وکیل کی ایسی خلاف ورزی جس میں موکل کا فائدہ ہو
مجھے کسی نے دس ہزار روپے قربانی کا جانور خریدنے کے لئے دیے اور مجھے اپنا وکیل بنایا ،میں نے اس کے لیے جانور بارہ ہزار کا خریدا ،دو ہزار روپے میں نے اپنی طرف سے تبرعا دیے لیکن اس کے لیے میں نے اس سے اجازت نہیں لی تھی اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ قربانی اس موکل کی طرف سے ہوئی کہ نہیں؟
الجواب
وکیل کی ایسی خلاف ورزی جس میں موکل کا فائدہ ہو
مذکورہ صورت میں خریداری کے وقت اگر چہ آپ نے اپنے موکل کےحکم کی خلاف ورزی کی ہے لیکن اس خلاف ورزی میں چونکہ موکل کا فائدہ ہے کیونکہ آپ نے دو ہزار روپے تبرعا دیے ہیں جو ان سے نہیں لینے، اس لئے اس خلاف ورزی سے وکالت پر کوئی اثر نہیں پڑےگا- لہذا یہ جانور موکل کے لئے متعین ہو گا اور قربانی موکل کی طرف سےدرست ہو گی
(وأما) الوكيل بالشراء فالتوكيل بالشراء لا يخلو إما أن كان مطلقا أو كان مقيدا، فإن كان مقيدا يراعى فيه القيد إجماعا لما ذكرنا، سواء كان القيد راجعا إلى المشترى أو إلى الثمن، حتى إنه إذا خالف يلزم الشراء إلا إذا كان خلافا إلى خير فيلزم الموكل. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :6/ 29)
التوكيل بالشراء إذا كان مقيدا يراعى فيه القيد إجماعا، سواء كان القيد راجعا إلى المشترى أو إلى الثمن، حتى إنه إذا خالف يلزمه الشراء إلا أنه إذا كان خلافا إلى خير فيلزم الموكل.
(الفتاوى الهندية:3/ 574)
"والأفضل أن يذبح أضحيته بيده إن كان يحسن الذبح” وإن كان لا يحسنه فالأفضل أن يستعين بغيره، وإذا استعان بغيره ينبغي أن يشهدها بنفسه لقوله عليه الصلاة والسلام لفاطمة رضي الله عنها: "قومي فاشهدي أضحيتك، فإنه يغفر لك بأول قطرة من دمها كل ذنب”. (الهداية:4/ 361)
