بیوہ عدت وفات کہاں گزارے؟
ایک عورت اپنے چھوٹے بیٹے کے گھر رہائش پذیر تھی،اس کا شوہر بڑے بیٹے کے گھر رہائش پذیر تھا،دونوں گھروں کے درمیاں تقریبا ایک کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔کچھ دن پہلےاس کے شوہر کی وفات بڑے بیٹے کے گھر پر ہوئی تو وہ بھی اس موقع پر بڑے بیٹے کے گھر آگئی۔اب عورت عدت چھوٹے بیٹے کے گھر گزار سکتی ہے جبکہ چھوٹا بیٹا اکثر ملک سے باہر رہتا ہے،اس کے گھر والوں کے ساتھ رہنے کے لئے کوئی ہے بھی نہیں۔
الجواب
شوہر کی وفات کے وقت بیوہ کی مستقل رہائش جس گھر میں ہو اس گھر میں عدت گزارنا ضروری ہے،لہٰذا اس عورت کو جلد ازجلد اپنے چھوٹے بیٹے کے گھر واپس آنا چاہیے۔
(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه. (تنویر الأبصار مع الدر المختار:3/ 536)
(قوله: في بيت وجبت فيه) هو ما يضاف إليهما بالسكنى قبل الفرقة ولو غير بيت الزوج كما مر آنفا، وشمل بيوت الأخبية كما في الشرنبلالية.( رد المحتار مع الدر المختار:3/ 536)
على المعتدة أن تعتد في المنزل الذي يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة والموت كذا في الكافي.لو كانت زائرة أهلها أو كانت في غير بيتها لأمر حين وقوع الطلاق انتقلت إلى بيت سكناها بلا تأخير وكذا في عدة الوفاة كذا في غاية البيان. (الفتاوى الهندية :1/ 535)
99:فتویٰ نمبر
