کیا اسلامی فکر نے فلاطونی فلسفہ اور نوفلاطونیت کی تردید کی ہے؟
**الجواب: بتوفیقِ اللّٰہ تعالیٰ
**اجمالی :* اسلامی فکر فلاطونی فلسفہ اور نوفلاطونیت کی کامل تردید ہے۔
سب سے پہلے اسلام نے ثنویت کا ابطال کر کے زندگی، عمل اور فکر کی وحدت کا اثبات کیا۔ اس نے علمِ ظاہر اور علمِ باطن میں کوئی تفریق نہیں کی اور نہ کسی فوقُ الحِس عالم کا تخیل پیش کیا۔ وہ احساسات و مُدرکات کو عقل کے منافی نہیں قرار دیتا ہے اور نہ عقل کو وجدان کی ضد ٹھہراتا ہے۔( مأخذ شرعیہ کشف و الهام کے ذریعے احکام و دیگر معاملات کی اثبات کے قائل نہیں ۔ البتہ تفکّر اور تدبّر کی بار بار ہدایت کی گئی، جس سے معلوم ہوا کہ کشفی اور الہامی علم کا تعلق احکامِ الٰہی یا معاملات شرعیہ سے نہیں ۔در اصل وجدان اور الہامی انسانی علم و عمل اورعقل کی ایک ترقی یافتہ اور مخصوص صورت ہوتی ہے، جو بعض اہل علم و عمل زہّاد کے ہاں پائی جاتی ہے) جس عالَم کو فوق الحس کہا جاتا ہے وہ لطیف تر احساسات و تجربات کا عالَم ہے اور یہ بھی فرد واحد سے متعلق نہیں بلکہ عقول لطیفہ کا ایک مشترک عالَم ہے۔
"مذہب کے متعلق غلط تصورات*
پھر یونانی ثنویت کے مزید ابطال میں اسلام نے روح اور مادے کے تضاد کا بھی انکار کیا۔ اس کے نزدیک روحانی زندگی مادی زندگی کی ایک بہتر اور زیادہ ترقی یافتہ صورت ہے۔ جس معاشرے میں انسانی تعلقات زیادہ ہم آہنگ ہوں، سیاسی، معاشی اور مذہبی طبقات کی شدت نہ ہو اور احترامِ انسانی کا جذبہ لوگوں میں عملاً کار فرما ہو، وہی معاشرہ روحانی حیثیت سے زیادہ ترقی یافتہ ہوگا۔*تفصیلات:*
… اسلام نے زندگی کو لعنت نہیں ، ایک خیرِ عظیم قرار دیا ” قُل مَن حرّم زينة الله التي أخرج لِعبادهِ من الطيّبات (اعراف: ۳/۷)ترجمہ: کہہ دو کہ کس نے اللہ کی پیدا کی ہوئی زینتوں کو حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لیے عمدہ چیزوں میں سے نکالی ہیں؟اس طرح اس نے تو فلاطونی فنا فی الاِلٰہیت کا سارا نظریہ مسترد کر دیا کیوں کہ اس نظریے کی رو سے سعادت انسانی کا دارو مدار اس پر ہے کہ دنیا ترک کر دے ، علائق سے گریز کرے اور زندگی کی نعمتوں سے کنارہ کش رہے ۔ یہ اصل میں بدھ مت کے عقیدہ فروان کی ایک صوفیانہ شکل تھی جس کو نو فلاطونیت نے پیش کیا تھا۔ بدھ مت کے نزدیک چوں کہ زندگی ایک لعنت بھی اس لیے اس سے بچنے اور حقیقت سے ہم کنار ہونے کا ذریعہ اس کے نزدیک صرف یہ تھا کہ انسان ریاضات و مجاہدات کے ذریعے نفس کشی کرے اور عملی زندگی میں حصہ لینے یا دنیا میں شرکت کرنے کے بجائے فکر و مراقبہ اور کشف باطنی کی کوششوں میں الجھا رہے۔اس نظریے کو نو فلاطونیت نے فنافی الاِلٰہیت کا رنگ دے کر انسان کو عقل و فکر اور تجربی ذہنیت کی طرف سے ہٹا کر وجدان اور کشف کی طرف متوجہ کر دیا جس کا مقصد یہ تھا کہ آدمی ذاتی طور پر روحانی سکون حاصل کرتا ر ہے خواہ گرد و پیش کی دنیا میں انسانیت پامال ہو رہی ہو، روحانی اقدار کو کچلا جارہا ہو اور عدالتی انسانی کی اعلانیہ تکذیب کی جا رہی ہو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری جوانی عبادت میں گزار کر آخری عمر میں معاشرے اور قوم کی اصلاح کی۔ یہ ہندومت کے فلسفہ حیات سے کتنا مختلف طرز عمل تھا جس کی تعلیم یہ ہے کہ آخری عمر میں انسان کو دنیا چھوڑ کر پہاڑوں اور جنگلوں میں ریاضات و مجاہدات کرنے چاہے۔ اس کو اسلام کی اجتماعیت سے سمجھتے ہیں۔ اسلام سے پہلے فلاطونی فکر، نو فلاطونی فلسفہ اور عیسائی رہبانیت نے مل جل کر انسان پر روحانیت کا ایک الگ طریقے سے انفرادیت کا تصور مسلط کر دیا تھا، کہ ہر انسان اپنی نجات و سعادت خود غرضانہ طور پر اور دوسرے انسانوں کی فلاح و صلاح سے بے تعلق ہو کر محض رسمی اور ظاہری عبادات ، راہبانہ ترک زندگی کے طریقے سے حاصل کر سکتا ہے۔ اسلام نے بتایا کہ انسانی فلاح معاشرتی اور اجتماع کی نوعیت پر منحصر ہے۔
اگر معاشرہ بحیثیت مجموعی اور جماعت مِن حَیثُ الکُل غلط اصولوں اور غیر منصفانہ بنیادوں پر قائم ہو تو کوئی فرد محض اپنی انفرادیت سے فلاح یافتہ نہیں بن سکتا۔ ایک فرد کی فلاح تمام افرادی انسانی کی فلاح کے ساتھ وابستہ ہے اور اشخاص کی سعادت کا دارو مدار معاشرے کی خوبی تنظیم پر ہے، اور دوسرے الفاظ میں ہماری ذاتی نجات کا انحصار اس پر ہے کہ تمام افراد معاشرہ کو نجات و سعادت کے وسائل حاصل ہوں۔
پھر اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے سب سے پہلے یہ سائنٹیفک تصور پیش کیا کہ کائنات عالم چند مقررہ قوانین و ضوابط کے مطابق چل رہی ہے او کیسی بے اصول اور بے آئین ہستی کی تخلیق نہیں جو بلاکسی منظم ارادے، مقصد اور بغیر کسی ضابطہ مشیت کے اسے حرکت دے رہا ہو ۔ دوسرے الفاظ میں جدید سائنسی اور علمی زاویہ نگاہ ، جس کی رو سے حیات و کائنات کی تمام تبدیلیاں ، تاریخ کے تمام انقلابات اور معاشرت و تمدن کے سارے متغیر مظاہر اسبابِ علل کے ایک سلسلے کے تحت اور ایک خاص قانون اور ضابطے کے مطابق ظہور پذیر ہوتے ہیں ، اسلامی تعلیمات کی لازمی اور منطقی پیدا دار ہے۔
اسلام سے پہلے خدا کا تصور تو موجود تھا مگر خدا کے قوانین کا تصور ناپید تھا۔ چنانچہ پہلے تو قرآن نے خدا اور اس کی کائنات کے با مقصد ہونے کا اعلان کیا :وما خلقنا السماء والأرض وما بينهم لٰعبين ، لو اردنا ان نتخذ لهواً لا تخذناه من لدنا ان كنا فاعلين، بل نقذف بالحق على الباطل فیدمغه فاذا هو زاهق (الآیۃ) ( انبیاء : ۱۶/۲۱-۱۷-۱۸)اور ہم نے آسمان و زمین اور اس کے درمیان جو کچھ ہے اس کو ہنسی مذاق میں نہیں پیدا کیا اگر ہم محض لہو و لعب کے لیے اسے بناتے تو ہمارے پاس اس کے اور طریقے بھی تھے۔
اصل بات یہ ہے کہ حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں اور باطل اسی دم ملیا میٹ ہو جاتا ہے۔اس آیت میں یہ صاف بتا دیا گیا ہے کہ واقعاتِ کائنات (واقعاتِ عالم) یونہی بے مقصد اور بے ربط نہیں بلکہ ان کے اندر ایک خاص قانون کے مطابق حق کی فتح اور باطل کی شکست کا ظہور ہوتا ہے۔الحاصل، اسلامی تعلیمات نے ان تمام فکری الجھنوں کی عمارت زمین بوس کردی ہے جن کی بنیاد پر فلاطونی فلسفہ اور نو فلاطونیت قائم تھی ۔ *(از اسلام اور مذاہبِ عالم ص، ۱۱۷ تا ۱۲۳ مع ترمیمِ یسیر)*
