟ طالبعلموں سے کچھ پوچھتے بھی ہو یا اپنی تقریر کرکے آجاتے ہو؟ اور پوچھا کہ "حسامی” اور” نورالانوار” میں کیا فرق دیکھا؟ کون سی بہتر نظر آئی اور یہ تلقین فرمائی کہ طلبہ کو عملی طور سے اصول فقہ برتنے کی تربیت دو. اور یہ فرمایا کہ یہ تم نے بہت اچھا کیا کہ مولانا نعمانی سے سند لے لی (کیونکہ مولانا عبدالرشید نعمانی رحمہ اللہ مشکات سے نیچے درجے کے طالبعلموں کو سند نہیں دیتے تھے جنہوں نے حدیث نہیں پڑھی ہوتی تھی) لیکن میرے ساتھ اللہ کا کرم یہ ہوا کہ مشکات کے دو طالبعلم مولانا سے سند لینے گئے تو میں بھی انکے ہمراہ ہو گیا جب یہ بات سامنے آئی کہ میں نے مشکات نہیں پڑھی ہوئی تو حضرت نے اپنا معمول بتایا اس وقت جب ان دو ساتھیوں نے بھی سفارش کی تو حضرت نے یہ فرمایا کہ اگر آپ میری سند کی عبارت صحیح پڑھ لیں تو آپکو اہل سمجھوں گا. الحمد للہ میں نے پوری عبارت صحیح سنادی اس کے بعد مجھ سے مؤطا امام محمد کا” باب وقوت الصلوة” سنا جب وہ بھی سنایا تو یہ بھی پوچھا کہ کس کا مذھب ثابت ہو رہا ہے جب وہ بھی بتایا تب اجازت حدیث لکھ کر دی اور "کثر اللہ من امثالکم” فرمایا جو میرے لئے اس دنیائے علم کا سب سے بڑا اعزاز ہے- استاذ جی حضرت مولانا عبدالحلیم چشتی صاحب رحمہ اللہ سے قولا اجازت حدیث زمانہ طالبعلمی میں ہی مل چکی تھی تاہم بعد میں استاذ جی کی جب سند چھپی تو تحریرا بھی یہ متاع گراں مایہ حاصل ہوئی. فللہ الحمد. حضرت مدنی علیہ الرحمہ کا ذکر ہوتا تو آب دیدہ ہوجاتے فرمایا کہ : "طالب علم استاذ سے کتاب کے علاوہ بھی بہت کچھ سیکھتا ہے اور یہ بتایا کہ جب کتاب ختم ہوتی تو حضرت خاموشی سے دعا مانگتے اور اس دعا میں جس طالبعلم کیلئے جو مانگتے وہ ویسا بن جاتا تھا مزید فرمایا کہ بخاری شریف پڑھاتے وقت القسطلانی کی شرح” ارشاد الساری” سرخ جلد والی سامنے ہوتی تھی لیکن عبارت ایسی روانی سے پڑھتے تھے گویا متن سامنے ہے حالانکہ جاننے والے جانتے ہیں کہ شروحات حدیث میں شرح کے کئی کئی صفحات متن کے دو حصوں کے درمیان آجاتے ہیں، کئی گھنٹے درس ہوتا لیکن حضرت مدنی اسی ہیئت پر با ادب بیٹھے رہتے تھے اور ہر دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی آنے پر مکمل درود شریف پڑھتے تھے اور حدیث کی عبارت بھی اسی طرح تجوید سے پڑھتے تھے جیسے قرآن پڑھا جاتا ہے غنہ مد اخفاء اظہار استعلاء قلقلہ اور تمام صفات حروف کو ادا فرماتے” .( انتہی کلام شیخنا) آپ ہر فن کی بنیادی اور اولین کتب کے مطالعے کی تلقین فرماتے تھے تاکہ طالبعلم کو ہر مسئلے کی بنیاد معلوم ہوسکے اور اسکے سامنے یہ بات آئے کہ موجودہ حالت تک فن کن کن مراحل سے ہوکر پہنچا ہے؟ اس طرح آپ اپنے طالبعلم میں بصیرت و تعمق اور تبحر و توسع پیدا فرما دیتے تھے. نحو کے مشہور امام سیبویہ رحمہ اللہ کی "الکتاب” جو نحو کی امہات الکتب میں ہے اور 5 جلدوں میں ہے استاذ جی نے بتایا کہ وہ انہوں نے سبقا پڑھی تھی ایک دفعہ ہمارا محمدی شریف ضلع چنیوٹ پنجاب میں استاذ جی کے ساتھ مولانا نافع صاحب رحمہ اللہ (٥)، صاحب کتب نافعہ( جن میں سے سب سے مشہور "رحماء بینہم”( ٦)ہے کی ملاقات کیلئے جانا ہوا انہوں نے حلیة الأولياء ابو نعیم (٧)میں امام صاحب کا ذکر نہ ہونے کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ : حضرت! "ابو نعیم نے امام ابو حنیفہ کے ساتھ پیار محبت میں تو یہ کتاب لکھی نہیں ہے! اشارہ اس طرف تھا کہ متعصب کی رائے معتبر نہیں ہے مولانا نافع صاحب نے ایک سند کے متعلق پوچھا کہ احناف کی مستدل فلاں روایت کی سند میں جابر جعفی ہے جو شدید ضعیف ہے جواب دیا کہ : ” امام صاحب نے جن سے روایت کی ہے وہ سب ثقہ ہیں اور بعد والوں کے امام صاحب ذمہ دار نہیں ہیں . بتایا کہ میں نے حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ کو مدینہ شریف میں شدید گرمی میں قمیص اتارے ہوئے موم بتی کی روشنی تصنیف کرتے ہوئے دیکھا ہے اور یہ کہ جب حضرت شیخ سلام کیلئے روضہ پر حاضر ہوتے تو اتنا طویل قیام ہوتا کہ خدام تھک جاتے اور کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ جب جانے لگتا ہوں تو ارشاد ہوتا ہے کہ ابھی نہیں. اللہ اکبر! کیا مقام تھا حضرت شیخ کا.مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن صاحب رحمہ اللہ کے متعلق بتایا کہ وہ زمانہ طالبعلمی میں جے پور میں استاذ جی کے والد مولانا عبدالرحیم رحمہ اللہ کے گھر آتے جاتے تھے مولانا سالم قاسمی مرحوم مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند استاذ جی کے ہم درس تھے. فرمایا کہ : ” آج کل علمی تربیت کا فقدان ہے رجال سازی استاذ کا کام ہے”. اور آپ کے شاگرد جانتے ہیں کہ استاذ جی کی تمنا یہی ہوتی تھی کہ ان کے طالبعلم کام کا سلیقہ سیکھ جائیں. ایک دن ڈاکٹر محمود الطحان کی کتاب ” اصول التخریج و دراسة الاسانيد”( ١٠) میرے ہاتھ میں دیکھی تو بہت خوش ہوئے اور مطالعے کیلئے لے لی اور کوئی دن بتایا کہ اس دن آکر لے جانا میرے لئے اس سے بڑی سعادت اور کیا ہو سکتی تھی لیکن میں اس دن جاکر واپس لینا بھول گیا اگلے دن جب دو گھنٹوں کے بعد وقفہ ہوا تو ایک طالبعلم ساتھی نے بتایا کہ: ” حضرت چشتی صاحب مدظلہ آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں ” جلدی سے ان کی خدمت میں حاضری کیلئے گیا تو راستے میں ملے کتاب انکے ہاتھ میں ایک پلاسٹک کی تھیلی میں تھی اور فرمایا کہ میں آپ کا انتظار کرتا رہا اور آپ نہیں آئے. عمرے کیلئے جانا ہوا تو شیخ محمد محمد عوامہ (٨) دامت برکاتھم کو سلام بھیجا جب انکو سلام پہنچایا تو وہ استاذ جی کی محبت میں آبدیدہ ہو گئے. فیصل آباد دارالقرآن ختم بخاری کیلئے آتے تو ملاقات ہوتی اور جب تاخیر کرتا تو فون کرواتے اور بلواتے ایک دفعہ اپنے بھتیجے ڈاکٹر عبدالمقیت شاکر علیمی مرحوم کی کتاب اقبال اور حدیث ہدیہ کی اور اس کتاب کی تعریف بھی کی آپ کا انداز ہی ایسا ہوتا تھا کہ جس طالبعلم سے بات کرتے تو اسکو نافع بناتے اور اسکی استعداد کے مطابق اسکو کام پر ڈالتے( ٩) آپ فردا فردا بھی ہر طالبعلم کے حالات کا استفسار فرماتے تھے تلاوت کا خاص طور سے پوچھتے تھے کہ روزانہ معمول کتنے پاروں کا ہے اور کوتاہی کرنے والوں کو مشفقانہ ناصحانہ تنبیہ فرماتے تھے. آپ کی تصنیفات تحقیق اور ریسرچ کے طالبعلموں کیلئے بہترین نمونہ اور مشعل راہ ہیں اور آپکی محنت اور جانفشانی کا ثبوت ہیں جب میں نے آپکی تصنیف ” اسلامی کتب خانے” کے کئی ہزار حوالوں کے متعلق پوچھا کہ ” یہ ہزاروں حوالے آپ کو کیسے مل سکے”؟ تو اپنے مخصوص ظریفانہ لہجے میں فرمایا کہ : ” بہت آسانی سے مل گئے، میرے پاس ایک جن تھا وہ مجھے کتابیں کھول کھول کر دکھاتا تھا اور کہتا تھا کہ! عبدالحلیم یہ حوالہ نوٹ کر لو! یہ سن کر میں ہکا بکا رہ گیا تو ذرا توقف کے بعد پر جوش لہجے میں فرمایا کہ : "ارے میاں! کتابوں سے سر پھوڑا ہے” یہ منتشر باتیں اس جذبے سے لکھ دی ہیں کہ اس نابغہ روزگار ہستی سے نسبت مجھ ناکارہ کیلئے وسیلہ نجات آخرت بن جائے. رحمہ اللہ لقد کان خیر خلف لخیر سلف.

استاذ جی حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالحلیم نعمانی رحمہ اللہ

متعلقہ فتاویٰ