# مسجد قباء: اسلام کی پہلی مسجد، جہاں ہجرت کے قدموں نے سجدہ کیا## تمہیدکچھ مقامات کو یہ شرف حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی عظیم سفر کی پہلی منزل بن جاتے ہیں۔ مسجد قباء ایسی ہی منزل ہے۔ مکہ کی آزمائشوں سے نکل کر، صحرا اور پہاڑوں کی مسافت طے کر کے جب رسول اللہ ﷺ مدینہ کے قریب پہنچے تو پہلا پڑاؤ قباء کی بستی میں ہوا، اور یہیں اسلام کی پہلی مسجد کی بنیاد رکھی گئی۔## محلِ وقوعمسجد قباء مدینہ منورہ کے جنوب میں، مسجد نبوی ﷺ سے تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ آج یہ شہر کی توسیع کے بعد آبادی کے اندر آ چکی ہے، مگر اس کی فضا میں اب بھی وہی سکون ہے جو پہلی ہجرت کی یاد دلاتا ہے۔ اس کے سفید گنبد اور بلند مینار دور سے نظر آتے ہیں، اور ارد گرد کھجوروں کے باغات اس کا حسن بڑھاتے ہیں۔## ہجرت کا پہلا پڑاؤمدینہ کے لوگ مہینوں سے انتظار میں تھے۔ روزانہ صبح سویرے حرّہ کے کنارے پہنچ جاتے اور جب دھوپ تیز ہو جاتی تو مایوس لوٹ آتے۔ ایک دن ایک یہودی نے ٹیلے سے پکارا کہ اے قیلہ کی اولاد! تمہارا مطلوب آ گیا۔ انصار خوشی سے دوڑ پڑے۔ روایات کے مطابق ربیع الاول کی ابتدا میں رسول اللہ ﷺ قباء پہنچے اور بنو عمرو بن عوف کے ہاں قیام فرمایا۔انتظار کی یہ تصویر دیکھیے: ایک پوری بستی اپنے محبوب کی راہ تک رہی ہے۔ سچی محبت میں انتظار بھی عبادت بن جاتا ہے۔

مسجد قباء: اسلام کی پہلی مسجد، جہاں ہجرت کے قدموں نے سجدہ کی

## بنیاد اور تقویٰ

قباء میں قیام کے دوران رسول اللہ ﷺ نے مسجد کی بنیاد رکھی۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے خود پتھر اٹھائے اور صحابہ کرامؓ کے ساتھ تعمیر میں شریک ہوئے۔ حضرت عمارؓ سمیت دیگر صحابہ بھی مشقت میں شامل تھے۔ نبی کریم ﷺ اپنے ہاتھ سے کام کر کے امت کو سکھا گئے کہ دین کی تعمیر میں قیادت بھی شریک ہوتی ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہے:**”لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ”***”البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، زیادہ حق دار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں۔”* (سورۃ التوبہ: 108)مفسرین کے نزدیک اس آیت کا مصداق مسجد قباء ہے، اگرچہ بعض روایات میں مسجد نبوی ﷺ کا بھی ذکر آیا ہے، اور دونوں مساجد تقویٰ پر قائم ہیں۔ اسی آیت میں ان لوگوں کی تعریف بھی ہے جو پاکیزگی کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔## پاکیزگی کا سبقروایات میں آتا ہے کہ قباء کے لوگ استنجا میں پتھروں کے ساتھ پانی کا بھی استعمال کرتے تھے، اور اسی پر اس آیت کے نزول کا ذکر ملتا ہے۔ یہ بات ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام میں ظاہری طہارت اور باطنی پاکیزگی ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ جس مسجد کی بنیاد تقویٰ پر ہو، اس کے نمازی بھی پاکیزگی کے متلاشی ہوتے ہیں۔## فضیلت: صحیح احادیث کی روشنی میںمسجد قباء کی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے، اور یہ اس سلسلے کی ان مساجد سے مختلف ہے جن کی کسی خاص فضیلت کی مستند روایت نہیں ملتی۔رسول اللہ ﷺ ہر ہفتے سوار ہو کر یا پیدل مسجد قباء تشریف لاتے اور دو رکعت ادا فرماتے۔ (صحیح بخاری و مسلم)آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے، پھر مسجد قباء آئے اور اس میں نماز پڑھے، تو اسے عمرے کے برابر ثواب ملے گا۔ (سنن ابن ماجہ، ترمذی وغیرہ، اور اسے شیخ البانی نے صحیح قرار دیا ہے)اس حدیث کے مطابق یہ فضیلت اس شخص کے لیے ہے جو گھر سے وضو کر کے آئے۔ زائر کو چاہیے کہ اپنی رہائش گاہ سے وضو کر کے جائے تاکہ سنت پر عمل ہو۔## تحویلِ قبلہ کی خبرمسجد قباء سے ایک اور واقعہ بھی جڑا ہے۔ جب بیت المقدس سے کعبہ کی طرف قبلہ بدلنے کا حکم آیا تو قباء کے نمازی فجر کی نماز میں مصروف تھے۔ ایک شخص آیا اور اعلان کیا کہ آج رات رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوا ہے اور آپ کو کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ملا ہے۔ نمازیوں نے اسی حالت میں، نماز کے دوران، اپنا رخ شام سے کعبہ کی طرف پھیر لیا۔ (صحیح بخاری)یہ فرماں برداری کی کیسی حسین مثال ہے! نہ سوال، نہ تاخیر، نہ تردد۔ حکم آیا تو رخ بدل گیا۔ یہی اطاعتِ رسول ﷺ کی روح ہے۔## مسجد کی روحانی فضامسجد میں داخل ہوں تو سفید پتھروں کی ٹھنڈک اور کھلے صحن کا سکون دل کو چھو لیتا ہے۔ یہاں کی ہوا میں پہلی ہجرت کی مہک ہے۔ جہاں بیٹھ کر انسان سوچتا ہے کہ اس زمین پر نبی کریم ﷺ کے قدم لگے، یہاں صحابہ کرامؓ نے پتھر اٹھائے، یہاں پہلی بار اجتماعی نماز کی صفیں بنیں۔یہاں دو رکعت پڑھتے ہوئے یہ سوال دل میں آتے ہیں:- کیا میری عبادت کی بنیاد تقویٰ پر ہے یا دکھاوے پر؟- کیا میں پاکیزگی کو، ظاہری بھی اور باطنی بھی، اپنی زندگی کا حصہ بناتا ہوں؟- کیا میں حکمِ الٰہی آنے پر قبلہ بدلنے والوں کی طرح فوراً لبیک کہتا ہوں؟## توسیع و تعمیروقت کے ساتھ مسجد کی کئی بار تجدید اور توسیع ہوئی۔ مختلف ادوار کے حکمرانوں نے اس کی تعمیر کروائی، اور سعودی دور میں اسے نہایت وسیع اور جدید سہولیات کے ساتھ تعمیر کیا گیا۔ آج یہاں ہزاروں نمازی بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں، اور خواتین کے لیے بھی الگ انتظام موجود ہے۔## زائرین کے لیے چند آداب1. **گھر یا ہوٹل سے وضو کر کے آئیں:** حدیث کے مطابق یہی سنت ہے۔2. **سنت کی نیت رکھیں:** نبی کریم ﷺ کی پیروی میں دو رکعت پڑھیں۔3. **دوسروں کا خیال رکھیں:** رش میں دھکم پیل سے بچیں اور نمازیوں کے لیے رکاوٹ نہ بنیں۔4. **غلو سے بچیں:** دیواروں یا ستونوں سے تبرک لینا یا ایسی رسمیں گھڑنا درست نہیں۔5. **اوقات کا لحاظ رکھیں:** رش کم رکھنے کے لیے صبح یا غیر معروف اوقات بہتر ہو سکتے ہیں۔## سبق جو ساتھ لے جانا ہے1. **تقویٰ بنیاد ہے:** عمارت پتھر سے بنتی ہے، مگر عبادت کی بنیاد تقویٰ پر ہونی چاہیے۔2. **انتظار میں محبت:** سچی محبت صبر سے انتظار کرنا سکھاتی ہے۔3. **اطاعت:** حکم ملتے ہی رخ بدل لینا ایمان کی علامت ہے۔4. **پاکیزگی:** ظاہر و باطن دونوں کی صفائی دین کا حصہ ہے۔5. **سنت پر عمل:** ہفتہ وار قباء آنا نبی ﷺ کی سنت تھی، اسے زندہ رکھیں۔## اختتامیہجب زائر مسجد سے نکلتا ہے تو دل میں ایک ہلکا سا نور اور آنکھ میں نمی ہوتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ ہجرت کا پہلا سجدہ یہیں ہوا تھا، اور اس نے آج اسی زمین پر پیشانی رکھ دی۔ فاصلے صدیوں کے ہیں، مگر دل ایک ہی سمت میں جھکا ہے۔اے اللہ! ہماری عبادتوں کی بنیاد تقویٰ پر رکھ دے، ہمیں پاک باز لوگوں میں شامل فرما، اور ہمیں اپنے حبیب ﷺ کی سنتوں پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین**#مسجد_قباء #مدینہ_منورہ #ہجرت #سیرت_النبی #روحانیت***

متعلقہ فتاویٰ