#پہلی بین الاقوامی سربراہی کانفرنس برائے یونیورسٹی چانسلرز، الغزالی یونیورسٹی کراچی، منعقدہ 11، 12 اکتوبر 2026ء11 اکتوبر بروز اتوار*
چانسلر الغزالی یونیورسٹی حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ*
تعلیمی ادارے کسی بھی معاشرے کے مستقبل کا آئینہ ہوتے ہیں۔تعلیمی اداروں کا نظام اور نصاب درست ہوگا تو اس کے نتائج بھی اچھے ہوں گے، لیکن اگر تعلیمی نظام خراب ہوگا تو اس کے اثرات تجارت، معاشرے، ریاست اور حکومت تک پہنچیں گے۔ معاشرے کو درپیش مشکلات، چیلنجز، ترقی کے مواقع اور مستقبل کے خطرات کا اندازہ تعلیمی نصاب کے جائزے سے لگایا جاسکتا ہے۔
🔴 عالمِ اسلام کے مسائل کے حل کی سب سے بنیادی جگہ تعلیمی ادارے ہیں۔ اس لیے اصلاح کا آغاز تعلیم اور تربیت سے ہونا چاہیے۔عالمِ اسلام کے بڑے مسائل میں بدانتظامی اور نظم و ضبط کی کمی ہے۔ اگر تعلیمی اداروں میں بچوں کو ابتدا ہی سے نظم و ضبط، وقت کی پابندی، صفائی ستھرائی اور ذمہ داری کا احساس سکھایا جائے توکرپشن، بدعنوانی، شدت پسندی اور خیانت جیسے مسائل کے خاتمے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔
🔴 عالمِ اسلام کی قدیم یونیورسٹیوں کے علمی و تعلیمی تجربات سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں جامعہ الازہر، جامعہ زیتونہ اور جامعہ اندلس سمیت انڈونیشیا، ملائیشیا اور برونائی کے تعلیمی اداروں کے تجربات کا جائزہ لیا جائے۔

🔴 میں چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں کہ جو تمام یونیورسٹیوں اور تمام تعلیمی اداروں کو پیش نظر رکھنی چاہئیں:1. نصاب تعلیم بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔عالمِ اسلام میں بدامنی، قتل و غارت، فرقہ واریت، دہشت گردی اور تباہی و بربادی جیسے مسائل کے حل کے لیے نصابِ تعلیم میں ریاست، حکومت اور اجتماعی نظم کے متعلق شرعی احکام شامل کرنا ضروری ہے۔ آج بہت سے نوجوان ریاست کے شرعی احکام سے ناواقف ہیں۔ اسی لیے وہ مختلف ممالک میں از خود ہتھیار اٹھاتے، مسلح کارروائیاں کرتے اور ریاست کے خلاف خروج کرتے ہیں۔ مسلح کارروائی کو محض اپنی مرضی سے جہاد قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے لیے شرعی احکام اور ریاست کی اجازت سے متعلق اصولوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ حکومت کی صریح اجازت، خفیہ اجازت یا ایسا معتبر قرینہ جسے اجازت سمجھا جاسکے، ضروری ہے۔ 2. جہاد کے موضوع کو محض عمومی گفتگو تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اس کے شرعی احکام کو باقاعدہ تعلیمی نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔- جہاد کی تعریف، شرعی احکام، فرائض،واجبات، سنن،مستحبات، وغیرہ کو نصاب میں شامل کیا جانا چاہی تاکہ طلبہ شرعی احکام سے واقف ہوں، ریاست کے نظام کو سمجھیں اور انفرادی طور پر قانون یا نظمِ اجتماعی کو اپنے ہاتھ میں لینے سے گریز کریں۔ 3. فرقہ واریت،طائفیت اور تعصب عالمِ اسلام کے بڑے داخلی مسائل ہیں۔ افغانستان، ایران، عراق، شام، لبنان اور یمن سمیت مختلف ممالک کی صورتِ حال سے واضح ہوتا ہے کہ فرقہ وارانہ اختلافات اور تعصبات نے مسلم معاشروں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔تعلیمی نصاب میں ایسی تعلیم شامل کی جائے جو طلبہ کو فرقہ وارانہ تعصب سے بچائے، باہمی اختلافات کو سمجھنے کا سلیقہ دے اور امت کے اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا سکھائے۔ 4. اگر کسی حکومت، ریاست یا معاشرے میں کوئی غلط کام ہورہا ہو تو کسی فرد کو یہ حق حاصل نہیں ہوجاتا کہ وہ خود قانون ہاتھ میں لے کر فیصلہ کرے یا طاقت استعمال کرے۔قانون کے نفاذ، جرائم کے فیصلے اور سزا دینے کا اختیار متعلقہ ریاستی اداروں اور عدالتوں کے دائرۂ کار میں آتا ہے۔ اگر کوئی ادارہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا تو اس کی جواب دہی ہونی چاہیے، لیکن اس بنیاد پر افراد کو خود قانون نافذ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔5. اقلیتوں کے حقوق، ان کے مسائل اور ان کے ساتھ معاملات کرنے کے شرعی اصولوں کو بھی نصابِ تعلیم کا اہم حصہ بنایا جائے۔اسلامی ممالک میں رہنے والی اقلیتوں کے حقوق، ان کے تحفظ اور ان کے ساتھ عدل و انصاف کے تقاضوں پر واضح تعلیم دی جائے، تاکہ طلبہ ان معاملات میں شرعی رہنمائی سے واقف ہوں۔*میڈیا رپورٹنگ ٹیم*
