قائد اعظم محمد علی جناح افکار، نظریات اور تصورِ پاکستان

قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب ہندوستان واپسی کا قصد کیا تو انہوں نے ممبئی میں اپنی وکالت کا باقاعدہ آغاز کیا۔ آپ کی غیر معمولی قانونی قابلیت اور فہم و فراست کی بنیاد پر جلد ہی آپ کا شمار ان شہ دماغ وکلاء کی صفِ اول میں ہونے لگا جو نہ صرف بدلتے ہوئے حالات کو بھانپنے کی صلاحیت رکھتے تھے بلکہ مسائل کا عمیق ادراک کرتے ہوئے ان کے حل کے لیے اپنا بھرپور اور موثر کردار ادا کرنا جانتے تھے۔

جذبہ آزادی اور تحریکات میں شمولیت

قائد اعظم کے دل میں مسلمانوں کی خود مختاری، مکمل آزادی اور ایک الگ اسلامی ریاست کے قیام کے لیے نہایت پاکیزہ اور نیک جذبات موجزن تھے۔ ان کی بصیرت یہ کہتی تھی کہ آزادی کا صحیح اور پائیدار راستہ قانونی اور آئینی ہتھیاروں کا بروقت استعمال ہے۔ اسی فلسفے کے تحت انہوں نے اس زمانے کی ان سیاسی تحریکوں میں شمولیت اختیار کی جن کا طریقہ کار ان کے خیالات اور اصولوں کے عین مطابق تھا۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ آزادیِ وطن اور مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی خاطر انہوں نے مسلم لیگ کو اس قدر منظم اور متحرک کر دیا کہ اس جماعت نے تھوڑے ہی عرصے میں دس کروڑ مسلمانوں کو ان کی گم شدہ متاعِ آزادی اور خود مختاری کی تڑپ سے مالا مال کر کے ایک عظیم قوت بنا دیا۔

قائد اعظم محمد علی جناح افکار، نظریات اور تصورِ پاکستان

افکار و نظریات

قائد اعظم کی تمام تر زندگی تحریکِ آزادی کے لیے وقف تھی، وہ بذاتِ خود اسلامی افکار و نظریات کے سچے پیروکار تھے اور اپنی قوم کے افراد میں بھی انہی اوصافِ حمیدہ کو دیکھنے کے خواہش مند تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قوموں کی زندگی میں اصل اہمیت ان کے افکار کی ہوتی ہے اور ان تحریکات کی جو ان افکار کے بطن سے جنم لیتی ہیں، لیکن ان تحریکات کا اصل روحِ رواں وہ بلند کردار افراد ہوتے ہیں جن کے اعلیٰ کردار کی بدولت وہ افکار قومی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی روشنی میں قومیں آزمائش کے صبر آزما مراحل سے گزر کر کامیابی کی بلندیوں کو چھو لیتی ہیں۔ قائد اعظم کے افکار میں سب سے بنیادی اہمیت قرآن کریم کو حاصل ہے، جس میں غور و فکر کرنے کا صریح خدائی حکم موجود ہے۔ قرآن حکیم میں جہاں سابقہ اقوام کی ناکامیوں کے اسباب و وجوہات کا تذکرہ موجود ہے، وہاں کامیابی و کامرانی کے ابدی اصول و مبادی بھی سمجھائے گئے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح قرآن کریم میں گہرا غور و خوض فرماتے تھے اور مسلم قوم کی حالتِ زار پر ایک درد مند قائد کی طرح خون کے آنسو روتے تھے۔

کیسا پاکستان چاہتے تھے؟

علمائے حق کی مسلسل جدوجہد اور قائد اعظم سے ان کی متواتر ملاقاتوں کا گہرا اثر قائد اعظم کی تقاریر سے بھرپور طریقے سے ظاہر ہوتا ہے۔ وہ ایک ایسی آزاد اسلامی ریاست کے خواہاں تھے جس میں مکمل طور پر اسلام کا عادلانہ نظام رائج ہو۔ اس حوالے سے چند تاریخی حقائق درج ذیل ہیں

17 فروری 1938ء کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسٹریچی ہال میں خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا مجھے اپنے اسلامی کلچر اور تہذیب سے دلی محبت ہے۔ میں ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ ہماری آنے والی نسلیں اسلامی تمدن اور فلسفہ سے بالکل بیگانہ ہو جائیں۔

12 جون 1938ء کو ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا مسلمانوں کے لیے کسی نئے پروگرام کی تلاش کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ان کے پاس 1300 برس سے ایک مکمل پروگرام موجود ہے اور وہ قرآن پاک ہے۔ قرآن حکیم میں ہماری معاشی، تمدنی اور معاشرتی اصلاح و ترقی کا سیاسی پروگرام بھی موجود ہے۔ میرا اسی قانونِ الٰہیہ پر کامل ایمان ہے اور میں جس آزادی کا طالب ہوں، وہ اسی کلامِ الٰہی کی تعمیل ہے۔

14 دسمبر 1942ء کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں فرمایا پاکستان کا مقصد اس کے سوا اور کیا ہے کہ وہاں اللہ کے دین کا نظام قائم ہو گا۔

19 مارچ 1944ء کو پنجاب اسٹوڈنٹس فیڈریشن لاہور کی سالانہ کانفرنس میں فرمایا ہمیں ہلالی پرچم کے علاوہ کوئی اور پرچم درکار نہیں۔ اسلام ہمارا واحد رہنما ہے جو ہماری زندگی کا مکمل ضابطہ حیات ہے۔

21 نومبر 1945ء کو سرحد مسلم لیگ کانفرنس پشاور میں دورانِ خطاب فرمایا مسلمان پاکستان کا مطالبہ اس لیے کرتے ہیں تاکہ وہاں وہ اپنے ضابطہ حیات، اپنے تمدنی ارتقاء، روایات اور اسلامی قوانین کے مطابق حکومت کر سکیں۔

24 نومبر 1945ء کو مردان کے جلسہ عام سے خطاب کے دوران فرمایا آپ پاکستان کی آزاد مسلم مملکت کے حصول میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں جہاں مسلمان اسلامی فرماں روائی کا نظریہ پیش کر سکیں گے۔

26 نومبر 1946ء کو سید بدرالدین احمد کو اپنی قیام گاہ پر ایک تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے آپ نے برملا کہا دنیا کی تمام مشکلات کا حل اسلامی حکومت کے قیام میں مضمر ہے۔ اسی قیام کی خاطر میں نے لندن کی پرسکون زندگی کو رد کر کے عظیم مفکر علامہ اقبال کے اصرار پر واپسی کی راہ لی۔ ان شاء اللہ پاکستان کے نظامِ حکومت کی بنیاد لا الہ الا اللہ ہی ہو گی اور اس پر ایسی فلاحی اور مثالی ریاست قائم ہو گی کہ دنیا اس کی تقلید کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔

7 جولائی 1947ء کو لندن مسلم لیگ کے نام پیغام میں فرمایا خدا کے فضل سے ہم دنیا میں اس نئی عظیم خود مختار اسلامی ریاست کی تعمیر مکمل اتحاد، تنظیم اور ایمان کے ساتھ کر سکیں گے۔

19 دسمبر 1946ء کو مصری ریڈیو پر خطاب کے دوران فرمایا ہم چاہتے ہیں کہ ایک آزاد خود مختار قوم کی حیثیت سے اپنی زندگی بسر کریں اور ان تمام اقدار کا تحفظ کریں جن کا اسلام علمبردار ہے۔

14 اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی کے افتتاح کے موقع پر ماؤنٹ بیٹن کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے فرمایا اکبر بادشاہ نے جس فراخ دلی کا مظاہرہ کیا وہ ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں، اس کا آغاز 1300 برس پہلے ہی ہو گیا تھا جب ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے بعد نہ صرف زبانی طور پر بلکہ عملی طور پر یہودیوں اور عیسائیوں سے فراخدلانہ سلوک کیا، مسلمانوں کی تاریخ ایسی روشن مثالوں سے بھری پڑی ہے۔

30 اکتوبر 1947ء کو لاہور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا اگر ہم قرآن حکیم سے رہنمائی حاصل کریں تو بالآخر فتح ہماری ہوگی۔ میرا آپ تمام لوگوں سے یہی مطالبہ ہے کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہ کریں۔

14 دسمبر 1947ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کونسل سے خطاب میں فرمایا میں صاف طور پر واضح کر دوں کہ پاکستان اسلامی نظریات پر مبنی ایک مملکت ہو گی۔

25 جنوری 1948ء کو پاکستان کے گورنر جنرل کی حیثیت سے کراچی بار ایسوسی ایشن کے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا میں ان لوگوں کے عزائم نہیں سمجھ سکا جو جان بوجھ کر شرارت کر رہے ہیں اور یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد شریعت پر نہیں ہوگی۔ ہماری زندگی پر آج بھی اسلامی اصولوں کا اسی طرح اطلاق ہوتا ہے جس طرح 1300 سال پہلے ہوتا تھا۔

14 فروری 1948ء کو سبی دربار بلوچستان میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات ان سنہری اصولوں پر چلنے میں ہے جو ہمارے عظیم قانون دینے والے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے وضع کیے ہیں۔

علم • سوچ • عمل

متعلقہ فتاویٰ