سودی بینک کے ملازم کی بیٹی سے نکاح کا حکم

میرا رشتہ ایک جگہ طے ہونا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لڑکی کا والد سودی بینک میں منیجر ہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا میرے لیے ایسی جگہ رشتہ کرنا درست ہے؟اگر درست ہے تو ظاہر ہے کہ رشتہ ہونے کی صورت میں ان کے ہاں دعوت میں بھی جانا ہوگا اور ان کی طرف سے تحائف بھی آئیں گی ان کا میرے لیے کیا حکم ہوگا؟

الجواب

صورت مسئولہ میں آپ کیلئے اس لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے،البتہ ان کےہاں کھانے پینے یا ان سے کوئی چیز ہدیہ ،تحفہ لینےمیں یہ تفصیل ہے کہ اگروہ کسی حلال مال سےیا ایسے مخلوط مال سے جس کا غالب حلال ہو، ہدیہ تحفہ دیں تو لینا جائز ہےاور اگر حرام مال یا ایسےمخلوط مال سے دیں جو زیادہ تر حرام سےہو تو لینا جائز نہیں،لہٰذانکاح سے پہلے اور بعدمیں اس بات کا اہتمام کریں کہ لڑکی کے والد کی حرام آمدنی کے استعمال سے بچ سکیں۔

اور اگر شادی کے بعد مجبوراً حرام آمدنی سے کھانےپینے کا اندیشہ ہو یا سسرال والوں کی طرف سے حرام آمدنی سے کھلانے پر اصرار کرنے کا اندیشہ ہو تو آپ کوچاہئے کہ شادی سے پہلے ہی ان پر پوری صورت حال واضح کر دیں اور اپنی معذوری ظاہر کردیں یا ان کو اس پرآمادہ کریں کہ وہ آپ کیلئے الگ سے حلال مال سے دعوت وغیرہ کا انتظام کریں گے۔

بہرحال حرام کھانے پینے سے بچتے ہوئے مذکور ہ شخص کی لڑکی سے نکاح ہوسکتا ہے۔

(هو) عند الفقهاء (عقد يفيد ملك المتعة) أي حل استمتاع الرجل من امرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي فخرج الذكر والخنثى المشكل والوثنية لجواز ذكورتهوالمحارم والجنية وإنسان الماء لاختلاف الجنس وأجاز الحسن نكاح الجنية بشهود قنية (قصدا) خرج ما يفيد الحل ضمنا، كشراء أمة للتسري.

(تنویر الأبصار مع الدر المختار ورد المحتار:3/ 4)

(قوله: من امرأة إلخ) من ابتدائية والأولى أن يقول بامرأة والمراد بها المحققة أنوثتها بقرينة الاحتراز بها عن بالخنثى، وهذا بيان لمحلية العقد قال في البحر بعد نقله عن الفتح: إن محليته الأنثى والأولى أن يقال: إن محليته أنثى محققة من بنات آدم ليست من المحرمات وفي العناية محله امرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي فخرج الذكر للذكر والخنثى مطلقا والجنية للإنسي، وما كان من النساء محرما على التأبيد كالمحارم. اهـ. وبه ظهر أن المراد بالنكاح في قوله لم يمنع من نكاحها العقد لا الوطء؛ لأن المراد بيان محلية العقد، ولذا احترز بالمانع الشرعي عن المحارم، فالمراد منه المحرمية بنسب أو سبب كالمصاهرة والرضاع، وأما نحو الحيض والنفاس والإحرام والظهار قبل التكفير فهو مانع من حل الوطء لا من محلية العقد فافهم.( رد المحتارمع الدر المختار:3/ 4)

أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع. (الفتاوى الهندية :5/ 342)

متعلقہ فتاویٰ