برصغیر کے سیاسی منظر نامے سے علامہ اقبال کی ملی و سیاسی زندگی تک کا احاطہ
برصغیر کی آزادی اور انقلابی تحریکات کا پس منظر
برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں معاشی استحکام کی وجہ سے یہ خطہ ”سونے کی چڑیا“ کے نام سے مشہور تھا۔ فرنگی سامراج کے قبضے کے بعد اگر اس وقت کے آزادی پسند اور مخلص رہنما انقلاب انگیز تحریکیں برپا نہ کرتے، تو برصغیر کے باشندوں کی کم و بیش مزید بیس نسلیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑی رہتیں۔ برطانوی سامراج کو اس دیس سے نکالنے کے لیے ملت کا ہر فرد ایک روشن ستارے کی مانند چمکا اور اس نے نہ صرف اپنی ذات کو وقف کیا بلکہ اہلیانِ برصغیر کے دلوں میں آزادی کی تڑپ اور روح کو بھی بیدار کیا۔
برطانوی انخلاء اور سیاسی قیادت کے سامنے دو مختلف پہلو
جب برصغیر سے برطانوی اقتدار کے خاتمے کا وقت قریب آیا تو اس وقت کی زیرک اور مدبر قیادت کے سامنے متحدہ برصغیر کے مستقبل کے حوالے سے دو بڑے پہلو ابھر کر سامنے آ رہے تھے۔
پہلا پہلو یہ تھا کہ متحدہ برصغیر کو تقسیم سے بچا کر ایک متحد ریاست کے طور پر برقرار رکھا جائے۔ اس نظریے کے حامیوں کا خیال تھا کہ بین الاقوامی سطح پر رقبے اور افرادی قوت کے لحاظ سے ایک ایسی بڑی اور مضبوط حکومت تشکیل دی جائے جو دنیا کی طاغوتی طاقتوں کے سامنے ناقابلِ تسخیر ثابت ہو۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ہندو اور مسلمان مل کر وطن کی ترقی اور دفاع کے لیے کام کریں تاکہ ملک تقسیم در تقسیم کے عمل سے محفوظ رہے۔
دوسرا پہلو یہ تھا کہ مسلمان اپنے لیے ایک الگ خود مختار ملک حاصل کریں تاکہ آزادی کا حقیقی مقصد حاصل ہو سکے۔ اس نظریے کی بنیاد یہ تھی کہ مسلمانوں کو اغیار کی تہذیب اور کلچر سے نجات ملے اور وہ اپنی صفوں میں ایسا اتحاد پیدا کریں کہ دنیا کی کوئی طاقت انہیں زیر نہ کر سکے۔ ایک ایسی اسلامی ریاست کا قیام مقصود تھا جہاں اسلامی نظام نافذ ہو اور ترقی کی راہیں ہموار کر کے عالمی سطح پر ایک مثالی نمونہ پیش کیا جا سکے۔
اختلافِ رائے، نیک نیتی اور دلیل کی بنیاد
ان دونوں آراء کے حاملین اپنی اپنی جگہ نیک نیتی پر مبنی تھے، جس کی وجہ سے اس نازک موڑ پر دو الگ الگ راستے نکل آئے۔ کچھ اکابرین نے پہلی رائے کو درست سمجھا جبکہ دیگر نے دوسری رائے کو زیادہ سود مند اور نتیجہ خیز قرار دے کر اسے اپنایا۔ اگر اس اختلاف کو دلیل اور نیک نیتی کے تناظر میں دیکھا جائے تو کوئی بھی فریق مجرم نظر نہیں آتا۔ جب اختلاف کی بنیاد دلیل پر ہو اور اختلاف کرنے والے صاحبِ رائے ہوں، تو ایسا اختلاف قابلِ مذمت نہیں ہوتا۔
پہلی اور دوسری رائے کے ثمرات
پہلی رائے کا ثمر یہ ہے کہ آج بھی ہندوستان میں مسلمان ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں اور وہ وہاں سیاسی و مذہبی قیادت کے اہم مناصب پر فائز ہیں۔ جبکہ دوسری رائے کے نتیجے میں پاکستان جیسا آزاد، خود مختار اور جمہوری اسلامی ملک دنیا کے نقشے پر ابھرا، جو آج بھی تمام مسلمانانِ عالم کے لیے باعثِ فخر اور ایک نمونہ عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔
علامہ محمد اقبال دوسری رائے کے عظیم علمبردار
اسی دوسری رائے کو درست جان کر مخلصانہ اور مدلل انداز میں اپنانے والوں میں حکیم الامت علامہ محمد اقبال کا نام نہایت نمایاں ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں کی زبوں حالی کو دیکھ کر اقبال نے اپنی شاعری، تقاریر اور تحریروں کے ذریعے وہ عظیم کارنامہ انجام دیا جو تاریخ میں بہت کم لوگوں کے حصے میں آیا ہے۔
ولادت اور ابتدائی تعلیمی سفر
علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تعلیم کا آغاز محلہ شوالہ کی مسجد سے ہوا، جس کے بعد آپ نے کوچہ میر حسام الدین کے ایک مکتب میں تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں آپ اسکاچ مشن اسکول میں داخل ہوئے، جہاں آپ کا بچپن فطری اصولوں کے عین مطابق گزرا۔ محض 16 سال کی عمر میں آپ نے میٹرک کا امتحان پورے ڈویژن میں پہلی پوزیشن کے ساتھ پاس کیا اور انعام میں تمغہ حاصل کیا۔ اس کے بعد آپ نے اسی اسکول سے مزید تعلیم حاصل کی اور مشہور شاعر داغ دہلوی سے شاعری میں اصلاح لی۔ 1895ء میں آپ لاہور منتقل ہوئے اور گورنمنٹ کالج سے 1898ء میں بی۔اے پاس کرنے کے بعد ایم۔اے فلسفہ میں داخلہ لیا۔
محفلِ مشاعرہ اور عوامی مقبولیت کا آغاز
نومبر 1899ء میں آپ ایک محفلِ مشاعرہ میں شریک ہوئے جو حکیم امین الدین کے مکان پر منعقد ہوئی تھی۔ جب آپ نے اپنی غزل کا یہ شعر پڑھا
موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے
تو وہاں موجود بڑے بڑے اساتذہ اور شعراء آپ کو داد دینے پر مجبور ہو گئے۔ یہی وہ مقام تھا جہاں سے آپ کی شہرت اور مقبولیت کا دائرہ تیزی سے پھیلنا شروع ہوا۔
تدریسی خدمات اور تصنیفی میدان
ایم۔اے مکمل کرنے کے بعد 13 مئی 1899ء کو آپ اورینٹل کالج میں بطور میکلوڈ عربیک ریڈر مقرر ہوئے اور چار سال تک وہاں خدمات انجام دیں۔ اسی عرصے میں آپ نے انگریزی میں ایک اہم مقالہ لکھا اور 1904ء میں اردو زبان میں اپنی پہلی نثری کتاب ”علم الاقتصاد“ تصنیف کی۔
یورپ کا سفر اور پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری
اعلیٰ تعلیم کی جستجو میں آپ 25 دسمبر 1905ء کو انگلستان روانہ ہوئے اور کیمبرج یونیورسٹی کے ٹرنٹی کالج میں داخلہ لیا۔ دورانِ قیام آپ نے لنکنز اِن سے بیرسٹری کی تعلیم بھی شروع کی۔ بعد ازاں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ میں تحقیق کی اور 4 نومبر 1907ء کو ڈاکٹریٹ پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
وطن واپسی، وکالت اور سیاسی جدوجہد
جولائی 1908ء میں کامیاب ہو کر آپ انگلستان سے روانہ ہوئے اور بمبئی کے راستے لاہور پہنچے۔ ایک ماہ بعد آپ نے چیف کورٹ پنجاب میں وکالت شروع کی اور حکومت کے اصرار پر گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفہ بھی پڑھانا شروع کیا۔ تاہم 31 دسمبر 1910ء کو آپ تدریس سے مستعفی ہو گئے، البتہ 1932ء تک مختلف تعلیمی شعبہ جات سے وابستہ رہے۔ اس کے بعد آپ نے خود کو سیاست کے لیے وقف کر دیا اور ہندوستان کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد کرانے کے لیے انتھک محنت کی۔ آپ مختلف سیاسی تنظیموں سے وابستہ رہے اور مسلمانوں کی بیداری کے لیے کوشاں رہے۔ 2 جنوری 1929ء کو آپ نے جنوبی ہند کا دورہ کیا جہاں الہیاتِ اسلامیہ کے حوالے سے اہم خطبات دیے۔
