پہلی بین الاقوامی سربراہی کانفرنس برائے یونیورسٹی چانسلرز ، الغزالی یونیورسٹی کراچی، منعقدہ 11، 12 اکتوبر 2026ء11 اکتوبر بروز اتوار*

جامعہ علوم اسلامیہ نائجیریا کے رئیس ڈاکٹر محمد محمود ابو ہاشم زید مجدہ

🔴 یونیورسٹیوں کے چانسلرز کی یہ عالمی سربراہی کانفرنس دراصل علم و معرفت کے حصول اور ان تعلیمی مناہج و طریقوں سے استفادے کی دعوت ہے، جنہوں نے ترقی یافتہ ممالک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

🔴 یورپ اور مغربی ممالک نے جو ترقی اور عالمی اثر و رسوخ حاصل کیا، اس میں اسلامی تہذیب کے فراہم کردہ علوم و فنون اور اقدار کا غیر معمولی کردار رہا ہے۔امت مسلمہ کے عروج و زوال کا تعلق بڑی حد تک علم و معرفت کے ساتھ اس کے رویے اور ترقی کے اسباب کو اختیار کرنے یا ان سے دوری اختیار کرنے سے ہے۔

علوم اسلامیہ نائجیریا کے رئیس ڈاکٹر محمد محمود ابو ہاشم زید مجدہم*

🔴آپ نے عالمِ اسلام میں علمی و معرفتی نشاۃِ ثانیہ کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ امتِ مسلمہ اپنی تہذیبی حیثیت کو دوبارہ حاصل کر سکے اور علم و تعاون کی مضبوط بنیادوں پر اپنا مستقبل تعمیر کر سکے۔آپ کا کہنا تھا کہ اس علمی و معرفتی احیا کے لیے یونیورسٹیوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اور ایک ایسا مربوط اور جامع تعلیمی نظام تشکیل دینا ضروری ہے، جو آنے والی نسلوں کی مؤثر تعلیم و تربیت اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو۔

🔴اس مقصد کے حصول کے لیے آپ نے دو بنیادی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا:1. تعلیمی نصاب میں ہم آہنگی اور یکسانیت پیدا کرنا۔ اس سے طلبہ کے لیے ایک یونیورسٹی سے دوسری یونیورسٹی میں منتقل ہونا آسان ہوگا اور تعلیمی اسناد کی باہمی قبولیت کو فروغ ملے گا۔2. یونیورسٹیز کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنا۔ یہ شراکت داریاں رسول اللہ ﷺ کے منہج، تعلیمات اور اصول و اقدار پر مبنی ہونی چاہییں، تاکہ معاصر چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے اور عالمِ اسلام کے لیے زیادہ مربوط، مستحکم اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔*میڈیا رپورٹنگ ٹیم*

متعلقہ فتاویٰ