ایرانی اعتراف، مارخور کی آخری وارننگ اور تہران میں لرزہ
۔========================
یمن کے محاذ پر لگی آگ کی تپش ابھی مدہم نہیں ہوئی تھی کہ ریاض، راولپنڈی اور عدن کے خفیہ سائنسی نیٹ ورکس نے پردہِ سیمیں پر ایک ایسا دھماکہ کر دیا۔ جس نے تہران کے ایوانوں کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ وہ گہرا سسپنس، جسے ایرانی عسکری منصوبہ ساز اپنی حتمی اور خفیہ ترین چال سمجھ رہے تھے۔ اب مکہ اتحاد کے سامنے برہنہ ہو چکا تھا۔ گذشتہ 48 گھنٹے
عالمِ اسلام کی تاریخ کے سب سے سنسنی خیز اور اعصاب شکن گھنٹے ثابت ہوئے تھے۔
شواہد کی گونج:
ریاض اور عدن کا فرانزک سچ
پچھلے دو روز سے مکہ اتحاد کی جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) اور راولپنڈی کے اعلیٰ ترین سائنسدان عدن اور ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر گرنے والے کروز میزائلوں کے ملبے کا خردبینی جائزہ لے رہے تھے۔
ایرانی یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ان کے جدید ترین، سٹیلتھ خصوصیات کے حامل کروز میزائلوں کا سراغ لگانا ناممکن ہے۔ اور ان کی راکھ سے کوئی سچ نہیں اگلوا سکے گا۔
لیکن جب فرانزک رپورٹ کی فائنل فائل بند ہوئی۔ تو وہ تہران کے لیے ڈیتھ وارنٹ بن چکی تھی۔ رپورٹ کے چونکا دینے والے انکشافات نے ثابت کیا کہ:
¤ میزائلوں کا ایک ایک پرزہ، گائیڈنس سسٹم کی چِپ سے لے کر فیول ٹینک کی دھات تک، سو فیصد ایرانی ساختہ تھا۔
¤ ڈیجیٹل فٹ پرنٹس اور سیٹلائٹ ٹریکنگ نے یہ ناقابلِ تردید حقیقت اگل دی کہ دو میزائلوں کے لانچ پیڈز یمن سے نہیں، بلکہ براہِ راست ایران کی سرزمین سے اپریٹ کیے جا رہے تھے۔
یہ سفارتی لبادے میں چھپے بھیڑیے کا وہ چہرہ تھا ۔جو اب دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا تھا۔ان پختہ اور ہولناک ثبوتوں کو اپنی جیب میں رکھ کر پاکستان کے سپہ سالار نے ایک ایسا فیصلہ کیا۔ جس کی توقع تہران کو خواب میں بھی نہیں تھی۔
تہران کا دربار: تکبر کا جلال اور مارخور کا کمال۔اسلام آباد سے اڑنے والا خصوصی طیارہ جب تہران کے عسکری ہوائی اڈے پر اترا۔ تو وہاں کی فضا میں ایک عجیب سی کھلبلی مچ چکی تھی۔ ایرانی کمانڈرز کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ پاکستانی سپہ سالار کا اس وقت یہاں پہنچنا کسی عام دورے کا حصہ نہیں بلکہ ایک خوفناک طوفان کا پیش خیمہ ہے۔
ایک وسیع و عریض کانفرنس ہال میں جب دونوں ممالک کے عسکری وفود آمنے سامنے بیٹھے۔ تو ایرانی سپہ سالار کے لہجے میں روایتی تکبر، مکارانہ مسکراہٹ اور عجم کا قدیم غرور نمایاں تھا۔ وہ پاکستانی جنرل کو مرعوب کرنے کے انداز میں کرسی پر پیچھے کو ہوا اور انتہائی مغرور لہجے میں بولا:
"جنرل صاحب! ہمیں معلوم ہے آپ یہ فائلیں لے کر کیوں آئے ہیں۔ چلیے، ہم اعتراف کرتے ہیں۔ ہاں! وہ جدید کروز میزائل ہم نے ہی فائر کیے تھے۔ لانچ پیڈز بھی ہمارے تھے۔ لیکن آپ اتنے غصے میں کیوں ہیں؟ ہم نے وہ میزائل آپ کے ملک پاکستان پر تو فائر نہیں کیے۔ وہ تو عربوں کے ٹھکانوں پر گرے ہیں۔ آپ خواہ مخواہ اس جنگ میں کیوں کود رہے ہیں؟”
ایرانی سپہ سالار کے اس جاہلانہ تکبر پر پاکستانی سپہ سالار کے چہرے پر نہ کوئی شکن آئی۔ نہ غصے کا اظہار ہوا۔ بلکہ ان کی آنکھوں میں مارخور کی وہ سرد اور مہلک چمک نمودار ہوئی جو شکار کو دبوچنے سے پہلے پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے فرانزک رپورٹ کی فائل کو آہستہ سے میز پر سرکایا۔ ایرانی سپہ سالار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور سحر انگیز مگر لوہے جیسی مضبوط اور گرجدار آواز میں بولے:
"جنرل! شاید آپ اقتدار کے نشے اور تکبر میں مکہ اتحاد کی بنیاد بھول چکے ہیں۔ ہم آپ کو پہلے بھی کئی بار برادرانہ طور پر خبردار کر چکے ہیں۔ اور آج آخری بار یاد دلا رہے ہیں۔ کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارا صرف سفارتی تعلق نہیں۔ بلکہ ایک اٹوٹ دفاعی معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کی روح سے۔ جو کوئی بھی سعودی عرب کی مقدس سرزمین پر آنکھ اٹھا کر دیکھے گا یا اس پر حملہ کرے گا۔۔۔ اس کا ہر وار براہِ راست پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا!”
پاکستانی جنرل نے میز پر تھوڑا سا آگے جھکتے ہوئے اپنے لہجے کو مزید کاٹ دار بنایا:
"آپ تاریخ کے آئینے میں دیکھ کر خود سمجھدار ہیں کہ جب ہم جواب دینے پر آئیں گے۔ جب مارخور جنات اور شاہین اپنے حتمی قہر کے ساتھ جھپٹیں گے۔ تو پھر ہم آپ کے ساتھ وہ کچھ کریں گے کہ آپ امریکہ اور اسرائیل کی دشمنی کو بھول جائیں گے۔
پورے ہال پر گہری اور سکتہ طاری کر دینے والی خاموشی چھا گئی۔ ایرانی وفد کے سانس حلق میں اٹک گئے جب پاکستانی سپہ سالار نے ان کے ضمیر پر آخری اور کاری ضرب لگائی:
"ہمیں افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ آپ کے یہ بڑے بڑے، جدید میزائل جن کا پروپیگنڈا آپ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف کرتے ہیں، وہ ہمیشہ معصوم مسلمان ممالک کے شہروں اور تربیتی مراکز پر برستے ہیں۔ اسلام کی رو سے بھی ۔ یہ بھائی کا خون بہانے کے مترادف ہے۔ اور اس کا خمیازہ پورے عالمِ اسلام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
پاکستانی جنرل نے کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے، ایرانی سپہ سالار کو حتمی وارننگ دی:
"یہ ہماری آخری اور قطعی وارننگ سمجھ لو! یمن میں موجود اپنی تمام پراکسیز اور حوثیوں کو فوراً اور اسی وقت ہتھیار ڈالنے کا حکم دو، اور خود بھی اپنی حدود میں رہنا سیکھو۔ اور ہاں! بلوچستان کے اندر انڈیا کے سرمایے اور را (RAW) کی مدد سے جو کچھ آپ کر رہے ہو نا۔۔۔ اس کے ایک ایک مہرے، ایک ایک ٹھکانے اور ایک ایک سازش کی رپورٹ ہمارے پاس موجود ہے۔ اگر ہم نے وہاں صفائی شروع کی، تو تہران تک صف ماتم بچھ جائے گی۔ خود کو سنبھال لو، اس سے پہلے کہ مکہ اتحاد کا اگلا ہدف تہران کے بنکر بن جائیں!”
امید کی سحر اور عدن کا منظر۔ پاکستانی سپہ سالار کا یہ جرآتمندانہ اور سحر انگیز موقف تہران کے ایوانوں کو لرزا چکا تھا اور وہاں کے منصوبہ سازوں کا تکبر مٹی میں مل چکا تھا۔
دوسری طرف، پچھلے 48 گھنٹوں کی مسلسل بمباری کے بعد یمن کا منظر بدل رہا تھا۔ رات کے گھپ اندھیرے میں، عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے پر پاکستان ایئرفورس کے سی-130 ہرکولیس طیاروں کے بھاری انجن گرج رہے تھے۔ یہ طیارے جردان کے خونی حملے میں زخمی ہونے والے عرب بھائیوں کے لیے جدید ترین طبی امداد لے کر پہنچے تھے، اور ساتھ ہی اگلے محاذوں کے لیے مکہ اتحاد کے تازہ دم کمانڈوز کی نئی کھیپ اتار رہے تھے۔
چاند کی مدہم روشنی جب طیاروں کے پروں پر پڑی، تو وہاں چمکتا ہوا ہلال اور ستارہ یمن کے مظلوموں کے دلوں میں امید کی نئی سحر اور دشمنوں کے لیے نیست و نابود ہو جانے کا حتمی پیغام لکھ رہا تھا۔ اب بساط پلٹ چکی تھی، شرائط اب مکہ اتحاد کے مارخور اور غیبی جنات لکھ رہے تھے، اور قلم شہداء کے خون کا تھا۔
جو کچھ میں نے اس تجزیے میں لکھا ہے وہ سب کچھ سچ ہے۔ کیونکہ مکہ اتحاد حوثی ملیشیا کہ تمام لانچنگ پیڈ اور یمن میں موجود تمام وار سینٹرز کو ایک ایک کر کے نشانہ بنا رہے ہیں لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ کروز میزائلوں کے لانچنگ پیڈ کا سراغ ایرانی سرزمین پر مل رہا ہے۔ یہی سب کچھ ثبوتوں کے ساتھ اور اخری ریکویسٹ کرنے گئے تھے۔
اپ نے پریشان نہیں ہونا ہے۔ پاکستان کا یہی سٹائل ہے۔۔۔
پاکستان منتیں کرتا ہے ۔پاؤں پکڑتا ہے۔ داڑھی کو ہاتھ لگاتا ہے۔ کہ باز آ جاؤ۔ ان حرکتوں سے منع ہو جاؤ۔لیکن جب کوئی نہیں مانتا ہے تو پاکستان مارتا ہے۔ پھر مارتا ہے ۔اور پھر مزید مارتا ہے۔ گنتا بھی نہیں ہے ۔اور مانتا بھی نہیں ہے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔ پاک فوج زندہ باد
مکہ اتحاد پائندہ باد
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
۔💪⚔️🇵🇰⚔️💪
(بشکریہ:خالد پرویز)
