"آپ کے سوا کوئی اور عورت مجھ پرابھی سے طلاق” کہنے کا حکم
عرض یہ ہے کہ میں ابو طلحہ طلاق کے متعلق آپ حضرات سے کچھ گذارشات کرنا چاہتا ہوں امید ہے آپ حضرات میری رہنمائی فرمائیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ شادی سے پہلے میں نے ایک عورت سےکہا کہ تمھارے بغیر دوسری عورت کو ابھی سے طلاق ہے،یہ بات میں نےاس سے تین چار یا اس سے زائد بار کہی ہوگی اور ایک دن تو میں نے اُسے یہ بھی کہہ دیا کہ یہ جو میں بات کر رہا ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے بغیر میں کسی اور سے شادی کر ہی نہیں سکتا کیونکہ نکاح سے ایک منٹ پہلے یا نکاح کرتے ہی ٹوٹ جائے گا۔ اب اس میں بھی مجھے شک ہے کہ میں نے کبھی یہ بھی نہ کہا ہو کہ تمھارے بغیر دوسری عورت کو طلاق یعنی یہ بات (ابھی) لفظ کے بغیر کہا ہو۔
الجواب
کسی عورت پر طلاق واقع ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ یا تو طلاق دیتے وقت وہ عورت طلاق دینے والے کے نکاح میں ہو ،یا طلاق دینے والا طلاق کی نسبت اس عورت سے نکاح کی طرف کرے۔ جس وقت آپ نے سوال میں مذکورجملہ کہا تھا اس وقت نہ تو کوئی عورت آپ کے نکاح میں تھی اور نہ ہی مذکورہ الفاظ میں آپ نے طلاق کی نسبت نکاح کی طرف کی تھی، اس وجہ سے آپ کے مذکورہ جملہ کہنے سے آئندہ آپ کے نکاح کرنے پر کوئی اثر نہیں ہوا۔
ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك ” لأن الجزاء لا بد أن يكون ظاهرا ليكون مخيفا فيتحقق معنى اليمين وهو القوة والظهور بأحد هذين والإضافة إلى سبب الملك بمنزلة الإضافة إليه لأنه ظاهر عند سببه ” فإن قال لأجنبية إن دخلت الدار فأنت طالق ثم تزوجها فدخلت الدار لم تطلق ” لأن الحالف ليس بمالك ولا أضافه إلى الملك أو سببه ولا بد من واحد منهما. (الهداية :1/ 244)
(شرطه الملك) حقيقة كقوله لقنه: إن فعلت كذا فأنت حر أو حكما، ولو حكما (كقوله لمنكوحته) أو معتدته (إن ذهبت فأنت طالق) (، أو الإضافة إليه) أي الملك الحقيقي عاما أو خاصا، كإن ملكت عبدا أو إن ملكتك لمعين فكذا أو الحكمي كذلك (كإن) نكحت امرأة أو إن (نكحتك فأنت طالق)(تنویرالأبصار مع الدر المختار ورد المحتار:3/ 344)
وصورة الإضافة من غير تعليق في المطلق، إذا قال لامرأة لا يملكها: أنت طالق قبل (أن) أتزوجك، فتزوجها بعد ذلك لا تطلق أيضا؛ لأن هذا إيقاع للحال، فالأصل أن الطلاق إذا أضيف إلى المرأة قبل الفعل المسمى قبلية مطلقة، يكون إيقاعا للحال، كما في قوله أنت طالق قبل قدوم فلان، فإن هناك يقع الطلاق عليها للحال قدم فلان، أو لم يقدم، ولما كان هذا إيقاعا للحال يبطل لعدم الملك.
(المحيط البرهاني في الفقه النعماني:3/ 299)
