مفتی طارق مسعود اور اہلحدیث مناظرہ

علمی مباحثے اور مسلکی مناظرے ہمارے معاشرے میں اکثر تلخی، الزام تراشی، بدکلامی اور فریقِ مخالف کی تذلیل پر ختم ہوتے ہیں، لیکن مفتی طارق مسعود (حنفی مکتبِ فکر) اور مولانا صدیق رضا (اہلِ حدیث مکتبِ فکر) کے مابین "ایک مجلس کی تین طلاقوں کی شرعی حیثیت” کے موضوع پر ہونے والی طویل علمی نشست نے ایک بالکل نئی اور قابلِ تقلید مثال قائم کی ہے۔

مفتی طارق مسعود اور اہلحدیث مناظرہ

اس چار گھنٹے سے زائد طویل مناظرے کا سب سے خوبصورت اور روشن پہلو اس کا اختتام تھا، جہاں دونوں علماء نے روایتی مناظروں کی فرسودہ روش توڑ کر بے مثال محبت، شائستگی، فراخدلی اور باہمی احترام کا مظاہرہ کیا۔ مناظرے کے اختتام پر نہ کوئی نعرے بازی ہوئی اور نہ ہی ایک دوسرے پر طعنہ زنی کی گئی، بلکہ مفتی طارق مسعود نے مولانا صدیق رضا کے حسنِ اخلاق، علمی سنجیدگی اور ضبط و تحمّل کی دل کھول کر تعریف کی اور انہیں کراچی میں اپنے ادارے جامعۃ الرشید کے دورے کی پرخلوص دعوت دی۔ دوسری جانب مولانا صدیق رضا نے بھی مفتی صاحب اور ان کے رفقا کی شاندار مہمان نوازی، پرسکون ماحول اور باوقار رویے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ دونوں فریقین نے مسکراتے چہروں کے ساتھ مصافحہ و معانقہ کیا اور ناظرین کو یہ تاریخی پیغام دیا کہ علمی و فقہی اختلافات اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں، مگر ان اختلافات کی بنیاد پر دلوں میں بغض پالنا، فتوے داغنا یا باہمی اخوت کو تار تار کرنا دین کی روح کے خلاف ہے۔ یہ خوشگوار اور پروقار منظر سوشل میڈیا اور دینی حلقوں کے لیے ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا۔


مناظرے کا پس منظر اور طے شدہ ضوابط

یہ نشست دونوں مکاتبِ فکر کے مابین ایک طے شدہ معاہدے اور تحریری قواعد کے تحت منعقد ہوئی۔ ناظمِ مجلس نے دونوں فریقین کے دستخط شدہ ضوابط پڑھ کر سنائے، جن کا مقصد گفتگو کو سنجیدہ، منظم اور بارآور بنانا تھا:

  • دونوں متکلمین کو اپنی بات اور دلائل پیش کرنے کے لیے یکے بعد دیگرے 10، 10 منٹ کے 9 سیشنز (کل 18 باریوں میں 180 منٹ) دیے گئے۔
  • اس کے بعد 5، 5 منٹ کے دو سیشنز اور آخر میں 3، 3 منٹ کے دو سیشنز رکھے گئے۔
  • ضابطے کے تحت اختتامی سیشنز میں کوئی فریق نئی دلیل پیش کرنے کا مجاز نہیں تھا، بلکہ صرف پیش کردہ دلائل کا خلاصہ اور ان کا دفاع ہی مقصود تھا۔
  • جب ایک متکلم گفتگو کر رہا ہو تو دوسرے کو لقمہ دینے، ٹوکنے یا طنز کرنے کی قطعی اجازت نہیں تھی۔
  • ہر دلیل کے ثبوت کے لیے اصل مطبوعہ کتاب یا اس کا مستند پی ڈی ایف صفحہ سامنے لانا لازم قرار دیا گیا۔
  • بحث کے اختتام پر کسی کی فتح یا شکست کا فیصلہ اسٹیج سے نہیں سنایا جائے گا، بلکہ دلائل کا وزن پرکھنے کا معاملہ ناظرین اور اہلِ علم پر چھوڑ دیا جائے گا۔

مفتی طارق مسعود کے دلائل اور احناف کا مؤقف

مفتی طارق مسعود نے جمہور فقہائے امت، ائمہ اربعہ اور مسلکِ احناف کے تاریخی مؤقف کی وکالت کی۔ ان کا بنیادی دعویٰ یہ تھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں، ایک ہی سانس میں یا ایک ہی لفظ سے تین طلاقیں دے ڈالے، تو اگرچہ ایسا کرنا سخت گناہ، شرعی طریقہ کار سے انحراف اور بدعتِ قبیحہ ہے، لیکن قضاءً اور دیانتاً تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، عورت اپنے شوہر پر قطعی حرام ہو جاتی ہے اور حلالۂ شرعی کے بغیر رجوع یا تجدیدِ نکاح کا کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔

1. قرآنی آیات سے استدلال:

  • مفتی صاحب نے سب سے پہلے سورۃ البقرہ کی آیت 229 اور 230 پیش کیں: "الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فإمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ” اور اس کے بعد "فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ”۔ مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ دو طلاقوں کے بعد معروف طریقے سے رکھنے یا چھوڑنے کا حق رہتا ہے، لیکن اگر شوہر نے تیسری طلاق بھی دے دی تو عورت اس پر حرام ہو جاتی ہے تاوقتیکہ وہ کسی اور سے نکاح نہ کر لے۔ قرآن نے یہ قید کہیں نہیں لگائی کہ تین طلاقیں الگ الگ طہر میں دی جائیں گی تبھی واقع ہوں گی، بلکہ حکمِ قرآنی عام اور مطلق ہے۔
  • سورۃ الطلاق کی ابتدائی آیات اور آیت "وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا” سے دلیل قائم کرتے ہوئے مفتی صاحب نے سنن ابی داؤد سے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی صریح تفسیر پیش کی۔ حضرت ابن عباسؓ کے پاس جب ایک شخص آیا جس نے اکٹھی تین طلاقیں دی تھیں، تو آپؓ نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: "تم میں سے کوئی حماقت پر سوار ہو کر تین طلاقیں دے ڈالتا ہے اور پھر ابن عباس ابن عباس پکارتا ہے! اللہ فرماتا ہے جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنائے گا، تم نے طلاق کے شرعی طریقے میں اللہ کا تقویٰ اختیار نہیں کیا، اس لیے تمہارے لیے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں اور تمہاری بیوی تم سے بائنہ ہو چکی ہے”۔ مفتی صاحب کا استدلال تھا کہ اگر تین طلاقیں ایک ہوتیں تو حضرت ابن عباسؓ اس کے لیے رجوع کا مخرج نکالتے، نہ کہ اسے ناامید کر کے عورت کو حرام قرار دیتے۔

2. مرفوع احادیثِ مبارکہ سے استدلال:

  • واقعۂ لعان (حدیثِ عویمر عجلانیؓ): صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفق علیہ روایت پیش کی گئی کہ حضرت عویمر عجلانیؓ نے جب اپنی بیوی سے لعان کا عمل مکمل کیا، تو نبی اکرم ﷺ کے کوئی فیصلہ سنانے سے پہلے ہی انہوں نے کہا: "یا رسول اللہ! اگر میں اب اسے رکھوں تو میں جھوٹا ہوں گا، میں نے اسے تین طلاقیں دیں”۔ مفتی صاحب نے نکتہ اٹھایا کہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں بیک وقت تین طلاقیں دی گئیں اور حضور ﷺ نے ان کے اس فعل کو لغو یا باطل قرار نہیں دیا، اور محدثین (جیسے امام نسائی اور امام بیہقی) نے اسی حدیث پر "ایک ساتھ تین طلاقیں واقع ہونے” کے ابواب قائم کیے۔
  • حدیثِ رفاعہ قرظیؓ: صحیح بخاری سے روایت پیش کی گئی کہ رفاعہ قرظیؓ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے کر جدا کر دیا۔ اس عورت نے عبدالرحمن بن زبیرؓ سے نکاح کیا اور پھر سابقہ شوہر کے پاس لوٹنے کا ارادہ ظاہر کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تک دوسرا شوہر تمہارا شہد نہ چکھ لے اور تم اس کا شہد نہ چکھ لو، تم پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتیں۔ مفتی صاحب کے مطابق حضور ﷺ نے یہ تفصیل نہیں پوچھی کہ رفاعہ نے تین طلاقیں الگ الگ دی تھیں یا اکٹھی۔
  • حدیثِ ابن عمرؓ اور حالتِ حیض کی طلاق: صحیح بخاری و مسلم سے ثابت کیا گیا کہ جب حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے اپنی زوجہ کو حیض کی حالت میں ایک طلاق دی، تو رسول اللہ ﷺ غضبناک ہوئے مگر اس کے باوجود وہ طلاق شرعاً شمار کی گئی۔ پھر حضرت ابن عمرؓ نے صراحت کی کہ اگر تم نے ایک یا دو دی ہوتیں تو رجوع کا حق تھا، لیکن اگر تم نے تین دی ہوتیں تو وہ تمہارے اوپر حرام ہو جاتی اور تم رب کے نافرمان ٹھہرتے۔ مفتی صاحب نے استدلال کیا کہ جس طرح گناہ اور خلافِ سنت ہونے کے باوجود حالتِ حیض کی طلاق واقع ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح اکٹھی تین طلاقیں بھی گناہ ہونے کے باوجود واقع ہو جاتی ہیں۔
  • حدیثِ محمود بن لبیدؓ: سنن نسائی کی روایت جس میں رسول اللہ ﷺ کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دی ہیں۔ آپ ﷺ سخت غضبناک ہو کر کھڑے ہوئے اور فرمایا: "کیا میری موجودگی میں کتاب اللہ کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے؟” یہاں تک کہ ایک صحابی نے عرض کیا کہ کیا میں اسے قتل نہ کر دوں؟ مفتی صاحب نے مؤقف اپنایا کہ آپ ﷺ کا شدید غصہ اس بات کی دلیل ہے کہ تینوں طلاقیں واقع ہو گئی تھیں اور اس کا گھر اجڑ چکا تھا؛ اگر وہ کلام محض ایک لغو بات ہوتی تو اس پر اس قدر شدید غضب کا اظہار نہ ہوتا۔

3. آثارِ صحابہ اور اجماع کا ثبوت:
مفتی طارق مسعود نے مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبد الرزاق سے 40 سے زائد روایات کے حوالے پیش کیے:

  • حضرت عمر فاروقؓ کا عمل کہ جو شخص اکٹھی تین طلاقیں دیتا، آپؓ اسے سزا کے طور پر کوڑے بھی لگاتے اور میاں بیوی کے درمیان تفریق بھی کروا دیتے۔
  • حضرت علی المرتضیٰؓ، حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے فتاویٰ کہ جب کسی سائل نے سو یا ہزار طلاقیں دیں تو انہوں نے فرمایا کہ تین سے بیوی حرام ہو گئی اور باقی تیرے ذمے گناہ رہا۔
  • حضرت عمران بن حصینؓ، حضرت مغیرہ بن شعبہؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ کے یکساں فتاویٰ کہ اکٹھی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں۔
  • مفتی صاحب نے ابن قدامہ (المغنی)، علامہ ابوبکر بن العربی مالکی اور علامہ ابن رجب حنبلی کے حوالے پیش کر کے دعویٰ کیا کہ چاروں ائمہ فقہ اور سلف صالحین کا اس بات پر اجماع رہا ہے، اور اسے ایک طلاق قرار دینا سلف کے متفقہ راستے سے انحراف ہے۔

مولانا صدیق رضا کے دلائل اور اہلِ حدیث کا مؤقف

مولانا صدیق رضا نے مسلکِ اہلِ حدیث کے مؤقف کی ترجمانی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شریعت میں طلاق کا مشروع اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ طہر کی حالت میں ایک طلاق دی جائے اور عدت کا انتظار کیا جائے؛ اگر کوئی شخص غصے یا نادانی میں ایک ہی مجلس میں تین بار طلاق بول دیتا ہے تو شرعاً وہ صرف ایک رجعی طلاق واقع ہوتی ہے، اور شوہر کو عدت کے دوران بغیر حلالہ رجوع کرنے کا پورا حق حاصل ہوتا ہے۔

1. صحیح مسلم کی صریح مرفوع حدیث سے استدلال:
مولانا صدیق رضا کا سب سے بنیادی اور مضبوط مدار صحیح مسلم (حدیث 3674) کی روایت پر تھا:

  • حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک زمانے میں، حضرت ابوبکر صدیقؓ کی پوری خلافت میں اور حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت کے ابتدائی دو یا تین سالوں تک، ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا۔
  • بعد ازاں جب حضرت عمر فاروقؓ نے دیکھا کہ لوگوں میں بے صبری بڑھ گئی ہے اور وہ جلد بازی کرنے لگے ہیں، تو انہوں نے لوگوں کو اس عمل سے روکنے کے لیے بطورِ تعزیر و سیاست تین طلاقوں کو تین نافذ کرنے کا فیصلہ فرمایا۔
  • مولانا صدیق رضا نے زبردست نکتہ اٹھایا کہ جب خود صاحبِ شریعت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے عہد اور خلیفۂ راشد اول کے دور میں تین طلاقیں ایک ہی قرار پاتی تھیں، تو کسی بھی امتی کے قیاس یا بعد کے اجتہاد کی بنیاد پر رسول اللہ ﷺ کے دور کے صریح حکم کو بدلا نہیں جا سکتا۔

2. حضرت رکانہ بن عبد یزیدؓ کا واقعہ:
مولانا نے مسند احمد، الاحادیث المختارہ للمقدسی اور سنن ابو داؤد سے حضرت رکانہؓ کی روایت پیش کی:

  • حضرت رکانہؓ نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دیں اور بعد میں سخت غمگین ہوئے۔ جب یہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں پیش ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا کہ تم نے کیسے طلاق دی؟ انہوں نے کہا کہ ایک ہی مجلس میں تین دی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے دو ٹوک ارشاد فرمایا: "تِلْكَ وَاحِدَةٌ، فَارْتَجِعْهَا” (وہ ایک ہی طلاق ہوئی ہے، جاؤ اور اپنی بیوی سے رجوع کر لو)۔
  • مولانا نے کہا کہ یہ حدیث نصِ قطعی ہے کہ جب حضور ﷺ کی عدالت میں اکٹھی تین طلاقوں کا مقدمہ آیا تو آپ ﷺ نے عورت کو حرام قرار دینے کے بجائے اسے ایک رجعی طلاق قرار دیا۔

3. بدعت کے بطلان کا شرعی اصول:

  • مولانا نے سنن نسائی کی حدیثِ محمود بن لبیدؓ کا دوسرا رخ پیش کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بیک وقت تین طلاقیں دینے کو "کتاب اللہ کے ساتھ کھیلنا” قرار دے کر غصہ فرمایا، تو جو چیز ناجائز، غیر شرعی اور بدعت ہو، وہ شریعت میں نافذ کیسے ہو سکتی ہے؟
  • انہوں نے صحیح مسلم کی مشہور حدیث پیش کی: "مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ” (جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں، وہ مردود اور باطل ہے)۔ جب اکٹھی تین طلاقیں بدعت ہیں تو وہ مردود ہوں گی، اور جو عمل مردود ہو وہ تین مغلظہ نہیں بن سکتا بلکہ اپنی اصل یعنی ایک طلاق پر ہی لوٹے گا۔

4. موقوف آثار اور فتاوائے صحابہ پر اصولی جرح:

  • مولانا صدیق رضا نے اصولِ حدیث کا مسلمہ قاعدہ پیش کیا کہ مرفوع حدیث (فرمانِ رسول) کے مقابلے میں موقوف اثر (قولِ صحابی) حجت نہیں بن سکتا۔
  • انہوں نے مفتی طارق مسعود کو مخاطب کر کے کہا کہ احناف خود درجنوں مسائل میں کبار صحابہ کے فتاویٰ کو قبول نہیں کرتے۔ مثلاً:
  1. حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے نزدیک نکاح سے پہلے کی معلق طلاق باطل ہے، جبکہ احناف کے ہاں واقع ہو جاتی ہے۔
  2. حضرت ابن عباسؓ کے نزدیک بیوی کو "تو مجھ پر حرام ہے” کہنا محض قسم ہے، جبکہ احناف کے ہاں طلاقِ بائن بن جاتی ہے۔
  3. خلع والی عورت کی عدت ابن عباسؓ کے نزدیک ایک حیض ہے، جبکہ احناف کے ہاں تین حیض ہے۔
  4. حالتِ احرام میں نکاح کے حوالے سے حضرت عمر فاروقؓ کا عمل کہ انہوں نے نکاح توڑ دیا، جبکہ احناف کے ہاں احرام میں نکاح درست ہے۔
  • مولانا نے دلیل دی کہ جب احناف خود اصولاً اقوالِ صحابہ کو اپنے ائمہ کے قیاس کے مقابلے میں چھوڑ دیتے ہیں، تو یہاں صحیح مسلم کی صریح مرفوع حدیث کو چھوڑ کر آثارِ صحابہ کی کثرت پیش کرنا دوہرا معیار ہے۔

دونوں فریقین کے مابین رد و قدح اور علمی مناقشات

مناظرے کے مختلف راؤنڈز میں دونوں علماء نے ایک دوسرے کے استدلال پر تکنیکی اور علمی جرح کی:

1. حدیثِ رکانہؓ کی سند پر بحث:
مفتی طارق مسعود نے مولانا صدیق رضا کی پیش کردہ حدیثِ رکانہؓ پر شدید جرح کی اور اسماء الرجال کے حوالے دیے کہ اس کی سند میں محمد بن اسحاق موجود ہیں، جو احکام میں متفرد ہوں تو امام احمد بن حنبل اور دیگر ائمہ کے نزدیک ضعیف ہیں۔ سند میں داؤد بن الحصین عن عکرمہ کا طریق ہے، جس کے بارے میں ابن حجر اور امام ابو داؤد نے تصریح کی ہے کہ داؤد جب عکرمہ سے روایت کریں تو منکر ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ کتاب الام للشافعی میں اس واقعے کے الفاظ "طلاقِ بتہ” کے ہیں، جس میں آپ ﷺ نے نیت پر قسم اٹھوائی تھی، نہ کہ تین صریح طلاقوں پر۔
اس کے جواب میں مولانا صدیق رضا نے فتح الباری اور دیگر کتب سے ثابت کیا کہ محمد بن اسحاق صحیح مسلم کے بھی راوی ہیں، محدثین نے ان کی توثیق کی ہے، اور خود حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس حدیث کی سند کو قوی قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ نص ہے جس میں تاویل کی گنجائش نہیں۔

2. حضرت عمر فاروقؓ کے فیصلے کی تفہیم:
مولانا صدیق رضا نے فقہِ حنفی کی معتبر کتب (مجمع الانہر، درِ مختار، حاشیہ طحطاوی) کے حوالے دکھائے کہ خود حنفی فقہاء نے مانا ہے کہ حضرت عمرؓ کا فیصلہ ایک وقتی، سیاسی اور تعزیری فیصلہ تھا تاکہ لوگ گناہ سے رک جائیں۔
مفتی طارق مسعود نے جوابی نکتہ اٹھایا کہ حلال و حرام کے قطعی فیصلے سیاست یا تعزیر کے تحت تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔ اگر رسول اللہ ﷺ کے دور میں وہ عورت حلال تھی، تو حضرت عمرؓ کسی حلال عورت کو شوہر پر قطعی حرام کیسے کر سکتے تھے؟ اور اگر یہ محض وقتی سیاسی فیصلہ تھا تو حضرت علیؓ، حضرت ابن مسعودؓ اور خود حضرت عمرؓ کے بیٹے عبداللہ بن عمرؓ اپنے انفرادی فتاویٰ میں لوگوں کی بیویوں کو حرام کیوں قرار دیتے رہے؟ مفتی صاحب کے مطابق حضرت عمرؓ نے کوئی نیا دین جاری نہیں کیا بلکہ قرآن کی اصل منشا کو نافذ کیا۔

3. واقعۂ لعان کی تاویل:
مولانا صدیق رضا نے کہا کہ حضرت عویمرؓ کا واقعہ لعان کا تھا، اور لعان میں میاں بیوی کی تفریق طلاق کے بغیر ہی خود بخود ہو جاتی ہے، اس لیے وہاں طلاق کا محل ہی نہیں تھا اور اس سے عام حالات میں طلاقِ ثلاثہ کے نفاذ پر استدلال درست نہیں۔
مفتی صاحب نے جواب دیا کہ اگر بیک وقت تین طلاقیں دینا باطل اور لغو ہوتا تو صحابی کے منہ سے یہ الفاظ سن کر رسول اللہ ﷺ ضرور تنبیہ فرماتے کہ تمہارا یہ کہنا بے معنی ہے، لیکن حضور ﷺ کا سکوت اور نکاح کا ختم ہونا اس کے نفاذ کی واضح دلیل ہے۔


مناظرے کا حاصل اور فکری جائزہ

اس طویل اور سیر حاصل گفتگو کے بعد اگر دونوں مؤقفات کا سنجیدہ تجزیہ کیا جائے تو حقیقت یہ کھل کر سامنے آتی ہے کہ دونوں فریقین کے پاس اپنے اپنے مسلک کی تائید میں وزنی اور ٹھوس دلائل موجود ہیں:

  • مفتی طارق مسعود اور احناف کا نقطۂ نظر: یہ مؤقف نصوص کے ظاہری عموم، آثارِ صحابہ کے جمِ غفیر، تعاملِ امت اور چاروں فقہی مذاہب کے تاریخی تسلسل پر مبنی ہے۔ ان کے نزدیک جب انسان کو طلاق کا اختیار دیا گیا ہے، تو اگر وہ اس اختیار کا غلط اور ظالمانہ استعمال کرتے ہوئے بیک وقت تینوں طلاقیں جھونک دے گا، تو اس کے بولے ہوئے الفاظ کا بوجھ اسی پر ڈالا جائے گا اور اس کی بیوی اس پر قطعی حرام ہو جائے گی تاکہ لوگ طلاق جیسے نازک معاملے کو کھلونا نہ بنائیں۔
  • مولانا صدیق رضا اور اہلِ حدیث کا نقطۂ نظر: یہ مؤقف رسول اللہ ﷺ کے مبارک عہد کے صریح تعامل، صحیح مسلم کی حدیثِ ابن عباسؓ، حدیثِ رکانہؓ اور روحِ شریعت پر مبنی ہے۔ ان کے نزدیک شریعت نے طلاق کا ایک فطری اور تدریجی راستہ دیا ہے، اور جب ایک مجلس میں تین طلاقیں دینا خود نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق بدعت اور کتاب اللہ کے ساتھ کھیل ہے، تو کسی بدعت اور ناجائز کام کو نافذ کر کے ہنستے بستے گھروں کو اجاڑنے اور حلالہ جیسی خرابیوں کی راہ ہموار کرنے کے بجائے اصل نبوی فیصلے کی طرف لوٹنا چاہیے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوں۔

یہ مناظرہ کسی ایک فریق کی مکمل فتح یا دوسرے کی شکست کا میدان بننے کے بجائے اس بات کا شاندار مظہر بن گیا کہ امت کے اندر فقہی اجتہادات کا تنوع کس قدر وسیع ہے۔ دونوں علماء نے ثابت کیا کہ اپنے مسلک کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے بھی دلائل کی زبان شائستہ رکھی جا سکتی ہے، چہروں پر مسکراہٹ سجائی جا سکتی ہے اور اختتام پر گلے مل کر امت کو محبت، اتحاد اور وسعتِ ظرفی کا درس دیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ فتاویٰ