قائد اعظم محمد علی جناح اور اسلامی تصورات

قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کا اسلامی اصولوں اور اسوۂ حسنہ پر غیر متزلزل یقین تھا۔ ان کا واضح نظریہ تھا کہ مسلمانوں کی نجات محض اس قانون اور نظام پر چلنے میں ہے جو پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے ترتیب دیا۔ وہ پاکستان کی جمہوریت کی بنیادیں خالصتاً اسلامی تصورات اور معاشرتی عدل پر رکھنے کے داعی تھے۔ 21 فروری 1948ء کو جب انہوں نے افواجِ پاکستان سے خطاب کیا تو نہایت پرزور انداز میں یہ ہدایت فرمائی کہ اب آپ کو اپنے ہی وطنِ عزیز کی سرزمین پر اسلامی جمہوریت، معاشرتی انصاف اور مساواتِ انسانی کے اصولوں کی پاسبانی کرنی ہے۔ ان کا یہ وژن قیامِ پاکستان کے اصل مقصد کو واضح کرتا ہے۔

قرآن کریم میں غور و خوض

قائد اعظم کے دل میں قرآنِ مجید کی جو عظمت اور محبت تھی، اس کا اندازہ گورنر ہاؤس پشاور کے ایک بٹلر عبدالرشید کے بیان کردہ چشم دید واقعے سے لگایا جا سکتا ہے۔ عبدالرشید بیان کرتے ہیں کہ جب قائد اعظم سرحد کے دورے پر آئے اور گورنر ہاؤس میں قیام کیا، تو وہ اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود آرام نہیں کرتے تھے بلکہ دن بھر کام میں جتے رہتے تھے۔ کام کی تھکن دور کرنے کے لیے جب وہ کمرے میں ٹہلتے تو ان کی نظر انگیٹھی مینٹل پیس پر رکھی رحل اور اس پر موجود قرآنِ پاک پر پڑتی۔ عبدالرشید نے خود دیکھا کہ قائد اعظم قرآنِ حکیم پر اپنا ماتھا رکھ کر زار و قطار رو پڑتے تھے۔

قائد اعظم محمد علی جناح اور اسلامی تصورات

اسی حوالے سے ایک اور روح پرور واقعہ آدھی رات کا ہے جب پورا گورنر ہاؤس گہری نیند سو رہا تھا کہ اچانک لکڑی کے فرش پر ٹھک ٹھک کی ایک مسلسل آواز سنائی دی۔ پولیس اور عملہ چوکنا ہو گئے کہ شاید اندر کوئی چور گھس آیا ہے۔ جب ایک درز سے اندر جھانکا گیا تو منظر حیران کن تھا؛ بانیِ پاکستان قرآنِ حکیم پر سر جھکائے کھڑے تھے اور ان کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ وہ ایک ایک آیت کا مطالعہ کرتے، اس کے معانی پر غور کرتے اور پھر کمرے میں ٹہلنا شروع کر دیتے تھے۔ ان کے قدموں کی یہی آواز تھی جس نے سناٹا چیر رکھا تھا۔ وہ قرآن سے رہنمائی بھی لے رہے تھے اور اپنے خالق کے حضور دعا بھی مانگ رہے تھے۔

بعض قرآنی احکام کا اجراء

قائد اعظم نہ صرف قرآن کا مطالعہ کرتے تھے بلکہ اس کے احکامات کے عملی نفاذ کے بھی قائل تھے۔ جنرل اکبر جو قیامِ پاکستان کے وقت میجر جنرل تھے کا ایک واقعہ اس کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ 25 جون 1948ء کی ایک ملاقات میں جنرل اکبر نے عرض کیا کہ افواج میں قدیم روایت کے مطابق شراب سے جامِ صحت پیا جاتا ہے، لہٰذا اس پر پابندی کا اعلان کیا جائے۔ قائد اعظم نے فوراً اپنا کانفیڈریشن باکس منگوایا اور اس میں سے سیاہ چمڑے کی جلد والی ایک کتاب نکالی۔ انہوں نے وہ مقام کھولا جہاں نشان لگا ہوا تھا اور فرمایا جنرل یہ قرآن مجید ہے، اس میں لکھا ہے کہ شراب اور منشیات حرام ہیں۔ اس کے فوراً بعد انہوں نے قرآنی آیات کا حوالہ دے کر ایک مسودہ تیار کروایا اور یونٹس میں شراب نوشی بند کرنے کا حکم جاری کیا، جو برسوں تک موثر رہا۔ قائد کا ماننا تھا کہ مسلمانوں کو زندگی کے ہر شعبے میں قرآن سے رہنمائی لینی چاہیے۔

قائدِ اعظم کی تمنا

آل انڈیا مسلم لیگ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے اپنے دل کی گہرائیوں سے ایک ایسی تمنا کا اظہار کیا جو ان کے خلوص کی آئینہ دار تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے دنیا میں بہت کچھ دیکھا، شہرت اور دولت کے لطف اٹھائے، لیکن اب میری واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ اطمینان لے کر مرنا چاہتا ہوں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے کہ جناح نے اسلام سے خیانت نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی اور تنظیم میں اپنا فرض ادا کر دیا۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ کفر کی طاقتوں کے غلبے میں اسلام کا جھنڈا بلند رکھتے ہوئے ایک سچے مسلمان کی حیثیت سے دنیا سے رخصت ہوں۔

شریعت اسلامی سے رہنمائی

4 مارچ 1946ء کو شیلانگ میں خواتین کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم ہندوتوا پرستی کے قائل نہیں بلکہ مساوات، حریت اور بھائی چارے کے علمبردار ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی کتابِ مقدس قرآنِ حکیم، حدیثِ نبوی اور عظیم اسلامی روایات کی طرف رجوع کریں کیونکہ ان میں انسانیت کی رہنمائی کے لیے ہر چیز موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر مسلمان کے پاس قرآن کا ایک نسخہ ہونا چاہیے تاکہ وہ خود اپنی رہنمائی کر سکے، کیونکہ قرآن ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے تمام شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔

جنازہ پڑھانے کی وصیت

قائد اعظم محمد علی جناح کے دل میں علمائے کرام کی بے حد عزت و تعظیم تھی۔ خاص طور پر حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ سے ان کے تعلقات نے ان کے دل میں علماء کی عظمت کو مزید بڑھا دیا تھا۔ تحریکِ آزادی کے دوران وہ مسلسل جید علماء سے مشورے اور رہنمائی حاصل کرتے رہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنی وفات سے قبل یہ وصیت فرمائی تھی کہ ان کا جنازہ ایک جید عالمِ دین پڑھائے، جو ان کے مذہبی لگاؤ اور علمائے حق پر ان کے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

علم • سوچ • عمل

متعلقہ فتاویٰ