قائد اعظم کے آخری ایام، علامہ عثمانی کا خراجِ عقیدت اور تحریکِ آزادی کا تاریخی پس منظر

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کو ہدایت

قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی قومی معاملات اور اپنی ذمہ داریوں کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی وفات سے محض کچھ روز قبل انہوں نے وقت کے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو اہم ہدایات دیں، جن میں خاص طور پر اپنے جنازے کے متعلق وصیت بھی شامل تھی۔ بریگیڈیئر نور حسین، جو اس وقت بطور کیپٹن قائد اعظم کے اے ڈی سی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور بانیِ پاکستان کے آخری لمحات تک ان کے ساتھ رہے، اس واقعے کے عینی شاہد ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب وزیر اعظم لیاقت علی خان قائد اعظم کی عیادت کے لیے زیارت تشریف لائے، تو اس وقت قائد اعظم کی حالت نہایت تشویشناک تھی۔ وہ جسمانی طور پر انتہائی کمزور اور نحیف ہو چکے تھے اور بستر تک محدود تھے، بلکہ انہیں اپنی جان لیوا بیماری کی شدت کا مکمل اندازہ ہو چکا تھا۔

قائد اعظم کے آخری ایام، علامہ عثمانی کا خراجِ عقیدت اور تحریکِ آزادی کا تاریخی پس منظر

وزیر اعظم اور گورنر جنرل کے درمیان ہونے والی اس اہم ون ٹو ون ملاقات میں قائد اعظم نے لیاقت علی خان کو مختلف ہدایات دیں، جن میں سب سے اہم وصیت یہ تھی کہ میری نمازِ جنازہ مولانا شبیر احمد عثمانی پڑھائیں۔ اس ہدایت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جیسے ہی وزیر اعظم ملاقات ختم کر کے نیچے آئے، انہوں نے اے ڈی سی کے کمرے سے فوری طور پر کراچی فون کیا اور پیغام دیا کہ مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب سے خصوصی گزارش کی جائے کہ وہ کسی صورت کراچی سے باہر نہ جائیں اور وہیں قیام پذیر رہیں۔

قائد اعظم کے جنازہ پر علامہ عثمانی کی تقریر

قائد اعظم کی وصیت کے مطابق علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے ان کا جنازہ پڑھایا، جس میں تقریباً چار لاکھ سوگواروں نے شرکت کی۔ نمازِ جنازہ کے بعد علامہ عثمانی نے شرکاء سے ایک تاریخی اور رقت آمیز خطاب کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ قائد اعظم کی جدائی سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالمِ اسلام کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ آپ نے اپنی سیاسی بصیرت سے لوگوں کے دلوں کو مسخر کر لیا تھا اور حقیقت میں ان کے دلوں پر آپ کی حکومت تھی۔

علامہ عثمانی نے قائد اعظم کو ایک ایسا مدبر قرار دیا جس کا ثانی دنیا میں موجود نہیں۔ وہ ایک ایسی ناقابلِ موازنہ شخصیت تھے جنہیں دنیا کا کوئی انسان خرید نہیں سکتا تھا اور نہ ہی کوئی انہیں قانونی یا آئینی پیچیدگیوں میں الجھا کر بے وقوف بنا سکتا تھا۔ قائد اعظم نے ایک غریب اور ناخواندہ قوم کی رہنمائی کا بیڑا اٹھایا اور تمام دنیوی آسائشوں کو ٹھکرا کر اپنی قوم کی بہتری کے لیے شب و روز محنت کی۔ ان کی شخصیت نے عہدِ اورنگ زیب کی اسلامی شوکت کی یاد تازہ کر دی تھی۔

قائد کا وژن اور اسلامی بلاک کا قیام

علامہ عثمانی نے انکشاف کیا کہ قائد اعظم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب کراچی اسلامی ممالک کے اتحاد کا مرکز بنے گا۔ ان کا خواب تھا کہ کراچی سے لے کر مراکش، انقرہ اور چین تک مسلمانوں کا ایک ایسا مضبوط بلاک بنایا جائے جس کی قیادت کے فرائض پاکستان سرانجام دے۔ اگرچہ وہ جسمانی طور پر نحیف تھے، لیکن ان کے اندر پہاڑوں سے ٹکرانے کی قوت موجود تھی۔ جب شروع میں پاکستان کا تصور پیش کیا گیا تو کسی کو یقین نہیں تھا کہ یہ حقیقت بن سکے گا، لیکن اس مردِ مجاہد کے عزم، استقلال اور سیاسی ذہانت نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ قائد اعظم کی خواہش تھی کہ پاکستان صحیح معنوں میں ایک ایسی اسلامی جمہوریہ بنے جہاں شریعت کا بول بالا ہو اور ہر شخص کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ اب یہ ہر پاکستانی کا مذہبی فرض ہے کہ وہ ان کی اس آخری خواہش کو پورا کرنے کے لیے کوشاں رہے۔

قائد کی امانت اور وفاداری کا عہد

قائد اعظم کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ ہر حال میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل رہے۔ ان کے دل میں ایمانی جذبے کے ساتھ ساتھ آزادی کی تڑپ موجزن تھی۔ ایک طویل اور کٹھن جدوجہد کے بعد انہوں نے پاکستان جیسی خود کفیل ریاست قوم کے سپرد کی۔ علامہ عثمانی نے قوم کو نصیحت کی کہ ہم اللہ کے حضور عہد کریں کہ پاکستان کی ترقی، استحکام اور سربلندی کے لیے قائد اعظم کے نقشِ قدم پر چلیں گے اور قانونِ خداوندی کے نفاذ کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اگرچہ قائد جسمانی طور پر موجود نہیں، لیکن ان کا جذبہ اور ہدایات ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتی رہیں گی۔

علامہ ڈاکٹر محمد اقبال اور جذبہ آزادی کی بیداری

برصغیر کے مسلمانوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کرنے میں علامہ اقبال کا کردار نہایت اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب برصغیر کے مسلمانوں پر کرم فرمایا، تو ان میں جذبہ ایمانی کے ساتھ ساتھ آزادی کی تڑپ بھی پیدا کر دی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت 1193ء سے شروع ہو کر 1837ء تک مختلف خاندانوں کی صورت میں پھیلی رہی، جن میں غوری، خلجی، تغلق، لودھی، مغلیہ اور سوری خاندان شامل تھے۔

مسلم حکمرانوں کی تاریخ اور زوال کے اسباب

برصغیر کی تاریخ محمد غوری، قطب الدین ایبک، شمس الدین التمش، غیاث الدین بلبن، ظہیر الدین بابر، شیر شاہ سوری اور اورنگ زیب عالمگیر جیسے عظیم ناموں سے بھری پڑی ہے، جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، جب حاکم رہنے والی یہ قوم اللہ کی نافرمانیوں میں مصروف ہو گئی اور آزادی کی قدر و قیمت کو بھول گئی، تو حکمتِ الٰہی کے تحت ان پر آزمائش آئی۔ برطانوی سامراج فرنگیوں کی صورت میں ان کے اعمال کی سزا بن کر نمودار ہوا۔

1837ء میں جب آخری مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفر کی سلطنت کا سورج غروب ہوا، تو چند ہی سالوں میں انگریزوں نے پورے برصغیر پر اپنا تسلط جما لیا۔ برطانوی سامراج نے نہ صرف وسائل کو لوٹا بلکہ حریت پسند رہنماؤں کو قید و بند کی صعوبتوں اور پھانسیوں کے ذریعے دبانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ لارڈ کیننگ سے لے کر لارڈ ماؤنٹ بیٹن تک کی تاریخ برطانوی ظلم و ستم کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے، جسے تاریخ کے صفحات آج بھی بیان کرتے ہیں۔

علم • سوچ • عمل

متعلقہ فتاویٰ