محض نظر شہوت سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی
ایک آدمی اپنی ساس کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ لگا رہا تھا اس دوران غیر اختیاری طور پر اس کے دل میں ساس کی طرف رغبت پیدا ہو گئی- اور اس کو اس مسئلہ کا علم بھی نہیں تھا-اس آدمی کی اولاد بھی ہے- اس صورت میں اس کا نکاح تو نہیں ٹوٹا؟ازدواجی تعلق برقرار رکھنے سے یہ آدمی زانی تو شمار نہیں ہوگا؟اگر نکاح ٹوٹ گیا ہے تو اب یہ آدمی کیا کریں؟
الجواب
محض نظر شہوت سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی
اپنی ساس کو شہوت کی نظر سے دیکھنا حرام ہے، لیکن محض شہوت کی نظر سے دیکھنے سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی، اس لئے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا،وہ بدستور باقی ہے-آئندہ ایسی خلوت اور بے پردگی کا موقع نہ آنے دیں اور سخت احتیاط کریں
وكذا تثبت بالوطء في النكاح الفاسد وكذا بالوطء عن شبهة بالإجماع، وتثبت باللمس فيهما عن شهوة وبالنظر إلى فرجها عن شهوة عندنا ولا تثبت بالنظر إلى سائر الأعضاء بشهوة ولا بمس سائر الأعضاء إلا عن شهوة بلا خلاف. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: 2/ 260)
وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها الداخل.
(تنوير الأبصار مع رد المحتار:3/33)
(قوله: وناظرة) أي بشهوة (قوله: والمنظور إلى فرجها) قيد بالفرج؛ لأن ظاهر الذخيرة وغيرها أنهم اتفقوا على أن النظر بشهوة إلى سائر أعضائها لا عبرة به ما عدا الفرج .
(رد المحتارعلى الدرالمختار:3/ 33)
