نکاح میں مجہول مہر رکھنے کا حکم
میری شادی کو دو سال ہوچکے ہیں،شادی کے وقت لڑکی نے مہر کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ جب تک میں زندہ ہوں ہر ہر مہینے ایک ہزار روپے دیتا رہونگا،اس وقت سے ہر مہینے میں اس کو ایک ہزار روپے دے رہا ہوں۔اب پوچھنا یہ ہے کہ
کیا ایسا مہر رکھا جاسکتا ہے؟
اگر ہاں،تو کیا پوری زندگی مہر کی مد میں یہ ادائیگی لازم ہوگی؟
اگر نہیں تو اس نکاح کا کیا حکم ہوگا؟مہر کا کیا بنے گا؟اور میں اسے ابھی تک مہر کی مد میں دے چکا ہوں اس کا کیا حکم ہوگا؟
الجواب
نکاح میں مجہول مہر رکھنے کا حکم
زندگی کا دورانیہ طے نہیں۔سوال میں مذکور صورت میں مہر مجہول ہے،عقدِ نکاح میں مہر مجہول ہو تو نکاح منعقد ہوجاتا ہےاور مہر مثل لازم ہوتا ہے۔چنانچہ آپ کا نکاح مہر مثل پر منعقد ہوگیا تھا۔مہر مثل میں لڑکی کےددھیال کی عورتوں کا اعتبار ہوگا جبکہ وہ عورت اس لڑکی کی عمر، حسن، شہر، زمانے، عقل، دیانت، کنواراپن، علم اور ادب وغیرہ میں ہمسر ہو ، اگر برابر کی عورت اس خاندان میں نہ ہو تو وہ عورت جو اِن اوصاف میں اِس عورت کےساتھ برابر ہو اُس کا اعتبار ہوگا۔چنانچہ اس لڑکی کے ددھیال کے خاندان میں اس جیسی عورت کا عام طور پر جتنا مہر ہوتا ہے اتنا مہر آپ کے ذمہ لازم ہے۔
اب تک مہر کی مد میں جتنی رقم آپ اس کو دے چکے ہیں اس کو مہر مثل سے منہا کریں گے،پھراگر اداشدہ رقم مہر مثل سے زائد ہو تو وہ رقم آپ کو واپس لینے کا اختیار ہوگا اگر مہر مثل سے کم ہو تو آپ کے ذمہ باقی رقم ادا کرنا لازم ہے۔
نکاح میں مجہول مہر رکھنے کا حکم
وإذا فسدت التسمية أو تزلزلت يجب مهر المثل؛ لأن العوض الأصلي في هذا الباب هو مهر المثل؛ لأنه قيمة البضع، وإنما يعدل عنه إلى المسمى إذا صحت التسمية وكانت التسمية، تقديرا لتلك القيمة، فإذا لم تصح التسمية أو تزلزلت لم يصح التقدير فإذا لم يصح التقدير، فوجب المصير إلى الفرض الأصلي، ولهذا كان المبيع بيعا فاسدا مضمونا بالقيمة في ذوات القيم لا بالثمن كذا هذا، والنكاح جائز لأن جوازه لا يقف على التسمية أصلا، فإنه جائز عند عدم التسمية رأسا، فعدم التسمية إذا لم يمنع جواز النكاح ففسادها أولى أن لا يمنع، ولأن التسمية إذا فسدت التحقت بالعدم فصار كأنه تزوجها ولم يسم شيئا، وهناك النكاح صحيح كذا هذا، ولأن تسمية ما ليس بمال شرط فاسد، والنكاح لا تبطله الشروط الفاسدة بخلاف البيع، والفرق أن الفساد في باب البيع لمكان الربا، والربا لا يتحقق في النكاح فيبطل الشرط ويبقى النكاح صحيحا.
( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:2/ 277)
واما المجهول فهو ان يتزوجها على ما تخرج أرضه العام او تحمل نخله او تنتج غنمة او بقره او ابله وما اشبه ذلك فانه غير جائز وكان كلا تسمية ولها مهر المثل اذا كان دخل بها وان لم يدخل بها او فارقها فلها المتعة.( النتف في الفتاوى للسغدي :1/ 297)
(وكذا يجب) مهر المثل (فيما إذا لم يسم) مهرا.
(تنویر الأبصار معالدر المختار ورد المحتار:3/ 108)
(قوله فيما إذا لم يسم مهرا) أي لم يسمه تسمية أو سكت عنه نهر، فدخل فيه ما لو سمى غير مال كخمر ونحوه، أو مجهول الجنس كدابة وثوب.( رد المحتارمع الدر المختار:3/ 108)
(و) الحرة (مهر مثلها) الشرعي (مهر مثلها) اللغوي: أي مهر امرأة تماثلها (من قوم أبيها) لا أمها إن لم تكن من قومه كبنت عمه. وفي الخلاصة: يعتبر بأخواتها وعماتها، فإن لم يكن فبنت الشقيقة وبنت العم انتهى ومفاده اعتبار الترتيب فليحفظ. وتعتبر المماثلة في الأوصاف (وقت العقد سنا وجمالا ومالا وبلدا وعصرا وعقلا ودينا وبكارة وثيوبة وعفة وعلما وأدبا وكمال خلق) وعدم ولد.
(تنویر الأبصار معالدر المختار ورد المحتار: 3/ 137)
وفي الذخيرة لو طلبت المرأة من القاضي فرض النفقة وكان للزوج عليها دين فقال احسبوا لها نفقتها منه كان له ذلك؛ لأن الدينين من جنس واحد فتقع المقاصة كما في سائر الديون.
(البحر الرائق :4/ 192)
