*کاش! زندگی قرآن کے ساتھ گزرتی* 🔘 سفیان ثوریؒ کہتے ہیں:”کاش میں نے اپنی توجہ صرف قرآن تک محدود رکھی ہوتی۔”🔘 ابن تیمیہؒ کہتے ہیں:”مجھے افسوس ہے کہ میں نے اپنے بہت سے اوقات قرآن کے معانی سمجھنے کے علاوہ دوسری چیزوں میں گزار دیے۔”🔘 سفیان بن عیینہؒ کہتے ہیں:”اللہ کی قسم! تم اس دین کی بلندی تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اللہ تمہیں ہر چیز سے زیادہ محبوب نہ ہو۔ اور جو قرآن سے محبت کرتا ہے، وہ دراصل اللہ سے محبت کرتا ہے۔ جو بات تم سے کہی جا رہی ہے، اسے اچھی طرح سمجھو۔”🔘 ابو امامہ باہلیؒ کہتے ہیں:”قرآن پڑھتے رہو، صرف دیواروں پر لٹکے ہوئے مصاحف دیکھ کر دھوکا نہ کھاؤ۔ اللہ ایسے دل کو عذاب نہیں دیتا جس میں قرآن محفوظ ہو۔”🔘 حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:”اگر تم علم حاصل کرنا چاہتے ہو تو قرآن کو غور سے دیکھو اور اس میں تدبر کرو؛ اس میں پہلے اور بعد میں آنے والے لوگوں کا علم موجود ہے۔”🔘 حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں:”جس گھر میں قرآن پڑھا جاتا ہے، وہ اپنے رہنے والوں کے لیے کشادہ ہو جاتا ہے، اس کی خیر و برکت بڑھ جاتی ہے، فرشتے وہاں آتے ہیں اور شیطان وہاں سے نکل جاتے ہیں۔ اور جس گھر میں اللہ کی کتاب نہیں پڑھی جاتی، وہ اپنے رہنے والوں کے لیے تنگ ہو جاتا ہے، اس کی برکت کم ہو جاتی ہے، فرشتے وہاں سے چلے جاتے ہیں اور شیطان وہاں آ جاتے ہیں۔”🔘 سلیمان بن مہران اعمشؒ کہتے ہیں:”اللہ نے مجھے جو عزت دی ہے، اس میں قرآن کا بھی بڑا حصہ ہے۔”🔘 حسن بصریؒ کہتے ہیں:”اللہ کی قسم! قرآن کے علاوہ کوئی حقیقی خوش حالی نہیں اور قرآن کے بعد کوئی حقیقی محتاجی نہیں۔”🔘 سلف میں ایک بزرگ کہتے ہیں:”جب میں نے قرآن کا اپنا روزانہ کا حصہ بڑھایا تو میرے وقت میں بھی برکت بڑھتی گئی۔ میں اسے بڑھاتا رہا، یہاں تک کہ میرا روزانہ کا حصہ دس پارے ہوگیا۔”🔘 ابراہیم بن عبدالواحد مقدسیؒ نے ضیاء مقدسیؒ کو، جب وہ علم حاصل کرنے کے لیے سفر کا ارادہ کر رہے تھے، نصیحت کرتے ہوئے کہا:”قرآن زیادہ سے زیادہ پڑھتے رہو اور اسے کبھی نہ چھوڑو؛ تم جس علم کو حاصل کرنا چاہتے ہو، قرآن جتنا زیادہ پڑھو گے، اتنا ہی وہ تمہارے لیے آسان ہوتا جائے گا۔”🔘 ضیاء مقدسیؒ کہتے ہیں:”میں نے اس بات کو بار بار آزمایا۔ جب میں زیادہ قرآن پڑھتا تو میرے لیے زیادہ احادیث سننا اور انہیں لکھنا آسان ہو جاتا، اور جب قرآن کم پڑھتا تو یہ کام بھی مشکل ہو جاتا۔”🔘 حسن بن علیؒ کہتے ہیں:”تم سے پہلے لوگ قرآن کو اپنے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے خطوط سمجھتے تھے۔ اس لیے وہ رات کو ان میں غور و فکر کرتے اور دن میں ان پر عمل کرنے کی فکر کرتے تھے۔”🔘 حضرت عثمان بن عفانؓ فرماتے ہیں:”اگر دل پاکیزہ ہوں تو وہ قرآن پڑھنے سے کبھی سیر نہیں ہوں گے۔”🔘 حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:”قرآن کو اس طرح جلدی جلدی نہ پڑھو جیسے شعر پڑھا جاتا ہے، اور نہ اسے بے توجہی سے یوں پڑھو جیسے سوکھی کھجور کے پتے بکھیر دیے جائیں۔ اس کے عجیب اور سبق آموز مقامات پر ٹھہرو، اس سے اپنے دلوں کو متاثر کرو، اور تم میں سے کسی کا مقصد صرف یہ نہ ہو کہ جلدی سے سورت ختم کر دے۔”🔘 ایک شخص نے اُبی بن کعبؓ سے کہا:”مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔”انہوں نے فرمایا:”اللہ کی کتاب کو اپنا رہنما بنا لو، اسی کو اپنا فیصلہ کرنے والا اور حاکم مان لو۔ یہ وہ کتاب ہے جو تمہارے درمیان رسول اللہ ﷺ چھوڑ کر گئے ہیں۔ یہ تمہارے حق میں شفاعت کرنے والی، جس کی بات مانی جاتی ہے، اور ایسی گواہ ہے جس پر کوئی الزام نہیں۔ اس میں تمہارا بھی ذکر ہے، تم سے پہلے لوگوں کا بھی ذکر ہے، تمہارے باہمی معاملات کے فیصلے بھی ہیں، تمہارے حالات کی خبریں بھی ہیں اور تمہارے بعد آنے والے حالات کی خبریں بھی۔”🔘 محمد بن واسعؒ کہتے ہیں:”قرآن اللہ کے عارف بندوں کا باغ ہے؛ وہ جہاں بھی قرآن کے ساتھ جاتے ہیں، گویا سیر و تفریح کی جگہ میں پہنچ جاتے ہیں۔”🔘 کعب الاحبارؒ کہتے ہیں:”قرآن کو لازم پکڑو؛ اس میں عقل کی سمجھ، حکمت کی روشنی اور علم کے چشمے ہیں۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی کتابوں میں سب سے تازہ عہد والی کتاب ہے۔”🔘 کعب الاحبارؒ نے آیت ﴿وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ﴾ کے بارے میں کہا:”اس سے مراد قرآن والے لوگ ہیں۔”🔘 ذوالنون مصریؒ سے پوچھا گیا:”اللہ کے ساتھ انس کیا ہے؟”انہوں نے جواب دیا:”علم اور قرآن۔”🔘 حسن بصریؒ کہتے ہیں:”تین چیزوں میں اپنے دل کی مٹھاس تلاش کرو: نماز میں، قرآن میں اور ذکر میں۔ اگر ان میں مٹھاس محسوس ہو تو اسی راستے پر چلتے رہو اور خوش ہو جاؤ۔ اور اگر مٹھاس محسوس نہ ہو تو سمجھ لو کہ تمہارے اور اللہ کے درمیان کا دروازہ بند ہے۔”🔘 قتادہؒ کہتے ہیں:”قرآن کے ذریعے اپنے دلوں کو آباد کرو اور اپنے گھروں کو بھی قرآن سے آباد رکھو۔”🔘 حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:”یہ دل برتنوں کی طرح ہیں، اس لیے انہیں قرآن سے بھر دو اور قرآن کے علاوہ دوسری چیزوں سے نہ بھرو۔”🔘 حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں:”قرآن کو لازم پکڑو، اسے خود سیکھو اور اپنے بچوں کو بھی سکھاؤ؛ کیونکہ تم سے قرآن کے بارے میں پوچھا جائے گا اور اسی کے ذریعے تمہیں اجر دیا جائے گا۔ اور جو شخص سمجھ رکھتا ہو، اس کے لیے قرآن ہی کافی نصیحت ہے۔”🔘 ابن قیمؒ کہتے ہیں:”اگر تم جاننا چاہتے ہو کہ تمہارے دل میں اللہ کی محبت کتنی ہے، تو دیکھو کہ تمہارے دل میں قرآن کی محبت کتنی ہے۔”

متعلقہ فتاویٰ