#پہلی بین الاقوامی سربراہی کانفرنس برائے یونیورسٹی چانسلرز ، الغزالی یونیورسٹی کراچی، منعقدہ 11، 12 اکتوبر 2026ء11 اکتوبر بروز اتوار
نائب مدیر جامعہ اسلامیہ مالیہ مالیزیا محترم جناب ڈاکٹر اضمد فارس صاحب مد ظلہ
⚫ مسلم ممالک کی یونیورسٹیوں اور دنیا کی دیگر بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے درمیان تعلیمی و تحقیقی تعاون وقت کا ناگزیر تقاضا ہے۔
⚫ یونیورسٹیوں میں انگریزی اور عربی زبانوں کے باقاعدہ فروغ پر زور دیا جائے تاکہ طلبہ عالمی علمی وسائل، مراجع اور جدید تحقیق سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
⚫ نصابِ تعلیم کو محض مادی اور خالص مغربی تصورات تک محدود رکھنے کے بجائے اس میں اسلامی نقطۂ نظر اور روحانی پہلو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔
⚫ تعلیم کو حقیقی معنوں میں انسان دوست بنایا جائے۔ صرف معلومات اور ڈگریاں دینا ہی مقصود نہ ہو بلکہ انسان کی ہمہ جہت فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت بھی ہو۔
⚫ تعلیمی اداروں کا مطمحِ نظر یہ ہونا چاہیے کہ وہ اسلامی دنیا کو ایسے باصلاحیت افراد فراہم کریں جو مستقبل میں امتِ مسلمہ کی علمی اور عملی قیادت کا فریضہ سنبھال سکیں۔
⚫ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیا کا وژن اور مشن توحیدی تصورِ علم (Tawhidic Epistemology) تمام علوم اور تعلیمی ترقی کی بنیاد ہے ۔🔴 یونیورسٹیوں کے روایتی تعلیمی ڈھانچے کو بدل کر نئے تدریسی طریقے (New Pedagogy) اور امتحانات و جانچ کے جدید اسالیب (New Assessment Methods) اپنانا ضروری ہے
🔴 یہ حقیقت ہے کہ عصرِ حاضر کے طلبہ پچھلی دہائی کے طلبہ سے ذہنی رجحانات، ضروریات اور سیکھنے کے انداز میں بالکل مختلف ہیں۔ موجودہ نسل کی غیر معمولی تکنیکی صلاحیتوں اور جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر اور جدید تعلیمی حکمتِ عملی وضع کی جائے۔
🔴 طلبہ کی عملی و فکری ضروریات کے مطابق تعلیمی ماحول فراہم کر کے ہی تدریسی عمل کو زیادہ مؤثر، پرکشش اور نتیجہ خیز بنایا جا سکتا ہے۔
🔴 اسلامی اقدار اور روحانی شعور کو جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور مؤثر تعلیمی طریقوں کے ساتھ مربوط کر کے باوقار مسلم قیادت تیار کی جا سکتی ہے۔میڈیا رپورٹنگ ٹیم

