*🎯 تهافت الملاحدة: ایک اہم علمی کاوش*

تھافت الملاحدہ کا سیٹ میرے سامنے رکھا ہے، چند دن قبل منگوایا تھا، مگر آج اسے کھولنے کا موقع ملا، چھ جلدوں پر مشتمل یہ مجموعہ موضوعات کی وسعت اور تنوع کے اعتبار سے توجہ کا مستحق ہے، ہر جلد میں الگ الگ مباحث کو جگہ دی گئی ہے، جن کا تعلق جدید فکری چیلنجز، الحادی اعتراضات اور ان کے علمی جوابات سے ہے۔

☆ پہلی جلد میں "مغربی تہذیب کا تعارف، علمیات اور الہیات” زیرِ بحث ہیں۔

☆ دوسری جلد "نظریہ ارتقاء اور قرآنیات بالخصوص تاریخ و تدوینِ وحی” سے متعلق ہے۔

☆ تیسری جلد میں "قرآن کریم پر کئے جانے والے اعتراضات اور اس کے اعجازات” پر گفتگو کی گئی ہے۔

☆ چوتھی جلد "سیرت و سنت پر اعتراضات کے جوابات” پر مشتمل ہے۔☆ پانچویں جلد میں "لبرلزم اور فیمنزم” کے موضوع سے متعلق ہے۔

☆ چھٹی جلد میں "ہم جنس پرستی، سیکولرازم اور سائنسزم” کی ابحاث پر کلام گیا کیا ہے۔

راقم نے ہر جلد کی فہراست دیکھی ہے اور مختلف جلدوں کے صفحات پر ایک سرسری نظر ڈالی تو متعدد علمی و فکری مباحث سامنے آئے، کہیں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کی سورج کی مثال کے ذریعہ "الہیات” کو واضح کیا گیا ہے، کہیں کلمہ "کُن” کے مفہوم پر گفتگو، کہیں نسخِ قرآن اور خصائص القرآن کی اہمیت، اور کہیں قدیم و جدید ادباء کے اسالیب اور قرآن کریم کے طرزِ بیان کا جائزہ، اسی طرح غزوہ بنی قینقاع کے پس منظر اور اس پر کئے جانے والے اعتراضات سے لے کر اقوامِ متحدہ کے عالمی منشور اور حقوقِ انسانی سے متعلق مباحث تک، مختلف موضوعات اس مجموعہ میں شامل ہیں۔

یہ تو چند مثالیں ہیں، ہر جلد میں مزید متعدد مباحث موجود ہیں، ظاہر ہے کہ محض سرسری نظر کی بنیاد پر کتاب کے علمی معیار اور افادیت کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں ہے تاہم موضوعات کی یہ وسعت اس کے تفصیلی مطالعہ کی طرف ضرور متوجہ کرتی ہے، نیز موضوعات سے کتاب کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے، موجودہ الحادی تھپیڑوں کے تناظر میں برادرم مولانا مفتی یاسر ندیم الواجدی حفظہ اللہ نے نہایت عمدہ کام کیا ہے، انہوں نے ان دقیق مباحث کو عام فہم انداز میں سمیٹا ہے، زبان سہل، اسلوب رواں، لہجہ متوازن اور گفتگو مدلل ہے جبکہ شرعی و عقلی دلائل سے بحث کو مؤثر اور مستحکم بنایا گیا ہے۔الحاد کوئی نیا فتنہ نہیں ہے، یہ ہر دور میں نیا بھیس بدل کر آتا رہا ہے، وجودِ رب العالمین، نزولِ وحی اور مقامِ نبوت سے متعلق شبہات قدیم زمانے سے چلے آرہے ہیں، تشکیک و ابداع کا فتنہ ہر دور میں نئی شکل لیتا رہا ہے اور ہمارے اکابر اپنے اپنے زمانے میں علم و فہم، حکمت و بصیرت اور دلائل و براہین کے ساتھ ان کا جواب دیتے رہے ہیں، ہر زمانے میں ان کے اظہار کے اسلوب اور استدلال کی نوعیت بدلتی رہی ہیں، آج یہ مباحث فلسفہ اور سائنس کے ساتھ تاریخ، مذہبی متون، انسانی حقوق، آزادی اور سماجی نظریات سے بھی پیوست ہوچکے ہیں، اس لئے ان کا مؤثر جواب دینے کے لئے چند اعتراضات اور ان کے جوابات رٹ لینا کافی نہیں ہے بلکہ ان کے پس منظر اور فکری مقدمات کو سمجھنا لازم ہے۔

یہ کتاب اہلِ علم اور طلبہ کے لئے معاصر فکری مباحث سے آشنائی کا ایک دروازہ اور متعلقہ موضوعات کے مطالعہ کی ایک راہ ثابت ہوسکتی ہے، تاہم اس سے بھرپور استفادے کے لئے ضروری ہے کہ اسے محض مناظرانہ مواد نہ سمجھا جائے بلکہ دعوتِ دین کے تناظر میں ایک سنجیدہ علمی مطالعہ کے طور پر پڑھا جائے، دلائل کو سمجھا جائے کہ ہر فردِ امت کا اپنے آپ کو رب العالمین کی ذات سے جوڑ لینا ہی دراصل حقیقی "عبدیت” ہے۔

یہ چند تاثرات محض ابتدائی جائزے کی بنیاد پر ہیں، آج کے علمی ماحول میں ایسی کاوشوں کی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے جو علوم نبوت سے وابستگی کو قائم رکھتے ہوئے معاصر فکری سوالات کو سنجیدگی سے موضوعِ بحث بنائیں، جو حضرات الحاد اور جدید مغربی افکار کے مطالعہ سے دلچسپی رکھتے ہیں، ان کے لئے تہافت الملاحدہ ایک لائقِ مطالعہ مجموعہ ہے، اور برادرم موصوف اس گراں قدر کاوش پر دلی مبارک باد کے مستحق ہیں۔

متعلقہ فتاویٰ