مشترک رقبہ کی تقسیم کے مسائل

جناب مفتی صاحب 30،32 سال پہلےہم پانچ بھا ئیوں نے مل کرساڑھے بارہ ایکڑ رقبہ خریدا،رقبہ  پر حق شفعہ ہوگیا کیس تقریبا  23 سال رہا،اس عرصہ میں چار بھائیوں نے آباد رقبہ آپس میں تقسیم  کرکے کاشت کرتے رہے، میر ی رہائش ملتان میں ہے جب کبھی اپنے علاقے میں جاتا اپنےحصہ کا مطالبہ تو غیر آباد گہرے کھڈے والا رقبہ مجھے دکھا  دےتے۔                                                          کیس کی وجہ سے میں ڈھیلارہا جب کیس ہمارے حق میں ہوا تومیں نے مجبورا وہی غیرآباد گہرےکھڈے والا رقبہ منظور کرلیا، پٹواری کو حد بندی کے لئے بلایا گیا حد بندی کےدوران پٹواری کے ساتھ دو بھائی ،بشیر احمد ،محمد رمضان ساتھ تھے،میرا رقبہ پورا کرنے کے لئےکچھ رقبہ بشیر احمد کا میرے حصہ میں آگیا ،سرکاری پائپ لائن میں کھڈے کے کنارے کیکر کےچھوٹے چھوٹے درخت تھے،جب مجھے قبضہ دیا گیاتو بھائی بشیراحمدنےکوئی مطالبہ نہیں کیا،جب سات، آٹھ سال درخت میری نگرانی کافی بڑے ہوگئے ،تواب وہ کہتا ہے کہ درخت  میرے ہیں میں نے لگائے ہیں،اور جس وقت ہم نے رقبہ خریدا  اس میں سیکڑوں درخت تھے ان چار بھائیوں نے بیچ کرکھائےہیں، لہذا شرعی  رہنمائی فرمائیں؟

مشترک رقبہ کی تقسیم کے مسائل

الجواب

          صورت مسئولہ میں جتنا رقبہ خریدا گیا ہے  وہ سب رقبہ تمام بھائیوں کےدرمیان مشترک ہے،تقسیم سے پہلے اس میں کسی ایک کے لئےکسی قسم کا کوئی تصرف  کرنا جائز نہیں ہے،جب تک تمام شرکاء راضی نہ ہوں اوراس کے اندر جودرخت پہلے  سے موجود تھے جن کو چار بھائیوں نے بیچ کر کھایا ہےپا نچویں کو ان کا حصہ دیں وگرنہ سخت گناہ گارہوں گے۔

            اورجو درخت بشیر احمدصاحب نے لگا ئے ہیں جو کہ تقسیم کےوقت دوسرے بھائی ،محمدصدیق صاحب کےحصہ میں چلے گئے تھے ،جتنے سال صدیق صاحب نےدرختوں کی دیکھ بھال کی ہے اپنی محنت کاخرچہ نکال کر باقی بشیر احمد صاحب کودےدے۔

وفی القرآن الکریم:النساء:۲۹یایھاالذین امنوالاتاکلوا اموالکم بینکم  بالباطل الا ان تکون تجارہ

            وفی فتاوی الشامی:ج:۶،ص:۲۶۸،ط:سعید۔  (بنی احدھما)ای احدالشریکین(بغیراذن الاخر)فی عقارمشترک بینھما (فطلب شریکہ دفع بنائہ قسم)العقار(فان وقع)البناء(فی نصیب البانی فبھا) ونعمت(والاھدم)البناء،وحکم الغرس کذالک بزازیۃ۔۔۔۔۔

(قولہ بغیراذن الاخر)وکذالو باذنہ لنفسہ لانہ مستعیرلحصۃالاخر وللمعیرارجوع متی شاء،امالوباذنہ للشرکۃ یرجع بحصتہ علیہ بلاشبھۃزملی علی الاشباہ(قولہ والاھدم البناء)اوارضاہ بدفع قیمتہ ط:عن الھندیہ

وفی فتاوی الشامی:ج:۴،ص:۳۰۰،ط:سعید

            (وکل)من شرکاءالملک(اجنبی)فی الامتناع عن تصرف مضر(فی مال صاحبہ)لعدم تضمنھا الوکالۃ(فصح لہ بیع حصتہ ولومن غیرشریکہ بلا اذن الا فی صورۃالخط)۔۔۔والاختلاط فانہ لایجوزالبیع من غیرشریکہ بلااذن۔ 

متعلقہ فتاویٰ