01 || انسانی ضروریات؛ مادیت سے روحانیت تک
انسان صرف گوشت پوست کا پتلا نہیں ہے کہ صرف اسی مادہ وجود کے ساتھ اس کی ضروریات پورا کرنا اس کی آخری منزل ہو، بلکہ وہ ضروریات کے ساتھ زندگی کی سیڑھی کے ہر زینہ پر قدم رکھنے کے بعد اگلا زینہ آگے بڑھتا ہے، خود اس کا وجود پکارنے لگتا ہے کہ "ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں” دینِ متین نے تو صدیوں پہلے یہ عقدہ سمجھادیا ہے، اب تو ماہرینِ نفسیات بھی اس کو سمجھاتے ہیں، حیرت یہ ہے کہ اگر وحی کی روشنی میں یہ بات سمجھائی جائے تو "کند ذہن” مادیت پرست طبائع اس کے سمجھنے سے انکاری ہوجاتے ہیں مگر جب یہی بات نفسیات کے تناظر میں کہی جائے تو دل سجدہ ریز ہوجاتے ہیں، جبکہ وحی ہی وہ ہدایت کا سرچشمہ ہے جو انسانی عقول کی درست سمت متعین کرتا ہے، اسی لئے رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو حرفِ آخر کہا جاتا ہے، یہی حقیقت ہے، یہی ختمِ نبوت ہے، یہی بنیاد ہے، خیر ! جب انسانی ضروریات نیچے سے اوپر تک سفر کرتی ہیں بلکہ یوں کہا جائے کہ جب انسان مادیت سے روحانیت کا سفر کرتا ہے تو وہ مدارجِ ترقی اور معراجِ زندگی کی بلندی کو چھونے لگتا ہے، پھر اس کو حقیقی منزل مل جاتی ہے، بلکہ یہی فرق ہے جو انسان کو حیوانات سے ممتاز کرتا ہے۔
① جسمانی ضرورت: بھوک، پیاس، نیند
روٹی، کپڑا اور آرام، یہ ہر جاندار کی ضرورت ہے، انسان کی بھی اور حیوان کی بھی، اس کے بغیر انسانی عمارت کھڑی نہیں رہتی، ربِ کائنات نے انسان کی اس ضرورت کو اس کی نعمت بنایا ہے، یہ ٹھیک ہے کہ جانور بھی کھاتے پیتے ہیں مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان اس مادی ضرورت کو پورا کرتے ہوئے "تصورِ حلال” کو سامنے رکھے، کسی قسم کا ایسا عمل نہ ہو جس سے یہ اس کی ضرورت "حرام” میں داخل ہوجائے، سو اس ضرورت کو حلال طریقہ سے پورا کرنا ہی روحانیت کی طرف پہلا قدم ہے، رزقِ حلال، کسبِ حلال اور أکلِ حلال کے بے شمار فضائل وارد ہوئے ہیں، اور یہ انسان کے لئے ہیں (صرف مسلمان کے لئے نہیں ہیں) اور جانور کے لئے حلال کا کوئی تصور نہیں ہے۔
ایک اور جہت سے اس ضرورت کو سمجھیں، ہر انسان کے ساتھ اس کا نفس اور جسم لگا ہوا ہے، خواہشاتِ نفسانی سے بھی روکا ہے، اور تعیشاتِ زندگی سے بھی باز رکھا ہے تاہم ساتھ میں یہ بھی حکم ہے کہ إنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، ولِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، ولِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فأعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ (بخاری : 1968)
یعنی انسان کے لئے ضروریاتِ نفس کے پورے کرنے کو "حقوقِ نفس” سے تعبیر کیا گیا ہے، گویا دینِ اسلام نے اس درجہ "ادائے حقِ نفس” کو حقیر نہیں سمجھا بلکہ اسے بھی عبادت کا حصہ بنایا ہے، اب جب انسان ان ضروریات میں لگے تو اگرچہ مادی ضرورت پوری کررہا ہے مگر اس کو ساتھ میں روحانیت سے جوڑ دیا :
➊ کھانا پینا؛ اگر شکر کے ساتھ ہو تو عبادت کا حصہ بن جاتا ہے، نیز آداب و ادعیہ طعام و شراب (دعاؤں) کا اہتمام بھی عبدیت کا مظہر ہے۔
➋ نیند؛ قیامِ لیل کی تیاری بھی ہے اور بدن کا حق بھی، سو سونا بھی عبادت اور جاگنا بھی عبادت کیونکہ "الأمور بمقاصدھا” کے تحت "نیت” پر اجر ہے، اور ساتھ آداب و ادعیہ نوم و استیقاظ (دعاؤں) کا اہتمام بھی عبدیت کا اظہار ہے۔
➌ سو ضرورت کا پورا کرنا منع نہیں ہے بلکہ اس کو عبدیت کے ساتھ جوڑنا مطلوب ہے، یہی مادیت سے روحانیت تک کا سفر ہے
② تحفظ : سکونت اور قیام
روٹی و کپڑے کے بعد اہم ضرورت "مکان” ہے، جائے قیام ہے، جب کسی بھی جاندار کا پیٹ بھر جائے تو وہ سر چھپانے کی جگہ ڈھونڈتا ہے، مکان صرف چار دیواری کا نام نہیں ہے بلکہ یہ تحفظ کا احساس ہے، سکون کا مرکز ہے، امن کا سائبان ہے، پناہ کی دہلیز ہے، یہ اس یقین کا نام ہے کہ اس جگہ سے مجھے کوئی بے دخل نہیں کرے گا، یہ احساس روزانہ کی ضرورت ہے، یہ انسان کی دوسری بڑی ضرورت ہے۔
اب یہ "جائے سکونت” ہر انسان کی حاجت ہے، اس کو بھی دعاؤں کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، آداب و ادعیہ دخول البیت و خروج البیت کے ساتھ اس کا تحفظ ہے، دخولِ بیت پر سلام کے اہتمام سے "إن عاش رُزِقَ وكُفِيَ، وإن مات أدخلَه اللهُ الجنَّةَ” (أبوداؤد : 2494) کا ضمانتِ ربانی کا مژدہ سنایا گیا۔
قرآن کریم نے ان دونوں بنیادی ضرورت کو سوره قریش (آیت : 04) میں بطور نعمت ذکر کیا ہے :
➊ أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ یعنی بھوک سے نجات گویا جسمانی ضرورت !
➋ آمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ یعنی خوف سے امان گویا تحفظ و سکونت کا احساس !
اور نعمت کی ناشکری پر ان دو نعمتوں کے چھن جانے کا بطور عذاب کے سورة النحل (آیت : 112) میں ذکر آیا ہے :
فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللهِ فَأَذَاقَهَا اللهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ.
معلوم ہوا کہ یہ دونوں ضروریات اگرچہ مادیت ہیں مگر ان کو بھی روحانیت کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
نیز رسول اللہ ﷺ کا خوبصورت ارشاد ان دونوں نعمتوں کو ایسے بیان کررہا ہے، فرمایا :
مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ، مُعَافًى فِي جَسَدِهِ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ، فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا (ترمذی : 2346)
یعنی تم میں سے جس نے بھی صبح کی اس حال میں کہ وہ اپنے گھر یا قوم میں امن سے ہو اور جسمانی لحاظ سے بالکل تندرست ہو اور دن بھر کی روزی اس کے پاس موجود ہو تو گویا اس کے لئے پوری دنیا سمیٹ دی۔
غور کریں کہ "نعمتِ مکان” اور "احساسِ تحفظ” کو کس خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے، جو انسان کی مادی ضرورت ہے مگر جب اس احساس پر شکر کی کیفیت ہو تو یہی "عبدیت کا مظہر” اور "روحانیت کا زینہ” بن جاتا ہے۔
سو نعمت کی طرف ترقی ہو مگر صرف مادیت کے طور پر نہیں بلکہ روحانیت کے طور پر ہو، آج یہ نعمتیں تقریبا سب کو مُیسَّر ہیں، پہلے سے اچھا کھاتے ہیں، پیتے ہیں، رہتے ہیں، مگر ہر وقت زبانیں ناشکری کرتی ہے، کیا اس ناشکری کے احساس کے ساتھ قومیں ترقی پاتی ہیں؟ کیا امتوں کو عروج ملتا ہے؟
آج کا نوجوان یہ کہتا ہے کہ ہمیں کیا ملا ؟ ہمارے پاس کیا ہے؟ کیا آج جس خوشگوار زندگی کو جی رہے ہیں؟ جن نعمتوں میں ناز برداری ہورہی ہے، جن سہولتوں میں پنپ رہے ہیں، جن آسائشوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں، جن راحتوں کی چادر صبح و شام اوڑھی ہوئی ہے، کبھی ان کو سوچا ؟ کہتے ہیں کہ آج میرے پاس "خوشی” نہیں ہے، ہاں ! ایک لمحہ کے لئے یہ سوچیں کہ نعمتیں ایک دن چِھن جائیں، پھر ایک دن بعد یہی نعمتیں واپس ملیں تو کیا اس کے ملنے پر خوشی نہ ہوگی ؟ چونکہ شب و روز "مسرت کے بحر ذخّار” میں "تلاطم خیز موجوں” میں رہنے کی عادت نے "اعمالِ عبدیت” اور "احساسِ شکر” سے دور کردیا ہے، بس مادیت کے سیلِ رواں میں اگر کبھی روحانیت کا آفتاب چمکتا بھی نظر آئے تو آنکھیں چندھیا تو جاتی ہیں مگر "شکرانِ نعمت” کی طرف نظر نہیں جاتی !!
(جاری ہے ……..)
