# بئر غرس: مدینہ کا وہ کنواں جس کے پانی میں سنت کی مٹھاس ہے##
تمہید
کچھ کنویں پانی سے بھرتے ہیں اور کچھ یادوں سے۔ مدینہ منورہ کے مضافات میں قباء کی جانب واقع **بئر غرس** (جسے اردو میں "بیر غرس” بھی لکھا جاتا ہے) ایسا ہی ایک تاریخی کنواں ہے جس سے رسول اللہ ﷺ کی کئی پیاری یادیں وابستہ ہیں۔
## محلِ وقوع
یہ کنواں مدینہ منورہ کے جنوب مشرق میں، قباء کے علاقے کے قریب واقع ہے۔ آج یہ شہر کی توسیع کے بعد آبادی کے اندر آ چکا ہے۔ اس کے قریب ایک مسجد اور کنویں کا احاطہ موجود ہے، اور زائرین کو وہاں سے پانی بھی دستیاب ہو جاتا ہے۔
## نام کی نسبت
"غرس” کے معنی کے بارے میں اہلِ علم کے ہاں کچھ اختلاف ہے۔ بعض اسے درخت لگانے سے نسبت دیتے ہیں اور بعض اسے کسی شخص کے نام سے۔ مؤرخین کے ہاں تفصیلات میں فرق ملتا ہے، اس لیے اس بارے میں احتیاط کے ساتھ بات کرنا ہی مناسب ہے۔
## رسول اللہ ﷺ کی پسندیدگی
بئر غرس: مدینہ کا وہ کنواں جس کے پانی میں سنت کی مٹھاس ہے
اس کنویں کا ذکر احادیث و سیرت میں آیا ہے۔ روایات کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے اس کنویں کے پانی کو پسند فرمایا اور اس سے پیا۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس کے پانی کے بارے میں فرمایا کہ یہ جنت کے چشموں میں سے ہے۔ البتہ اس روایت کی سند کے بارے میں محدثین کے ہاں کلام ہے، اس لیے اسے احتیاط سے نقل کرنا چاہیے۔سیرت کی کتب میں یہ بھی ملتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی وفات کے وقت اس کنویں کے پانی سے غسل دیے جانے کی وصیت فرمائی تھی، اور اسی سے آپ ﷺ کو غسل دیا گیا۔ یہ روایت بھی تاریخی ماخذ میں آتی ہے، اور اس کی تفصیل میں اختلاف موجود ہے۔
## مٹھاس اور محبت ذرا غور کیجیے:
ایک کنواں، جس کا پانی محبوب ﷺ نے پیا، اور جس سے آخری غسل کی نسبت بیان ہوتی ہے۔ ایسے مقامات کے سامنے کھڑے ہو کر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کی ہر ادا، ہر پسند اور ہر چھوٹی سی عادت ہمارے لیے سیرت کا حصہ ہے۔
## روحانی کیفیت
کنویں کے کنارے کھڑے ہوں تو پانی کی ٹھنڈک اور مٹی کی خوشبو ایک عجیب سا سکون دیتی ہے۔ یہاں دل میں یہ سوال اٹھتے ہیں:- کیا میری محبت صرف دعوے کی ہے یا اس میں اتباع بھی شامل ہے؟- کیا میں نبی ﷺ کی چھوٹی چھوٹی سنتوں کی قدر کرتا ہوں؟- کیا میرا دل بھی اس پانی کی طرح صاف اور شفاف ہے؟
## ایک ضروری وضاحت
اس کنویں کے پانی کی کسی خاص شفا یا فضیلت کے بارے میں کوئی قطعی اور مستند حکم ثابت نہیں۔ پانی پینا جائز ہے اور تاریخی نسبت کے سبب باعثِ دلچسپی ہے، مگر اسے لازمی ثواب، علاج یا کسی مخصوص رسم کا ذریعہ سمجھنا درست نہیں۔ پانی لے جاتے وقت صرف اتنا ہی اعتقاد رکھیں کہ یہ ایک تاریخی نسبت والا مقام ہے۔
## زائرین کے لیے آداب1
. **نیت درست رکھیں:** مقصد سیرت کی یاد اور عبرت ہو۔2. **صفائی کا خیال رکھیں:** کنویں کے احاطے کو صاف رکھیں۔3. **غلو سے بچیں:** پانی یا مٹی سے متعلق من گھڑت عقائد نہ اپنائیں۔4. **دوسروں کا لحاظ:** رش میں تحمل سے کام لیں۔5. **دعا اور درود:** نبی ﷺ پر درود بھیجیں اور اپنے لیے دعا کریں۔
## سبق جو ساتھ لے جانا ہے1
. **سنت کی محبت:** چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی محبوب ﷺ کی پیروی۔2. **سادگی:** ایک کنواں، ایک گھونٹ، اور ایک بڑی یاد۔3. **احتیاطِ روایت:** ہر بات بغیر تحقیق آگے نہ بڑھائیں۔4. **شکر:** پانی اللہ کی عظیم نعمت ہے۔
## اختتامیہ
کنویں سے رخصت ہوتے وقت زائر کے ہونٹوں پر ایک دعا ہوتی ہے اور دل میں ایک نرم سی روشنی۔ وہ سوچتا ہے کہ مدینہ کی مٹی میں محبت کی بو ہے اور اس کے پانی میں سنت کی مٹھاس۔اے اللہ! ہمیں اپنے حبیب ﷺ کی سچی محبت اور ان کی سنتوں کی پیروی کی توفیق عطا فرما، اور ہمارے دلوں کو پاکیزگی اور نور سے بھر دے۔ آمین**
#بئر_غرس #مدینہ_منورہ #سیرت_النبی #روحانیت***نوٹ: تاریخی


