هُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰى وَدِيۡنِ الۡحَـقِّ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُشۡرِكُوۡنَ

آج کی بات

اَللَّهُمَّ رَبَّنا اغفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْأَبرَار (آلُ عِمْرَان: 193)


اے ہمارے رب ! ہمارے لیے ہمارے گناہوں کو بخش دیجیے، ہم سے ہماری برائیوں کو دور کر دیجیے اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ (اچھی موت) دیجیے۔


مَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا طُوقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
صحیح بخاری: 2452


جس نے کسی کی ذراسی بھی زمین ظلم سے لے لی ، اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔

تازہ ترین فتاوی

عید غدیر کس وجہ سے منائی جاتی ہے؟ اوراس کی کیاحیثیت ہے؟ کیااس قسم کاکوئی تہوارمناناجائزہے؟

عید غدیر کس وجہ سے منائی جاتی ہے؟ اوراس کی کیاحیثیت ہے؟ کیااس قسم کاکوئی تہوارمناناجائزہے؟ نبی کریم صلی اللہ…
مزید پڑھیں عید غدیر کس وجہ سے منائی جاتی ہے؟ اوراس کی کیاحیثیت ہے؟ کیااس قسم کاکوئی تہوارمناناجائزہے؟

ہمارا مقصد

مقصد محض اللہ کی رضا کی خاطر، قرآن و سنت ، اجماع امت اور قیاس صحیح کی روشنی میں زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق شرعی رہنمائی کو جدید مواصلاتی ذرائع سے آپ کی خدمت میں پیش کرنا ہے۔

ہم کون ہیں؟
muftiguideدینی وعصری تعلیم کے ممتاز قومی ادارےجامعہ عائشہ للبنات کے تحت قائم کیا گیا ہے۔


ہمارا وعدہ
ان شاء اللہ ہماری فراہم کردہ شرعی رہنمائی مستند، قابل عمل اورہر قسم کے تعصبات سے ماورا ہوگی۔.

مفتی صاحب کا تعارف

مفتی عبد الماجد
میرے بارے میں
علم ایک امانت ہے، اور اس امانت کو دیانت، اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ آگے پہنچانا میری زندگی کا مقصد ہے۔
میرا تعلق جامعہ عائشہ للبنات ملتان سے ہے، جہاں دینی علوم، تحقیق، افتاء اور تربیت کے میدان میں مسلسل علمی سفر جاری ہے۔ دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات کو عام کرنا، لوگوں کی شرعی رہنمائی کرنا، اور نئی نسل کو ایمان، علم اور کردار کی دولت سے آراستہ کرنا میری خصوصی دلچسپیوں میں شامل ہے۔

ہ

ہدایات برائے سوالات
سوال پر اپنا نام مکمل پتہ، تاریخ اور رابطہ نمبر تحریر کریں۔

غیر ضروری تفصیل اور غیر متعلق سوالات سے پرہیز کریں ۔اپنے دینی سوالات واضح انداز میں ارسال کریں۔

تحریری فتوی کا حصول۔

مفتیان کرام کے لئے

تجویز کردہ اصول و ضوابط
فتوی ٰ کے کام کی حساسیت ، گہرائی اور گیرائی ، عظمت اور سنجیدگی کے پیش نظر امت کے معتبر فقہائے کرام اور شرعی ماہرین

اپنا سوال پوچھیے