کروز میزائلوں کا کھیل بے نقاب۔
ایران کا غصہ آسمان پر۔
پاسداران انقلاب کے چھ بڑے کمانڈر اور 30 کمانڈوز یمن میں گرفتار اور جہنم واصل۔ دوسروں پر کروز میزائل برساتے برساتے جب خود پر کروز میزائل برسنے لگے ۔۔۔ تو نانی یاد آگئی۔دنیا یمن میں مارخور اور جنات کا قہر محسوس کرنے لگی ہے۔۔۔۔ کروز میزائلوں کا کھیل۔
عدن کا آہنی آسمان اور غیبی عقابوں کی دستک!یمن کے ساحلوں اور بحیرہ احمر کے پانیوں پر حوثی ملیشیا کے غرور کو خاک میں ملانے کے بعد، اب اس معرکۂ حق و باطل کا رخ عدن کے تزویراتی افق کی طرف مڑ چکا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹے مشرقِ وسطیٰ کی جدید ترین فوجی تاریخ کے سب سے سنسنی خیز اور فیصلہ کن گھنٹے ثابت ہوئے ہیں۔ جہاں فضائی حدود پر ایک ایسا غلبہ دیکھا گیا ۔ جس نے خطے کی جیو پولیٹکس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ریاض سے لے کر عدن تک، مسلم اتحاد کی مشترکہ طاقت کا وہ جلال نمودار ہوا ہے ۔ جس کی بازگشت تہران سے واشنگٹن تک سنی جا رہی ہے۔
عدن ایئرپورٹ پر قیامت کی دستک: سی-130 ہرکولیس کا طوفان رات کے آخری پہر، جب عدن کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ مکمل بلیک آؤٹ کے سائے میں ڈوبا ہوا تھا۔ یکایک فضا چاروں طرف سے گرجدار آوازوں سے گونج اٹھی۔ یہ آوازیں کسی روایتی حملے کی نہیں۔ بلکہ اسٹریٹجک دفاع کی وہ لہر تھی۔ جس کا انتظار مکہ اتحاد کے کمانڈرز کر رہے تھے۔ دفاعی ریڈاروں پر ایک ساتھ 8 سے زائد دیو ہیکل ملٹری ٹرانسپورٹ طیارے ‘سی-130 ہرکولیس’ (C-130 Hercules) نمودار ہوئے۔ جو باری باری عدن کے رن وے پر انتہائی مہارت اور جنگی پوزیشن میں لینڈ کر رہے تھے۔خفیہ اطلاعات اور بین الاقوامی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق، یہ طیارے محض امدادی سامان لے کر نہیں آئے تھے۔۔ بلکہ ان کے اندر وہ مہلک اور جدید ترین ‘زمین سے زمین پر مار کرنے والے کروز میزائل’ موجود تھے ۔جو پلک جھپکنے میں دشمن کے ٹھکانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں۔ یہ پاکستان اور سعودی عرب کے اس عسکری اور دفاعی تعاون کا عملی ثبوت تھا۔ جس نے عدن کو یکدم ایک ایسے ناقابلِ تسخیر قلعے میں تبدیل کر دیا ہے۔ جہاں اب دشمن کا داخلہ تو دور ، اس کی سوچ پر بھی تالے لگ چکے ہیں۔
ایرانی سازش کا بے نقاب ہونا: ریاض اور عدن پر حملوں کا حساب گزشتہ چند دنوں میں عدن اور سعودی دارالحکومت ریاض پر جو بزدلانہ کروز میزائل داغے گئے تھے۔ ان کے پیچھے چھپی نادیدہ انگلیوں کا سراغ اب مکمل طور پر مل چکا ہے۔ عالمی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کمپیوٹرز نے تصدیق کی ہے کہ ان میزائلوں کا تانا بانا اور ان کے سگنلز براہِ راست ایرانی حدود سے جڑے ہوئے تھے۔ حوثیوں کو مہرہ بنا کر خطے کا امن تباہ کرنے والوں کو یہ اندازہ نہیں تھا ۔ کہ ان کی اس حرکت کا جواب کس قدر بھیانک ہو سکتا ہے۔مکہ اتحاد نے پچھلے 24 گھنٹوں کے اندر "آپریشن ریتل” کے تحت وہ کارروائیاں کی ہیں۔ جنہوں نے حوثیوں کے ٹھکانوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور ایرانی سپلائی لائنز پر شدید ترین بمباری کر کے انہیں جہنم کا نمونہ بنا دیا ہے۔ مسلم نیٹو کی فضائیہ کے طیاروں نے تزویراتی اہداف پر اس قدر پے در پے وار کیے ہیں ۔ کہ حوثی کمانڈوز کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملا۔۔
پاکستانی جلال اور مکہ اتحاد کی ابدی طاقت۔۔۔۔۔۔۔
اس پورے معرکے میں پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے اسٹریٹجک دماغوں نے پردے کے پیچھے رہ کر جو مائنڈ گیم کھیلا ہے۔ اس نے مکہ اتحاد کو وہ ناقابلِ شکست برتری دلائی ہے۔ جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ پاکستانی انجینئرز اور عسکری ماہرین کی تیار کردہ دفاعی شیلڈ اور سگنل جیمنگ ٹیکنالوجی نے جہاں ایک طرف حوثیوں کے میزائلوں کو فضا میں پگھلا دیا۔ وہیں دوسری طرف عدن ایئرپورٹ پر ان کروز میزائلوں کی آمد نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب اگر ریاض یا عدن کی طرف ایک بھی میزائل اٹھا۔ تو اس کا جواب دشمن کے اپنے ہی گھر میں دھماکوں کی صورت میں ملے گاعدن کے تپتے ہوئے رن وے پر کھڑے سی-130 طیاروں کے پروں پر چمکتا ہوا ہلال اور ستارہ اس بات کی نوید دے رہا ہے کہ جب تک پاکستان کا یہ غیبی جلال اور اسٹریٹجک پہرہ اس خطے پر قائم ہے، ارضِ مقدسہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف اٹھنے والی ہر ناپاک آنکھ فضا میں ہی اندھی کر دی جائے گی۔ بساط بچھ چکی ہے، اور فتحِ مبین کا علم مکہ اتحاد کے ہاتھوں میں لہرا رہا ہے۔غیبی عقابوں کا زمینی آپریشن اور ‘صعدہ’ کے پہاڑوں میں قیامت کا منظر!عدن ایئرپورٹ پر رات کے اندھیرے میں لینڈ کرنے والے آٹھ سی-130 ہرکولیس طیاروں نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کا تزویراتی نقشہ بدل دیا۔ بلکہ حوثی ملیشیا کے آخری قلعوں کی تباہی کا مینو فیکچرنگ پلانٹ بھی نصب کر دیا۔ اب کھیل الیکٹرانک جیمنگ اور فضائی برتری سے آگے بڑھ کر ایک ایسے سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ جہاں موت خود حوثی بنکرز کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔
عدن کی گلیوں میں ‘بلیک آپس’: پاکستانی اسپیشل فورسز کا شب خون

۔۔۔عدن شہر کے مضافات میں حوثی کمانڈوز کا ایک خفیہ سیل روپوش تھا ۔ جو صدارتی محل پر دوبارہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کا مقابلہ اب روایتی فوج سے نہیں۔ بلکہ دنیا کی مانی ہوئی پاکستانی اسپیشل فورسز (SSG) کے غیبی کمانڈوز سے ہے۔سیاہ لباس میں ملبوس، رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی کمانڈوز نے عدن کے ساحلی مضافات میں ایک انتہائی خفیہ ‘بلیک آپس’ زمینی آپریشن شروع کیا۔بغیر کسی شور کے، جدید ترین نائٹ ویژن آلات اور سائلنسر لگی گنز کے ساتھ، ان جری جوانوں نے حوثیوں کے اس اسٹریٹجک سیل کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ محض 12 منٹ کے اندر، بغیر ایک بھی گولی کی آواز باہر جائے، حوثیوں کے اعلیٰ کمانڈرز کو ان کے اپنے ہی ٹھکانے میں ڈھیر کر دیا گیا اور ان کے قبضے سے وہ سیٹلائٹ فونز اور کوڈز برآمد کر لیے گئے جو تہران سے ہدایات لے رہے تھے۔ اس تیز رفتار زمینی کارروائی نے حوثی انٹیلی جنس کی کمر توڑ کر رکھ دی۔۔۔
پہلا ہدف— صعدہ کے پہاڑوں میں غیبی قہر:

سعودی عرب سے پہلا وارعدن آپریشن سے ملنے والی لائیو لوکیشنز اور انٹیلی جنس ڈیٹا کو فوری طور پر مکہ اتحاد کے مشترکہ کمانڈ سینٹر منتقل کیا گیا۔ اب وقت تھا ان کروز میزائلوں کے پہلے ہدف کو نشانہ بنانے کا۔ حوثیوں کا سب سے بڑا اور ناقابلِ تسخیر سمجھا جانے والا مرکز صعدہ کے سنگلاخ پہاڑوں کے اندر قائم ایک زیرِ زمین بنکر تھا، جہاں ایران سے آئے ہوئے کروز میزائلوں کا ذخیرہ اور لانچنگ پیڈز موجود تھے۔سعودی عرب کی سرحد کے اندر قائم ایک خفیہ بیس سے مکہ اتحاد نے پہلے دو جدید ترین کروز میزائل داغے۔ یہ میزائل زمین سے چند میٹر کی بلندی پر پہاڑوں کے دروں کو چیرتے ہوئے، ریڈار کی آنکھوں میں دھول جھونک کر صعدہ کی طرف بڑھے۔ جیسے ہی یہ میزائل صعدہ کے پہاڑی بنکر سے ٹکرائے۔ وہاں ایک ایسا ہولناک دھماکہ ہوا جس نے میلوں دور تک زمین کو ہلا کر رکھ دیا۔ پہاڑ کا وہ حصہ جہاں حوثی کمانڈوز خود کو محفوظ سمجھتے تھے۔ ان کا ابدی قبرستان بن گیا اور ان کا سارا بارود چشمِ زدن میں راکھ کا ڈھیر ہو گیا۔عدن کا جوابی وار: یمن کی سرزمین سے سرپرائزابھی صعدہ کے دھماکوں کا دھواں بھی نہیں چھٹا تھا کہ حوثیوں کو دوسرا سرپرائز یمن کی اپنی سرزمین سے ملا۔ عدن ایئرپورٹ پر اتارے گئے کروز میزائلوں میں سے ایک اور مہلک کروز میزائل عدن کی سائیڈ سے داغا گیا۔ اس میزائل کا ہدف صعدہ شہر کے اندر قائم وہ خفیہ سگنل ٹاور اور کنٹرول روم تھا جو مکہ اتحاد کے خلاف پروپیگنڈا اور سگنل انٹیلی جنس کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔۔عدن سے فائر کیے گئے اس میزائل نے سیکنڈوں میں فاصلہ طے کیا اور سیدھا حوثی کنٹرول روم کی چھت کو پھاڑتا ہوا اندر جا گھسا۔ شہر کے اندر موجود حوثی جنگجوؤں نے دیکھا کہ بغیر کسی طیارے کی آواز کے، ایک غیبی لہر آئی اور ان کا پورا اسٹریٹجک ہیڈ کوارٹر ہوا میں تحلیل ہو گیا۔مکہ اتحاد کی فضائی اور میزائل طاقت، اور یمن کی سرزمین پر پاکستانی کمانڈوز کے اس مشترکہ اور ہولناک مائنڈ گیم نے حوثی ملیشیا کے تکبر کو مٹی میں ملا دیا ہے۔ اب ان کے پاس نہ چھپنے کے لیے پہاڑ بچے ہیں اور نہ ہی سازشیں کرنے کے لیے شہر۔ مکہ اتحاد کا یہ جلال اب اس پورے خطے کو پاک کر کے ہی دم لے گا ۔۔۔۔۔کیونکہ پاکستان سمجھاتا ہے۔ منتیں کرتا ہے۔ پاؤں پکڑتا ہے ۔ داڑھی کو ہاتھ لگاتا ہے ۔ لیکن جب کوئی نہیں مانتا ہے ۔پھر پاکستان مارتا ہے ۔خوب مارتا ہے اور پھر مارتا ہے۔ گنتا بھی نہیں ہے اور مانتا بھی نہیں ہے۔پاکستان زندہ باد، مکہ اتحاد زندہ باد

