حوثی… ایک بار پھر صلیبیوں کے چوکھٹ پر

گزشتہ چند دنوں کے دوران یمن کا منظرنامہ بہت تیزی سے تبدیل ہوا ہے۔

روسیوں چینیوں نے سیٹلائٹ استعمال کر کے پل پل کی جانکاری دی… اسرائیل ایران نے اپنے جنرلوں کو ٹریننگ اور گائڈنگ کیلئے بھیجا… امریکہ اور اقوام متحدہ نے عمان میں خفیہ میٹنگ کرکے حوثیوں کو بڑھاوا دیا…

امارات اور عمان نے غداری کی.. اکھونجیوں نے حوثیوں سے رابطہ کرکے میدان خالی کردیا. پھر حوثی، جنہیں غداریوں اور چال بازیوں کے ذریعے مغربی ساحلی علاقے تک پہنچایا گیا، المخا پر قبضہ کروایا گیا اور بحیرۂ احمر کے بعض جزیروں تک انہیں پہنچا دیا گیا، جنہوں نے باب المندب میں سعودی بحری آمدورفت کو دھمکیاں دینا شروع کیں اور سعودی عرب کے اندرونی علاقوں کو نشانہ بنایا.

..مملکت سعودی عرب کو متعدد دشمنوں کا سامنا ہے ایک طرف اسے میڈیا میں پروپیگنڈوں کا سامنا ہے دوسری طرف زمین پر اصلی دشمنوں کا سامنا ہے… اس طرح آج وہ خود کو بالکل مختلف نوعیت کی جنگ کے سامنے پاتا ہے۔سعودی عرب نے ابھی تک اپنی پوری طاقت استعمال نہیں کی، اس کے باوجود حوثیوں کے سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ کئی محاذوں پر ایسی شدید لڑائی شروع ہو گئی ہے جو یمن نے گزشتہ کئی برسوں سے نہیں دیکھی تھی۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق، حالیہ دوران جنگ میں کم از کم 838 ھوثی ہلاک اور 3600 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔اب حوثیوں نے کیا کیا؟!وہ ایک بار پھر اقوامِ متحدہ کے چوکھٹ پر پہونچ گئے۔ کیوں کہ وہ انکا آقا ہے، مسلمانوں کا دشمن ہے۔ اپنے غلام کی فریااد سنتے ہی اقوامِ متحدہ کا خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ ایرانی چینل مسقط پہونچا، جہاں اس نے حوثیوں کے چیف مذاکرات کار محمد عبدالسلام سے ملاقات کی۔

اس کے بعد وہ ریاض گیا، جہاں اس نے یمنی اہلکاروں، سعودی حکام اور دیگر علاقائی قوتوں سے ملاقاتیں کی۔یہاں ہمیں ذرا رک کر غور کرنا چاہیے، کیونکہ یہ منظر مجھے براہِ راست 2018ء کے اسٹاک ہوم معاہدے کی یاد دلاتا ہے۔اس وقت سرکاری افواج الحدیدہ کی طرف پیش قدمی کر رہی تھیں اور حوثیوں کے لیے صورتحال انتہائی مشکل ہو چکی تھی۔ حوثی اپنی مشکل ترین عسکری حالت سے گزر رہے تھے۔پھر اقوامِ متحدہ میدان میں آئی، معاہدہ ہوا اور الحدیدہ میں لڑائی روک دی گئی۔ بلکہ پورے دباؤ اور پابندیوں کی دھمکی کے ساتھ۔ یہاں حقیقی محبت اور سازش کھل کر سامنے آئی…. اور یہیں سے پتہ چلا کہ آخر یہ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ھوثی رات کیوں گزارتے ہیں… روسی چینی اور امریکی سفارت خانوں کے اندر یہ مجرم باغی ھوثی رات کیوں بتاتے ہیں…. ایک طرف یہ میڈیا میں انہی حوثیوں کو باغی اور مجرم کہتے ہیں اور دوسری طرف یہ مکار مغرب انہیں دودھ بھی پلاتا ہے…. اور محفوظ ٹھکانہ فراہم کرتا ہے… مگر یاد رہے کہ یہی ھوثی جب یمنی مسلمانوں پر ظلم و استبداد کے پہاڑ توڑتے ہیں ان کے گھروں کو مدارس اور مساجد کو بلڈوز کرتے ہیں.. نوجوانوں کو پکڑ کر جبراً جنگی محاز پر بھیجتے ہیں اور پیش قدمی کرتے ہیں تو پھر اقوام متحدہ سے لے کر امریکہ یورپ روس چین تک ساری مکار دنیا خاموش رہتی ہے.. لیکن اس بار پھر جب ان ھوثیوں کو پسپائی نظر آنے لگی اور اپنے وجود کو انہوں نے خطرے میں سمجھا تو اپنے آقاؤں کا دروازہ پھر کھٹکھٹایا… دوسری طرف ایران نے پلو جھاڑ دیا… اس سے واضح ہوتا ہے کہ بالکل ھوثی جیسے قاتل ملیشیاؤں کی طرح ایران کی بھی حیثیت ہے ان سب کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے مکار یورپ صلیبیوں اور سہیونیوں کی طرف سے…

حوثیوں نے اپنے آقاؤں سے التجا تو کیا ہے اور انہوں نے پوری کوشش بھی کی ہے اقوام متحدہ کا ایلچی حوثیوں کو بچانے کے لیے در در بھٹک رہا ہے مگر یاد رکھنا مومن ایک ہی سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ہے…

اور اس بار سعودی عرب اکیلا بھی نہیں ہے۔اس یمن کا میدان بدل چکا ہے اور پورا خطہ بھی تبدیل ہو چکا ہے۔ھوثی جیسے ایرانی ایجنٹ باغی قاتل ملیشیاؤں کے خلاف یہ ایک فیصلہ کن نوعیت کی جنگ ہے… اس وقت اقوامِ متحدہ مجرم حوثیوں کے خلاف جاری کارروائی کو روک نہیں سکے گی، جو اس تباہ کن جنگ میں پھنس چکے ہیں۔اس بار اقوامِ متحدہ کی طرف سے دی جانے والی کوئی بھی ’’آکسیجن‘‘ انہیں بچانے کے لیے کافی نہیں ہوگی!!۔۔۔۔۔۔حسبنا اللہ ونعم الوکیل ۔۔۔۔

متعلقہ فتاویٰ