ختمِ نبوت کا مفہوم اور قادیانی فتنہ کی حقیقت
خطاب: حضرت المحترم عبدالقادر ہالیجوی صاحب مدظلہ
ضبط و ترتیب: طارق علی عباسی
یہ خطاب، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے منعقدہ 45ویں سالانہ دو روزه کانفرنس میں 29 اکتوبر 2026ء بروز جمعرات کو ہوا۔
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) (اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے) حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی (تب تک) مومن نہیں ہوسکتا حتیٰ کہ میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی اولاد کو پیارا نہ رکھو، اپنا مال، اپنی عزت، اپنی آبرو، پوری انسانیت کو پیارا نہ رکھو، مقصد یہ ہے کہ ہر چیز سے بڑھ کر پیاری حضور پاک ﷺ کی ذاتِ گرامی ہے۔ اور یہی ہمارا ایمان ہے اور ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ حضور پاک ﷺ ہمیں سب سے زیادہ پیارے ہوں۔
ختمِ نبوت کانفرنس میں شرکت کی برکات
اسی پیار و محبت کی وجہ سے یہ ختم نبوت کے پروانے یہاں ختم نبوت کانفرنس میں شریک ہوتے ہیں۔ اس شرکت کو ہر ایک اپنے لیے باعثِ سعادت و نجات سمجھتا ہے، اس کانفرنس میں شرکت کے لیے جو کوئی بھی اپنی جان قربان کرتا ہے، اپنا مال قربان کرتا ہے اور اپنا وقت قربان کرتا ہے تو وہ اس قربانی کو اپنے لیے بہت بڑی نیک بختی سمجھتا ہے۔ جو بھی اس کانفرنس میں شریک ہوئے ہیں، ختم نبوت کے علماء کرام یا عوام میں موجود دوسرے دوست، ان سب پر رب العزت کی رحمت کی بارش برس رہی ہے۔
عقیدۂ ختمِ نبوت اور حضور ﷺ کی آفاقی رسالت
حضور پاک ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا۔ حضور پاک ﷺ جس دور میں تشریف لائے، اس وقت کے صحابہ کرام کے لیے بھی آپ ہی نبی ہیں اور اس کے بعد جو لوگ مسلمان ہوئے ان کے لیے بھی اور اب قیامت تک جو بھی انسان آئے گا، وہ بھی حضور پاک ﷺ کا ہی امتی ہے اور وہ حضور پاک ﷺ کو آخری نبی تسلیم کرتا ہے۔ اور اگر کوئی جھوٹی دعویٰ کرے، جیسے غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا، کوئی ظلی دعویٰ کرے، کوئی بروزی دعویٰ کرے، کوئی عکسی دعویٰ کرے، یا کسی بھی چیز سے استعارہ کرے تو ختم نبوت میں حضور پاک ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کے ساتھ شریک ہونے کے حوالہ سے اس کا یہ دعویٰ بالکل جھوٹا ہے۔ ہمارے علماء کرام نے، ختم نبوت کے تمام علماء کرام نے، جمیعت علماء اسلام کے علماء کرام نے، اپنی محنت اور کوشش کے ذریعہ قادیانیوں کافر قرار دیا ہے۔ پاکستان کے آئین کے تحت یہ بدبخت قادیانی بالاتفاق کافر قرار دیے گئے ہیں۔ خود اس غلام احمد قادیانی نے پوری امت مسلمہ کی دل آزاری کی۔ اس نے کہا: جو مجھے نبی کرکے نہیں مانتا، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، حالانکہ درحقیقت وہ خود اور اس کے ماننے والے سب اسلام سے خارج ہیں، اس لیے کہ اس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے اور اس کا یہ دعویٰ باطل ہے۔
ادیانِ باطلہ اور یہود و نصاریٰ کی مثال
جیسا کہ عیسائی اور یہودی ہیں، اگر کوئی یہودیت کو چھوڑ کر عیسائی مذہب اختیار کرے تو اب اسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ خود کو یہودی کہلائے، خواہ وہ انجیل پر عمل کرتا ہو اور عیسٰی علیہ السلام کو نبی مانتا ہو، ایک نیا نبی تسلیم کرتا ہو، تب بھی وہ اب یہودی نہیں کہلا سکتا۔ اسی طرح اگر کوئی عیسائی مسلمان ہوجائے تو اب اس نے حضور پاک ﷺ پر کلمہ پڑھ لیا ہے تو اب وہ عیسائی نہیں کہلا سکتا، ہم سب مسلمان کہیں گے کہ تم نے آخری نبی کا کلمہ پڑھ لیا ہے، اب تم مسلمان ہو، عیسائی نہیں ہو۔ اسی طرح اگر کسی نے قادیانی پر کلمہ پڑھا اور قادیانی کو اپنا نبی مانتا ہے تو اب وہ ہرگز مسلمان نہیں ہے، اب وہ دائرہ اسلام سے قطعی طور پر خارج ہے۔
قادیانیوں کا پروپیگنڈا اور ان کا ظالم ہونا
باہر کی دنیا میں یہ قادیانی پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ پاکستان میں ہمیں تسلیم نہیں کیا جا رہا، ہمارے مذہب کو تسلیم نہیں کیا جا رہا اور ہم پاکستان میں مظلوم ہیں۔ حالانکہ حقیقت میں مسلمان مظلوم ہیں اور وہ خود ظالم ہیں، اس لیے کہ انہوں نے خود یہ جھوٹا دعویٰ کیا۔ لہٰذا یہ قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتے۔ کیوں کہ یہ اسلام پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ یہ حضور ﷺ کے دشمن ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ اگر کوئی کھلا کافر ہو تو اسے کافر کہنا کوئی بڑا عیب نہیں ہے، کیوں کہ وہ اصلاً دین کا منکر ہے۔ لیکن جو شخص اسلام کے لبادے میں آکر، مسلمانوں کے لبادے میں آکر، اسلام کے ساتھ دھوکہ کرنے کے لیے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے خود کو مسلمان کہلائے، وہ دراصل خود قادیانی ہے اور قادیانی اسلام کا غدار ہے۔
مولانا عبدالکریم قریشی رحمۃ اللہ علیہ کی قادیانیوں کے خلاف جدوجہد
حضرت الاقدس مولانا عبدالکریم قریشی بیر شریف والے رحمۃ اللہ علیہ جس وقت کنڈیارو شہر میں پڑھاتے تھے تو اس دوران وہاں ایک ڈاکٹر بشارت علی نامی شخص آیا، جو قادیانی تھا۔ وہ عوام میں جاکر اپنی تبلیغ کرتا تھا، اپنی قادیانیت کی تبلیغ پھیلانے کے لیے مسلمانوں کو مفت دوائیں دیتا تھا، تاکہ جو مسلمان اس عقیدے سے واقف نہیں تھے، وہ انہیں اپنی تبلیغ کا نشانہ بنا رہا تھا۔ اس موقع پر حضرت الاقدس مولانا عبدالکریم قریشی بیر شریف والے رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ قادیانی ڈاکٹر آیا ہے اور اس کے بعد شہر کی تمام مساجد میں درس دیا اور جمعہ کے خطبات میں مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ یہ ڈاکٹر بشارت قادیانی ہے، اس کی دوا بھی نہ لو، اس کا بائیکاٹ کرو اور اگر یہ قادیانی مرجائے تو اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن بھی نہ کرو۔
حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا فیصلہ
وَتَنَبَّأَ رَجُلٌ فِي زَمَنِ أَبِيْ حَنِیْفَۃَ رَحِمَهُ اللهُ وَقَالَ: أَمْھِلُوْنِيْ حَتّٰی أَجِیْئَ بِالْعَلَامَاتِ. وَقَالَ أَبُوْحَنِیْفَۃَ رَحِمَهُ اللهُ: مَنْ طَلَبَ مِنْهُ عَلَامَۃً فَقَدْ کَفَرَ لِقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: لاَ نَبِيَّ بَعْدِي. (حوالہ: ذکرہ الکردري في مناقب الإمام الأعظم أبي حنیفۃ رضی اللہ عنہ، باب 7: من طلب علامۃ من المتنبی فقد کفر، جلد 1 صفحہ:161) حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں ایک آدمی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس موقع پر اس نے کہا کہ میں اپنے دلائل پیش کرنا چاہتا ہوں۔ امام صاحب نے فرمایا: تمہارے دلائل کی کوئی ضرورت نہیں ہے، تمہاری بات نہیں سنی جائے گی، کیوں کہ تمہاری نبوت جھوٹی ہے۔ حضور پاک ﷺ خاتم النبیین ہیں، لہٰذا تمہاری کسی بھی چیز کا کوئی دلیل تم سے نہیں لیا جائے گا، تم کافر ہو اور تم نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا ہے، امام صاحب نے یہ اعلان کیا کہ اس سے جو بھی جڑے گا، وہ کافر ہی ہوگا۔
سبق جو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے
سب مسلمان، اس ختم نبوت کے عنوانِ جلیلہ کے تحت جمع ہوئے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم یہاں سے یہ سبق لے کر اٹھیں کہ ہم اپنے گاؤں میں اپنے علاقوں میں جہاں قادیانی تبلیغ کرتے ہیں، انہیں وہاں روکیں، ان کا بائیکاٹ کریں، ان کی تیار کردہ چیزوں کا بائیکاٹ کریں، قادیانیوں کی جو بھی اشیاء بازار میں بکتی ہیں، ان کا بائیکاٹ کریں، یہی ہمارے ایمان کا تقاضا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں آپ کا اور ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُلِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
