مقطوع الیدین کیسے وضو کرے؟

سوال : ایک شخص جس کے دونوں ہاتھ کہنیوں تک کئے ہوئے ہیں، تو وہ پیشاب، پاخانہ کر کے کسی طرح پاکی حاصل کرے گا، کیا دوسرے کو یہ حق ہوگا کہ وہ اس کے مخرج کو اپنے ہاتھ سے پاک کرے، اگر نماز کا وقت ختم ہو رہا ہے تو وہ اس صورت میں کیا کرے گا؟ نیز اس کے وضو کا کیا طریقہ ہے؟

الجواب حامداً ومصلياً:

اگر وہ پانی استعمال نہیں کر سکتا تو جو از نماز کے لئے دوسرے سے مخرج دھلوانے پر شرعاً مجبور و مکلف نہیں، بغیر پانی استعمال کئے ہوئے اس کی نماز درست ہو گئی، ایسی مجبوری کی حالت میں وضو کی جگہ صرف چہرہ کی جگہ دیوار وغیرہ پر کسی طرح صبح کرے کہ چہرہ کا تیتیم ہو جائے ، اس کی بھی قدرت نہ ہو تو ویسے ہی نماز پڑھ لے

۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۔

متعلقہ فتاویٰ