قیام پاکستان کا پس منظر اور حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی فکری رہنمائی

تقسیم ہند کا منصوبہ

برصغیر پاک و ہند میں برطانی سامراج کی آمد بنیادی طور پر تجارت کی غرض سے ہوئی تھی، لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے اپنے قدم جمائے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس وسیع و عریض خطے کے سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے۔ اس دور میں برصغیر اپنی معاشی خوشحالی کی وجہ سے دنیا بھر میں سونے کی چڑیا کے نام سے مشہور تھا، اسی لیے اسے لوٹنے کے لیے ایک منظم منصوبہ بندی کی گئی اور یہاں کے باسیوں پر ظلم و تشدد کا بازار گرم کیا گیا۔ انگریزوں نے یہاں اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے لڑاؤ اور حکومت کرو کا اصول اپنایا اور مقامی آبادی کو باہمی طور پر دست و گریبان کر دیا۔ جب برصغیر کے مسلمانوں اور دیگر اقوام کی تین نسلیں اس جبر و استبداد کو سہہ چکیں، تو انہیں ہوش آیا کہ اگر یہی حالات رہے تو وہ قیامت کی صبح تک محکوم اور مظلوم بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔ اسی احساس کے نتیجے میں برطانوی سامراج سے نجات کی جدوجہد کا آغاز ہوا اور ایک طویل و صبر آزما محنت کے بعد برطانوی حکومت یہاں سے نکلنے پر مجبور ہوگئی، تاہم وہ یہاں سے فرار کے لیے کسی باعزت طریقے کی تلاش میں تھے، جس کے لیے انہوں نے ہندوستانیوں کو اقتدار کی منتقلی کی راہ اپنائی۔

قیام پاکستان کا پس منظر اور حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی فکری رہنمائی

برطانوی وزیر اعظم کلیمنٹ ایٹلی کے اعلان کے بعد جب ہندوستان میں برطانوی اقتدار کا سورج غروب ہونے کے قریب تھا، تو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو ہندوستان کا آخری وائسرائے بنا کر بھیجا گیا۔ وہ 22 مارچ 1947ء کو ہندوستان پہنچے اور 24 مارچ کو انتیسویں گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ حلف اٹھانے کے فوراً بعد انہوں نے تمام بااثر سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں شروع کیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے وائسرائے پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ، بلوچستان، صوبہ سرحد، پنجاب، بنگال اور آسام کے صوبوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار پاکستان چاہتے ہیں۔ دوسری طرف کانگریسی لیڈروں نے اس شرط پر تقسیم کی ہامی بھری کہ پنجاب اور بنگال کے صوبے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہوں گے اور متعلقہ علاقوں کے عوام کی مرضی بھی معلوم کی جائے گی۔ ان ملاقاتوں کے بعد وائسرائے اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ متحدہ ہندوستان کا خواب اب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ لندن کے اخبار سنڈے ابزرور نے بھی اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ تقسیم ہی انتشار کو ختم کرنے کا واحد منطقی راستہ ہے۔

اس فیصلہ کن مرحلے پر وائسرائے نے ایک منصوبے کا خاکہ تیار کیا جس کا مقصد دو ایسی ریاستوں کا قیام تھا جنہیں ڈومینین اسٹیٹس حاصل ہو۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن اس منصوبے کی منظوری کے لیے 18 مئی 1947ء کو لندن روانہ ہوئے، جہاں دس دن تک برطانوی کابینہ کے اجلاسوں میں اس پلان کے ہر پہلو کا جائزہ لیا گیا۔ 28 مئی کو منصوبے کو آخری شکل دی گئی اور وائسرائے 30 مئی کو واپس ہندوستان پہنچے۔ 2 جون 1947ء کو ایک تاریخ ساز اجلاس ہوا جس میں قائد اعظم، جواہر لال نہرو اور سکھوں کی طرف سے بلدیو سنگھ نے شرکت کی۔ 3 جون 1947ء کو آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس دونوں نے اصولی طور پر اس منصوبے کو تسلیم کر لیا۔ مسلم لیگ نے اس منصوبے کو کے طور پر بامر مجبوری قبول کیا، کیونکہ دستاویزات سے ثابت ہے کہ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو انگریز اقتدار کانگریس کے حوالے کر دیتے اور مسلمان ہندوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے جاتے۔ بالآخر 14 اگست 1947ء کو پاکستان کی آزادی کا اعلان ہوا۔

پاکستان کا ابتدائی تصور

پاکستان کے قیام کی تحریک میں جہاں سیاسی جدوجہد شامل تھی، وہیں اس کا ایک گہرا علمی اور روحانی پس منظر بھی تھا۔ جون 1928ء میں جب مولانا عبد الماجد دریا بادی کی ملاقات حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ سے ہوئی، تو حضرت تھانویؒ نے ایک ایسی اسلامی ریاست کی خواہش کا اظہار کیا جہاں قوانین و تعزیرات کا اجراء شریعت کے مطابق ہو، بیت المال اور زکوٰۃ کا نظام قائم ہو اور شرعی عدالتیں کام کریں۔ آپ کا موقف تھا کہ دوسری قوموں کے ساتھ مل کر یہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا ابتدائی تصور اور اس کے شرعی خدوخال حضرت تھانویؒ نے پیش کیے تھے۔ مولانا عبد الماجد دریا بادی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ خالص اسلامی ریاست کا یہ تخیل سب سے پہلے تھانہ بھون سے اٹھا اور علامہ اقبال نے 1930ء میں اس تصور کو مزید واضح کر کے پیش فرمایا۔

مسلم لیگ کی حمایت اور دو قومی نظریہ

تحریک پاکستان کے نازک مرحلے پر قائد اعظم کی جماعت مسلم لیگ کو علماء کرام کی تائید کی سخت ضرورت تھی۔ چنانچہ 10 فروری 1938ء کو حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے مسلم لیگ کی حمایت میں ایک مفصل فتویٰ جاری کیا جو تنظیم المسلمین کے نام سے شائع ہوا۔ اس سے قبل جھانسی الیکشن کے موقع پر بھی، جو کہ مسلم لیگ کا کانگریس سے الگ ہو کر پہلا الیکشن تھا، حضرت تھانویؒ نے لیگ کی بھرپور حمایت فرمائی۔ آپ شروع ہی سے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست اور جداگانہ تنظیم کے زبردست داعی تھے اور اسی فکر و نظر کو بعد میں دو قومی نظریہ کے نام سے شہرت ملی۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں الگ آزاد مسلم ریاست کے لیے راہ ہموار کرنے میں حضرت حکیم الامتؒ اور آپ کے رفقاء کار کا بنیادی کردار ہے۔

23 اپریل 1943ء کو دہلی میں مسلم لیگ کے اجلاس کے موقع پر حضرت تھانویؒ کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ دعوت نامے میں استدعا کی گئی کہ آپ تشریف لائیں تاکہ آپ کے ارشادات سے رہنمائی حاصل کی جا سکے اور دعاؤں کی درخواست کی گئی کہ اللہ تعالیٰ مطالبہ پاکستان منوا دے تاکہ اسلامی سلطنت قائم ہو۔ اس کے جواب میں حضرت تھانویؒ نے ارکان مسلم لیگ کے نام ایک خط لکھا جس میں ان کے عزائم کی تعریف کی اور قرآنی آیات کے حوالے سے ان کی حوصلہ افزائی فرمائی۔

علم • سوچ • عمل

متعلقہ فتاویٰ