موجودہ کائناتی اجسام کے لیے طبیعیات کے قانون اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں۔

سوال: صحیح مسلم میں ہے کہ” اس قیامت کے روز جہنم کو لایا جائے گا، اس کی

ستر ہزار لگامیں ہوں گی، ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہو گے “ ( حدیث2842 )

مطلب ابھی سارا نظام کسی قانون کے تحت چل رہا ہے جو انسانی سوچ کے مطابق جو اس نے دیکھا سیکھا سے یہی پتا لگایا کہ ان سب کو فرشتوں نے نہیں سہارا دیا ہوا شائد میں غلط بھی ہو لیکن جہنم جیسے سیارہ جسم کو جکڑ کر لایا جائے گا تو کیا وہ بھی انہی طبیعیاتی قانون کے مطابق کام نہیں کریں گی۔

سوال صرف یہ ہے کہ موجودہ کائناتی اجسام کے لیے طبیعیات کے قانون اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں۔ جیسے ان تمام اجسام کی روٹیشن اور خلا میں معلق، تو جب انہیں جیسی چیزیوں کے لیے متبادل پہلو بتائیں جائے تو انسان کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے۔

الجواب بتوفیقِ اللّٰه تعالیٰ

موجودہ کائنات یا مابعد الطبیعیات قوانین اور جنہم یا جنت، ان کے بارے میں ہم دو باتیں کہہ سکتے ہیں (1) یا ہمیں جو چیزیں نظر آرہی ہے ان کے پیچھے طبعیاتِ قوانین (لاء آف نیچر) کار فرما ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نظامِ عالم ( کائنات) کے لئے بنائی ہے، اسے کے مطابق اللّٰه کے حکم سے سب چیزیں کام کر رہی ہے ۔

یہ بلکل درست عقل (سائنسی ) اور نقل ( قرآن وسنت) کے مطابق ہے ۔

(2) دوسری بات یہ کہ جن اشیاء کو ہم دیکھ رہے ہیں جو طبعیاتِ قوانین کے تحت چل رہے ہیں ان کے ان نظام کے پیچھے کسی اؤر قوّت (فرشتوں) کی دخل اندازی ہو یہ بات عقلی طور پر سمجھ نہیں آرہی، البتہ قرآن وسنت میں جہاں اس کا اثبات ( دخل اندازی کا وجود ہو) تو ہم مانیں گے ۔

یہ بات بھی درست ہے، یہاں صرف عقلی طور پر اس تشویش کو دور کرنا درکار رہتا ہے جس کی وضاحت میں نے اوپر مثال کے ساتھ کیا ہے کہ کسی کام کا طبعیاتِ قوانین کے تحت بظاہر نظر آنا یہ کسی دوسری قوت کی دخل اندازی کی نفی کو مستلزم نہیں، جس خالق ( اللّٰہ تعالیٰ) نے طبیعیاتِ قوانین بنائے ہے اسی نے ان کے چلانے کے لیے ایک دوسری قوّت ( فرشتوں) کو بھی مقرر کیا ہے، ہمیں الجھن اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ایک کا مشاہدہ ہوتا ہے اور دوسرے کا نہیں۔

مثلاً اچانک موت، حادثاتِ اموات، جنگی اموات وغیرہ ظاہری سبب کو دیکھ کر ہمیں یہ مغالطہ ہوتا ہے کہ بس اصل وجہ یہی ہے کوئی دوسری وجہ یہاں شامل نہیں ۔
جب کوئی اچانک مر جاتا ہے ہارڈ اٹیک وغیرہ کی وجہ سے، اسی طرح گاڑی حادثے وغیرہ میں تو عام طور پر ہم اس کی موت کے پیچھے وہی کار فرما امور کو وجہ قرار دیں تے ہیں جو طبعی طور پر اس کی موت کا سبب بنا ہیں لیکن کیا اس سے اس بات کی انکار کر سکتے ہیں کہ اس کی موت کے پیچھے ملک الموت فرشتوں کا اصل دخل ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکم کے مطابق انسان کا روح قبض کر لیتا ہے اور وہ مر جاتا ہے ۔

تو سمجھانا صرف یہ ہے کہ طبعیات کا مشاہدہ ہوتا ہے اس لئے اسے سبب قرار دیا جاتا ہے لیکن اس سے فرشتوں کا دخل اندازی جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہو رہی ہے، نفی نہیں کیا جا سکتا ہے ۔

آخری بات جہنم اور عرش الہٰی کے حوالے سے، یہاں ہمیں ایک بات سمجھنی چاہیے وہ یہ کہ اسلام نے جن ما بعد الطبیعیات امور کے بارے میں خبر دی ہے ہمیں ان کو اسی طرح تسلیم کرنا ہے جیس طرح ہمیں خبر دی گئی ہے کیونکہ ہمارے اذہان اور عقول ان کی ادراک ( کامل حقیقت جاننے سے ) قاصر ہے ۔

جہنم کو فرشتوں کے ذریعہ قیامت کے دن قریب لایا جائے گا۔ ہمیں یہ یقین کرنا ہوگا کہ ایسا یقیناً ہوگا کیونکہ مخبر صادق ( محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم) نےبتایا ہے، ہمیں جتنا بتایا گیا ہے ہم اسے کے بقدر یقین کے مکلّف ہے ، ہمیں یہ معلوم کرنے کی ضرورت نہیں کہ جنہم بھی سیارہ ہے جو دنیاوی سیاروں جیسے طبعی قوانین کے مطابق ہے جن کے لئے فرشتوں کی ضرورت نہیں یا جہنم کو کس طرح کس کیفیت سے لایا جائے گا فضا میں معلق ہوگا یا کسی چیز پھر رکھ کر لایا جائے گا یا اس کے دنیاوی کسی سیارے پر قیاس کر کے اس کے وجود کی حقیقت کو جان لیں گے وغیرہ، یہ سب قیاس آرائیاں ہیں ۔ اس کی حقیقت کے پورے ادراک سے ہمارے اذہان قاصر ہیں ۔

اسی طرح عرش الہٰی کے حوالے سے جو قرآن و حدیث میں آیا ہے ان کو اسی طرح تسلیم کرنا جس طرح ہمیں بتایا گیا ہے اس پر ایمان رکھنا ہمارے لئے کافی ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور عرش کے حوالے یہ سب امور "متشابہات ” میں سے ہیں جن کا ادراک ہمارے عقول نہیں کر سکتے ۔ ان پر ایمان رکھنا ہمارے لئے کافی ہے ۔

29|10|2026

متعلقہ فتاویٰ