🌹سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ؛ تاریخِ اسلام کا ایک فراموش کردہ عظیم کردار!🌹
تاریخِ اسلام میں بعض ایسی عظیم شخصیات ہیں جن کی زندگیاں جرأت، استقامت، قربانی اور حق پر ڈٹ جانے کی روشن مثال ہیں، مگر افسوس کہ عام مسلمانوں میں ان کے حالاتِ زندگی سے واقفیت بہت کم ہے۔ انہی عظیم ہستیوں میں ایک نام سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا بھی ہے، جن کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو ایمان، شجاعت اور عزیمت کی ایک پوری تاریخ سامنے آتی ہے۔
🌹نسب ایسا کہ تاریخِ اسلام جس پر فخر کرے!🌹
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کسی معمولی خاندان کے فرد نہیں تھے۔ آپؓ کے والد گرامی حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی، عشرۂ مبشرہ میں شامل اور حواریِ رسول کے عظیم لقب سے سرفراز تھے۔ والدہ ماجدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا تھیں، جو خلیفۂ اول، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور ہجرتِ مدینہ کے موقع پر اپنی بے مثال خدمات کے باعث ذات النطاقین کے لقب سے مشہور ہیں۔
یوں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو ایک طرف حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ جیسی شجاع اور بے باک شخصیت کی تربیت و نسبت حاصل تھی، تو دوسری طرف سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا جیسی عظیم المرتبت، صاحبِ عزم و استقامت والدہ کی آغوشِ تربیت نصیب ہوئی۔ آپؓ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نواسے اور رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی تھے۔ آپؓ کی ولادت ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ہوئی اور آپؓ کو مہاجرین کے ہاں مدینہ میں پیدا ہونے والے پہلے بچے کی حیثیت سے خصوصی شہرت حاصل ہوئی۔
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو آپؓ کی جرأت، خودداری اور استقامت ہے۔ آپؓ نے ایسے دور میں آنکھ کھولی جب اسلامی سلطنت وسیع ہو رہی تھی اور پھر آپؓ کی زندگی نے امتِ مسلمہ کے ایک ایسے ہنگامہ خیز عہد کا مشاہدہ کیا جس میں سیاسی اختلافات، اقتدار کی کشمکش اور باہمی جنگوں نے مسلمانوں کو شدید آزمائش میں مبتلا کر دیا۔
جب 60 ہجری میں یزید تختِ حکومت پر متمکن ہوا تو اس نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے بیعت لینے کی کوشش کی، لیکن آپؓ نے بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ یزید نے آپؓ کو اپنی اطاعت پر مجبور کرنے کی کوشش جاری رکھی۔
61 ہجری میں واقعۂ کربلا کے بعد آپؓ کی مخالفت کو مزید تقویت ملی۔
63 ہجری میں یزید نے مسلم بن عقبہ کی قیادت میں ایک لشکر حجاز روانہ کیا، جس نے واقعۂ حرّہ کے بعد مکہ مکرمہ کا رخ کیا۔ مسلم بن عقبہ راستے ہی میں وفات پا گیا، جس کے بعد حصین بن نمیر نے لشکر کی کمان سنبھالی اور مکہ مکرمہ کا محاصرہ کر لیا۔ اسی دوران 64 ہجری میں یزید کی وفات کی خبر پہنچی اور محاصرہ ختم ہوگیا۔
🌹اعلان خلافت🌹
۔ یزید پلید کی وفات کے بعد آپؓ کی شخصیت ایک نمایاں سیاسی و دینی قوت بن کر سامنے آئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اعلان خلافت فرمایا اور حجاز سمیت اسلامی سلطنت کے متعدد علاقوں میں لوگوں نے آپؓ کی بیعت کی۔ ایک طویل عرصے تک آپؓ کو خلیفۃ المسلمین کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا رہا اور آپؓ نے تقریباً نو برس تک خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
🌹سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ؛ تاریخِ اسلام کا ایک فراموش کردہ عظیم کردار!🌹
یہ وہ دور تھا جب ایک طرف سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی قیادت موجود تھی اور دوسری طرف اموی اقتدار اپنی قوت بحال کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پہلے مروان بن حکم اور پھر عبدالملک بن مروان کے عہد میں آپؓ کو سخت سیاسی اور عسکری مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر حجاج بن یوسف ثقفی کو آپؓ کے مقابلے کے لیے مکہ مکرمہ بھیجا گیا۔
🌹سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت🌹
حجاج بن یوسف نے مکہ مکرمہ کا محاصرہ کیا۔ حالات دن بدن سخت ہوتے گئے، یہاں تک کہ وہ وقت بھی آ پہنچا جب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو انتہائی نامساعد حالات میں اپنی آخری آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ آپؓ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ جس جدوجہد میں گزارا، اس کا اختتام 73 ہجری میں مکہ مکرمہ ہی میں ہوا، جہاں آپؓ حجاج بن یوسف کے لشکر کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے۔
🌹شہید بیٹے کی لاش پر کھڑی ایک عظیم ماں!🌹
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی شہادت کا واقعہ جتنا دردناک ہے، اس کے بعد ان کی والدہ ماجدہ، سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کا کردار بھی اتنا ہی غیر معمولی ہے۔ حجاج بن یوسف نے آپؓ کو شہید کرنے کے بعد آپؓ کی لاش کو سولی پر لٹکا دیا۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا اپنے بیٹے کی لاش کے پاس تشریف لائیں تو حجاج سے فرمایا:
’’کیا اب وقت نہیں آیا کہ اس سوار کو اتارا جائے؟‘‘
حجاج نے کہا: تمہارا بیٹا منافق تھا!
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے پوری جرأت سے جواب دیا:
’’اللہ کی قسم! وہ منافق نہیں تھا، بلکہ کثرت سے روزے رکھنے والا، راتوں کو عبادت کرنے والا اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والا تھا۔‘‘
پھر آپؓ نے رسول اللہ ﷺ کی اس پیش گوئی کا ذکر کیا کہ قبیلہ ثقیف میں دو ایسے شخص ظاہر ہوں گے جن میں سے ایک کذاب اور دوسرا لوگوں کو ہلاک کرنے والا ہوگا۔ آپؓ نے حجاج سے فرمایا کہ پہلا شخص ہم دیکھ چکے ہیں، اور لوگوں کو ہلاک کرنے والا شخص تم ہو۔
یہ محض ایک ماں کا اپنے بیٹے کے لیے جذباتی دفاع نہیں تھا، بلکہ ایک جلیل القدر صحابیہ کی وہ جرأت تھی جس نے اپنے شہید بیٹے کی لاش کے سامنے بھی ظالم حکمران کے نمائندے سے حق بات کہنے میں کوئی خوف محسوس نہ کیا۔
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے جس صبر، حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ ان کی شخصیت بھی اسلامی تاریخ میں اپنے بلند مقام اور عظیم قربانیوں کے باعث ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
یہاں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما جیسی عظیم شخصیت کا تذکرہ ہماری عمومی دینی گفتگو، خطابات اور نئی نسل کی تاریخی تعلیم میں اتنا کم کیوں دکھائی دیتا ہے؟
ہم اسلامی تاریخ کے خلفاء کا تذکرہ کا تذکرہ کرتے ہیں، ان کی عظمت بیان کرتے ہیں اور ان کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں، جو یقیناً ضروری اور باعثِ سعادت ہے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ ہمارے ہاں نہ تو اسلام کے اِس عظیم لیڈر کا نام خلفاءصحابہؓ کی” فہرست ” میں شامل کیاجاتا ہے اور نہ ہی خلفاءصحابہؓ کے تذکرہ میں سیدناعبداللہ بن زبیرؓ کانام مبارک ذکر کیا جاتا ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی شخصیت اس بات کی مستحق ہے کہ ان کی زندگی، علمی مقام، عبادت، شجاعت، خلافت اور شہادت پر مستقل گفتگو ہو اور نئی نسل کو ان کے حالات سے آگاہ کیا جائے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ آپؓ کی سیرت و تاریخ پر اہلِ علم نے گفتگو کی ہے اور تاریخی کتابوں میں آپؓ کے حالات محفوظ ہیں، لیکن عام مسلمانوں تک آپؓ کے حالاتِ زندگی کو جس وسعت کے ساتھ پہنچنا چاہیے، اس کے لیے مزید کوشش کی ضرورت ہے۔ خصوصاً نوجوان نسل کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اسلامی تاریخ ایسے عظیم کرداروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنے عہد کے مشکل ترین حالات میں نمایاں کردار ادا کیا اور تاریخ پر اپنے نقوش ثبت کیے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے خطابات، تحریروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما جیسی عظیم شخصیات کے حالات کو عام کریں۔ ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو مستند تاریخی مآخذ کی روشنی میں بیان کریں، تاکہ ہماری نئی نسل اپنے اسلاف کے کارناموں سے واقف ہو اور تاریخِ اسلام کے کسی اہم کردار سے ناواقف نہ رہے۔
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا نام محض تاریخ کی کتابوں میں درج ایک نام نہیں، بلکہ اسلامی تاریخ کے ایک ایسے عہد کی یادگار ہے جس میں حق، اقتدار، سیاست، قربانی اور استقامت کے کئی اہم واقعات رونما ہوئے۔ ان کی زندگی اور شہادت کا تذکرہ ہماری تاریخی و دینی گفتگو کا مستقل حصہ ہونا چاہیے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس عظیم صحابیِ رسول رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبے سے آگاہ رہیں۔
اللہ تعالیٰ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سمیت تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے ادب و احترام اور ان کی سیرت کے مطالعے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
