غزہ میں بچے مر رہے ہیں ،اگر خدا ہے اور قادرِ مطلق ہے تو اس ظلم کو روکتا کیوں نہیں ؟

الجواب بتوفیق اللّٰہ تعالیٰ ✨

اس سوال کے جواب میں بندے نے پہلے ہی عرض کیا تھا جب مفتی شمائل ندوی صاحب اور جاوید اختر کے درمیان Does god Exist کے عنوان پر مناظرہ ہوا تھا۔

جاوید اختر بار بار غزہ کے معصوم بچوں کے قتل عام کو لیکر یہ سوال کر رہا تھا کہ اگر خدا ہے تو اسے روکتا کیوں نہیں ؟

پہلے یہ بات قابلِ غور و التفات ہے کہ کیا یہ مذکورہ دلیل جس کا تعلق معاشرتی اور اخلاقی اقدار سے ہے یہ وجود خدا کے عدم ( عدمِ وجود) پر دلیل بن بھی سکتی ہے یا صرف ایک جذباتی نعرہ ہے؟

ملحدین اور دہریے وجودِ باری تعالیٰ پر جب بات کرتے ہیں تو وہ مسئلہ خیر و شر کو اپنا بنیادی مقدمہ بناتے ہیں اور شر کے وجود سے دلائل دینے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ اہل ایمان کا منبع ہمیشہ یہ رہا ہے کہ سب سے پہلے وجود واجب بالذات کو عقلی و برہانی دلائل کے ساتھ ثابت کیا جائے چاہے وہ برہانِ امکان و وجوب ہو، برہانِ حدوث عالم ہو، دلیل غایت ہو یا فطرتِ انسانی کی شہادت۔ ایک بار جب یہ بات دلیل و برہان کے ذریعے طے ہو جاتی ہے کہ کائنات حادث اور محتاج ہے، اور اس کے پیچھے ایک واجب الوجود، قادرِ مطلق خالق ہے، تبھی اس کی صفات، افعال اور حکمتوں پر گفتگو کا دروازہ کھلتا ہے اور یہی منطقی ترتیب ہے کہ پہلے آپ وجود پر بات کریں پھر صفات پر پھر افعال پر۔

لیکن جدید الحاد کی روایت جو زیادہ تر مغربی فلسفے کے مخصوص تناظرات سے نکلی ہے اس ترتیب کو سرے سے بدل دیتی ہے۔ وہ براہ راست "مسئلہ شر ” کو اٹھاتا ہے، دنیا میں دکھ، ظلم ، بیماری اور ناانصافی کیوں ہے؟ اور پھر اسی سوال کو بنیاد بنا کر خدا کے وجود کو مشکوک یا منکر کر دیتا ہے۔ یوں گویا اصل کے بجائے فرع کو مقدّم کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اہل ایمان دفاعی پوزیشن میں آ جاتے ہیں اور اہل ایمان خدا کے فعل کی حکمتوں کو بیان کرنا شروع کرتے ہیں حالانکہ کسی کے فعل میں پائے جانے والی حکمت کا اقرار یا انکار وجود کی تسلیم کے بعد ہو گا۔ اس طرح بحث خدا کے وجود کے بنیادی دلائل پر قائم ہونے کے بجائے ایک ثانوی اور اخلاقی سوال کے گرد گھومنے لگتی ہے۔

یہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلامی کلامی روایت میں کبھی بھی "مسئلہ شر” کو بذاتہ خدا کے ہونے یا نہ ہونے کے بنیادی دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ متکلمین نے وجودِ باری تعالیٰ کو ہمیشہ عقلی اور وجودی براھین سے ثابت کیا اور پھر اس کے بعد شر کے مسئلے کو حکمت، ابتلاء اور عدل الٰہی کے ذیل میں بیان کیا۔

اگر کوئی شخص شر کو نقطۂ آغاز بناتا ہے تو اسے ہم "مغالطہ ترتیب”قرار دیتے ہیں، کیونکہ شر بذاتِ خود وجودِ خدا کی نفی پر منطقی دلیل نہیں بلکہ بنیادی مقدمہ طے ہونے کے بعد کا ایک سوال ہے جس کا جواب صفاتِ الٰہی کی روشنی میں دیا جائے گا۔ اس لیے مسئلہ شر کو وجودِ خدا کی نفی کے لیے نقطۂ آغاز بنانا منطقی ترتیب پر محل نظر ہے، کیونکہ یہ بحث وجودیات (metaphysics) کی تقدُّمیت کو اخلاقیات جزویہ پر الٹ دیتی ہے۔ وجودِ واجب کی بحث علت و معلول کے عام اصول، امکان و وجوب، اور حدوث عالم کے بُرہانی دلائل پر قائم ہے، ان دلائل کا مدعا یہ ہے کہ ممکنات محض اور حوادث زمانی کو خارج از خود ایک واجب الوجود در کار ہے۔ اس مدعا سے شر کے تجربے کی نفی یا اثبات کی کوئی منطقی ترتیب نہیں نکلتی، کیونکہ شر ایک اخلاقی وغایتی مسئلہ ہے جبکہ وجود واجب ایک ما قبل اخلاق (pre-moral) وجودی حقیقت ہے۔ پس ترتیب صحیح یہ ہے کہ اولاً وجود واجب بالبرہان ثابت ہو، پھر صفات و افعالِ الہی کی تفہیم میں شر کے مقام پر گفتگو ہو، آغاز ہی میں شر کو بنیاد بنانا "تقدُّمِ فرع بر اصل” ہے جو لوجکلی fallacy ہے۔

مسئلہ شر کی کلاسیکی صورت منطقی سطح پر ایک متناقض قضیہ دکھانے کی کوشش کرتی ہے (۱) خدا علیم، قدیر اور خیر مطلق یا قادرِ مطلق ہے ہے(۲) شر موجود ہے لہٰذا (۳) خدا موجود نہیں۔ اس استدلال میں ایک مخفی مقدمہ پہلے سے شامل ہے(۱) خیر مطلق یا قادرِ مطلق کا وجود کے لئے شر کا دور کرنا لازم ہے جسے وہ قدرتاً دور کر سکتا ہو۔

نزاع دراصل اسی مخفی مقدمہ پر ہے، نہ کہ (۱) یا (۲) پر۔ متکلمین اہل سنت کے نزدیک قدرت الہی کا تعلق ممکنات سے ہوتا ہے اور اس پر کوئی خاص فعل کرنا (کسی کام کو انجام دینا ) واجب نہیں، کس فعل کا ظہور ہو گا اور کس کا نہیں یہ اس کے ارادہ پر مبنی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہ افعالِ الٰہیہ حکمت سے خالی نہیں ہوتے لیکن "حکمت” کو انسانی توقعات اور جزوی معلومات پر قائم کرنا مغالطہ عدم علم (no-seeum) ہے کہ ” ہمیں کوئی وجہ( حکمت ) نظر نہیں آئی لہذا کوئی وجہ( حکمت ) ہے ہی نہیں”۔ اس لیے منطقی تضاد تبھی پیدا ہو گا جب یہ دعویٰ بھی برہاناً ثابت کیا جائے کہ خدا پر ہر شر کو دور کرنا واجب ہو اور عالم میں جو بھی دکھائی دینے والا شر ہے وہ تماماً بلا وجہ اور بلا حکمت ہے، جبکہ یہ کلیہ انسان کے محدود علم سے ماورا ایک دعویٰ ہے اور بذات خود غیر برہانی ہے ۔

جاوید اختر کے اس اعتراض کے، جس کا تعلق منطقی طور پر اس عنوان سے ہی نہیں، جواب میں مفتی شمائل صاحب نے انسان کی اختیار( free well ) کے غلط استعمال اور ان بے گناہ شہداء اور بچوں کو آخرت میں اجر ملنے کے ساتھ وضاحت کی، لیکن مجھے لگتا ہے کہ اگر وہاں شمائل صاحب یہ نقطہ پیش کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا کہ” ایک طرف جو بچے ظلم سے قتل ہو رہے ہیں جو انسان کی اختیار کے غلط استعمال کی وجہ سے ہے، اس پر یہ سوال ہی احمقانہ سوال ہے کہ خدا اسے روکتا کیوں نہیں ؟ کیونکہ جب آپ نے انسان کے لیے اختیار ثابت کیا تو اس اختیار کو آپ خدا کے روکنے سے کیوں سلب کر رہے ہیں ؟ یا تو یہ کہوں کہ انسان کو اختیار ہی حاصل نہیں، جس کے آپ بھی قائل ہے کہ اختیار حاصل ہے۔ تو یا آپ انسان سے اختیار free well کی نفی کر دو اور اسے بس ایک مشین ثابت کر دوں، جس کے لئے یقیناً آپ تیار نہیں ۔

اور دوسری طرف جو ظالم ہیں، جس کے آپ اقرار کر رہے ہیں تو ظالم کو سزا ملنی چاہیے یا نہیں ؟ اگر ہاں تو کیسے؟ دنیا میں تو اسے سوپر پاور ملک سپورٹ کر رہے ہیں، تو سزا کون دیں گا ؟
تو جب دنیا میں ظالم کو سزا نہیں ملتی تو عقل یہ تقاضا کر رہی ہے کہ ایک نظام، اور قانون ایسا ہونا چاہیے جس میں ظالم کو ظلم کی سزا ملے اور مظلوم پر کئے گئے ظلم کے بدلے اسے اجر و جزا مل سکے، یہ نظام و قانون وہ ہے جس کو خدا نے مخلوق کے لئے بنایا ہے دنیا میں بھی، جس کا نفاذ آپ اور ہم انسان ہی نہیں کر رہے ہیں، اپنی ہی کوتاہیوں کا قصور وار خالق کو ٹھہرا رہے ہیں جس کام کے لئے ہمیں خالق نے قانون دی ہدایت دی آج اپنی ہی کوتاہیوں کی وجہ سے اس پر عمل نہ ہونے کی صورت میں یہ حالات ہمارے اوپر آرہے ہیں اور ہم نادان انسان پھر سے اسے خدا کی طرف منسوب کر کے اسے اس ظلم کا الزام دیں رہے ہیں جس کے روکنے کے لئے اس نے ہمیں بھیجا تھا۔

اصل قصور ہم اور آپ انسانوں کا ہے مگر اپنی نالائقی اور کوتاہی کو چپانے کے لئے اس کا الزام خالق کو دیں رہے ہیں اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے، اور آخرت میں بھی اس قانون کے مطابق قیامت کے دن اس کا فیصلہ ہوگا۔

خلاصہ یہ کہ ظلم انسان کرتا ہے، خدا نہیں جیسے چھری بنانے والا مجرم نہیں ہوتا بلکہ اس سے کسی کو قتل کرنے والہ قاتل مجرم ہوتا ہے، اسی طرح اختیار دینے والا ظالم نہیں ہوتا بلکہ اس اختیار کو غلط استعمال کرنے والہ ظالم ہوتا ہے ۔

مثلاً اگر خدا فوراً سب کو روک دے تو پھر انسان آزاد نہیں رہے گا، اور جب انسان سے اختیار لی جائے تو نہ جرم ہوگا، نہ سزا، نہ امتحان، نہ انصاف کی ضرورت پھر دنیا روبوٹوں کی جگہ بن جائے گی۔ اسلام ہمیں بتاتی ہے کہ ظالم کو مہلت تو دی جاتی ہے، مگر چھوٹ نہیں۔

اگر خدا نہ ہوتا تو پھریہ کہنا ہی بے معنی ہو جاتا کہ "یہ ظلم ہے”، کیونکہ الحاد میں اچھا اور برا محض اتفاق ہے، پھر بچے کا مرنا اور بچ جانا دونوں برابر ہوتے۔

اس بالا تفصیل میں احکامِ الٰہی کے حکمت و مصلحت پر مشتمل ہونے کو بھی واضح کیا گیا البتہ یہاں آسان انداز میں مزید وضاحت عرض کر دیتا ہوں ۔

اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی سوال کیا جاتا ہے” اگر للہ تعالیٰ کے ہر کام میں حکمت ہے، غزہ کے بچوں کے مرنے میں کیا حکمت ہے؟

الجواب:
اس سوال کے جواب میں ایک اصول کا ذکر کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ "اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر کام اور واقعہ میں حکمت ہوتی ہے لیکن اس حکمت کے بارے میں ہمیں معلوم ہونا ضروری نہیں "۔

یہ اصول شاہ صاحب نے احکامِ اسلام میں حکمت اور مصلحت کے متعلق ” حجّۃ اللّہ البالغۃ” میں ذکر فرمایا ہے۔

یہ اصول ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہر کام میں اور واقعہ میں حکمتِ خدا وندی شامل ہوتی ہیں لیکن ہر حکمت کے بارے میں ہمیں معلوم ہونا ضروری نہیں۔ یعنی ہم کسی کام کو اس وقت تک اچھا بُرا کہہ سکیں گے جب اس کی حکمت اور مصلحت کا ہمیں علم ہو، یہ درست نہیں ۔ کیونکہ "کسی چیز کے بارے میں علم کا نہ ہونا اس چیز کے وجود کی نفی کی دلیل نہیں ہوتی”۔

یہاں بھی غزہ کے بچوں کی شہادت میں حکمتِ خداوندی موجود ہے لیکن ہمیں معلوم نہیں ، اور کسی چیز کے بارے میں علم کا نہ ہونا اس چیز کے وجود کی نفی کی دلیل نہیں ہوتی۔

لہٰذا یہ کہنا ہی غلط ہے کہ غزہ میں بچوں کے قتل ہونے میں کوئی حکمت نظر نہیں آرہی ہے لہذا اس میں کوئی حکمت نہیں۔

بظاھر تو اس حالت میں ایک حکمت یہ ہے کہ خدا امتِ مسلمہ کا امتحان لے رہا ہے اور یہ ظلم ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے ہے کہ غزہ میں عورتوں بے گناہ شہریوں اور معصوم بچوں کی بے گناہ قتلِ عام کو دیکھ کر مسلمان کیا کرتے ہیں، بے حس رہتے ہیں یا حق کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں؟ اور دشمن کے مقابلے کے لئے نکل آتے ہیں یا نہیں؟

اس کے علاوہ بھی کئی حکمتیں ہو سکتی ہیں جیسا کہ معصوم بے گناہ بچوں کے لیے آخرت میں اس ظلم کے بدلے اجر عظیم عطا کیا جائے گا اسی طرح یہ بچے جو بچپن میں مر جائے وہ اپنے والدین کے لئے مغفرت کے سبب بنتے ہیں وغیرہ ۔

✒️ محمد شریف شانگلوی

متعلقہ فتاویٰ