منگنی کے بعد نکاح کی طرف نسبت کے بغیر طلاق معلق دینےکا حکم
سوال نمبر2۔ میری منگنی ہوئی منگنی کے بعد جب شادی کا وقت قریب آیاتو شادی کے لیے مجھےپیسوں کی ضرورت ہوئی تو امی نے مجھے چار لاکھ روپے دیے اور پیسے دینے سے پہلے میں نے امی سے کہا کہ جب واپس ابوظہبی گیا تو پہلے آپ کے پیسے دونگا ۔جب امی نے مجھے چار لاکھ روپے دیے توامی کے پیسے دینے سے پہلے یا پھر پیسے دینے کے بعد میں نے امی سے کہا کہ یہ پیسے میں دونگا اور ان کے ہاتھ میں تین پرچیاں بطورِ طلاق دے کر کہا کہ ‘اگر میں نے پیسے نہ دیے تویہ جس عورت کو میں لارہا ہو اس کو طلاق ہو’ ۔یہ 2016 کی بات ہے ،اب 2020 چل رہا ہے، اس دوران میں نے کافی پیسے کمائے اور خرچ کئے اس بات کے دو سال بعد میرا ایک عالم دوست ہے ان سے میں نے صرف یہ کہا کہ امی کے مجھ پر چار لاکھ ادھار ہے تو اس نے کہا کہ باپ کے پیسے دینا ضروری ہے ماں کے پیسے دینا ضروری نہیں ۔ اس وجہ سے جب میں واپس یہاں دوبئی آیا تو تھوڑے عرصے کے بعد میرا امی کو پیسے دینے کا ارادہ ہی نہیں رہا ۔ کیا میرا نکاح قائم ہے؟
:تنقیح
سائل سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ منگنی میں سائل خود خاندان کے چار پانچ آدمیوں کے ساتھ منگیتر کے گھر گئے اور اس کے اولیاء کے ساتھ رشتہ اور مہر طے کرکے دعا کروائی،باقاعدہ ایجاب و قبول اور عقدنکاح نہیں ہوا،شادی کے وقت باقاعد نکاح ہوا۔
الجواب
کسی عورت پر طلاق واقع ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کے یا تو طلاق دیتے وقت وہ عورت طلاق دینے والے کے نکاح میں ہو یا طلاق دینے والا طلاق کی نسبت اس عورت سے نکاح کی طرف کرے۔ آپ سے استفسار پر آپ نے منگنی کی جو صورت حال بتائی ہے اس کے مطابق آپ کی منگنی نکاح شمار نہیں ہوگی،اوراس جملہ میں "اگر میں نے پیسے نہ دیے تویہ جس عورت کو میں لارہا ہو اس کو طلاق ہو” آپ نے طلاق کی نسبت اپنی (سابقہ)بیوی سے نکاح کی طرف بھی نہیں کی تھی ،بلکہ اس جملہ میں آپ نے محض محل طلاق کی تعیین کی تھی۔اس وجہ سے آپ کے مذکورہ جملہ کہنے سے آپ کے نکاح پر کوئی اثر نہیں ہوا۔نیز اپنی والدہ کے ہاتھ میں تین پرچیاں دیتے وقت اگرچہ آپ کی نیت طلاق کی تھی لیکن اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔
وينعقد أي النكاح أي يثبت ويحصل انعقاده بالإيجاب والقبول.
(رد المحتارمع الدر المختار:3/ 9)
قال في شرح الطحاوي: لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح. اهـ.
قال الرحمتي: فعلمنا أن العبرة لما يظهر من كلامهما لا لنيتهما، ألاترى أنه ينعقد مع الهزل والهازل لم ينو النكاح. (رد المحتارمع الدر المختار:3/ 11)
ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك ” لأن الجزاء لا بد أن يكون ظاهرا ليكون مخيفا فيتحقق معنى اليمين وهو القوة والظهور بأحد هذين والإضافة إلى سبب الملك بمنزلة الإضافة إليه لأنه ظاهر عند سببه ” فإن قال لأجنبية إن دخلت الدار فأنت طالق ثم تزوجها فدخلت الدار لم تطلق ” لأن الحالف ليس بمالك ولا أضافه إلى الملك أو سببه ولا بد من واحد منهما. (الهداية :1/ 244)
(شرطه الملك) حقيقة كقوله لقنه: إن فعلت كذا فأنت حر أو حكما، ولو حكما (كقوله لمنكوحته) أو معتدته (إن ذهبت فأنت طالق) (، أو الإضافة إليه) أي الملك الحقيقي عاما أو خاصا، كإن ملكت عبدا أو إن ملكتك لمعين فكذا أو الحكمي كذلك (كإن) نكحت امرأة أو إن (نكحتك فأنت طالق)(تنویرالأبصار مع الدر المختار ورد المحتار:3/ 344)
فلا يقع بإلقاء ثلاثة أحجار إليها أو بأمرها بحلق شعرها وإن اعتقد الإلقاء والحلق طلاقا كما قدمناه لأن ركن الطلاق اللفظ أو ما يقوم مقامه مما ذكركمامر.(رد المحتار الدر المختار:3/ 247)
(قوله أو الإضافة إليه) …….. وكقوله: إن صرت زوجة لي أو بسبب الملك كالنكاح …….
ثم اعلم أن المراد هنا بالإضافة معناها اللغوي الشاملة للتعليق المحض وللإضافة الاصطلاحية كأنت طالق يوم أتزوجك كما أشار إليه في الفتح وقد أطال في البحر في بيان الفرق بينهما فراجعه.( رد المحتارمع الدر المختار:3/ 344)
