‘‘لندن کے پولیس کانسٹیبل پال کی ایمان افروز کہانی

اللہ نے مجھے چن لیا

’’میں نے اسلام کو نہیں چنا، بلکہ اللہ نے مجھے چن لیا‘‘لندن کے پولیس کانسٹیبل پال کی ایمان افروز کہانی، جنہوں نے مسلمانوں کے کردار سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرلیا۔برطانوی دارالحکومت لندن میں 25 سال سے پولیس کی ملازمت کرنے والے سینئر کانسٹیبل پال ریڈنگ (Paul Reading) اپنی کہانی خود بیان کرتے ہیں۔ ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ (TRT World) نے ان سے تفصیلی گفتگو کرکے ان کی داستان نشر کی ہے۔پی سی پال نے لندن کی ایج ویئر روڈ (Edgware Road) پر 16 برس تک پولیس کانسٹیبل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس دوران ان کا واسطہ بڑی تعداد میں مسلمانوں سے پڑا۔ وہ مسلم خاندانوں، بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کو قریب سے جاننے لگے۔ رفتہ رفتہ انہیں محسوس ہوا کہ مقامی مسلمان انہیں محض ایک پولیس اہلکار نہیں، بلکہ اپنے خاندان کے فرد کی طرح سمجھتے ہیں۔انہوں نے دیکھا کہ ایک مسلمان تاجر نماز کے لیے اپنی دکان چھوڑ کر جاتا ہے تو اس کے چہرے پر عجیب سا اطمینان ہوتا ہے۔ ایک نوجوان روزے کی حالت میں بھی کسی شکایت کے بغیر اپنے کام میں مصروف رہتا ہے، جبکہ ایک نیک دل بوڑھی خاتون ہر صبح انہیں دعائیں دیتی اور اللہ تعالیٰ سے ان کی حفاظت کی دعا کرتی ہے۔مسلمانوں کے ان رویّوں نے پال کو اسلام کے بارے میں جاننے پر آمادہ کردیا۔ انہوں نے قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ حاصل کیا اور اسے پڑھنا شروع کردیا۔ پہلی ہی رات ان پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔ وہ ساری رات سو نہ سکے۔ انہیں محسوس ہوتا تھا جیسے قرآن کی آیات براہِ راست ان کی روح سے مخاطب ہیں۔اس کے بعد وہ پانچ ماہ تک قرآن کریم کو غوروفکر کے ساتھ پڑھتے رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے دو مرتبہ قرآن کریم مکمل کیا۔ بالآخر ایک روز پولیس اسٹیشن کے ایک چھوٹے سے کمرے میں ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور انہوں نے کلمۂ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کرلیا۔ یہ جنوری 2023ء کی بات ہے۔ اس کے بعد ان کی زندگی کا رخ بدل گیا اور انہوں نے نماز کی پابندی بھی اختیار کرلی۔ ان کے بقول، اسلام نے انہیں سکون اور زندگی گزارنے کا ایک واضح مقصد عطا کیا۔اسلام قبول کرنے کے بعد ان کے ساتھی انہیں ’’پال مسلم‘‘ کہہ کر پکارنے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام نے ان کا نام اور ظاہری حلیہ نہیں بدلا، بلکہ ان کے دل اور پوری زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔پال کے مطابق، بعض مسلمان انہیں دعائیں دیتے اور کہتے تھے کہ ان شاء اللہ، ایک دن وہ بھی مسلمان ہوجائیں گے۔ تاہم کسی نے انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ انہوں نے خود اسلام کے بارے میں جاننے اور قرآن کریم کا مطالعہ کرنے کا فیصلہ کیا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اسلام کیوں قبول کیا تو انہوں نے ایک ایسا جواب دیا جو ان کی کہانی کی مرکزی سرخی بن گیا:’’میں نے اسلام کو نہیں چنا، اللہ نے مجھے چن لیا۔ الحمدللہ!‘‘پال کا کہنا تھا کہ انہیں مسلمان ہونے پر کوئی تردد نہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں اس مقام تک کسی مقصد کے تحت پہنچایا گیا ہے۔ مسلم کمیونٹی کے ساتھ اپنے تعلق کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ صرف محلے کے پولیس اہلکار نہیں، بلکہ لوگوں کے لیے بھائی، چچا، بیٹا، بھتیجا اور دوست کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔پال کی داستان کا ایک اور پہلو بھی قابلِ ذکر ہے۔ ویسٹ منسٹر سٹی کونسل کے مطابق، انہوں نے میٹروپولیٹن پولیس میں مجموعی طور پر 25 سال خدمات انجام دیں، جن میں 17 سال ایج ویئر روڈ پر گزرے۔ وہ باکسنگ اور جسمانی تربیت کے کوچ بھی رہے اور تقریباً تین ہزار نوجوانوں کو تربیت دے چکے ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد نماز نے ان کی زندگی میں نظم و ضبط کو مزید مضبوط کیا۔پال کی یہ داستان ہم سب کے لیے ایک اہم سبق رکھتی ہے۔ دین کی دعوت کا بہترین طریقہ حسنِ اخلاق، دیانت داری، نرم گفتاری، وعدے کی پابندی اور انسانوں کے ساتھ اچھا برتاؤ ہے۔ اصل دعوت ہمارا کردار ہے۔ اگر مسلمان اپنے اخلاق اور معاملات میں اسلام کی تعلیمات کی حقیقی تصویر پیش کریں تو ان کا طرزِ زندگی خود دین کا تعارف بن سکتا ہے۔

متعلقہ فتاویٰ